واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > آخرت



آخرت آخرت


شرک ظلم عظیم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-02-11, 04:19 PM   #1
شرک ظلم عظیم
Aurangzeb Yousaf Aurangzeb Yousaf آف لائن ہے 24-02-11, 04:19 PM

اللہ نے ہمیں پیدا فرمایا ہے، وہی ہمیں رزق دیتا ہے، اسی کی بنائی زمین و کائنات میں ہم رہتے ہیں اور ہماری زندگی کے تمام اسباب و وسائل اسی نے مہیا کیےہیں، ان نعمتوں پرمزید یہ کہ اس نے ہمیں سوچنے سمجھنے والے دل اورعقل عطا فرمائی۔غرض خدا کی نشانیوں میں غور وفکر کیجیے تو جانیں گے کہ کائنات میں بلاشرکت غیرےبس اللہ ہی کی حکومت،بادشاہی اور فرمانروائی چل رہی ہے اور ہماری زندگي کا ایک ایک سانس خالص اسی کی عطا، کرم اور مہربانی ہے جس میں کسی دوسرے کی کوئی شرکت نہیں اور اسی اقرار و عہد کا وہ ہم سے مطالبہ بھی کرتا ہے کہ ہم بس اسی کی بندگی اور اطاعت کریں اور اس کی ذات، صفات، حقوق بندگی، اختیارات، ارادوں، فیصلوں،بادشاہی اور حکومت میں کسی کو شریک نہ کریں۔اب اس ایک ہی اللہ کی تخلیق ہو کر، اس کا دیا ہوا رزق کھا کر اور اس کے بنائے زمین و آسمان کی حدود میں رہ کر جب ہم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں تو یہ وہ انتہائی سنگین جرم ہے جس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ(بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے) اور یہ بات قرآن میں اپنے محبوب بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کی زبانی ہمیں بتلائی گئي جن کو اللہ نے حکمت عطا فرمائی تھی:

سورة لقمان (31 )
وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ {12} وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ {13}

ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر گزار ہو ۔ جو کوئی شکر کرے اُس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے ۔ اور جو کوئی کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔
یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اُس نے کہا “ بیٹا ! خُدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"


اسی مضمون پرکچھ احادیث مبارکہ بھی ملاحظہ ہوں:

سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر اپنے والد (سیدنا ابو بکر)ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے ، آپﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بڑا کبیرہ گناہ نہ بتلاؤں؟ تین بار آپﷺ نے یہی فرمایا (پھر فرمایا کہ)اللہ کے ساتھ شرک کرنا (یہ تو ظاہر ہے کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے ) دوسرے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرنا، تیسرے جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بولنا۔ اور رسول اللہﷺ تکیہ لگائے بیٹھے تھے ، آپﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور بار بار یہ فرمانے لگے (تاکہ لوگ خوب آگاہ ہو جائیں اور ان کاموں سے باز رہیں) حتیٰ کہ ہم نے اپنے دل میں کہا کہ کاش آپﷺ خاموش ہو جائیں۔ (تاکہ آپ کو زیادہ رنج نہ ہو ان گناہوں کا خیال کر کے کہ لوگ ان کو کیا کرتے ہیں)۔ (صحیح مسلم)


سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سات گناہوں سے بچو جو ایمان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں۔ صحابہؓ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:
1۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔
2۔ جادو کرنا۔
3۔ اس جان کو مارنا جس کا مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ، لیکن حق پر مارنا درست ہے۔
4 ۔ سود کھانا۔
5۔ یتیم کا مال کھا جانا۔
6۔ اور لڑائی کے دن کافروں کے سامنے سے بھاگنا۔
7۔ اور شادی شدہ ایمان دار ، پاک دامن عورتوں کو جو بدکاری سے واقف نہیں، تہمت لگانا۔
(صحیح مسلم)


اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا بہت بڑا ظلم اور بدترین جرم ہے۔یہ ایسا بھیانک و گھناؤنا کام اور ایسی خوفناک غلطی ہے کہ جو شخص شرک میں ملوث رہا اور توبہ کیے بغیر مر گیا اور اللہ کے ہاں اس حال میں حاضر ہو کہ ساتھ میں شرک لیے ہوئے ہے تو اس کا یہ گناہ اس دوزخ میں لے جائے گا کیونکہ یہ اللہ کی کتاب میں ناقابل معافی گناہ ہے اور اس کے مرتکب پر اللہ نے جنت حرام کر دی :

سورة النساء (4)
إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا {48}

اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔


سورة النساء (4)
إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِيدًا {116}

اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتاہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔


سورة المائدة ( 5 )
إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ {72}

جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے او ر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔


شرک کی معافی کیوں نہیں اور مشرک پر جنت کیوں حرام ہے ،علماء نے اس بات کو سمجھانے کےلیے بڑی خوبصورت مثالیں دی ہیں۔جن میں سے ایک مثال میاں بیوی کے رشتے کی دی گئی ہے۔وہ اس طرح کہ ایک سلیم الفطرت شخص کبھی اپنی بیوی میں دوسرے کی شراکت برداشت نہیں کر سکتا۔ایک طرف تو وہ اپنی بیوی کے لیے دن رات محنت کر کے کما رہا ہو، اسے کھلا پلا رہا ہو اوراسے ہر سہولت فراہم کر رہا ہو، دوسری طرف اگر اسے یہ معلوم ہو کہ اس کی بیوی کی دلچسپی ، محبت اور تعلق اس کےساتھ نہیں بلکہ کسی اور کے ساتھ ہے یا وہ ان حقوق میں جو خاص اس کے لیے ہی ہیں کسی دوسرے کو بھی شریک کرتی ہے تو اپنی بیوی کی یہ غلطی وہ کبھی معاف نہ کرے گا ہاں باقی جتنی بھی خامیاں ہوں وہ معاف کی جا سکتی ہیں اور ان کوتاہیوں کے ساتھ بھی یہ تعلق تمام عمر نبھ سکتا ہے اور نبھتا ہے لیکن ایک بیوی کی طرف سےشوہر کے خاص حقوق میں دوسروں کی شراکت ایک ایسی غلطی ہے جس کو ایک ایساشوہر جس کی فطرت مسخ نہ ہو چکی ہوکبھی معاف نہ کرےگا۔
اب یہ تو بات سمجھانے کے لیے محض ایک مثال ہے اور ایک ایسے انسانی رشتے کا حال ہے جو چند لفظوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور جس رشتے کی خالق و مخلوق کے رشتے سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ غور فرمائیے کہ اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق خالق اور مخلوق کا ہے جو کہ ہمارا سب سے پہلا اٹوٹ رشتہ ہے۔ ہم اللہ کو اپنا خالق و مالک ورب مانیں یا نہ مانیں وہ بہرحال ہمارا خالق و مالک ورب ہے۔جس طرح کوئی اپنے والدین کے رشتے سے انکار نہیں کرسکتا اسی طرح اپنے خالق کے رشتے کابھی انکار بھی نہیں کر سکتا۔اسی مثال سے علماء نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہمیں کسی دوسرے کی شرکت کے بغیرپیدا تو اللہ کرتا ہے، رزق دیتا ہے، ہم ساری زندگی اسی کے انتظام پر جیتے ہیں اور کہیں ایک لمحے کے لیے بھی کوئی دوسرا حقیقتا ہماری زندگی برقرار رکھنے کے عمل میں شریک نہیں ہوتا توبھلا خدا کی غیرت کیوں یہ گوارا کرے کہ ہم اس کی مخلوق ہو کر اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کریں ۔ ہمیں زندگی وہ عطا کرے اور ہماری نیاز مندیاں دوسروں کے لیے وقف ہوں، ہم رزق کھائیں اللہ کا، زندہ رہیں اللہ کی مہربانی سے اور ہمارا خوف اورہماری امیدیں دوسروں سے وابستہ ہوں، ہمیں سب کچھ عطا اللہ فرمائے اور ہم سر جھکائیں اوروں کے دروں پر جو خود ہمارے ہی جیسی بے بس کمزورمخلوق ہیں ۔
کفر و شرک اللہ سے بغاوت ہے اور دستور ہے کہ باغی کی کوئی اچھائی و نیکی نہیں دیکھی جاتی، اسے صرف سزا دی جاتی ہے۔ شرک کی بنیاد میں ہی یہ خیال اور یہ عنصر کارفرما ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف کسی کمزوری ، محتاجی اور عیب کو منسوب کیا جائے حالانکہ وہ ہر کمزوری، محتاجی اور عیب سے پاک ہے اور یہ اللہ کی توہین ہے کہ اسی کا ساختہ پرداختہ کوئی شخص اٹھ کر اسی کی مخلوق میں سے کسی کو اس کے ساتھ شریک کرے۔ اور اللہ کی یہ توہین ایک ایسا گناہ ہے جسے وہ کبھی معاف نہ کرے گا۔ بس یہی وہ جرم عظیم ہے کہ خدا کی بارگاہ میں جس کی معافی کوئی نہیں جیسا کہ اوپر آیات میں ذکر آیا اوریہ معاملہ ایسا حساس ہے کہ:

