واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > آخرت



آخرت آخرت


برزخ : ’’ قرآن و اھل بیت‘‘ ع کی نظر میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-04-11, 01:36 PM   #1
برزخ : ’’ قرآن و اھل بیت‘‘ ع کی نظر میں
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 08-04-11, 01:36 PM

قرآنی آیات اور متواتر روایات سے یہ نتیجہ حاصل ھوتا ھے كہ انسان موت كے بعد یكبارگی عالم قیامت كبریٰ میں منتقل نھیں ھوجاتا ھے بلكہ اس كو دنیا وآخرت كے درمیان ایك مرحلے سے گزرنا پڑتا ھے جس كا نام ”برزخ“ ھے۔

لغت میں بزرخ دو اشیاء كے درمیان فاصلے كو كہا جاتا ھے۔ یھی وجہ ھے كہ موت سے قیامت تك كے درمیانی فاصلہ كو برزخ كہا جاتا ھے۔

طریحی، مجمع البحرین (ج۷۲، ص۴۳۰) میں لكھتے ھیں: موت سے قیامت كے درمیانی فاصلے كو برزخ كھتے ھیں۔ لھٰذا مرنے كے بعد ھر شخص وارد برزخ ھوتا ھے۔
علی بن ابراھیم قمی اپنی تفسیر (ج۲، ص۹۴) میںفرماتے ھیں: دو اشیاء كے درمیانی فاصلے كو برزخ كہا جاتا ھے اور جس سے مقصود، دنیا وآخرت كا ثواب وعذاب ھے ۔
علامہ مجلسیۺ اپنی كتاب بحارالانوار (ج۶، ص۲۱۴) میں فرماتے ھیں: برزخ دو امروں كے درمیان ایك امر ھے اور جس سے مراد دنیا وآخرت كے درمیان ثواب وعذاب ھے۔

قرآن مجید میں اس لفظ كااستعمال تین مقامات پر ھوا ھے جن میں سے ایك موت وقیامت كے درمیان فاصلے سے مربوط ھے:

(حَتَّی اِذَا جَاءَ اَحَدَھمُ الْمَوتُ قَالَ رَبِّ ارْجَعُونِ۔ لَعَلِّی اَعْمَلُ صَالِحاً فیِمَا تَرَكْتُ كَلَّا اِنَّھا كَلِمَةٌ ھوَ قَائِلُھا وَمِنْ وَرَائِھمْ بَرْزَخٌ اِلیٰ یَومِ یُبْعَثُونَ)
یھاں تك كہ جب ان میں كسی كو موت آگئی تو كھنے لگا كہ پروردگار مجھے پلٹا دے۔ شاید اب میں كوئی نیك عمل انجام دوں۔ ھرگز نھیں! یہ ایك بات ھے جو یہ كھہ رھا ھے اور ان كے پیچھے ایك عالم برزخ ھے جو قیامت كے دن تك باقی رھنے والاھے۔ 1


یہ آیت اس بات كو روشن كرتی ھے كہ موت كے بعد انسان اظھار پشیمانی كرتا ھے اور خدا سے چاھتا ھے كہ اسے دوبارہ دنیا میں لوٹا دے لیكن اس كی درخواست رد كردی جاتی ھے۔

بھت سی آیات سے یہ نتیجہ سامنے آتا ھے كہ انسان موت وقیامت كے درمیانی فاصلے میں ایك طرح كی زندگی گزارتا ھے اور اس حالت میں اس كے حواس باقاعدہ اپنا عمل انجام دے رھے ھوتے ھیں مثلاً بولتا ھے، سنتا ھے، لطف اندوز ھوتا ھے، رنجیدہ ھوتا ھے وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایك ایسی حالت ھوتی ھے جس میں اس پر یا تو عذاب نازل ھورھا ھوتا ھے یا خدائی رحمتیں۔ یہ آیتیں جن كی تعداد پندرہ ھے، چنداقسام كی ھیں:
۱) ایسی آیتیں جن میں صالح و نیك یا فاسد وبدكار انسانوں كو موت كے بعد فرشتوں سے گفت وشنید كرتے ھوئے پیش كیا گیا ہے:

(اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفَّ-ٰیہمُ الْمَلَا ئِكَةُ ظَالِمِی اٴَنْفُسِہِمْ قَالُوا فِیِمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوا اٴَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً فَتُہَاجِرُوا فِیہَا فَاٴُولٰئِكَ مَاٴْ ویٰہُمْ جَہَنَّمُ وَسَائَتْ مَصِیراً)
جن لوگوں كو ملائكہ نے اس حال میں اٹھایا كہ وہ اپنے نفس پر ظلم كرنے والے تھے ان سے پوچھا كہ تم كس حال میں تھے تو انھوں نے كہا كہ ھم زمین میں كمزور بنادئے گئے تھے۔ ملائكہ نے كہا كہ زمین خدا وسیع نھیں تھی كہ تم ھجرت كرجاتے۔ ان لوگوں كا ٹھكانہ جہنم ھے اور وہ بدترین منزل ھے۔ 2


یہ آیت ان افراد سے متعلق ھے جو غیر مناسب معاشرے میں زندگی بسر كرتے ھیں اور اس فساد اور غلط معاشرے كو اپنے عذر كے طور پر پیش كرتے ھیں۔ فرشتے ان كی روح قبض كرنے كے بعد ان سے گفتگو كرتے ھیں اور انكے عذر كو غیر قابل قبول بتاتے ھیں كیونكہ یہ افراد كم از كم اتنا تو كر ھی سكتے تھے كہ ھجرت كرجاتے۔ (سورہٴ مومنون كی آیت نمبر:۱۰۰ جو گزر چكی ھے وہ بھی اسی قسم میں شمار ھوتی ھے۔)

۲) دوسری قسم میں وہ آیتیں آتی ھیں جن كے مطابق فرشتے گفت وشنید كے بعد نیك بندوں سے كھتے ھیں كہ جاؤ اب نعمات الٰھی سے لطف اندوز ھو۔ ان آیات كے مطابق خدا كے نیك بندے قیامت كبریٰ كے برپا ھونے سے پھلے بھی الٰھی نعمتوں سے بھرہ ور ھوتے رھتے ھیں:

(اَلَّذِیْنَ تَتَوَفَّیٰھمُ الْمَلَا ئِكَةُ طَیِّبِیْنَ یَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَیكُمُ ادْخُلُوالْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)
جنھیں ملائكہ اس عالم میں اٹھاتے ھیں كہ وہ پاك وپاكیزہ ھوتے ھیں اور ان سے ملائكہ كھتے ھیں كہ تم پر سلام ھو اب تم اپنے نیك اعمال كی بنا پر جنت میں داخل ھوجاؤ۔ 3


خیال رھے كہ موت كے بعد اھل نجات كے لئے كوئی ایك بھشت فراھم نھیں كی گئی ھے بلكہ جنت بھت سے انواع باغات اور بھشتوں كا نام ھے اور روایات كے مطابق ان میں سے كچھ باغات كو فقط عالم برزخ سے مخصوص كردیا گیاھے۔ لھٰذا اس آیت میں لفظ ”الجنة“ اس بات كی دلیل نھیں ھے كہ یہ آیتیںقیامت سے متعلق ھیں۔
۳) تیسری قسم میں وہ آیتیں آتی ھیں جو براہ راست موت اور قیامت كے درمیانی وقفے میں نجات یافتہ یا بدكار وگناھكار افراد كی زندگی سے متعلق خبر دیتی ھیں۔ ان آیات كے مطابق پھلا گروہ نعمتوں اور رحمتوں اور موخرالذكرگروہ عذاب وسختیوں میں زندگی گزارتا ھے۔

(وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیْلِ اللهِ اَمْوَاتاً بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھمْ یُرْزَقُون# فَرِحِینَ بِمَا آتٰیھمُ اللهُ مِنْ فَضْلِہ. وَیَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِھمْ مِنْ خَلْفِھمْ اَلَّا خَوفٌ عَلَیھمْ وَلَا ھمْ یَحْزَنُون)
اور خبردار ! راہ خدا میں قتل ھونے والوں كو مردہ خیال نہ كرنا۔ وہ زندہ ھیں اور اپنے پروردگار كے یھاں سے رزق پاتے رھے ھیں۔ خدا كی طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ھیں اور جوابھی تك ان سے ملحق نھیں ھو سكے ھیں ان كے بارے میں یہ خوش خبری ركھتے ھیں كہ ان كے واسطے بھی نہ كوئی خوف ھے اور نہ كوئی حزن۔ 4

(اگرچہ یہ آیت جنگ احد كے ۷۲/ شھداء كے بارے میں نازل ھوئی ھے لیكن اس كا مضمون عام ھے اور تمام شھداء كو اپنے دائرے میں لے لیتا ھے۔)

راہ خدا میں قتل اور خدا كی نعمتوں سے لطف اندوز ھونے والے افرا دپر اس آیت كی دلالت واضح، صریح اورغیر قابل تاویل ھے نیز یھی آیت اس بات پر بھی دلالت كرتی ھے كہ یہ افراد ان لوگوں كے احوال سے بھی واقف ھیں جو ابھی دنیاوی زندگی ھی میں مشغول ھیں اور ان كی موت كا وقت ابھی نھیں آیا ھے۔

(وحَاقَ بِآلِ فِرْعَونَ سُوْءُ الْعَذَابِ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیھا غَدُواً وَعَشِیاًّ وَیَومَ تَقُومُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوا آلَ فِرْعَونَ اَشَدَّ الْعَذَابِ)
اور فرعون والوں كو بدترین عذاب نے گھیر لیا۔ وہ جھنم جس كے سامنے یہ ھر صبح وشام پیش كئے جاتے ھیں اور جب قیامت برپا ھوگی تو فرشتوں كوحكم ھوگا كہ فرعون والوں كو بدترین عذاب كی منزل میں داخل كردو۔ 5

اس آیت سے یہ نتیجہ حاصل ھوتا ھے كہ آل فرعون دوطرح كے عذاب میں گرفتار ھوں گے۔ ایك ”سوء العذاب“ كہ جو قیامت كبریٰ كے پھلے والے مرحلے سے مربوط ھے جس میں یہ ھوگا كہ روزانہ دو بار آتش جھنم میںڈالے جائیں گے ۔ دوسرا ”اشد العذاب“ كہ جو قیامت اور اس وقت سے مربوط ھے كہ جب حكم ھوگا ”آل فرعون كو سخت ترین عذاب میںگرفتار كردو۔“ دوسرے والے عذاب كے برخلاف، پھلے والے عذاب میں ”صبح وشام“ كا تذكرہ ھے اور یہ اس وجہ سے ھے كہ عذاب اول، عالم برزخ سے مربوط ھے اور عالم برزخ میں ھماری اس دنیا كی طرح روز وشب ،ماہ وسال پائے جاتے ھیں جب كہ عالم قیامت میں ایسا نھیں ھوتا۔
یہ نكتہ قابل توجہ ھے كہ وہ آتش جس میں آل فرعون ڈالے جائیں گے، آتش آخرت ھے لیكن وہ آگ جس كو آل فرعون كے اوپر ڈالا جائے گا، آتش بزرخ ھے البتہ بزرخ سے مربوط بعض آیتیں اس بات پربھی دلالت كرتی ھیں كہ گناھگار، آگ میں ڈالے جائیں گے جیسے سورہٴ ھود:۱۰۵۔

عالم برزخ، روایات كی روشنی میں
عالم برزخ اوراس كے احكام واحوال سے متعلق متعدد روایات وارد ھوئی ھیں۔ اس سلسلے میں جامع ترین وہ طویل روایت ھے جو متعدد سندوں كے ساتھ مختلف معتبر كتب احادیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ھے:

”اس وقت جب انسان كی دنیوی زندگی كا آخری دن او رعالم آخرت كا پھلا دن آپھونچتا ھے تو اس كی بیوی، بچے، مال ودولت اور اس كے اعمال اس كے سامنے مجسم ھو كر آجاتے ھیں۔ اس حالت میں وہ (وہ شخص جس كا ابھی انتقال ھوا ھے) مال و دولت كی طرف رخ كرتا ھے او ركھتا ھے: خداكی قسم! میں تیرے لئے بھت لالچی اور حریص تھا۔ اب بتا میرے لئے تیرے پاس كیا ھے؟ دولت جواب دیتی ھے: مجھ سے كفن لے لو اور جاؤ۔ وہ پلٹتا ھے اور اپنی اولاد كی طرف متوجھ ھوتا ھے اور ان سے كھتا ھے: خدا كی قسم! میں تمھاراچاھنے والا اور تم سے محبت كرنے والا تھا۔ میرے لئے تمھارے پاس كیا ھے؟ وہ جواب دیتے ھیں: ھم تمھیں قبر تك پھونچا دیں گے اور دفنا دیں گے۔

بالآخر اپنے اعمال سے مخاطب ھو كر كھتا ھے: خدا كی قسم! میں تمھاری طرف سے غافل تھا، تم سے پھلو تھی كرتا رھتا تھا۔ تم بتاؤ میرے لئے تمھارے پاس كیا ھے؟ اس كے اعمال اس سے كھتے ھیں كہ ھم تمھاری قبر میں اور بروز محشر تمھارے ساتھ ھوں گے یھاں تك كہ بارگاہ خداوند عالم میں حاضر ھو جائیں۔ اب اگر مرنے والا اولیائے خدا اور نیك بندوں میں سے ھوتا ھے تو نھایت جمیل اور عمدہ لباس وخوشبو كے ساتھ ایك شخص اس كے پاس آتا ھے اور اس سے كھتا ھے: تیرے لئے بشارت اور خوش خبری ھے كہ تجھے تمام سختیوں اور مصائب سے نجات حاصل ھوگئی ھے، جنت كا لذیذ رزق تیرے لئے آمادہ ھے اور سرائے ابدی، بھترین منزل گاہ،میں تجھے داخلہ مل رھا ھے وہ ولی خدا (جس كا ابھی ابھی انتقال ھواھے) اس سے سوال كرتا ھے كہ تم كون ھو، وہ جواب دیتا ھے كہ میں تیرا نیك عمل ھوں۔پھر اس سے كھتا ھے: پس اب تو دنیا سے بھشت كی طرف كوچ كر۔ اس كے ساتھ ھی غسل دینے والے اور میت كو كاندھا دینے والے اپنے امور كو جلدی جلدی انجام دینا شروع كردیتے ھیں۔

جب میت كو قبر میں اتارا جاتا ھے تود و فرشتے اس كے نزدیك آتے ھیں یہ قبر كے نگھبان ھوتے ھیں ۔ان كے بال اتنے لمبے لمبے ھوتے ھیں كہ زمین پر كھنچتے چلے جاتے ھیں اور یہ اپنے پیروں سے زمین كو كھود تے چلتے ھیں ۔ان كی آنكھیں برق كی طرح چمكتی ھوئی اور آواز بجلی كی طرح كڑكڑاتی ھوئی ھوتی ھے۔ مرنے والے سے سوال كرتے ھیں كہ تیرا پروردگار كون ھے؟ تیرا نبی كون ھے؟ تیرا دین كیا ھے؟

وہ جواب دیتا ھے كہ الله، میرا پروردگار، محمد میرے نبی اور اسلام میرا دین ھے۔ پس وہ دونوں فرشتے اس كے لئے دعا كرتے ھیں كہ خدایا! اس كو جس چیز میں تو دوست ركھتا ھے، ثابت قدم ركھ اور یہ وھی قول خدا ھے: (یثبت الله الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیوة الدنیا)اللہ صاحبان ایمان كو قول ثابت كے ذریعہ دنیاوآخرت میں ثابت قدم ركھتا ھے۔ 6


سپس فضائے قبر كو تا حد نگاہ وسیع كردیا جاتا ہےاور اس كے لئے بھشت كا دروازہ كھول دیا جاتا ھے اور وہ اس سے كھتے ھیں: مطمئن ھو كر آرام سے سوجاؤ جس طرح نعمتوں میں غرق ایك جوان سوتا ھے اور یہ وھی قول خدا ھے: (اصحاب الجنة یومئذخیر مستقرا واحسن مقیلاً) اس دن صرف جنت والے ھونگے جن كے لئے بھترین ٹھكانہ ھوگااور بھترین آرام كرنے كی جگہ ھوگی ۔ 7

اور اگر مرنے والا دشمن خدا ھوتا ھے تو ایك شخص اس كے پاس آتا ھے جس كے چھرے سے وحشت اور ھیبت ٹپك رھی ھوتی ھے۔ وہ اس سے كھتا ھے: تجھے جھنم اور اس كی آگ كی بشارت ھو۔ اس كے ساتھ ھی مرنے والا اپنےغسل دینے والوں اور اپنی میت كو كاندھا دینے والوں سے گذارش كرتا ہے كہ اس كو دفن كرنے كی تیاریاں نہ كریں اور دفن ہونے سے روك لیں۔ جس وقت وہ قبر میں اتارا جاتا ھے تو منكر و نكیر اس كے پاس پھونچ جاتے ھیں: اس كے كفن كو اس كے جسم سے جدا كركے اس سے سوال كرتے ھیں: تیرا پروردگار كون ھے؟ تیرا نبی كون ھے؟ اور تیرا دین كونسا ھے؟ وہ جواب دیتا ھے: میں نھیں جانتا۔ پھر منكر و نكیر اس سے كھتے ھیں، نہ تو جانتا ھے اور نہ تونے ھدایت حاصل كی ھے۔ اس كے ساتھ ھی اتنی زور سے آھنی گرز سے اس پر حملہ كرتے ھیں كہ جن وانس كے علاوہ تمام جنبد گان وحشت زدہ ھو جاتے ھیں۔ سپس اس كے اوپر دوزخ كا ایك دروازہ كھول دیا جاتا ھے اور وہ فرشتے اس سے كھتے ھیں: اپنی سخت ترین حالت میں سو جا۔ اس كی قبر اس حد تك تنگ ھو جاتی ھے كہ وہ ایك نیزے بلكہ نیزے كی انی كی طرح ھوجاتا ھے اور اس كے ناخنوں اور گوشت سے اس كا مغز باھر نكلنے لگتا ھے۔ سانپ، بچھو اور دوسرے حشرات الارض اس پر حملہ كردیتے ھیں اور اس كے بدن كو ڈسنا شروع كردیتے ھیں۔

………یہ زمانہ اس پر اتنا سخت اور دشوار گزرتا ھے كہ وہ قیامت كے جلد از جلد رونما ھونے كی تمنا اور دعا كرتا رھتا ھے۔ 8

مرنے كے بعد سوال وجواب اور عذاب وثواب

متعدد دوسری روایتوں كے علاوہ گذشتہ روایت كے مطابق بھی مرنے كے بعد دو فرشتے منكر و نكیر مرنے والے كے پاس آتے ھیں اور اس سے توحید، نبوت، امامت اور دین وغیرہ كے متعلق سوالات كرتے ھیں۔ یہ سوالات بھی دوسرے واقعات كی طرح عالم برزخ ھی میں پیش آتے ھیں اور فقط وھی افراد ان واقعات كے مشاھدے كی قدرت ركھتے ھیں جن كے پاس صور برزخی كے ادراك كی صلاحیت ھوتی ھے۔

متعدد روایات میں وارد ھوا ھے كہ سوال وعذاب قبر فقط مومنین اور كافرین سے مخصوص ھے۔ اس زمرے میں ان دونوں مذكورہ گروھوں كے وسط كا طبقہ نھیں آتا ھے۔ شیخ كلینی اپنی كتاب كافی میں امام صادق علیہ السلام سے نقل كرتے ھیں:

قبر میں فقط ان لوگوں سے سوال وجواب اور ان پر عذاب وثواب ھوگا جو ایمان محض یاكفر محض كے حامل ھوں گے۔ دوسرے افراد كو ان كے حال پر چھوڑ دیا جائے گا۔ 9

علی بن ابراھیم نے اپنی تفسیر میں ضریس كناسی سے نقل كیا ھے:

میں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض كیا، میری جان آپ پر قربان ھو، ایسے افراد جو موحد ھیں اور نبوت حضرت محمد كو بھی قبول كرتے ھیں لیكن گناھكار ھیں نیز امام نھیں ركھتے ھیں (یعنی) آپ كی ولایت كی معرفت نھیں ركھتے ھیں، مرنے كے بعد كس حال میں رھیںگے؟ امام نے فرمایا: قبر ھی میں رھیں گے۔ اگران افراد نے عمل صالح انجام دئے ھوں گے اور (ھم اھل بیت سے) دشمنی نہ ركھتے ھوں گے تو ان كے لئے بھشت كا ایك دروازہ جو كہ مغرب میں ھے، كھول دیا جائے گا اور وھاں سے ان كے لئے زندگی افزا نسیم آتی رھا كرے گی یھاں تك كہ روز قیامت اپنے خدا سے ملاقات كریں گے اور خداوندعالم ان كاان كی نیكیوں اور بدیوں كی بنا پر حساب وكتاب كرے گا۔ یہ وہ لوگ ھیں جن كی وضعیت اور حالت امر خدا پر موقوف ھے۔ ستم رسیدہ، مجنون، بچے اور مسلمانوں كے وہ فرزند جو حد بلوغ تك نھیں پھونچتے ھیں وہ بھی اسی زمرے میں آتے ھیں۔

مرنے والے كی اپنے افراد خانوادہ سے ملاقات

شیخ كلنی امام صادق علیہ السلام نقل كرتے ھیں:

مومن مرنے كے بعد اپنے افراد خانوادہ سے ملاقات كرتا ھے ۔ ان كے احوال میں سے وہ جس چیز سے خوش ھوتا ھے اس كو نظر آتی ھے اور جس سے وہ رنجیدہ ھوتا ھے، مخفی رھتی ھے۔ 10


ایك دوسری رویات میں وارد ھوا ھے:
كوئی مومن یا كافر ایسا نھیں ھے جو ظھر كے وقت اپنے افراد خانوادہ كے پاس نہ آتا ھو۔ جب مومن اپنے اعزا كو نیك اعمال انجام دیتے ھوئے دیكھتا ھے تو حمد وشكر خدا كرتا ھے اور جب كافر اپنے اعزا كو نیك اعمال انجام دیتے ھوئے دیكھتا ھے تو ان پر رشك كرتا ھے۔ 11


1. مومنون: ۱۰۰،۹۹، نیز رحمٰن: ۲۰،فرقان:۵۳
2. نساء: ۹۷
3. نحل:۳۲،یس:۲۶،۲۷
4. آل عمران: ۱۷۰، ۱۶۹
5. غافر: ۴۶،۴۵
6. ابراھیم: ۲۷
7. فرقان:۲۴
8. تفسیر علی بن ابراھیم قمی: ج/۱، سورہٴ ابراھیم، تفسیر عیاشی، سورہٴ ابراھیم، ج/۲، فروع كافی ،ج/۳،كتاب الجنائز، امالی، شیخ طوسی، ج/۱
9. فروع كافی: باب المسالة فی القبر، حدیث/۱
10. فروع كافی، باب ان المیت یزور اھلہ، حدیث/۱
11. فروع كافی، باب ان المیت یزور اھل، حدیث
/

Last edited by حیدر Rehan; 09-04-11 at 10:56 AM..

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,873
شکریہ: 7,875
2,131 مراسلہ میں 4,896 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 371
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (12-04-11), محمدخلیل (08-04-11), مرزا عامر (08-04-11), اویسی (12-04-11)
پرانا 09-04-11, 03:14 AM   #2
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,094
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Cool

---------------------------

Last edited by mama_shalla; 09-04-11 at 03:16 AM. وجہ: repeated
mama_shalla آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-04-11, 01:20 PM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,873
کمائي: 51,066
شکریہ: 7,875
2,131 مراسلہ میں 4,896 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ بہت اہم آیت ہے اس لیے بھی کہ تقریبا تمام مسلمانوں کو یاد ہے اس لیے میں اس کو دوبارہ پیش کررہا ہوں :

(وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیْلِ اللهِ اَمْوَاتاً بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھمْ یُرْزَقُون# فَرِحِینَ بِمَا آتٰیھمُ اللهُ مِنْ فَضْلِہ. وَیَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِھمْ مِنْ خَلْفِھمْ اَلَّا خَوفٌ عَلَیھمْ وَلَا ھمْ یَحْزَنُون)
اور خبردار ! راہ خدا میں قتل ھونے والوں كو مردہ خیال نہ كرنا۔ وہ زندہ ھیں اور اپنے پروردگار كے یھاں سے رزق پاتے رھے ھیں۔ خدا كی طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ھیں اور جوابھی تك ان سے ملحق نھیں ھو سكے ھیں ان كے بارے میں یہ خوش خبری ركھتے ھیں كہ ان كے واسطے بھی نہ كوئی خوف ھے اور نہ كوئی حزن۔ 4

(اگرچہ یہ آیت جنگ احد كے ۷۲/ شھداء كے بارے میں نازل ھوئی ھے لیكن اس كا مضمون عام ھے اور تمام شھداء كو اپنے دائرے میں لے لیتا ھے۔

عذاب و ثواب : قبر/عالم برزخ میں:-
کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ہمیں عذاب و ثواب قبر یا برزخ کی کوئی دلیل نظر نہ آتئی اس لیے انھونے اپنے عقیدے کو صحیح سمت کے بجائے کسی اور سمت کی طرف موڑ دیا ہے جس سے کئی ایک سوالات اور بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور پھر ہم ان سوالات میں الجھ سکتے ہیں

چونکہ عذاب قبر کے انکار سے خود انسان کے لیے کسی نئے عذاب میں مبتلا ہونے کے اثار نظر اتے ہیں اس لیے سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایسے عقیدے سے پلٹ جائیں۔

ہاے ہماری خوابگاہوں سے ہمیں کس نے جگا دیا؟
اگر کچھ لوگوں نے یہ عقیدہ بنالیا ہے کہ قبر میں کچھ نہی ہونے والا یا یہ کہ مرنے سے لے کر قیامت تک ہمیں کچھ نہی پتا چلے گا اور ہم اچانک اٹھئیں گئے اور کہیں گئے کہ ہاے ہماری خوابگاہوں سے ہمیں کس نے جگا دیا؟ تو وہ جان لیں کہ وہ مومن نہی ہیں ۔


’’شہید‘‘ زندہ ھیں اور اپنے پروردگار كے یھاں سے رزق پاتے رھے ھیں:-
کیا کبھی یہ سوال اپ کے زہن میں اٹھا کہ ان شہیدوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ کیا وہ بھی کہیں گئے ؟
یا اپ اس بات سے بھی مکر گئے کہ شہیدوں کا جو رزق و نعمتیں اللہ دے رہا ہے وہ بات سچ ہے یا نہی ؟

کیا شہید بھی کہیں گئے کہ ہاے ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کس نے جگا دیا ؟؟

نہی بلکہ وہ یہ نہی کہیں گئے کیونکہ وہ کچھ خاص لوگ ہونگے ۔ ۔جو یہ کہیں گئے یعنی مومن نہی کہے گا
کہ ہاے ہماری خواب گواہوں سے ہمیں کس نے آٹھا دیا ؟؟

اس لیے کہ جملہ میں موجود ’’حیرت اور افسوس ‘‘ خود بتارہا ہے کہ وہ مومن نہی ہیں

’’مومن کی موت چاہے سوتے ہی میں کیوں نہ ہو وہ شہید ہوتا ہے‘‘
’’اکثر ایسے مقامات مومن ہیں جن کے بارے میں پڑھیں گئے تو پتا چلے گا کچھ لوگ چاہے علم حاصل کررہے ہوں یا صلوات کی حالت میں ہوں اگر موت آجائے تو شہید کا درجہ حاصل کرتے ہیں

اب اپ کو اس بات سے اندازہ ہوا ہوگا کہ دنیاکے گزرے ہوئے اور قیامت تک کے اگر 100 کروڑ مومن بھی ہوں تو جب روز قیامت میں مرنے کے بعد اٹھیں گے تو وہ یہ جملہ نہی کہیں گئے ’’ہائے ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کس نے جگا دیا ؟؟

کیونکہ وہ تو اللہ سے رزق پاتے رہے اور اللہ کی نعمات سے لطف اندوز ہوتے رہے جن کا ہمییں شعور نہی ہے کہ وہ زندہ ہیں ۔

Last edited by حیدر Rehan; 11-04-11 at 01:26 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (12-04-11), ننھا بچہ (11-04-11), مرزا عامر (11-04-11), اویسی (12-04-11)
پرانا 11-04-11, 06:05 PM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,838
کمائي: 277,931
شکریہ: 1,143
6,254 مراسلہ میں 14,109 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

جزاک اللہ خیر
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-04-11, 10:14 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,691
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اتنا اچھا مراسلہ ہے شکریہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (12-04-11), اویسی (12-04-11), حیدر Rehan (12-04-11)
جواب

Tags
گذارش, واقعات, قدم, قرآن, قرآنی, نظر, موت, منتقل, مجید, محبت, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, حدیث, خوش, خبر, خدا, دوست, درخواست, دعا, زندگی, زمانہ, شخص, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندہ گرفتار کیا جائے‘ ملزم کی ساتھیوں کو ہدایت‘ چند ساتھی منصوبے سے آگاہ تھے‘ تفتیش میں انکشاف گلاب خان خبریں 16 06-01-11 02:36 AM
’نوعمر لڑکوں کی مسلح تربیت‘ وجدان خبریں 0 07-02-08 06:43 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger