| آخرت آخرت |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1353
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (26-01-11), sjk (15-01-11), فیصل ناصر (08-10-10), کنعان (15-01-11), محمد عاصم (10-10-10), محمدمبشرعلی (10-10-10), آبی ٹوکول (11-10-10), ضِرار Derar (09-10-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
اس کا کوئی اور حصہ بھی ہے |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,691
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,691
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت سے لوگوں کا شفاعت کے متعلق یہ منفی رجحان ہوتا جا رہا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کی شفاعت کرنی ہے لہٰذا گناہ کرتے رہو ۔ شفاعت تو ہو ہی جانی ہے ۔ جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی سوچ صرف اور صرف شیطان کی طرف سے بہکاوے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ایک اور تھریڈ نظر سے گذرا تھا جو شفاعت کے متعلق ہے
شفاعت کا اسلامی عقیدہ اس میں بھی شفاعت کے بیان پر اچھی تفصیل دی گئی ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جس شخص نے اللہ کے ساتھ ایک زرہ سا بھی شرک کیا تو اللہ اس کے سارے صالح اعمال کو بھی غارت کردے گا اور اس کے حق میں کسی کی بھی سفارش قبول نہ کی جائے گی، اور اگر ایک بندہ بےحد گناہگار ہے مگر وہ شرک سے پاک ہے تو اللہ اس کو چاہے تو اپنی کرم و رحمت سے معاف فرمادے اور یا پھر اس کے گناہوں کے مطابق اس کو سزا دے کر جنت میں پہنچا دے۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,835
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
مضمون کا دوسرا اور آخریحصہ پیش ہے ::: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے حصے میں بات یہاں رکی تھی کہ ::: لوگوں کے اعمال کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا حساب فرمائے گا ، اور ان کی آخری ابدی منزل کا فیصلہ فرمائے گا ، بنیادی طور پر حساب اور فیصلے کے لیے انسان دو اقسام ہوں گے ، (1) اِیمان والے اور مسلمان ، (2) کافر اور مشرک ، ::::::: اِن میں سے کچھ انسانوں کا معاملہ حساب و کتاب والا ہو گا ، کچھ کا اعمال کے تولنے والا ، اور کچھ کا بغیر حساب کتاب والا ، کچھ کا ساری مخلوق کے سامنے ہو گا ، اور کچھ کا اللہ کے خاص پردے میں ، :::::::: حساب و کتاب کے بعد کافروں ، اور جانتے بوجھتے ہوئے شرک کرنے والوں کو جہنم رسید کیا جائے گا ، کیونکہ ان کا یقینی ٹھکانہ جہنم ہی ہے ، (((((إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَم يَكُنِ اللَّهُ لِيَغفِرَ لَهُم وَلا لِيَهدِيَهُم طَرِيقاً O إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً ::: بے شک وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا اور کفر کیا نہ تو اللہ اُن کی مغفرت کرنے والا ہے اور نہ ہی اُن کو راہ حق کی ہدایت دینے والا ہے ، سوائے جہنم کی طرف جانے والی راہ کے جہاں وہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت ہی آسان ہے ))))) سورت النساء / آیت 168،169، اور فرمایا ((((( يُعرَفُ المُجرِمُونَ بِسِيمَاهُم فَيُؤخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالأَقدَامِ :::مُجرم اُن کی نشانیوں سے پہچانے جائیں گے لہذا اُنہیں اُن کی پیشانیوں اور قدموں سے پکڑ لیا جائے گا ))))) سورت الرحمن / آیت41 ، ::::::: اِیمان والوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ اُن کے اعمال دِکھا کر اُن سے اِقرار کروائے گا اور اُن کے اِقرار کے بعد اُن کوجنّت میں داخل فرمائے گا ، جیسا کہ عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہُما کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ((((( يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يوم الْقِيَامَةِ مِن رَبِّهِ عز وجل حتى يَضَعَ عليه كَنَفَهُ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فيقول """هَل تَعْرِفُ ؟""" فيقول " أَيْ رَبِّ أَعْرِفُ " قال """ فَإِنِّي قد سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ في الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لك الْيَوْمَ """ فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ على رؤوس الْخَلَائِقِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا على اللَّهِ ::: قیامت والے دِن (اللہ کے ہی حُکم سے کسی ) اِیمان والے کو اُس کے رب (اللہ) عزّ وجلّ کے قریب کیا جائے گا یہاں تک اللہ اُس کے اوپر اپنا (کوئی ایک )پردہ ڈال دے گا اور اُس سے اس کے گناہوں کا اِقرار کرواتے ہوئے فرمائے گا """ کیا تُم (اپنا یہ گُناہ) جانتے ہو ؟ """ بندہ کہے گا " جی اے میرے رب جانتا ہوں " اللہ کہے گا """ میں نے دُنیا میں تُمہارے اِن گناہوں پر پردہ ڈالا تھا اور آج میں اِن گناہوں سے تُمہاری مغفرت کرتا ہوں """ تو پھر اُس بندے کو(صِرف) اُس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی ، رہا معاملہ کافروں اور منافقوں کا تو اُنہیں تمام مخلوق کے سامنے پُکارا جائے گا (اور کہا جائے گا) کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولے ))))) صحیح البُخاری /حدیث 4408 / کتاب التفسیر /باب 175 ، صحیح مُسلم /حدیث 2768 /کتاب التوبۃ / باب 8 ، ::::::: اور کچھ ایسے ہوں گے جن کا کوئی حساب نہ ہو گا ، جِن سے کوئی پوچھ نہ ہو گی ، جن کو کوئی عذاب نہ ہوگا ، یہ اَیمان والوں میں سے مکمل طور پر عملی توحید والے ہوں گے ، جیسا کہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِن أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ :::میری اُمت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر کسی حساب کے جنّت میں داخل ہوں گے ))))) صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی ""اے اللہ کے رسول ، وہ کون ہوں گے ؟ """ اِرشاد فرمایا((((( هُمْ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ ولا يَسْتَرْقُونَ ولا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ::: وہ (ایسے لوگ ہوں گے ) جو شگون بازی نہیں کرتے ہیں ، اور نہ ہی رُقیہ ( دَم کرنا ) کرواتے ہیں ، اور نہ ہی اپنے آپ کو دغواتے (یعنی گرم دھات جسم پر لگوا کر عِلاج کرواتے) ہیں ، اور (صِرف ) اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں ))))) مُتفقٌ علیہ ، صحیح البُخاری /حدیث 6107 /کتاب الرّقاق /باب 21 ، صحیح مُسلم /حدیث217 /کتاب الاِیمان /باب94 ، اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ((((( لَا حِسَابَ عَليهم ولا عَذَابَ::: اُن پر کوئی حساب نہ ہو گا اور نہ ہی اُنہیں کوئی عذاب ہو گا ))))) صحیح البُخاری /حدیث 6175 /کتاب الرّقاق /باب 50 ، اور کچھ ایسے ہوں گے جن کے آخری ٹھکانے کا اِن مذکورہ بالا لوگوں کے فیصلے ہوجانے تک فیصلہ نہ کیا گیا ہوگا ، لیکن اللہ کی مشیئت سے وہ لوگ جنّت میں ہی جائیں گے ، وہ لوگ """ أصحاب الأعراف """ ہیں ، """ أصحاب الأعراف """ وہ لوگ ہوں گے جِن کی نیکیاں اور گناہ ایک ہی جتنے ہوں گے ، یہ لوگ جنّت اور جہنم کے درمیان ایک اونچی جگہ پر کھڑے کیے گئے ہوں گے ، جہاں سے وہ جنّت اور جہنم دونوں کو دیکھ سکیں گے اور امید اور خوف کی شدید موجوں کے تھپیڑوں میں رہیں گے ، جنتیوں اور جہنمیوں کو اُن پر نظر آنے والی نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے ، جب تک اللہ چاہے گا وہ لوگ اسی جگہ پر اسی حالت میں رہیں گے ، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتایا ہے ((((( وَبَينَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الأَعرَافِ رِجَالٌ يَعرِفُونَ كُلّاً بِسِيمَاهُم وَنَادَوا أَصحَابَ الجَنَّةِ أَن سَلامٌ عَلَيكُم لَم يَدخُلُوهَا وَهُم يَطمَعُونَ ::: اور (جنّت اور جہنم ) دونوں کے درمیان پردہ ہے اور أعراف کے اُوپر لوگ ہوں گے جو سب (جنتیوں اور جہنمیوں) کو ان کی نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے ، یہ ( أعراف پر موجود ) لوگ خود تو جنّت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے (لیکن) جنّتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ تُم لوگوں پر سلامتی ہو ، اور(یہ أعراف پر موجود لوگ ) خود جنّت میں جانے کا لالچ رکھتے ہوں گے O وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ::: اور جب اُن ( أعراف پر موجود ) کی نظر جہنمیوں کی طرف جائے گی تو کہیں گے ، اے ہمارے رب ہمیں ظُلم کرنے والوں کے ساتھ مت بنانا ))))) سورت الأعراف /آیت47 ، یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے اُن لوگوں کو جنّت میں داخل فرمائے گا ، ::::::: اور مسلمانوں میں سے ہی کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے گناہ اُن کی نیکیوں سے زیادہ ہوں گے ، ان لوگوں کا فیصلہ اعمال کے وزن یا نیکیوں بدیوں کے مطابق ہوسکنے کے بارے میں پہلے سے کچھ اندازہ نہیں کیا جا سکتا ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیئت جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور جسے چاہے عذاب دے گا ، سوائے شرک کرنے والوں اور حقوق المخلوق یعنی بندوں اور دوسری مخلوقات کا حق مارنے والوں کے کہ اُن کی مغفرت نہ ہو گی ، شرک کرنے والوں کے بارے میں تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ((((( إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَدِ افتَرَى إِثماً عَظِيماً ::: بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہ فرمائے گا کہ اُس کے ساتھ شِّرک کیا جائے اور اس کے عِلاوہ جِس کے لیے جو چاہے گا معاف فرما دے گا ، اور جو شرک کرے گا تو اُس نے یقیناً بہت ہی جھوٹ پر مبنی عظیم گناہ بنایا ))))) سُورت النِساء /آیت48 ، انسانوں اور دیگر مخلوق کے حقوق کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک بتایا کہ (((((لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إلى أَهْلِهَا يوم الْقِيَامَةِ حتى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ من الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ ::: تُم لوگوں کو قیامت والے دِن ضرور حق داروں کو اُن کے حقوق دینا ہی ہوں گے یہاں تک ایک بغیر سینگ والی بکری کا حق سینگ والی بکری سے بھی لیا ہی جائے گا ))))) صحیح مُسلم / حدیث 2582/کتاب البِر و الصلۃ و الآداب /باب 15 تحریم الظُلم ، شرعی احکام کی مُکلّف مخلوق کا حساب تو اس طرح مذکورہ بالا طریقوں پر ہو گا ، جانوروں کا حساب بھی مذکورہ بالا حدیث مبارک کے مطابق ہو گا یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت سے جس طرح چاہے گا حق دار کو اُس کا حق دلوائے گا ، پس اللہ سبحانہُ و تعالیٰ شرک اور مخلوق کے حقوق کے علاوہ جس کا جو گناہ چاہے گا معاف فرما دے گا ، قیامت والے دِن سب سے پہلے جن کاموں کا حساب ہو گا اُن میں سے ایک نماز ہے ، ایسا کام جو بندے اور اُس کے رب کے درمیان ہے ، اور حقوق العباد میں سے سب سے پہلے قتل کا حساب ہو گا ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ ((((( أَوَّلُ ما يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ وَأَوَّلُ ما يُقْضَى بَينَ النَّاس في الدِّمَاءِ::: سب سے پہلے بندے کا حساب اس کی نماز کے بارے میں ہو گا اور سب سے پہلے لوگوں کے درمیان قتل کے فیصلے ہوں گے ))))) سنن النسائی /کتاب تحریم الدم /کتاب 2 تعظیم الدم ، السلسہ الاحادیث الصحیحہ /حدیث1748 ، مخلوق کی حقوق تلفی ، مکمل طور پر ہو یا جزوی طور پر ، شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے ، اور اس کو اللہ تبارک و تعالیٰ معاف نہیں فرمائے گا ، بلکہ صاحبءِ حق کو مکمل اختیار دے گا کہ وہ اپنے حق کے بدلے میں حق مارنے والے کی نیکیوں میں سے جو چاہے لے ، یا اپنے گناہوں میں سے کچھ اُس کے کھاتے میں ڈال دے ، اُس دِن ہر ایک شخص ایک ایک نیکی کے لیے تڑپتا ہو گا اور اپنے محبوبت ترین رشتہ دار اور محبوب ترین ہستی کو بھی ایک نیکی دینے کو تیار نہ ہوگا ، اسی چیز کو سمجھاتے ہوئے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم فرمائی کہ ہم دُنیا میں ہی اپنے ظلم و ستم اور حق تلفی وغیرہ کا حساب صاف کر لیں اور خود کو معاف کروا لیں اس سے پہلے کہ ہمارے کیے ہوئے ظلم کے بدلے میں ، اللہ کی مخلوق کے مارے ہوئے حقوق کے بدلے میں ہماری نیکیاں ان کو دے دی جائیں یا اگر ہمارے پلے نیکیاں ہیں ہی نہیں تو اُن مظلوموں کے گناہوں میں سے کچھ ہمارے ذمے ڈال دیے جائیں اور یوں ہماری سزا میں مزید اضافہ ہو جائے ، اِس سے پہلے دُنیا میں ہی اپنا حساب بے باک کر لینا چاہیے ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( مَن كانت عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنهَا فإنّهُ لَيسَ ثَمَّ دِينَارٌ ولا دِرْهَمٌ مِن قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِن حَسَنَاتِهِ فَإِنْ لم يَكُنْ له حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِن سيئآت أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَليهِ::: جس کےپاس اپنے کسی (مسلمان ) بھائی کا کوئی حق روکا ہوا ہو تو وہ اس سے نجات پا لے کیونکہ وہاں (آخرت میں ) نہ تو درھم ہوں گے اور نہ ہی دینار (جنہیں دے کر جان چھڑا لی جائے ، لہذا ) اس سے پہلے کہ اُس حق والے بھائی کے لیے حق روکے رکھنے والے کی نیکیوں میں سے نیکیاں لے لی جائیں اور اگر اس حق روکے رکھنے والے کے پاس نیکیاں نہیں تو حق والے بھائی کے گناہوں میں سے گناہ اس حق روکے رکھنے والے پر ڈال جائیں ))))) صحیح البخاری / حدیث 6169 /کتاب الرقاق / باب 48 ، اس طر ح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور اپنی ساری مخلوق کا حساب فرمائے گا ، چونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل و انصاف لا جواب اور بے مثال ، اور ہر قِسم کے ظلم اور زیادتی سے پاک ہے ، لہذا اللہ سبحانہُ و تعالیٰ اپنے بندوں سے ان کے گناہوں کا اقرار کروائے گا ، اور اگر کوئی بندہ اپنے گناہوں کا اقرار نہ کرے گا تو اُس کے جسم کے اعضاء اُس کے کیے ہوئے کاموں کی گواہی دیں گے ((((( يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ::: اُس دِن اُن کی زُبانیں ، اور اُن کے ہاتھ اور اُن کے ٹانگیں اُن کے خلاف گواہی دے کر بتائیں گے کہ وہ کیا کرتے تھے ))))) سُورت النور /آیت 24، اور صرف یہی اعضاء نہیں بلکہ پورا جسم گواہی دے گا اور بات کرتے ہوئے گواہی دے گا ((((( حَتَّىٰ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ::: یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے بالکل قریب آ جائیں گے تو اُن کے خلاف اُن کے کان اور اُن کی آنکھیں اور اُن کی کھالیں گواہی دیں گی O وَقَالُواْ لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوۤاْ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ::: اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تُم نے ہمارے خِلاف گواہی کیوں دی ، اُن کی کھالیں (اور أعضاء ) کہیں گے ہمیں اللہ نے بات کروائی ہے جس نے ہر چیز کو بات کروائی اور اُسی نے تُم لوگوں کو پہلی دفعہ تخلیق کیا اور اُسی کی طرف تُم لوگ واپس جا رہے ہو O وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ ٱللَّهَ لاَ يَعْلَمُ كَثِيراً ممَّا تَعْمَلُونَ ::: اور تُم لوگ (گناہ کرتے ہوئے) خود کو (اس لیے نہیں )چھپاتے نہیں تھے ( کیونکہ تم لوگ یہ سمجھتے تھے ) کہ تُمارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خِلاف گواہی نہ دیں گی ، اور لیکن (اسکے ساتھ ساتھ ) تم لوگوں کو یہ گمان بھی تھا کہ اللہ تمہارے کاموں میں سے اکثر کاموں کا عِلم نہیں رکھتا O وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ ٱلَّذِي ظَنَنتُم بِرَبكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ منَ ٱلُخَاسِرِينَ ::: اور یہ تُم لوگوں کا تمہارے رب کے بارے میں وہ گُمان تھا جس نے تُم لوگوں کو تباہ کیا اور تُم لوگ خسارے والے ہو گئے ))))) سُورت (حٰم سجدہ) الفُصلت /آیات 20 تا 23 ، تا کہ ہر بندے کے اعمال پر خود اس کے اپنے ہی جسم و جاں سے گواہی ہو جائے اور کسی کو یہ خیال نہ ہو سکے کہ معاذ اللہ اسے کسی جُرم کی بجائے محض اِلزام کی بنا پر سزا دی گئی ہے ، ::::::: اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا مکمل ، بے عیب انصاف ہی ہے کہ وہ بندوں کے اعمال کے حساب کے لیے ترازو (میزان) قائم فرمائے گا جس میں بندوں کے اعمال تول کر اُس تول کے مطابق بندوں کو جزاء یا سزاء ملے گی ، ہر کوئی اپنے اعمال کے وزن کو خود دیکھے گا ((((( وَالوَزنُ يَومَئِذٍ الحَقُّ فَمَن ثَقُلَت مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ هُمُ المُفلِحُونَ ::: اور قیامت والے دِن (اعمال کا ) وزن (کیا جانا) حق ہے تو جِس کا (نیکیوں والا ) پلڑا بھاری ہو گیا تو وہ لوگ کامیابی پانے والے ہوں گے O وَمَن خَفَّت مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا بِآياتِنَا يَظلِمُونَ) الأعراف ::: اور جِس کا (نیکوں والا) پلڑا ہلکا ہو گیا تو وہ لوگ ہی ہوں گے جو اپنی جانوں کا نقصان پائیں گے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظُلم کیا کرتے تھے ))))) سُورت الأعراف /آیات 8-9 ، جو مسلمان یہ جان لے گا اور اِس پر اِیمان رکھتا ہو گا کہ قیامت والے دِن کس طرح حساب ہو گا اور ایک رتی برابر معمولی سے معمولی برائی بھی ایسی نہ ہو گی جس پر گرفت نہ ہو گی ، اور یہ کہ ظُلم و زیادتی ، برائی اور گناہ کا بدلہ کس کس طرح دینا ہو گا اور کس کس طرح لینا ہو گا تو اُس کے لیے سب سے ضروری اور أہم ہو جائے گا کہ وہ اُس دِن کے حساب سے پہلے اپنا حساب کرتا رہے اور اپنے کھاتے صاف رکھے اور اُس دِن کی تیاری رکھے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ ءِ راشد أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہُ کا فرمان ہے کہ """ حَاسِبُوا أنفُسَكُم قَبلَ أن تحُاسَبُوا وَزِنُوا أنفُسَكُم قَبلَ أن تُوزَنُوا فَإنَّهُ أخفُ عَلِيكُم في الحِسابِ غَداً أن تُحاسِبُوا أنفُسَكُم اليَوم وتَزَيَّنُوا لِلعَرضَ الأكبر ::: اِس سے پہلے کہ تُم لوگوں کا حِساب کیا جائے تُم لوگ اپنی جانوں (کے اعمال) کا حساب خود کر رکھو ، اپنی جانوں(کے اعمال) کا وزن خود کر رکھو اس سے پہلے کہ اُن کا وزن کیا جائے ، کیونکہ آج حساب کر لینا کل حساب دینے کی نسبت تُم لوگوں کے لیے آسان ہو گا ، اور (جہاں ساری مخلوق کے اعمال دکھائے جائیں گے)اُس بڑی نمائش کے لیے (نیکیوں سے )سج سنور ہو جاؤ """ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصادر و المراجع ::: صحیح البُخاری ، صحیح مُسلم ، صحیح ابن حبان ، سنن الترمذی ، التفسیر الکبیر للرازی ، تفسیر ابن کثیر ، تفسیر الأضواء البیان ، فتح الباری شرح صحیح البُخاری ، السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ، السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ، حلیۃ الأولیاء ۔ Last edited by عادل سہیل; 10-10-10 at 11:04 PM. وجہ: ری فارمیٹنگ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (26-01-11), فیصل ناصر (14-10-10), محمد عاصم (12-10-10), مرزا عامر (11-10-10), ضِرار Derar (11-10-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ میرے کو
سارے مسلمان کو آخرت کے عذاب سے بچاے یہ دیکھو
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,835
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ضرار بھإئی اگر یہ خبر سچی ہے تو یہ عذاب قبر کے منکرین کے لیے ایک بہت بڑی حجت ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمارے سب کو اور ہر مسلمان کو دُنیا اور آخرت کے ہر عذاب سے بچإئے ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ میرے اعمال کی وجہ سے مجھ کو رندہ درگاہ نہ فرما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا رحم فرما ۔۔۔۔۔ہم گناہ گار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باغی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,484
کمائي: 118,312
شکریہ: 13,468
4,893 مراسلہ میں 16,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() عذاب قبر سے کسی کو بھی انکار نہیں مگر شائد اسے دیکھا نہیں جا سکتا، اس تصویر کے ساتھ ایک عبارت بھی نقل کی ھے جس میں لکھا ھے کہ دفن کرنے کے تین گھنٹہ میں فتوی حاصل کر کے جب قبر کو کھولا گیا تو یہ حالات سامنے تھے۔ تصویر میں کہیں بھی یہ نظر نہیں آ رہا کہ میت کو کفن پہنایا گیا تھا بلکہ اوپر کی طرف ٹی۔شرٹ صاف نظر آ رہی ھے پہنی ہوئی اور باقی بھی سب آسانی سے دیکھا جا سکتا ھے۔ ایسا لگتا ھے کہ یہ موت ہسپتال میں ہی ہوئی اور وہیں سے یہ تصویر حاصل کی گئی مگر قبر تک یہ میت نہیں پہنچی۔ واللہ اعلم والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,085
کمائي: 19,106
شکریہ: 9,171
761 مراسلہ میں 1,897 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
![]() باخدا دیوانہ باشد بامحمد ہوشیار!طالبان اور امریکہ کا ایک ہی مقصد ۔ مسلم کشی |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,835
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کنعان بھائی اور اویسی بھإئی ، جزاکما اللہ خیرا ، معاملہ واقعتا کچھ واضح نہیں ، اگر قبر سے نکالنے کے بعد یہ تصویر کسی ہسپتال وغیرہ میں بھی لی گٕئی ہوتی تو بھی انڈر وٕئیر اور شرٹ والا معاملہ نہ ہوتا ، اور """ نوجوان """ کے سفید بال بھی سمجھ سے باہر ہیں ۔ اللہ جانے ہم لوگ قران کریم اور صحیح سنت مبارکہ میں ثابت شدہ امور کو اس طرح کے مادی شواھد کی تصدیق کیوں دلوانا چاہتے ہیں جبکہ یہ سراسر ایمانیات کا معاملہ ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین ہی کافی سے زیادہ دلیل ہیں ، اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عادل صاحب میرے کو تو یہ ہی سمجھ آیا کہ یہ خبر سچی ہو گی ویسے اب میرے کو بھی اس مین شک ہونے لگا ہے اگر جھوٹ ہے تو اللہ میرے کو معاف کرے |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, document, green, کلام, کمر, کس, پسند, لوگ, مکمل, ماں, محبت, اللہ, بھائی, بیوی, بے, جھوٹ, خلیل, درخواست, سال, عیسیٰ, عبرت, عذاب, غلطی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری | ڈاکٹرنور | گپ شپ | 35 | 01-01-11 11:05 AM |
| ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال | جاویداسد | خبریں | 1 | 20-12-10 06:51 PM |
| ::: محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 23-12-07 11:01 PM |
| نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) | چاچا کمال | خبریں | 0 | 04-12-07 11:50 AM |
| نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 04-12-07 09:12 AM |