سیدنا جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ ایک شیخ نے نبیﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ دو واجب کر دینے والی چیزیں کیا کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: جس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں جائے گا اور جس کو اس حال میں موت آئے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔(صحیح مسلم)


اورنیتوں اور دلوں کے خیالات اور وسوسے تک جاننے والا اللہ صرف وہ اعمال قبول فرماتا ہےجو خالص اسی کے لیے کیے جائیں۔ وہ کوئي بھی ایسا عمل قبول نہیں کرتا جس میں اس کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کیا جائے۔جو کوئی ایسا عمل کرے تو پھر اپنے عمل کی جزا کی جھوٹی توقع بھی اسی سے رکھے جسے اس نے اس عمل میں اللہ کے ساتھ شریک کیا۔خدا کے ہاں اس کا یہ عمل مردود ہے۔ حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو:

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اور شریکوں کی نسبت شرک سے بہت زیادہ بے پروا ہوں۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو بھی ملایا اور شریک کیا تو میں اس کو اور اس کے شریک کے کام کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (یعنی اللہ اسی عبادت اور عمل کو قبول کرتا ہے جو اللہ ہی کے واسطے خالص ہو دوسرے کا اس میں کچھ حصہ نہ ہو)۔ (صحیح مسلم)


سارے اعمال کو برباد کر دینے والے اسی گناہ یعنی شرک سے بچنے کے لیے سارے انبیاء اور رسولوں علیہم السلام کی طرف یہ وحی کی گئي کہ:

سورة الزمر ( 39 )
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ {65} بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنْ الشَّاكِرِينَ {66}

(اے نبیؐ )تمہاری طرف اور تم سے پہلےگزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے میں رہوگے۔ لہٰذا تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔


شرک وہ نجاست اور گندگی ہے جس کے ساتھ کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی:

سورة التوبة ( 9 )
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ ۔۔۔ {28}

اے ایمان لانے والو!مشرکین ناپاک ہیں۔


شرک جنت کو حرام کر دینے والا ناقابل معافی گناہ ہے اس لیے اے ایمان والو شرک سے بچنا:

سورة يوسف (12 )
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللّهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ {106}

ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہیں۔


اوراگر اب تک اس جرم میں مبتلا رہے ہیں تو زندگي کی اگلی سانس سے پہلے ہی توبہ کر لیجیے کہ توبہ ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے:

سورة مريم ( 19 )
إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا {60}

البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی۔

Attached Files
File Type: pdf شرک ظلم عظیم.pdf (762.1 KB, 37 views)
File Type: doc شرک ظلم عظیم.doc (139.5 KB, 21 views)


Last edited by Aurangzeb Yousaf; 26-02-11 at 12:19 PM..

Aurangzeb Yousaf
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 284 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 546
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا
موجو (12-03-11), محمد عاصم (12-03-11), مرزا عامر (10-03-11), ارشد کمبوہ (24-02-11), حیدر (12-03-11), عبداللہ آدم (24-02-11)
پرانا 24-02-11, 04:30 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,841
کمائي: 277,976
شکریہ: 1,147
6,255 مراسلہ میں 14,114 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سورة المائدة ( 5 )
إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ {72}
جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے او ر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

سرورق کیلئے اپلائی کریں۔

جزاک اللہ خیر
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (24-02-11), محمد عاصم (12-03-11), مرزا عامر (10-03-11), حیدر (12-03-11), عبداللہ آدم (13-03-11)
پرانا 28-02-11, 11:42 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,214
شکریہ: 11,479
2,269 مراسلہ میں 5,224 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلا شبہ شرک معافی کے قابل ھے ھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے اس کی عطا کردہ نعمتوں کا تنہائی میں ذرا اونچی آواز میں گن گن کر شکر ادا کرنا، اسکی قربت کا باعث بنتا ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (01-03-11), مرزا عامر (10-03-11), حیدر (12-03-11), عبداللہ آدم (13-03-11)
پرانا 10-03-11, 06:40 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا مضمون ہے،تاہم بارہ دن میں اس کے بارے میں جتنا ردعمل آنا چاہیے تھا،وہ نہیں آیا۔بہت ہی کم لوگوں نے اس پرتبصرہ کیاہے۔یہ دیکھ کرخوشی نہیں ہوتی کہ علم اور مطالعے کا ہمارا ذوق رفتہ رفتہ Disposable ہو تا جا رہاہے،پڑھنے لکھنے والے چٹپٹی تحریریں شوق سے پڑھتے ہیں اور فورا ہی ان کارسپانس آ جاتا ہے۔
حقیقت یہ کہ شرک کی نشان دہی کرنااور شرک سے روکنا انسانیت پراللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم ترین احسان ہے۔اگر اللہ کا کوئی بندہ اس ہلاکت خیز گناہ کے بارے میں ہمیں توجہ دلاتا ہے تو وہ بھی ہم سب کے شکریے کا مستحق ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جا بجاسخت ترین الفاظ میں شرک کی ہلاکت خیزی کا ذکر کیا ہے،یہاں تک کہ ایک جگہ یہ بھی کہا کہ جو شخص شرک میں مبتلا ہوا تو گویاآسمان سے گر پڑا:"وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ۔" اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا ، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے "(الحج:31)
مضمون میں جس حدیث کا حوالہ ہے اس میں کئی بڑے گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں بھی شرک کا جرم سر فہرست ہے۔دراصل شرک کا مطلب ہےاللہ کی بادشاہی میں رہتے ہوئے اس سے بغاوت کی جسارت کرنا۔ خدائی اختیارات میں غیر اﷲ کو شریک ٹھہرانا جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کواللہ کا بیٹا کہتے یا اللہ کے اختیارات میں شریک کرتے ہیں یا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی پرستش وعبادت کے لائق جاننا جس طرح ہندو لاتعداد دیوی دیوتائوں کی پوجا کرتے ہیں۔شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی نے فرمایا ہے:’’شریعت کی اصطلاح میں ''شرک'' سےمراد یہ ہے کہ جو صفات خاص باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں ان کو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے میں بھی ثابت کرے۔ جیسے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی عالم الغیب جانے۔ یا اللہ کی طرح کسی دوسرے کو بھی قادرو ناظر جانے، یا کسی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ فلاں نے نظر کرم کی تومجھ کو مال و زرکی وسعت اور خوشی حاصل ہو گئی یا فلاں کی ناراضی کی وجہ سےمیں بیمار ہو گیا یا میرا مقدر پھوٹ گیا ۔اللہ کے سوا کسی کو مصائب و مشکلات میں اس کا نام لے کر یاد کیا جائے ، یا غیر اﷲ کے نام پر کوئی جانور ذبح کیا جائےیا اللہ کے سوا اس کی نذر مانی جائے، یا شر کے دفع اور حصول منفعت کے لیے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پکارا جائے یہ سب کچھ شرک ہے جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ اس کے لیے معافی نہیں۔ ایک مرتبہ کسی نا واقف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے بارے میں اسی طرح کے الفاظ کہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت غصہ آیا اور فرمایا:تم نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا ؟پھر فرمایا کہ اس طرح کہو: مَا شَآءَ اﷲُوَحْدَہُ۔ ''یعنی جو صرف اللہ چاہے گا وہی ہوگا۔''۔
سورہ حج کی ذیل کی دو آیات میں اللہ تعالی نے انسان کی عقل سلیم کو عجیب انداز سے مخاطب کیا ہے۔کوئی شخص جس کو ذرا سا بھی شعور ہے ان آیات کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد شرک نہیں کر سکتا:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَه
وَ اِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ۠ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ
وَ الْمَطْلُوْبُ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ۔"لوگو ایک مثال دی جاتی اسے غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو،وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اُسے چھڑا بھی نہیں سکتے ۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے۔"(الحج:74،73)

Last edited by عبدالہادی احمد; 10-03-11 at 07:09 PM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (12-03-11), محمد عاصم (12-03-11), مرزا عامر (10-03-11), حیدر (12-03-11)
پرانا 12-03-11, 08:58 PM   #5
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,500
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 284 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترم بھائی
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ
بہت اچھی وضاحت فرمائی ہے۔
شکریہ
Aurangzeb Yousaf آف لائن ہے   Reply With Quote
Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (12-03-11)
پرانا 12-03-11, 09:02 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,691
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

12 دن میں رد عمل اس لیئے نہیں آیا کیونکہ زیادہ ترلوگ یہاں مصروف ہیں
غیر اللہ سے مدد مانگنا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (12-03-11), حیدر (12-03-11)
پرانا 12-03-11, 10:59 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,298
کمائي: 94,593
شکریہ: 52,338
11,093 مراسلہ میں 35,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اورنگ زیب بھائی ۔۔۔پہلے اپ قرآنک ٹاپکس کے نام سے لاگ ان ہوتے تھے نا؟
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (21-03-11), مرزا عامر (12-03-11), عبداللہ آدم (13-03-11)
پرانا 12-03-11, 11:31 PM   #8
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,500
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 284 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی آپ صحیح سمجھے ہیں۔
Aurangzeb Yousaf آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-03-11, 11:39 PM   #9
Senior Member
 
موجو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 417
کمائي: 9,439
شکریہ: 1,620
307 مراسلہ میں 909 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماشاء اللہ بہت اچھی کاوش ہے
موجو آن لائن ہے   Reply With Quote
موجو کا شکریہ ادا کیا گیا
Aurangzeb Yousaf (21-03-11)
پرانا 13-03-11, 12:06 AM   #10
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,691
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
بلا شبہ شرک معافی کے قابل ھے ھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے اس کی عطا کردہ نعمتوں کا تنہائی میں ذرا اونچی آواز میں گن گن کر شکر ادا کرنا، اسکی قربت کا باعث بنتا ھے۔
نہیں گن سکتے ۔ یقین کریں نہیں گن سکتے
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
Aurangzeb Yousaf (21-03-11)
جواب

Tags
color, کوشش, پاک, قرآن, لوگ, موت, ماں, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, بندگی, جرم, حال, حدیث, خدا, دل, دستور, رشتے, زندگی, شخص, عہد, عبادت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:36 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger