واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > آپ بیتی




جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی (1)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-09-11, 10:16 PM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افغان جہاد کی کہانی،کرنل امام کی زبانی (6)
روایت :کرنل امام
تحریر: عبد الہادی احمد
میں قبائلیوں کے ایسے گروہوں کو بھی جانتا ہوں جن کا کام انگریزی دور سے ہی سمگلنگ اور اغواکاری سے مال بنانارہا ہے۔وہ آج بھی اسی کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ طالبان سے اور جہاد سے نفرت کرتے ہیں لیکن مصلحتاً طالبان کا جھنڈا اٹھا لیاہے کہ اس سے انہیں گن اور جدید ترین ہتھیاررکھنے میں آسانی ہے اورفیشن بھی اسی بات کا ہے۔ پاکستانی طالبان کے مفاد پرست گروہ طالبان بننے سے پہلے بھی مسلح رہتے تھے،لڑتے بھڑتے اور اغوا اور تاوان جیسے کام کرتے رہتے تھے ،لیکن تب ان کے پاس درے کا بنا ہوا فرسودہ اسلحہ تھا،اب انہیں سی آئی اے اور موسادنے جدید ترین اسلحے سے لیس کر دیا ہے۔پاکستانی طالبان کہلانے والے ایسے گروہ جو ایمان کی دولت سے محروم نہیں،ان کے ہاں بھی اسلام کی لڑائی سے مراد یہ ہے کہ قیادت ملا کے پاس ہونی چاہیے۔اس سے پہلے سرداری ملا کے بجائے ملک اور خان کے پاس تھی۔ملکوں اور خوانین کے ہاتھوں ملاﺅں کوبہت تکلیفیں پہنچتی تھیں،لیکن خان اور ملک طاقت ور تھے ،ملا ہمیشہ ان کے ماتحت رہنے پر مجبورتھے۔صدیوں کے بعدپہلا موقع آیاہے کہ جدید اسلحہ ملا کے ہاتھ آ گیا،چنانچہ TTPنے اس کا سب سے پہلا 'جہاد'اپنے مقامی حریف یعنی ملک کے خلاف کیا۔سوات میں اس جنگ کواسلامی نظام کی جدوجہد کہا گیااور صوفی محمد صاحب نے اس کی قیادت سنبھال لی،لیکن وہاں بھی سب سے پہلے خوانین کو نشانہ بنایا گیا۔ اصل میں یہ خان اور ملا کی پرانی رقابت کا شاخسانہ تھی۔چنانچہ سوات اور دوسرے قبائلی علاقوں میں سینکڑوں ملک اور خان مارے جا چکے ہیںاور کچھ بھاگ کر شہروں میں جا بسے ہیں۔ البتہ ہم ان گروہوں کی سرگرمیوںمیں جذبہ انتقام کی کارفرمائی کو نظر انداز نہیں کر سکتے،ان کے ساتھ ہزاروں ایسے نوجوان شامل ہو گئے ہیں جو“جنت کی تلاش" میں سر ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔یہ وہ ہیں جن کے ماں باپ ، بچے یا بہن بھائی اس جنگ کا ایندھن بن گئے ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ جلد یا بدیران کی باری بھی آنے والی ہے۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کا جہاد جو پاکستان کی افواج،پولیس ،غیر ملکیوں اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے خلاف فدائی حملوں کی صورت میں جاری ہے امریکی ڈرون حملوں کا ردعمل ہے۔پاکستان کی حکومتوں نے امریکی غلامی اختیار کر کے اور افغانوں کی آزادی کی جنگ میں رکاوٹ ڈال کرجو زبردست حماقت کی ہے،یہ انتقام لیتے ہوئے لوگ اسی غصے کا اظہار ہیں۔دراصل یہ قبائلی نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی فوج کو بھی امریکی مفادات کے لیے لڑایا جا رہا ہے اور فوج ان کو دہشت گرد کہ کرامریکا کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس کا ردعمل ہونا فطری بات ہے ۔تحریک طالبان پاکستان کا ایک حصہ بلیک واٹر،را ،موساد اورسی آئی اے کے ایجنٹوں پر مشتمل ہے ۔ان میں کچھ بھاڑے کے ٹٹو ہیں اور کچھ غیر مسلم جن کو ہمارے حکمرانوں نے حقیر مفادات کے لیے ویزے دے کر پاکستان آنے کی اجازت دی اور جن کے پاس ملک کے امن کو برباد کرنے کا لائسنس ہے ۔یہ موقع بموقع براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی بم دھماکوں سے ہمارے ملک کا امن تباہ کرتے رہتے ہیں ،جیسے لاہور میں کئی مارکیٹوںپر بم حملے ہوئے یاپشاور میں قصہ خوانی کا واقعہ ہوا۔پاکستان کا امریکی جنگ میں کودنا ایک غیر حکیمانہ بلکہ ظالمانہ فعل تھا۔ مشرف بزدل تھا،مگر موجودہ حکمران اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں،انہیں بھی امریکی غلامی پر فخر ہے۔
القاعدہ اور طالبان
القاعدہ کانام کبھی کسی نے سنا بھی نہ تھا،ہاں اسلامک انٹر نیشنل ریلیف آرگنائزیشن نام کی تنظیم موجود تھی۔امریکی ڈرامے میں یہ نام فٹ نہیں بیٹھتا تھا،اس لیے القاعدہ نام رکھ دیا گیا۔یہ بالکل ایک امریکی ڈرامہ ہے۔افغان قوم کا ان عربوں سے محض مہمان اور میزبان کا رشتہ ہے،ورنہ افغان عوام اور علماءکٹر عرب وہابیوں کے عقیدے اور مسلک کو نہیں مانتے۔وہ اپنے مسلک پر اتنے پکے ہیں کہ میں نے کبھی ان کوعربوں کے پیچھے نماز تک پڑھتے نہیں دیکھا۔امریکیوں نے محض اس خطے پر قبضے کا بہانہ بنانے کے لیے جس طرح القاعدہ کا سٹنٹ گھڑا تھا،وہیں یہ جھوٹ بھی بولاکہ القاعدہ افغانستان کوایک وہابی ریاست بنانا چاہتی ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دو ہزار لوگ اڑھائی کروڑ لوگوں پر اپنی دھونس جمائیں اور ان کے عقیدے اور مسلک کو بدل ڈالیں۔اگر روس اور امریکاافغانوں کو زیر نہیں کر سکے تو ایک چھوٹی سی مہمان تنظیم افغانستان کو وہابی ریاست بنانے پرکیسے مجبور کر سکتی تھی۔ہما رے خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان جہاد میں مدد دینے کے لیے کل چار ہزار لوگ باہر سے افغانستان میں گئے تھے،ان میں سے بھی آدھے پاکستانی تھے۔روس کے واپس جاتے ہی ان مہمانوں میں سے بھی آدھے واپس چلے گئے۔یہ عرب مہمان جو افغانستان میں رہ گئے،ان کے اپنے گھر واپس نہ جانے کا ذمے دار بھی امریکا ہے۔امریکا نے مختلف عرب ممالک پر دباﺅ ڈالا کہ وہ افغانستان کے جہادمیںحصہ لینے والوں کو واپس نہ آنے دیں،ورنہ ان کے اقتدار کی خیر نہ ہو گی۔بہت سے عرب مجاہدین جو واپس اپنے ملکوں میں گئے ان کو وہاں گرفتار کر کے سزائیں دی گئیں،بہت سے جلا وطن ہوئے جن میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔تاہم روسی فوج کے جا نے کے بعدبہت تھوڑے لوگ افغانستان میں رہ گئے تھے۔سوال یہ ہے یہ کون سا انقلاب لا سکتے تھے؟ اس لیے وہابی ریاست کا ہوا کھڑا کرناامریکا کی ایک خانہ ساز کہانی اورالقاعدہ کی طرح ایک سٹنٹ تھا۔تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ ان لوگوں نے بہت سچا اور مخلصانہ جہاد کیا۔پہلے وہ اپنے مال اور جان کے ساتھ روس کے خلاف جہاد میں شریک ہوئے،پھر مجاہدین سے مل کر افغان کمیونسٹوں سے لڑے۔اس کے بعد انہوںنے طالبان کی مدد کی،آج بھی وہ طالبان کے ساتھ مل کر امریکا اور نیٹو کی افواج کے خلاف لڑتے ہیں۔ وہ بہت بڑی تعداد میں شہید ہوئے ہیں۔قیامت کے دن افغانستان کے ایک ایک پہاڑ اور وادی سے عرب ممالک کے شہداءاٹھائے جائیں گے۔بلاشبہ امریکا اور اس کے حواری ان کے خلاف زبردست پرو پیگنڈا کرتے ہیں،ساری دنیا ان کو دہشت گرد کہ رہی ہے، لیکن ان کے ایثار اور جذبہ جہاد کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
وہ دن کہ جب امریکا طالبان کے قائد ملا محمد عمر سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ اسامہ کو اس کے حوالے کریں، میں افغانستان میں موجود تھا۔ملا عمر نے میرے سامنے یہ بات کی کہ ہم اسامہ کو امریکا کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں،صرف ہمیںاس کے خلاف کوئی ثبوت دے دیں۔اس کے بارے میں تحقیقات کرائیں اور اس تحقیق کی تفصیل ہمارے سامنے بھی لا ئیں۔دعویٰ کرتے ہو تو ثابت کرو کہ اس نے یہ اور یہ جرم کیا ہے۔تمہارے اداروں کی رپورٹیں ہوں گی ،وہ بھی ہمیں دکھاﺅ،مگر امریکا اپنے فرعونی غرور اور تنے ہوئے سر سے ایک ہی بات کر رہا تھا:"Just Hand Over"(بس ہمارے حوالے کردو۔)میری موجودگی میں پاکستان سے علماءکا ایک وفد گیا۔اس وفد میں بہت سے شیخ الاسلام اور مفتیانِ کرام تھے۔انہوں نے بھی ملا عمر کو پاکستان کا پیغام دیا اوریہ بات 'سمجھانے 'کی کوشش کی کہ امریکا کی بات مان لیں،اپنے ملک کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ملا عمر نے کہا،میں ان پر حجت تمام کر کے دیکھ چکا ہوں،آپ کیا سمجھتے ہیں میں اسامہ کو ان کے حوالے کردوں گا، تو خاموش ہو جائیں گے؟نہیں جناب اس کے بعد مزید دس افراد کی فہرست آئے گی،وہ دس حوالے کروں گا ،تو پچاس اور مانگیں گے،اس کے بعد دو سو کی لسٹ آئے گی،وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔اس لیے میں ان سے ڈر کر اپنی اسلامی اور افغان روایت نہیں چھوڑوں گا،چاہے وہ ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ ان کے بس میں جو کچھ ہے وہ کریں، جو ہماری بساط میں ہوگاہم کریں گے۔ملا عمر پہلے دن ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ اپنے ایمان کی لاج رکھیں گے۔نائن الیون کے بعد انہیں حملے کا الٹی میٹم بھی دے دیا گیامگروہ اپنے موقف پر جمے رہے اورانہوں نے اسامہ بن لادن کو امریکیوں کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔پاکستان کا کمانڈو جرنیل جھک گیا،لیکن خدائے واحد کے سامنے سر جھکانے والے ملا محمدعمر اور ان کے ساتھی نہیں جھکے،بلکہ ایک بارجو عزم کر لیا اس سے پیچھے نہیں ہٹے۔انہیں اپنے ہزاروں قیمتی ساتھیوں سے محروم ہونا پڑا ،ان کو اپنے گھر بار اور خاندانوں کو چھوڑ کر پہاڑوں میں محصور ہونا پڑا،لیکن کبھی اپنے فیصلے پر پچھتائے بھی نہیں۔کبھی اسامہ بن لادن یا ان کے کسی ساتھی کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ ہم کو تمہاری وجہ سے اتنے مصائب جھیلنے پڑے۔پھر ظاہر ہے عرب مجاہد بھی اسلامی غیرت و حمیت میں افغانوں سے پیچھے نہیں۔انہوں نے بھی افغانستان کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔پہلے روس کے خلاف اور اب امریکا کے خلاف۔مال بھی دیا اور جانیں بھی نچھاور کیں۔یہ ان کا حق بھی ہے ،ان کا عقیدہ اور مذہب انہیں کہتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کریں اوراسلام کی سرزمین کی آزادی اور حفاظت کے لیے جہاد میں شریک ہوں۔
امریکاطالبان کا دشمن کیوں بنا؟
افغانستان کے طالبان جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایک زمانے میں امریکا کے " Good Boys" (اچھے بچے)تھے،لیکن جب یہ" گڈ بوائز"ہتھیار بند جتھوں کو ہٹاتے ہٹاتے کابل جا پہنچے، وہاں اپنی حکومت قائم کر لی اور قرآن شریف ہاتھ میں اٹھا کر اعلان کر دیا کہ یہ ہمارا دستور اور آئین ہے،تواس سے امریکا کو بڑا دھچکا لگا۔امریکا تو ان سے کچھ اور ہی امیدیں وابستہ کیے بیٹھا تھا۔ امریکی پالیسی سازوں کا پلان یہ تھاکہ طالبان پرانے مجاہدین سے لڑلڑ کر ان کی قوت کو بھی ختم کر دیں گے اور خود بھی لڑنے سے کمزور ہو کر ختم ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے امریکی حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان خانہ جنگی کرا نے میں کامیاب رہے تھے جس سے دو بڑے مجاہد گروہوں کی قوت پارہ پارہ ہوگئی تھی۔طالبان سے بھی امریکا کی توقعات بظاہر غلط نہ تھیں۔ طالبان کا کوئی ماضی نہ تھا ،وہ خود رو پودوں کی طرح اچانک اُگے تھے۔ ان کا اپنا کوئی سیاسی پلیٹ فارم تھا،نہ کوئی ٹھوس بنیاد تھی۔ماضی میں انہوں نے انفرادی طور پر مختلف مجاہدتنظیموں میں شامل ہو کر جہاد کیا تھا، لیکن کبھی کوئی تنظیمی ہیئت قائم نہیں کی تھی۔امریکی منصوبہ سازوں کا خیال تھاکہ ایک دو برس تک طوائف الملوکی اور انتشار میں اضافہ کرنے کے بعد طالبان اپنی موت آپ مر جائیں گے،مگر ایسا نہ ہوا،طالبان توسابق مجاہدین سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئے۔امریکا حیران ہو گیااور اس کا پلان بری طرح ناکام ہوگیا۔امریکی منصوبہ ساز بھی دنیا میں سب سے زیادہ نالائق ہیں۔ہم نے روس کے خلاف دس برس تک جنگ لڑی،اس کی پلاننگ پاکستانی فوجی افسروں اور خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے کی۔اس پر کل پانچ ارب ڈالر کے اخراجات ہوئے اور ایک امریکی بھی ہلاک نہیں ہواتھا،جب کہ افغان طالبان کے خلاف حالیہ جنگ میں امریکی سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں اورہر ماہ سینکڑوں تابوت بھی امریکا پہنچ رہے ہیں۔ان کے برطانوی حلیف ان سے بھی بڑے احمق ہیں۔امریکا نے افغانستان پر حملہ کیاتو برطانوی فوج نے کہا،ہمیں ہلمند بھیجا جائے ۔1880 ء میںہلمند میں انہیں افغانوں نے سخت زخم لگائے تھے ،وہ پرانا بدلہ چکانا چاہتے تھے ۔تاہم انہیں افغان قوم نے پھر ناکون چنے چبوائے ہیں۔میں نے ایک برطانوی صحافی سے کہا ،آپ کی قوم کومعرکہ میوند نہیں بھولنا چاہیے تھا ۔جب افغانوں نے 2500 انگریزوں کوکچل کر رکھ دیا تھا۔چند برس پہلے جب ہلمند کے لوگوں نے سنا کہ برطانیہ کی فوج دوبارہ ان کے صوبے کا رخ کر رہی ہے،توانہوں نے کہا ”کیا وہ میوند کو بھول گئے؟“میری ہلمند میں اپنے چند شاگردوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے مجھے کہا:”امام صاحب وہ اسی علاقے کا رخ کر رہے ہیں جہاں انہوں نے عبرت ناک شکست کھائی تھی۔وہ تاریخی میوند کی شکست کاانتقام لینے آرہے ہیں ،مگر آپ فکر نہ کریںہم یہاں ان کا جینا عذاب کر دیں گے۔“وہی ہوا گزشتہ چند معرکوں میں ۷۳۱ انگریز ہلمند میں مارے جا چکے ہیں۔یہ تعداد عراق کی پوری جنگ کے دوران مرنے والے انگریزوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
امریکا نے طالبان کو اقتدار میں آتے دیکھ کر ان پر فی الفور پابندیاں عاید کر دیں،جن میں ہوائی سفر اور دوسرے ملکوں سے سامان منگوانے جیسی پابندیاںشامل تھیں۔تاہم طالبان کو ان پابندیوں سے کیا فرق پڑنا تھا وہ توخدامست فقیر تھے۔وہ جس خاک سے اٹھے تھے اس سے رشتہ باقی رکھے ہوئے تھے۔میں نے ان کو پہلی بار دیکھا،تو میں نے بھی ان کے سامنے یہی خدشہ ظاہرکیا تھا کہ وہ کیسے اتنی مخالف قوتوں سے نمٹیں گے۔میں ان سے یہ بھی کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ بہت خون خرابہ ہو اور آپ لوگ یہ کھیل ادھورا چھوڑکرواپس اپنے مدارس میں چلے جائیں ۔میری تشویش کے جواب میں اکثر وہ ایک ہی بات کہتے ۔:”امام صاحب پروا مکہ واخیر بہ شی خدائے خیر بہ کی (امام صاحب فکر نہ کریں،خیر ہو گی، اللہ خیر کرے گا۔)کچھ عرصے کے بعد میں نے قندھار میں انہیں دیکھا،وہ پر عزم تھے اورساری قوم ان سے خوش تھی۔بہت سے طالبان شہید ہوگئے تھے ،مگر وہ مزید جوش وخروش سے جہاد کی تیاریوںمیں مصروف تھے۔افغان قوم کی جرات اورشجاعت کا مقابلہ دنیا کی کوئی قوم نہیںکر سکتی۔میرا مشاہدہ ہے کہ افغان بہت ہوشیار سپاہی ہوتا ہے۔اس سلسلے میں پنے شاگردوں کے بارے میں میری یادیں ناقابل فراموش ہیں۔چھوٹے چھوٹے لڑکے ٹریننگ کرنے آتے اور شان دار نتائج دکھاتے تھے۔ میں نے پاکستانی نوجوانوں کو بھی تربیت دی ہے،میں ان کو چھ ماہ سکھاتا مگر وہ ستر فی صد یاد رکھ پاتے تھے،جب کہ افغان صرف تین دن میں وہ سب جان لیتے اور سو فی صد یاد رکھتے تھے۔پندرہ دن کی ٹریننگ کے بعد انہوں نے سٹنگر چلانا سیکھ لیا اورتیر بہدف نتائج دیے۔
طالبان کی ان غیر معمولی صلاحیتوں کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے تھوڑی ہی مدت میں ،بغیر لڑے سارے ملک پر قبضہ کر لیا اور امن و امان قائم کر دیا۔دنیا میں سب سے زیادہ افیون اورہیروئن پیدا کرنے والے ملک میں منشیات کے کاروبار کی شرح صفر ہو کر رہ گئی۔یہ معجزہ کیسے رونما ہواانہوں نے افیون کاشت کرنے والوں کو سزائیں نہیں دیں،نہ جہازوں سے فصلوں پر زہر چھڑکا،بس ایک فتویٰ دیا کہ افیون کی کاشت ،ہیروئن کی فیکٹریاں اور یہ کاروبار حرام ہے۔ آن کی آن میں افیون کی کاشت ختم ہو گئی،اس کے بعدصرف احمد شاہ مسعود کے علاقے میں تھوڑی بہت کاشت ہوتی تھی۔حالانکہ افیون کو نہ امریکا ختم کر سکا تھا نہ اقوام متحدہ اور نہ اب امریکی ختم کر پائے ہیں۔طالبان نے بغیر کسی بیرونی امداد کے،اپنی مدد آپ کے تحت سڑکیں بنانی شروع کر دیں،زراعت کو بحال کیا اورکئی کارخانے لگا لیے۔
طالبان کی محیر العقول کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔انہوں نے اپنی حکومت کے دنوں میں سارے افغانستان میں امن قائم کر کے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا اظہار کیا تھا تو جنگ کے میدان میں بھی اپنے مقابلے میں ہزار گنا طاقت ور حریف کو پچھاڑ کر دنیا سے اپنا لوہا منوا لیا ہے۔اروس کے خلاف جنگ میں ساری دنیا مجاہدین کے ساتھ تھی،آج امریکا کو دنیا بھر کے ممالک کی حمایت حاصل ہے ،طالبان بالکل تنہا ہیں،مگر انہیں کسی کی امداد کی ضرورت نہیں۔ بعض امریکی اور یورپی اخبارات نے لکھا ہے کہ کرنل امام اور چند ریٹائرڈ افسر آج بھی طالبان کی مدد کر رہے ہیں،جو سراسر خلاف واقعہ بات ہے۔ یہ میرا خواب ضرور تھا،میں پاکستان میں اپنا گھر بار اوربال بچے کو چھور کر طالبان کے پاس مستقلاً جانا چاہتا تھا،میں نے ملا محمد عمر کو اپنی خدمات پیش کیں،مگر انہوں نے کہامیرا افغانستان میں ہونا طالبان کے لیے فائدے کے بجائے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بعض مغربی صحافیوں نے مجھ سے کہا،ہمیں پتہ چلا ہے آپ اپنے دوستوں کی مدد کے لیے ہلمند اور اورزگان تک جاتے ہیں۔اس پر میں نے ان سے کہا،کاش یہ بات سچ ہوتی،مگراب تو میں۵۶ برس کا ہو چکا ہوں۔ عملی زندگی سے ناطہ توڑے مجھے آٹھ برس ہو چکے ہیں۔کاش میں اپنے شاگردوں کے کچھ کام آسکتا،لیکن انہیں میری ضرورت نہیں رہی، وہ اب مجھ سے بہت آگے نکل گئے ہیں اور مجھے ان پر فخر ہے۔
جنرل مشرف سے میری ملاقات
نائن الیون کے بعد مشرف نے افغانستان کی تقدیر امریکا کے سپرد کر دی تو مجھے افغانستان سے واپس بلا لیا گیا۔ اس طرح افغانستان سے واپس آنے والا میں آخری پاکستانی فوجی افسر تھا۔ جنرل مشرف اس سے پہلے ہی امریکہ کے آگے سر نگوں ہو چکے تھے اور مجھے اس پر بہت دکھ تھا۔میں نے کبھی اپنے خیالات چھپائے بھی نہیں تھے۔میری جنرل مشرف سے ملاقات ہوئی تومیں اپنا غصہ چھپا نہ سکا ۔میں نے کہا ”سر میں افغانوں کے ساتھ اٹھارہ برس گزارچکا ہوں،میں ان کے طرز جنگ سے بھی واقف ہوں اور مجھے ان کی جرات ایمانی سے بھی آگاہی ہے،انہیں شکست نہیں دی جا سکتی“۔جنرل مشرف امریکییوں سے بری طرح ہراساں تھا۔ اس نے میری تردید کرتے ہوئے تیز لہجے میں کہا،”پھرآپ ایک سپر پاورکو نہیں جانتے“۔میں نے کہا ،جناب والامیں نے روس جیسی سپر پاور کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔اس کی فوج امریکی او ر برطانوی فوج سے زیادہ بہادر تھی اور میں اس طاقت ور اوربہادر فوج کو کمزور سے افغانوں کی ٹھوکروںمیں دیکھ کر آیا ہوں۔میں نے مشرف کو یاد دلایا کہ امریکانے افغانوں سے بے وفائی کی ہے اور وہ ہماری وفا کے جواب میں بھی جفا ہی کرے گا۔مشرف نے سنی ان سنی کرتے ہوئے بات کا رخ ہی بدل دیا۔مشرف کی طرح دنیا کے جس حکمران نے بھی امریکیوں سے امیدیں وابستہ کیں،امریکیوں نے اسے دھوکا دیا۔مشرف کی بات دوسری ہے ،وہ جان بوجھ کر دھوکا کھانے والوں میں سے تھا۔البتہ اس نے اپنے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کوبھی دھوکا دیا ۔اس نے عوام کو جھانسہ دیا کہ امریکا افغانستان میں رعایتیں دینے کے بدلے پاکستا ن میں دودھ کی نہریں بہا دے گا اوروہ کشمیر کو آزاد کرائے گا۔
پاکستان نے پہلے بھی امریکا کے ہاتھوں بہت دھوکے کھائے ہیں۔ضیا ءالحق دور میں بھی ہمیں امریکا نے دھوکا دیا،لیکن فرق یہ تھا کہ تب ہم امریکا کی جنگ میں نہیں کودے تھے،بلکہ امریکا ہماری جنگ میں کودا تھا۔اگرچہ امریکا نے بعد میں اس جنگ کو اپنی جنگ بنا لیا اور اس کے فوائد خود سمیٹ لیے۔افغانستان اور پاکستان کو اس سے نقصان ہی پہنچا۔خود میں نے بھی امریکیوں کو دوست سمجھنے میں سخت غلطی کی تھی ۔وہ جب ہمارے ساتھ تعاون کرنے آئے تو انہیں دیکھ کر یقین ہی نہ آتا تھا کہ یہ وہی امریکی ہو سکتے ہیں جن کی بے وفائی کے قصے مشہور ہیں،لیکن بعد میں یہ راز مجھ پر کھل گیا کہ وہ تو اپنے مفادات کے لیے ہمیں دھوکا دے رہے تھے۔امریکی کانگرس کا رکن اور افغانستان کی جنگ کا اہم کردار چارلی ولسن بھی میرا گہرا دوست رہا۔وہ میرے کام سے بہت خوش ہوتا تھا۔میرے کیمپ میں آتا تو ناچنے لگتا تھا۔اس سے میری آخری ملاقات1988ءمیں روسی انخلا کے وقت ہوئی۔میں نے شکایت کی:"امریکا اپنا کام نکالنے کے بعد افغانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر جا رہا ہے،افغانستان کو تعمیر نو کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔" چارلی ولسن نے سرد مہری سے کہا:"کیا ڈالر درختوں پر اگتے ہیں؟"میں نے بھی اس لہجے میں پوچھا"کیا افغان نوجوان درختوں پر اگتے تھے؟آپ کو معلوم نہیں پندرہ لاکھ افغان اس جنگ میں کام آئے ہیں؟"اس کے پاس میر ے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔
ابھی اسی ماہ (بارہ فروری ۰۱۰۲ئ) چارلی ولسن مر گیا، تو میرے ایک جاننے والے ساتھی نے بطور تفنن کہا :”ارے تم اس کی آخری رسومات میں شرکت کرنے نہیں گئے؟ وہ تو تمہارا بہت قریبی دوست تھا،اس نے تمہارے ذریعے ہی افغان مجاہدین کوسٹنگر میزائل دیے تھے جن کےساتھ تم نے روس کو شکست دی۔“میں نے ان سے کہا۔میں ضرور جاتا ،چاہے مجھے کرائے کے لیے اپنے کپڑے تک بیچنے پڑتے ۔میں ضرور ٹیکساس جاتا اورچارلی ولسن کی قبر دیکھ کر آتا،مگراس نے مجھے اور افغان قوم کو بہت بڑا دھوکا دیا، وہ دوست نہیں ہمارا دشمن تھا،اس نے ہمیں اپنی ضرورت کے لیے استعمال کیا اور پھر کتوں کے آگے ڈال دیا۔
(باقی آئندہ)
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (01-11-11)
پرانا 16-09-11, 10:17 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افغان جہاد کی کہانی،کرنل امام کی زبانی (6)
روایت :کرنل امام
تحریر: عبد الہادی احمد
میں قبائلیوں کے ایسے گروہوں کو بھی جانتا ہوں جن کا کام انگریزی دور سے ہی سمگلنگ اور اغواکاری سے مال بنانارہا ہے۔وہ آج بھی اسی کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ طالبان سے اور جہاد سے نفرت کرتے ہیں لیکن مصلحتاً طالبان کا جھنڈا اٹھا لیاہے کہ اس سے انہیں گن اور جدید ترین ہتھیاررکھنے میں آسانی ہے اورفیشن بھی اسی بات کا ہے۔ پاکستانی طالبان کے مفاد پرست گروہ طالبان بننے سے پہلے بھی مسلح رہتے تھے،لڑتے بھڑتے اور اغوا اور تاوان جیسے کام کرتے رہتے تھے ،لیکن تب ان کے پاس درے کا بنا ہوا فرسودہ اسلحہ تھا،اب انہیں سی آئی اے اور موسادنے جدید ترین اسلحے سے لیس کر دیا ہے۔پاکستانی طالبان کہلانے والے ایسے گروہ جو ایمان کی دولت سے محروم نہیں،ان کے ہاں بھی اسلام کی لڑائی سے مراد یہ ہے کہ قیادت ملا کے پاس ہونی چاہیے۔اس سے پہلے سرداری ملا کے بجائے ملک اور خان کے پاس تھی۔ملکوں اور خوانین کے ہاتھوں ملاﺅں کوبہت تکلیفیں پہنچتی تھیں،لیکن خان اور ملک طاقت ور تھے ،ملا ہمیشہ ان کے ماتحت رہنے پر مجبورتھے۔صدیوں کے بعدپہلا موقع آیاہے کہ جدید اسلحہ ملا کے ہاتھ آ گیا،چنانچہ TTPنے اس کا سب سے پہلا 'جہاد'اپنے مقامی حریف یعنی ملک کے خلاف کیا۔سوات میں اس جنگ کواسلامی نظام کی جدوجہد کہا گیااور صوفی محمد صاحب نے اس کی قیادت سنبھال لی،لیکن وہاں بھی سب سے پہلے خوانین کو نشانہ بنایا گیا۔ اصل میں یہ خان اور ملا کی پرانی رقابت کا شاخسانہ تھی۔چنانچہ سوات اور دوسرے قبائلی علاقوں میں سینکڑوں ملک اور خان مارے جا چکے ہیںاور کچھ بھاگ کر شہروں میں جا بسے ہیں۔ البتہ ہم ان گروہوں کی سرگرمیوںمیں جذبہ انتقام کی کارفرمائی کو نظر انداز نہیں کر سکتے،ان کے ساتھ ہزاروں ایسے نوجوان شامل ہو گئے ہیں جو“جنت کی تلاش" میں سر ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔یہ وہ ہیں جن کے ماں باپ ، بچے یا بہن بھائی اس جنگ کا ایندھن بن گئے ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ جلد یا بدیران کی باری بھی آنے والی ہے۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کا جہاد جو پاکستان کی افواج،پولیس ،غیر ملکیوں اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے خلاف فدائی حملوں کی صورت میں جاری ہے امریکی ڈرون حملوں کا ردعمل ہے۔پاکستان کی حکومتوں نے امریکی غلامی اختیار کر کے اور افغانوں کی آزادی کی جنگ میں رکاوٹ ڈال کرجو زبردست حماقت کی ہے،یہ انتقام لیتے ہوئے لوگ اسی غصے کا اظہار ہیں۔دراصل یہ قبائلی نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی فوج کو بھی امریکی مفادات کے لیے لڑایا جا رہا ہے اور فوج ان کو دہشت گرد کہ کرامریکا کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس کا ردعمل ہونا فطری بات ہے ۔تحریک طالبان پاکستان کا ایک حصہ بلیک واٹر،را ،موساد اورسی آئی اے کے ایجنٹوں پر مشتمل ہے ۔ان میں کچھ بھاڑے کے ٹٹو ہیں اور کچھ غیر مسلم جن کو ہمارے حکمرانوں نے حقیر مفادات کے لیے ویزے دے کر پاکستان آنے کی اجازت دی اور جن کے پاس ملک کے امن کو برباد کرنے کا لائسنس ہے ۔یہ موقع بموقع براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی بم دھماکوں سے ہمارے ملک کا امن تباہ کرتے رہتے ہیں ،جیسے لاہور میں کئی مارکیٹوںپر بم حملے ہوئے یاپشاور میں قصہ خوانی کا واقعہ ہوا۔پاکستان کا امریکی جنگ میں کودنا ایک غیر حکیمانہ بلکہ ظالمانہ فعل تھا۔ مشرف بزدل تھا،مگر موجودہ حکمران اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں،انہیں بھی امریکی غلامی پر فخر ہے۔
القاعدہ اور طالبان
القاعدہ کانام کبھی کسی نے سنا بھی نہ تھا،ہاں اسلامک انٹر نیشنل ریلیف آرگنائزیشن نام کی تنظیم موجود تھی۔امریکی ڈرامے میں یہ نام فٹ نہیں بیٹھتا تھا،اس لیے القاعدہ نام رکھ دیا گیا۔یہ بالکل ایک امریکی ڈرامہ ہے۔افغان قوم کا ان عربوں سے محض مہمان اور میزبان کا رشتہ ہے،ورنہ افغان عوام اور علماءکٹر عرب وہابیوں کے عقیدے اور مسلک کو نہیں مانتے۔وہ اپنے مسلک پر اتنے پکے ہیں کہ میں نے کبھی ان کوعربوں کے پیچھے نماز تک پڑھتے نہیں دیکھا۔امریکیوں نے محض اس خطے پر قبضے کا بہانہ بنانے کے لیے جس طرح القاعدہ کا سٹنٹ گھڑا تھا،وہیں یہ جھوٹ بھی بولاکہ القاعدہ افغانستان کوایک وہابی ریاست بنانا چاہتی ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دو ہزار لوگ اڑھائی کروڑ لوگوں پر اپنی دھونس جمائیں اور ان کے عقیدے اور مسلک کو بدل ڈالیں۔اگر روس اور امریکاافغانوں کو زیر نہیں کر سکے تو ایک چھوٹی سی مہمان تنظیم افغانستان کو وہابی ریاست بنانے پرکیسے مجبور کر سکتی تھی۔ہما رے خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان جہاد میں مدد دینے کے لیے کل چار ہزار لوگ باہر سے افغانستان میں گئے تھے،ان میں سے بھی آدھے پاکستانی تھے۔روس کے واپس جاتے ہی ان مہمانوں میں سے بھی آدھے واپس چلے گئے۔یہ عرب مہمان جو افغانستان میں رہ گئے،ان کے اپنے گھر واپس نہ جانے کا ذمے دار بھی امریکا ہے۔امریکا نے مختلف عرب ممالک پر دباﺅ ڈالا کہ وہ افغانستان کے جہادمیں حصہ لینے والوں کو واپس نہ آنے دیں،ورنہ ان کے اقتدار کی خیر نہ ہو گی۔بہت سے عرب مجاہدین جو واپس اپنے ملکوں میں گئے ان کو وہاں گرفتار کر کے سزائیں دی گئیں،بہت سے جلا وطن ہوئے جن میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔تاہم روسی فوج کے جا نے کے بعدبہت تھوڑے لوگ افغانستان میں رہ گئے تھے۔سوال یہ ہے یہ کون سا انقلاب لا سکتے تھے؟ اس لیے وہابی ریاست کا ہوا کھڑا کرناامریکا کی ایک خانہ ساز کہانی اورالقاعدہ کی طرح ایک سٹنٹ تھا۔تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ ان لوگوں نے بہت سچا اور مخلصانہ جہاد کیا۔پہلے وہ اپنے مال اور جان کے ساتھ روس کے خلاف جہاد میں شریک ہوئے،پھر مجاہدین سے مل کر افغان کمیونسٹوں سے لڑے۔اس کے بعد انہوںنے طالبان کی مدد کی،آج بھی وہ طالبان کے ساتھ مل کر امریکا اور نیٹو کی افواج کے خلاف لڑتے ہیں۔ وہ بہت بڑی تعداد میں شہید ہوئے ہیں۔قیامت کے دن افغانستان کے ایک ایک پہاڑ اور وادی سے عرب ممالک کے شہداءاٹھائے جائیں گے۔بلاشبہ امریکا اور اس کے حواری ان کے خلاف زبردست پرو پیگنڈا کرتے ہیں،ساری دنیا ان کو دہشت گرد کہ رہی ہے، لیکن ان کے ایثار اور جذبہ جہاد کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
وہ دن کہ جب امریکا طالبان کے قائد ملا محمد عمر سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ اسامہ کو اس کے حوالے کریں، میں افغانستان میں موجود تھا۔ملا عمر نے میرے سامنے یہ بات کی کہ ہم اسامہ کو امریکا کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں،صرف ہمیںاس کے خلاف کوئی ثبوت دے دیں۔اس کے بارے میں تحقیقات کرائیں اور اس تحقیق کی تفصیل ہمارے سامنے بھی لا ئیں۔دعویٰ کرتے ہو تو ثابت کرو کہ اس نے یہ اور یہ جرم کیا ہے۔تمہارے اداروں کی رپورٹیں ہوں گی ،وہ بھی ہمیں دکھاﺅ،مگر امریکا اپنے فرعونی غرور اور تنے ہوئے سر سے ایک ہی بات کر رہا تھا:"Just Hand Over"(بس ہمارے حوالے کردو۔)میری موجودگی میں پاکستان سے علماءکا ایک وفد گیا۔اس وفد میں بہت سے شیخ الاسلام اور مفتیانِ کرام تھے۔انہوں نے بھی ملا عمر کو پاکستان کا پیغام دیا اوریہ بات 'سمجھانے 'کی کوشش کی کہ امریکا کی بات مان لیں،اپنے ملک کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ملا عمر نے کہا،میں ان پر حجت تمام کر کے دیکھ چکا ہوں،آپ کیا سمجھتے ہیں میں اسامہ کو ان کے حوالے کردوں گا، تو خاموش ہو جائیں گے؟نہیں جناب اس کے بعد مزید دس افراد کی فہرست آئے گی،وہ دس حوالے کروں گا ،تو پچاس اور مانگیں گے،اس کے بعد دو سو کی لسٹ آئے گی،وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔اس لیے میں ان سے ڈر کر اپنی اسلامی اور افغان روایت نہیں چھوڑوں گا،چاہے وہ ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ ان کے بس میں جو کچھ ہے وہ کریں، جو ہماری بساط میں ہوگاہم کریں گے۔ملا عمر پہلے دن ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ اپنے ایمان کی لاج رکھیں گے۔نائن الیون کے بعد انہیں حملے کا الٹی میٹم بھی دے دیا گیامگروہ اپنے موقف پر جمے رہے اورانہوں نے اسامہ بن لادن کو امریکیوں کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔پاکستان کا کمانڈو جرنیل جھک گیا،لیکن خدائے واحد کے سامنے سر جھکانے والے ملا محمدعمر اور ان کے ساتھی نہیں جھکے،بلکہ ایک بارجو عزم کر لیا اس سے پیچھے نہیں ہٹے۔انہیں اپنے ہزاروں قیمتی ساتھیوں سے محروم ہونا پڑا ،ان کو اپنے گھر بار اور خاندانوں کو چھوڑ کر پہاڑوں میں محصور ہونا پڑا،لیکن کبھی اپنے فیصلے پر پچھتائے بھی نہیں۔کبھی اسامہ بن لادن یا ان کے کسی ساتھی کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ ہم کو تمہاری وجہ سے اتنے مصائب جھیلنے پڑے۔پھر ظاہر ہے عرب مجاہد بھی اسلامی غیرت و حمیت میں افغانوں سے پیچھے نہیں۔انہوں نے بھی افغانستان کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔پہلے روس کے خلاف اور اب امریکا کے خلاف۔مال بھی دیا اور جانیں بھی نچھاور کیں۔یہ ان کا حق بھی ہے ،ان کا عقیدہ اور مذہب انہیں کہتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کریں اوراسلام کی سرزمین کی آزادی اور حفاظت کے لیے جہاد میں شریک ہوں۔
امریکاطالبان کا دشمن کیوں بنا؟
افغانستان کے طالبان جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایک زمانے میں امریکا کے " Good Boys" (اچھے بچے)تھے،لیکن جب یہ" گڈ بوائز"ہتھیار بند جتھوں کو ہٹاتے ہٹاتے کابل جا پہنچے، وہاں اپنی حکومت قائم کر لی اور قرآن شریف ہاتھ میں اٹھا کر اعلان کر دیا کہ یہ ہمارا دستور اور آئین ہے،تواس سے امریکا کو بڑا دھچکا لگا۔امریکا تو ان سے کچھ اور ہی امیدیں وابستہ کیے بیٹھا تھا۔ امریکی پالیسی سازوں کا پلان یہ تھاکہ طالبان پرانے مجاہدین سے لڑلڑ کر ان کی قوت کو بھی ختم کر دیں گے اور خود بھی لڑنے سے کمزور ہو کر ختم ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے امریکی حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان خانہ جنگی کرا نے میں کامیاب رہے تھے جس سے دو بڑے مجاہد گروہوں کی قوت پارہ پارہ ہوگئی تھی۔طالبان سے بھی امریکا کی توقعات بظاہر غلط نہ تھیں۔ طالبان کا کوئی ماضی نہ تھا ،وہ خود رو پودوں کی طرح اچانک اُگے تھے۔ ان کا اپنا کوئی سیاسی پلیٹ فارم تھا،نہ کوئی ٹھوس بنیاد تھی۔ماضی میں انہوں نے انفرادی طور پر مختلف مجاہدتنظیموں میں شامل ہو کر جہاد کیا تھا، لیکن کبھی کوئی تنظیمی ہیئت قائم نہیں کی تھی۔امریکی منصوبہ سازوں کا خیال تھاکہ ایک دو برس تک طوائف الملوکی اور انتشار میں اضافہ کرنے کے بعد طالبان اپنی موت آپ مر جائیں گے،مگر ایسا نہ ہوا،طالبان توسابق مجاہدین سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئے۔امریکا حیران ہو گیااور اس کا پلان بری طرح ناکام ہوگیا۔امریکی منصوبہ ساز بھی دنیا میں سب سے زیادہ نالائق ہیں۔ہم نے روس کے خلاف دس برس تک جنگ لڑی،اس کی پلاننگ پاکستانی فوجی افسروں اور خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے کی۔اس پر کل پانچ ارب ڈالر کے اخراجات ہوئے اور ایک امریکی بھی ہلاک نہیں ہواتھا،جب کہ افغان طالبان کے خلاف حالیہ جنگ میں امریکی سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں اورہر ماہ سینکڑوں تابوت بھی امریکا پہنچ رہے ہیں۔ان کے برطانوی حلیف ان سے بھی بڑے احمق ہیں۔امریکا نے افغانستان پر حملہ کیاتو برطانوی فوج نے کہا،ہمیں ہلمند بھیجا جائے ۔1880 ء میںہلمند میں انہیں افغانوں نے سخت زخم لگائے تھے ،وہ پرانا بدلہ چکانا چاہتے تھے ۔تاہم انہیں افغان قوم نے پھر ناکون چنے چبوائے ہیں۔میں نے ایک برطانوی صحافی سے کہا ،آپ کی قوم کومعرکہ میوند نہیں بھولنا چاہیے تھا ۔جب افغانوں نے 2500 انگریزوں کوکچل کر رکھ دیا تھا۔چند برس پہلے جب ہلمند کے لوگوں نے سنا کہ برطانیہ کی فوج دوبارہ ان کے صوبے کا رخ کر رہی ہے،توانہوں نے کہا ”کیا وہ میوند کو بھول گئے؟“میری ہلمند میں اپنے چند شاگردوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے مجھے کہا:”امام صاحب وہ اسی علاقے کا رخ کر رہے ہیں جہاں انہوں نے عبرت ناک شکست کھائی تھی۔وہ تاریخی میوند کی شکست کاانتقام لینے آرہے ہیں ،مگر آپ فکر نہ کریںہم یہاں ان کا جینا عذاب کر دیں گے۔“وہی ہوا گزشتہ چند معرکوں میں137 انگریز ہلمند میں مارے جا چکے ہیں۔یہ تعداد عراق کی پوری جنگ کے دوران مرنے والے انگریزوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
امریکا نے طالبان کو اقتدار میں آتے دیکھ کر ان پر فی الفور پابندیاں عاید کر دیں،جن میں ہوائی سفر اور دوسرے ملکوں سے سامان منگوانے جیسی پابندیاںشامل تھیں۔تاہم طالبان کو ان پابندیوں سے کیا فرق پڑنا تھا وہ توخدامست فقیر تھے۔وہ جس خاک سے اٹھے تھے اس سے رشتہ باقی رکھے ہوئے تھے۔میں نے ان کو پہلی بار دیکھا،تو میں نے بھی ان کے سامنے یہی خدشہ ظاہرکیا تھا کہ وہ کیسے اتنی مخالف قوتوں سے نمٹیں گے۔میں ان سے یہ بھی کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ بہت خون خرابہ ہو اور آپ لوگ یہ کھیل ادھورا چھوڑکرواپس اپنے مدارس میں چلے جائیں ۔میری تشویش کے جواب میں اکثر وہ ایک ہی بات کہتے ۔:”امام صاحب پروا مکہ واخیر بہ شی خدائے خیر بہ کی (امام صاحب فکر نہ کریں،خیر ہو گی، اللہ خیر کرے گا۔)کچھ عرصے کے بعد میں نے قندھار میں انہیں دیکھا،وہ پر عزم تھے اورساری قوم ان سے خوش تھی۔بہت سے طالبان شہید ہوگئے تھے ،مگر وہ مزید جوش وخروش سے جہاد کی تیاریوںمیں مصروف تھے۔افغان قوم کی جرات اورشجاعت کا مقابلہ دنیا کی کوئی قوم نہیں کر سکتی۔میرا مشاہدہ ہے کہ افغان بہت ہوشیار سپاہی ہوتا ہے۔اس سلسلے میں پنے شاگردوں کے بارے میں میری یادیں ناقابل فراموش ہیں۔چھوٹے چھوٹے لڑکے ٹریننگ کرنے آتے اور شان دار نتائج دکھاتے تھے۔ میں نے پاکستانی نوجوانوں کو بھی تربیت دی ہے،میں ان کو چھ ماہ سکھاتا مگر وہ ستر فی صد یاد رکھ پاتے تھے،جب کہ افغان صرف تین دن میں وہ سب جان لیتے اور سو فی صد یاد رکھتے تھے۔پندرہ دن کی ٹریننگ کے بعد انہوں نے سٹنگر چلانا سیکھ لیا اورتیر بہدف نتائج دیے۔
طالبان کی ان غیر معمولی صلاحیتوں کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے تھوڑی ہی مدت میں ،بغیر لڑے سارے ملک پر قبضہ کر لیا اور امن و امان قائم کر دیا۔دنیا میں سب سے زیادہ افیون اورہیروئن پیدا کرنے والے ملک میں منشیات کے کاروبار کی شرح صفر ہو کر رہ گئی۔یہ معجزہ کیسے رونما ہواانہوں نے افیون کاشت کرنے والوں کو سزائیں نہیں دیں،نہ جہازوں سے فصلوں پر زہر چھڑکا،بس ایک فتویٰ دیا کہ افیون کی کاشت ،ہیروئن کی فیکٹریاں اور یہ کاروبار حرام ہے۔ آن کی آن میں افیون کی کاشت ختم ہو گئی،اس کے بعدصرف احمد شاہ مسعود کے علاقے میں تھوڑی بہت کاشت ہوتی تھی۔حالانکہ افیون کو نہ امریکا ختم کر سکا تھا نہ اقوام متحدہ اور نہ اب امریکی ختم کر پائے ہیں۔طالبان نے بغیر کسی بیرونی امداد کے،اپنی مدد آپ کے تحت سڑکیں بنانی شروع کر دیں،زراعت کو بحال کیا اورکئی کارخانے لگا لیے۔
طالبان کی محیر العقول کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔انہوں نے اپنی حکومت کے دنوں میں سارے افغانستان میں امن قائم کر کے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا اظہار کیا تھا تو جنگ کے میدان میں بھی اپنے مقابلے میں ہزار گنا طاقت ور حریف کو پچھاڑ کر دنیا سے اپنا لوہا منوا لیا ہے۔اروس کے خلاف جنگ میں ساری دنیا مجاہدین کے ساتھ تھی،آج امریکا کو دنیا بھر کے ممالک کی حمایت حاصل ہے ،طالبان بالکل تنہا ہیں،مگر انہیں کسی کی امداد کی ضرورت نہیں۔ بعض امریکی اور یورپی اخبارات نے لکھا ہے کہ کرنل امام اور چند ریٹائرڈ افسر آج بھی طالبان کی مدد کر رہے ہیں،جو سراسر خلاف واقعہ بات ہے۔ یہ میرا خواب ضرور تھا،میں پاکستان میں اپنا گھر بار اوربال بچے کو چھور کر طالبان کے پاس مستقلاً جانا چاہتا تھا،میں نے ملا محمد عمر کو اپنی خدمات پیش کیں،مگر انہوں نے کہامیرا افغانستان میں ہونا طالبان کے لیے فائدے کے بجائے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بعض مغربی صحافیوں نے مجھ سے کہا،ہمیں پتہ چلا ہے آپ اپنے دوستوں کی مدد کے لیے ہلمند اور اورزگان تک جاتے ہیں۔اس پر میں نے ان سے کہا،کاش یہ بات سچ ہوتی،مگراب تو میں65 برس کا ہو چکا ہوں۔ عملی زندگی سے ناطہ توڑے مجھے آٹھ برس ہو چکے ہیں۔کاش میں اپنے شاگردوں کے کچھ کام آسکتا،لیکن انہیں میری ضرورت نہیں رہی، وہ اب مجھ سے بہت آگے نکل گئے ہیں اور مجھے ان پر فخر ہے۔
جنرل مشرف سے میری ملاقات
نائن الیون کے بعد مشرف نے افغانستان کی تقدیر امریکا کے سپرد کر دی تو مجھے افغانستان سے واپس بلا لیا گیا۔ اس طرح افغانستان سے واپس آنے والا میں آخری پاکستانی فوجی افسر تھا۔ جنرل مشرف اس سے پہلے ہی امریکہ کے آگے سر نگوں ہو چکے تھے اور مجھے اس پر بہت دکھ تھا۔میں نے کبھی اپنے خیالات چھپائے بھی نہیں تھے۔میری جنرل مشرف سے ملاقات ہوئی تومیں اپنا غصہ چھپا نہ سکا ۔میں نے کہا ”سر میں افغانوں کے ساتھ اٹھارہ برس گزارچکا ہوں،میں ان کے طرز جنگ سے بھی واقف ہوں اور مجھے ان کی جرات ایمانی سے بھی آگاہی ہے،انہیں شکست نہیں دی جا سکتی“۔جنرل مشرف امریکییوں سے بری طرح ہراساں تھا۔ اس نے میری تردید کرتے ہوئے تیز لہجے میں کہا،”پھرآپ ایک سپر پاورکو نہیں جانتے“۔میں نے کہا ،جناب والامیں نے روس جیسی سپر پاور کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔اس کی فوج امریکی او ر برطانوی فوج سے زیادہ بہادر تھی اور میں اس طاقت ور اوربہادر فوج کو کمزور سے افغانوں کی ٹھوکروںمیں دیکھ کر آیا ہوں۔میں نے مشرف کو یاد دلایا کہ امریکانے افغانوں سے بے وفائی کی ہے اور وہ ہماری وفا کے جواب میں بھی جفا ہی کرے گا۔مشرف نے سنی ان سنی کرتے ہوئے بات کا رخ ہی بدل دیا۔مشرف کی طرح دنیا کے جس حکمران نے بھی امریکیوں سے امیدیں وابستہ کیں،امریکیوں نے اسے دھوکا دیا۔مشرف کی بات دوسری ہے ،وہ جان بوجھ کر دھوکا کھانے والوں میں سے تھا۔البتہ اس نے اپنے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کوبھی دھوکا دیا ۔اس نے عوام کو جھانسہ دیا کہ امریکا افغانستان میں رعایتیں دینے کے بدلے پاکستا ن میں دودھ کی نہریں بہا دے گا اوروہ کشمیر کو آزاد کرائے گا۔
پاکستان نے پہلے بھی امریکا کے ہاتھوں بہت دھوکے کھائے ہیں۔ضیا ءالحق دور میں بھی ہمیں امریکا نے دھوکا دیا،لیکن فرق یہ تھا کہ تب ہم امریکا کی جنگ میں نہیں کودے تھے،بلکہ امریکا ہماری جنگ میں کودا تھا۔اگرچہ امریکا نے بعد میں اس جنگ کو اپنی جنگ بنا لیا اور اس کے فوائد خود سمیٹ لیے۔افغانستان اور پاکستان کو اس سے نقصان ہی پہنچا۔خود میں نے بھی امریکیوں کو دوست سمجھنے میں سخت غلطی کی تھی ۔وہ جب ہمارے ساتھ تعاون کرنے آئے تو انہیں دیکھ کر یقین ہی نہ آتا تھا کہ یہ وہی امریکی ہو سکتے ہیں جن کی بے وفائی کے قصے مشہور ہیں،لیکن بعد میں یہ راز مجھ پر کھل گیا کہ وہ تو اپنے مفادات کے لیے ہمیں دھوکا دے رہے تھے۔امریکی کانگرس کا رکن اور افغانستان کی جنگ کا اہم کردار چارلی ولسن بھی میرا گہرا دوست رہا۔وہ میرے کام سے بہت خوش ہوتا تھا۔میرے کیمپ میں آتا تو ناچنے لگتا تھا۔اس سے میری آخری ملاقات1988ءمیں روسی انخلا کے وقت ہوئی۔میں نے شکایت کی:"امریکا اپنا کام نکالنے کے بعد افغانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر جا رہا ہے،افغانستان کو تعمیر نو کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔" چارلی ولسن نے سرد مہری سے کہا:"کیا ڈالر درختوں پر اگتے ہیں؟"میں نے بھی اس لہجے میں پوچھا"کیا افغان نوجوان درختوں پر اگتے تھے؟آپ کو معلوم نہیں پندرہ لاکھ افغان اس جنگ میں کام آئے ہیں؟"اس کے پاس میر ے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔
ابھی اسی ماہ (بارہ فروری2010ء کو) چارلی ولسن مر گیا، تو میرے ایک جاننے والے ساتھی نے بطور تفنن کہا :”ارے تم اس کی آخری رسومات میں شرکت کرنے نہیں گئے؟ وہ تو تمہارا بہت قریبی دوست تھا،اس نے تمہارے ذریعے ہی افغان مجاہدین کوسٹنگر میزائل دیے تھے جن کےساتھ تم نے روس کو شکست دی۔“میں نے ان سے کہا۔میں ضرور جاتا ،چاہے مجھے کرائے کے لیے اپنے کپڑے تک بیچنے پڑتے ۔میں ضرور ٹیکساس جاتا اورچارلی ولسن کی قبر دیکھ کر آتا،مگراس نے مجھے اور افغان قوم کو بہت بڑا دھوکا دیا، وہ دوست نہیں ہمارا دشمن تھا،اس نے ہمیں اپنی ضرورت کے لیے استعمال کیا اور پھر کتوں کے آگے ڈال دیا۔
(باقی آئندہ)

Last edited by عبدالہادی احمد; 17-09-11 at 11:11 AM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (18-09-11), قاسمی (01-11-11)
پرانا 18-09-11, 12:35 AM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ بے شک ادا نہ کریں،لیکن سب لوگ اسے پڑھ ضرور لیں۔اگر سب بھائیوں نے پڑھ لیا تو میری محنت کا معاوضہ مجھے مل گیا،ورنہ دکھ ہوگا۔
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ہادی (18-09-11), قاسمی (01-11-11)
پرانا 18-09-11, 12:40 AM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک شکریہ ادا نہ کریں،مگر سب بھائی اور بہنیں اسے پڑھ ضرور لیں۔کم ازکم دو قسطیں اور ہوں گی۔اس کے بعد ان شاء اللہ مضامین کے لحاظ سے یک جا کر دوں گا۔
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (18-09-11), قاسمی (01-11-11), رضی (19-09-11)
پرانا 19-09-11, 06:18 AM   #20
Senior Member
 
abdulrehman303's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: لاہور
مراسلات: 274
کمائي: 4,209
شکریہ: 353
170 مراسلہ میں 422 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی (1)
روایت: کرنل امام
تحریر:عبدالہادی احمد

جنرل حمید گل نے ایک موقعے پر کرنل امام کی موجودگی میں مجھ سے کہا تھا۔”کبھی کرنل امام کا انٹرویو بھی کریں،ان کا سینہ افغان جہاد کا خزینہ ہے“۔میں بے حد خواہش کے باوجودکرنل امام کا انٹرویو نہ کر سکا۔اس دوران میں وہ اپنوں کی بے حسی اور غیروں کی سازش کے نتیجے میں بڑے الم ناک طریقے سے شہید کر دیے گئے۔کرنل امام جیسے لوگ ملک وقوم کے لیے باعث فخر ہوتے ہیں۔ان کی شہادت سے امریکا،اسرائیل اور بھارت کو ہی خوشی ہوئی ہو گی یا پھرروس کو جس کی مضبوط سلطنت کوپاش پاش کرنے میں کرنل امام کا بنیادی کردار تھا ۔کرنل امام چلے گئے لیکن ان کی بازگشت موجود ہے ۔چنانچہ جب مجھے ان کے حالات خصوصاً جہاد افغانستان میں ان کی خدمات کی جستجو ہوئی،توان کے بہت سے وڈیو اور آڈیو انٹرویو مل گئے ۔ان کے اپنے الفاظ اور ان کی آوازمیں حالات و واقعات کی ایک ایسی تصویر ابھر آئی جومعلومات افزا ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان افروز بھی ہے۔اس طرح میں کرنل امام کی زبانی جہاد افغانستان کی وہ کہانی پیش کر سکا جس کے بیشتر حصے کو آپ بیتی کہا جا سکتاہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہماری قوم اپنے بہادر اور محب وطن سپاہی کے کارنامے کو یاد رکھے ۔کرنل امام کو جن حالات میںقتل کیا گیااور اس کے بعدان کے کردار کو مسخ کرنے کی جس طرح شعوری اور غیر شعوری کوششیں کی جا رہی ہیں، ضروری ہوگیا ہے کہ تصویر کا وہ رخ بھی سامنے لانے کی کوشش کی جائے جو امریکا اور اس کے حواریوں کے لیے سخت ناگوار ہے ۔اس تحریر سے یقیناً آپ محسوس کریں گے کہ مرحوم کرنل امام اپنے بارے میں اور افغانستان کے جہاد کے بارے میں دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے کا ابطال کرتے نظر آتے ہیں۔حالانکہ ان کی یہ باتیں ڈیڑھ دو برس یا زیادہ پرانی ہیں،مگران سے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ آج بھی ہمارے آس پاس ہوں۔پاکستان اور جہاد کے دشمن کرنل امام کو شہید کر کے امریکا کی ایک گھٹیا سازش کامیاب کر نے میں تو کامیاب ہوگئے ،لیکن وہ کرنل امام کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے،ان کا نام اور کام تو تاریخ میں کبھی نہ مٹنے والے نقش کے طور پر ثبت ہو چکا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میرا نام سلطان امیرتارڑ ہے،جہاد افغانستان کے دنوں میں مجھے نماز کے لیے آگے کر دیتے تھے۔اس طرح میرا نام کرنل امام پڑ گیا۔ اب تو میرے اپنے بچے تک میرا اصل نام نہیں جانتے۔مجھے بھی اب اپنا یہی نام اچھا لگتا ہے،کیوں کہ یہ بہت اچھے لوگوں کا دیا ہوا نام ہے۔میں چکوال کا باسی اور پنجابی تارڑ قبیلے کا ایک فردہوں۔ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد پی ایم اے جائن کیا۔تربیت کے بعد میں15-FFرجمنٹ میں گیا۔اس کے بعد ایس ایس جی میں چلا گیا۔ یہاں میں نے ساڑھے آٹھ سال گزارے۔اس کے بعد واپس اپنی یونٹ میں آگیا اور اپنی یونٹ کو کمانڈ کیا۔اس کے بعد افغانستان میں میری خدمات کی ضرورت پڑی اور مجھے مجاہدین کو گوریلا ٹریننگ دینے کے کام کے لیے منتخب کر لیا گیا۔افغانستان میرے لیے بہت اجنبی مقام تھا۔کام کے آغازمیں بہت سی رکاوٹیں پیش آئیں۔میرے لیے وہاں کا کلچر مختلف تھا، رہن سہن، زبان،موسم ،خورد ونوش اورلوگوں کے طور طریقے مختلف تھے۔شروع میں ان کے مرچ کے بغیر کھانے نہیں کھا سکتا تھا۔اپنے ساتھ اچار کی بوتلیں لے کر جاتا تھا،لیکن یہ انتظام زیادہ عرصے تک چل نہ سکا،رفتہ رفتہ ان کا کھانا مجھے اتنا پسند آیا کہ میں گھر میں بھی یہی پکوا کر کر کھاتا ہوں،ان کا لباس مجھے اتنا پسند آیا کہ میں آج بھی یہی پہنتا ہوں۔ان کی زبان مجھے اتنی پسند آئی کہ جوں ہی کوئی افغان یا پشتون ملتا ہے میں پشتو بولنا شروع کر دیتا ہوں۔افغان جہاد سے وابستہ ہو کر جو کام میں نے کیا،الحمد للہ اس پر مجھے فخر ہے۔مجھے یہ کام میرے ادارے نے سونپا تھا،یہ ایک سخت قسم کا چیلنج تھاتاہم جب آپ کے سامنے ایک ایسا مقصد ہو جوآپ کے عقیدے اور نظریے سے متعلق ہو تو رکاوٹیں خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میرا پیشہ اور میرا جاب میرے عقیدے کے عین مطابق تھا۔الحمد للہ میں نے ربع صدی کا عرصہ افغان جہاد سے کسی نہ کسی درجے کی وابستگی میں گزارا ۔کبھی پشیمانی نہیں ہوئی،کبھی تھکان اور بے زاری نہیں ہوئی ،اس لیے میں اس کام کو عبادت اور فرض جان کر کرتا رہا۔میرے باقی ساتھی تو تھوڑا تھوڑا عرصہ گزارنے کے بعد واپس جاتے رہے،لیکن میں ربع صدی گزار کر نائن الیون کے بعد واپس آیا۔
میں1974ء میں سپیشل فورسز کے ساتھ خصوصی تربیت کے لیے امریکا گیا۔ میں چونکہ اپنے کورس میں اول آیا تھا اس لیے ایس ایس جی نے مجھے ایڈوانس کورس کے لیے امریکا بھیجا۔میں اس وقت ایس ایس جی کاافسر تھا۔میں یہی تعلیم چراٹ میں حاصل کر چکا تھا،البتہ اس کا ہمیں فائدہ ہوا کیوں کہ امریکیوں کا پڑھانے کا طریقہ جدید تھا اور ان کے پاس زیادہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی تھی۔میرا خصوصی مضمون”دھماکے اور سبوتاژ“تھا۔ مجھے امریکا جا کر اس مضمون میں مہارت حاصل کرنے میں بہت مدد ملی۔میں نے وہاں رہ کر اپنی اس صلاحیت میں زیادہ پختگی حاصل؛یعنی کس طرح آپ خالی ہاتھ ایک عام کچن یا واش روم میں واشنگ پاﺅ ڈر،چینی ،نمکیات اور گھریلو استعمال کی چیزوں سے بیس منٹ کے اندر اندر ہلاکت خیز بم بناکر دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔امریکیوں کے لیے میرے اندر حیرت کا عنصر بھی تھا۔میں نماز کا پابند تھا، امریکی مجھے نماز کی پابندی کرتے دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔شایدانہوں نے پہلا افسر دیکھاتھا جو کیمپ میں تربیت کے دوران بھی نماز پڑھتا تھا،بلکہ جب میں پیرا شوٹ سے چھلانگ لگاتا تو جنگل میں بھی نماز پڑھتا تھا۔ وہ ا سلام کے بارے میں بنیادی باتیں مثلاً نماز کی ادائیگی وغیرہ کے بارے میں جانتے تھے،لیکن جب دیکھتے کہ میں کسی حال میں نماز نہیں چھوڑتا تو اس پرحیرت کا اظہار کرتے رہتے تھے۔وہ اسلام کے بارے میں مجھ سے پوچھتے رہتے تھے اور میں ان کے سوالوں کا جواب دیتا تھا۔
کابل میں کمیونزم اور اس کا ردِعمل
کابل میں کمیونزم کے اثرات ظاہر شاہ کے زمانے میں ہی پھیل چکے تھے۔ شمالی افغانستان میں توحالت یہ تھی کہ سوویت یونین سے منظوری حاصل کیے بغیر ایک معمولی پولیس افسر بھی تعینات نہیں کیاجاتاتھا،مبادا کمیونسٹ حکمران ناراض ہوجائیں۔تاہم افغانستان کے جہاد کی کہانی 1973 ءسے شروع ہوتی ہے۔یہی سال تھا جب17 جولائی 1973ءکو سردار داﺅد نے ظاہر شاہ کے غیر ملکی دورے سے فائدہ اٹھا کر روسیوں کی مدد سے اس کا تختہ الٹ دیا ۔ سردار داﺅد خان ظاہر شاہ کا بہنوئی تھا،اس نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ملک سے بادشاہت ختم کرکے اپنی صدارت کا اعلان کر دیا۔۔داﺅد کا رجحان روس کی طرف تھا۔روس خاصے عرصے سے اس علاقے میں اپنا اثر ونفوذ بڑھا رہا تھا۔سردار داﺅد کے آنے کے بعدروسیوں نے اس سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اس کے ملک کی ہر طرح کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔روسیوں نے سردار داﺅد کو بھاری مالی امداد کی پیش کش کے ساتھ ساتھ فوجی اور سول افسروں کو تربیتی سہولتیں فراہم کرنے اور طلبہ کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے روسی اداروں کی خدمات پیش کر دیں۔اس پر افغان افسروں اورطلبہ کے بہت سے بیج ماسکو گئے جن کوتعلیم و تربیت کے بجائے کمیونزم کا بپتسمہ دیا گیا۔ان میں سے بہت سے افسر اور نوجوان طلبہ پکے کمیونسٹ بن کر لوٹے۔واپس آکر انہوں نے کمیونزم کی تبلیغ شروع کردی۔ کابل یونیورسٹی اور کابل کی پولی ٹیکنک انجینئرنگ یونیورسٹی میں کمیونزم ااور سوشلزم کا فروغ ہونے لگا۔ کابل کے بڑے تعلیمی ادارے کمیونسٹ طلبہ اور اساتذہ کا گڑھ بن گئے ،یہاں تک کہ کابل یونیورسٹی کی شریعت فیکلٹی میں بھی بعض بااثر کمیونسٹ اساتذہ تعینات کر دیے گئے۔اسی زمانے میں کابل میں کمیونسٹ طلبہ اور اسلامی نظریے سے وابستہ طلبہ کے مابین کشمکش شروع ہوئی۔ یونیورسٹی کے اساتذہ میں استاذ غلام محمد نیازی، پروفیسر برہان الدین ربانی اور طلبہ میں عبدالرحیم نیازی، عبدالرب الرسول سیاف اور انجینئر گلبدین حکمت یار پیش پیش تھے ۔ عبدالرحیم نیازی جو ایک کرشماتی لیڈر تھے،پراسرار طریقے سے زہر دے کر قتل کر دیے گئے۔ ان کی نماز جنازہ سے ایک ہمہ گیر تحریک شروع ہوئی جس کی قیادت استاد برہان الدین ربانی ،استاذ سیاف،حکمت یار ،حبیب الرحمن شہید ، سیف الدین شہید اور مولوی محمد یونس خالص کررہے تھے۔ نوجوانوںپر داﺅد کا ستم ٹوٹا۔چوبیس سالہ انجینئر حبیب الرحمن پاکستان آئے، واپسی پر دائود کے زیر عتاب آئے ان پر فوجی افسران کے ساتھ مل کرحکومت کے خلاف سازش کا الزام لگاکر پھانسی دے دی گئی۔
کمیونزم کی سرکاری سرپرست کا نتیجہ یہ نکلا کہ خلق اور پرچم کے نام سے دو بڑی مضبوط پارٹیاں بن گئیں۔اس کے علاوہ چینی کمیونزم کے اثرات کے تحت بھی دو جماعتیں بنیں۔اس پرعوام میں سخت ردعمل ہوا،خاص طور پر کابل یونیورسٹی کے اسلامی فکر رکھنے والے پروفیسروں اور طلبہ نے سخت احتجاج کیا۔سردارداﺅ دنے ان طلبہ کی شدید مار پیٹ کی۔بہت سے گرفتار کر لیے گئے،کچھ زخمی ہو کرہیسپتالوں میں جا پہنچے اور کچھ زیرِ زمین چلے گئے اور چند ایک بھاگ کر پاکستان آگئے۔ان میں پروفیسربرہان الدین ربانی،انجنیئرحکمت یار،احمد شاہ مسعود اور مولوی یونس خالص زیادہ اہم تھے۔پروفیسر سیاف بھی ان کے ساتھی تھے مگروہ گرفتار ہو کر جیل جا پہنچے۔
کابل سے جان بچا کر پاکستان آنے والے نوجوانوں کا استقبال جماعت اسلامی نے کیاجن کے ان سے پرانے مراسم تھے۔یہ بھٹو صاحب کا دور تھا جو ایک ذہین آدمی تھے،انہوں نے صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔بھٹو نے نصیر اللہ بابر صاحب کو جو اس وقت بریگیڈیرتھے اور پشاور کے قلعہ بالاحصار میں ایف سی کے کما نڈنٹ تھے،یہ حکم دیا کہ ان افغان نوجوانوں کو منظم کریں۔اس وقت تک یہ کل35جوان تھے اور ایک دو ان کے لیڈر تھے۔ بابر صاحب نے انہیں منظم کر نے کی کوشش کی۔کسی تالاب میں مینڈکوں کویک جا کرنا آسان ہے،لیکن افغانوں کو متحد و یک جا کرنا مشکل ہے۔بابر صاحب کو انہیں اکٹھا کرنے میں چھ مہینے لگے۔تاہم ان نوجوانوں کو منظم کرنے میں اصل کردار جماعت اسلامی نے ادا کیا۔سرکاری اداروں تک رسائی سے پہلے ان کی رہائش اور خوردونوش کا انتظام جماعت اسلامی نے کیا۔جماعت کے لیڈروں نے ان سے یہ معلوم کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔انہوں نے جماعت اسلامی کی مقامی قیادت کو بتایا کہ ہم پہلے تو اپنی سیاسی صف بندی کرنا چاہتے ہیں اس کے بعدہم سوچیں گے کہ کمیونزم کے سیلاب کے آگے بند کیسے باندھا جا سکتا ہے۔چنانچہ جمعیت اسلامی کے نام سے پہلی جماعت بنائی گئی،پروفیسر ربانی اس کے صدر بنے۔کچھ عرصے کے بعد ان میں اختلاف پیدا ہو گیا اور طلبہ کا ایک گروپ حزب اسلامی کے نام سے الگ ہو کرمنظم ہو گیا اور انجنیئرگلبدین حکمت یار اس کے سربراہ بنائے گئے۔نصیر اللہ بابر صاحب نے بھی ان نوجوانوں کو ایک سیاسی ہیئت دینے کی کوشش کی مگر بابر صاحب سے کہا گیا:بریگیڈیر صاحب اآپ پارٹی بنانے کا خیال چھوڑیں،ہمیں گوریلا جنگ کی ٹریننگ دیں،تاکہ ہم جا کر ان لوگوں کو روکیں جوہمارے ملک میں گمراہی پھیلا رہے ہیں۔بریگیڈیر بابر صاحب کو محدود ٹاسک ملا تھا جس کا تذکرہ وہ یوں کرتے تھے کہ ہم نے افغان مجاہدین کی ابتدائی پشتی بانی صرف اس مقصد کے لیے کی تھی کہ ہم دائود کی افغان حکومت کو پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں سے روکنا چاہتے تھے ۔تب بھٹو صاحب کوبالکل اندازہ نہیں تھاکہ ان کی وفات کے بعدروس افغانستان پر قبضہ کر لے گا اور ان کے ہی تربیت یافتہ لوگ روس کے خلاف جہاد کا آغاز کریں گے۔
کابل میں سرخ سویرا
اپریل1978ءمیں خلق پارٹی کے فوجیوں نے صدر سردار دائود کو پورے خاندان کے ساتھ تہ تیغ کردیا اور افغانستان میں باقاعدہ سوشلسٹ انقلاب لے آئے۔کمیونسٹ انقلابیوں نے کشت و خون کا بازار گرم کیا، کابل کی گلیاں خون سے سرخ کردی گئیں۔ روس نواز افغان جماعتیں اس پر بھی مطمئن نہ تھیں ۔چند ماہ کے اندر انقلابی آپس میں دست و گریبان ہوئے۔اقتدار کی رسہ کشی میں کمیونسٹوں نے ایک دوسرے کا بے دریغ قتل عام کیا۔ نور محمد ترہ کی جو اانقلاب کے سرخیل کے طور پر نمودار ہوا تھااس مناقشے میں قتل کردیا گیا۔اس کے بعد بھی انقلابی اسی طرح ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہے اور ان کے مابین چپقلش جاری رہی۔ نور محمد ترہ کی کو حفیظ اللہ امین نے راستے سے ہٹایا تھا تو چند ماہ بعدحفیظ اللہ امین کوبھی امریکی سی آئی کا کارندہ کہ کر انقلاب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اپریل 1978ءسے لے کردسمبر 1979ءتک سویت یونین کے دو خدمت گزار یکے بعد دیگرے فنا کے گھاٹ اترے اوران کے بعد روس کاتیسرا مہرہ ببرک کارمل روسی ٹینکوں پر سوار کابل میں داخل ہوا۔
ٍجہاد کا آغاز اور بھٹو
1973ءمیں نصیراللہ بابر نے بھٹو صاحب کو بتادیا کہ یہ لوگ گوریلا ٹریننگ چاہتے ہیں۔بھٹو صاحب نے آرمی چیف سے کہا۔آرمی چیف نے جنرل غلام محمدملک سے کہا جو اس زمانے میں ایس ایس جی کے کمانڈنٹ تھے۔میں پشاور میں ایس ایس جی کے پیرا شوٹ سکول کا کمانڈنٹ تھا۔ جنرل ملک نے مجھے ٹیلی فون پر کہا”بریگیڈیر بابر آپ سے کچھ کام لینا چاہتے ہیں اوریہ کام آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔وہ آپ کو بلائیں گے۔ " "But don't disclose your identity over there,do it secretly اپنی شناخت ظاہر مت کرنا، یہ کام مخفی رہ کر کرنا ہے)“انہوں نے مجھے تاکید کی کہ میں فوجی جیپ میں نہ جاﺅں، سول لباس میں جاﺅں اور مجھے لے جانے کے لیے سول گاڑی آئے گی اسی میں جاﺅں۔اس طرح ان نوجوانوںکی ٹریننگ شروع ہوئی۔1975ءمیں یہ کام محدود پیمانے پراور نہایت خاموشی سے شروع کیا گیا،لیکن اگلے مرحلے پربہت بڑے پیمانے پرٹریننگ دی گئی ۔ میں نے شروع میں تین مختصر کورسز کرائے۔پہلے کورس میں حکمت یاربھی تھے،احمد شاہ مسعود اور کابل کے گورنر مولوی دین محمد بھی شامل تھے۔پہلے میں نے کورسز کرائے ۔میر ے بعد کرنل راز اور میجرظہور صاحب اس پروگرام سے وابستہ ہوئے۔انہوں نے بہت کام کیا۔تاہم یہ پروگرام محدود عرصے تک جاری رہ کر ختم ہو گیا۔وہ نوجوان جنہوں نے ہم سے تربیت حاصل کی انہوں نے جلال آباد جا کرچند کارروائیاں کیں اور صدر داﺅ کو اپنے وجود کا احساس دلایا۔ان کارروائیوں سے کابل حکومت کے لیے کمیونزم کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہوئی۔سردار داﺅد خان جو ہمارے خلاف ہو رہا تھا،اس کے بعد پاکستان آیا۔اس نے بھٹو صاحب سے ملاقات کرکے اچھے تعلقات قائم کرنے کا وعدہ کیا۔افغان نوجوانوں کی گوریلا تربیت کا پہلا مرحلہ تھوڑی مدت تک جاری رہا۔تاہم دسمبر1978ءمیں جب روسی فوجیں کابل میں اتریں تو مجاہدین کی تربیت کا پروگرام دوبارہ شروع ہو گیا۔
یہ ہماری جنگ تھی
یہاں پر میں یہ واضح کر دوں کہ وہ بڑی جنگ جو آگے چل کر شروع ہوئی یہ ہماری اپنی جنگ تھی،یہ امریکا کی جنگ ہر گز نہیں تھی۔اگرچہ ہم پہلے مرحلے میں ہی کھل کر جہاد کی پشتیبانی کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہو گئے تھے،لیکن امریکا اس پر تیار نہیں تھا۔ورنہ داﺅدکے قتل کے بعد برسر اقتدار آنے والے کمیونسٹ رہنما ترہ کی کی حکومت کو امریکا تسلیم نہ کرتا۔ حکومت پاکستان نے بھی امریکا کے کہنے پر اسے تسلیم کرلیاتھا، حالانکہ جنرل ضیاءالحق کو اچھی طرح معلوم تھاکہ یہ حکومت بہت کمزور ہے اوراصولاً اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے ۔ یہ جنگ چھوٹے پیمانے پر ایک دو سو مجاہدین سے شروع ہوئی جن کے پاس ڈھنگ کااسلحہ بھی نہ تھا،مگر ہم اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ اپنے حصے کا کام کر رہے تھے۔اس لیے کہ ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ روس کے قدم افغانستان میں رکنے والے نہیں۔اگر ہم اس سرخ ریلے کوڈیورنڈ لائن کے اس پار روکنے میں کامیاب نہ ہوئے توپاکستان بھی وسط ایشیا کی ریاستوں کی طرح سوویت یونین کی غلامی پر مجبور ہو جائے گا۔اس لیے میں اور میرے جو ساتھی اس جنگ میںمجاہدین کے مددگار بنے پورے جذبے سے اوریہ سمجھتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہوئے تھے کہ یہ ہمارے ملک کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔اس وقت کسی کو پتہ بھی نہ تھا کہ آگے کیا پیش آنے والا ہے۔ ہمیں اس وقت کسی بیرونی طاقت کی حمایت حاصل نہ تھی نہ ہی کسی نے امداد کی امید دلائی تھی۔میں یہ بات بلا خوف تردید کہ سکتا ہوں کہ 78،79اور1980 کے تین برسوں کے دوران روس کے ساتھ افغان مجاہدین کی جنگ کا سارا بوجھ پاکستان پر تھا اورپاکستان بالکل تنہا تھا۔اس کی مدد کوئی نہیں کر رہا تھا۔ہم نے بڑی بے سروسامانی کے عالم میں افغانوں کو ٹریننگ دی اور درے کے ہتھیار فراہم کیے،ہم نے ان کو دوسری جنگ عظیم کی زنگ آلود بندوقیں ان کو دیں۔دوسری طرف یہ بے چارے اپنی بھیڑ بکریاں بیچ کر رائفل خریدتے تھے۔روس کے قبضے کے بعد1978ءکا سال اسی حال میں گزر گیا ،اسی کا سال اسی بدحالی میں گزرا۔مجاہدین کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں ہوتا تھا ۔اس وقت تک امریکہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ افغانستان میں سوویت یونین کو شکست ہوسکتی ہے۔پھر جب امریکامدد پر آمادہ ہوگیاتب بھی اسے یقین نہ تھا کہ افغان مجاہدین روس جیسی سپر پاور کو شکست دے سکتے ہیں۔امریکا سے جو ماہرین آتے تھے ان کا کہنا تھاکہ روس کی جنگ کم از کم تیس برس تک چلے گی، اس لیے کہ انہوں نے ویت نام میں خود مار کھائی تھی اور ایسے لوگوں سے مار کھائی تھی جن کا اوسط قد چار فٹ پانچ انچ تھا۔امریکا نے ویت نام کی جنگ میں سولہ برس گزارے تھے۔وہ کہتے تھے ویت نام سات سمندر پار تھا،جب کہ روس افغان سرحد کے اس پار ہے،اس کے لیے یہ جنگ بہت آسان ہے۔تاہم جب امریکا نے سمجھ لیا کہ بازی ان کے حق میں جلد ہی پلٹ سکتی ہے،تو وہ ہر قسم کی امداد دینے آگیا۔اس لیے کہ افغانوں نے بے سروسامانی کے باوجود شروع ہی سے زبردست جنگ لڑی تھی۔روس کی فوری شکست کی بڑی وجہ یہ تھی کہ روسی فوجیوں کی کثرت سے ہلاکتوں نے قوم کا حوصلہ توڑ دیا دوسرے اس کی معیشت تباہ ہو گئی۔حالات جب ان کے کنٹرول سے باہر ہونے لگے تو انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی ،لیکن جاتے جاتے سوویت یونین ٹوٹ گیا۔
افغانستان میں روس آگیا ،تب بھی امریکی صدر کارٹر نے ہم سے کہاتھاکہ آپ کسی قسم کی دخل اندازی نہ کریں،نہ ہی امریکا افغانستان میں دخل اندازی کرے گا،ہم نہیں چاہتے کہ روس کو ڈیورنڈ لائن عبور کرنے کا بہانہ ملے۔ورنہ وہ ایک ہی ہلے میں اسلام آباد اور وہاں سے کراچی پہنچ جائے گا اور اس کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ امریکہ بے حدمحتاط تھا بلکہ انہوں نے افغانستان کو سوویت یونین کے دائرہ اثر میں دینا قبول کرلیاتھا۔ وہ افغانستان میں سوویت یونین کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے افغان مجاہدین کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے ٹریننگ دینے کا معاملہ نہایت خفیہ رکھا ۔ٹریننگ دینے والا تنہا میں ہی نہیں تھا،دو سو سے زیادہ ایس ایس جی کے افسروں نے یہ کام کیا اورہماری ٹریننگ دینے والی بارہ تیرہ ٹیم تھیں ۔مجموعی طور پر تقریباًپچانوے ہزار افغانوں کوٹریننگ دی گئی۔میں نے اگلے بیجوں میں جن لوگوں کو تربیت دی ان میں ملا عمر اور اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔ جہاد شروع ہو گیا ،مجاہدین روس پر کاری لگانے لگے جس کی توقع امریکا نہیں کرتا تھاتو اس نے کہاہم مہاجرین کے لیے پاکستان کی اقتصادی امداد کریں گے۔صدر کارٹر نے جب پہلی بار کہا ہم آپ کو چالیس ملین دیں گے تو صدر ضیا ءالحق نے کہا :”Thank you very much, this is handful of peanut,we don't need it “(بہت شکریہ ہمیں اس مٹھی بھر مونگ پھلی کی ضرورت نہیں)یہ صدر کارٹر کے لیے بلیغ طنز تھا، اس لیے کہ کارٹر صاحب کی ریاست مونگ پھلی کی کاشت کے لیے مشہور ہے اور وہ خود بھی اس کے بڑے کاشت کار اور تاجر تھے۔کارٹر کادور گیا نئے صدر ریگن بنے تو حالات بدل چکے تھے۔انہوں نے اپنے مشیر بھیجے۔سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی نے پہلی بار کھل کر ہم سے کہا،امریکا آپ کو ہر قسم کی امدادد ے گا۔ہم کو امریکا کی امداد کی ضرورت بھی تھی،تاہم ضیاءالحق صاحب نے امریکیوں سے صاف صاف کہ دیا کہ آپ ہمارے کام میں مداخلت نہیں کریں گے، یہ کام جس طرح چل رہا ہے اسی طرح چلنے دیں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔ہاں اگرکوئی خرابی دیکھیں تو ضرور نشان دہی کریں۔
بدلے کا کلچر
افغانوں میں بدلے کا کلچر بہت پرانا ہے،یہ ان کی تین ہزار سال پرانی تہذیب کا حصہ ہے۔ اس کا تصور اسلام کے مطابق نہیں اسی لیے طالبان نے اسے ترک کر دیا ہے،لیکن باقی جو ستر فی صد افغان ہیں وہ اسے اسلام کے عین مطابق قرار دیتے اور اس پر سختی سے قائم ہیں۔بہت سے لوگوں کوافغانستان میں امریکا سے بر سر پیکارطالبان مجاہدین اورتحریک طالبان پاکستان کے رویوں سے حیرانی ہوتی ہے۔لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں،تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ پاکستانی طالبان کا تعلق بھی قبائلی رسم ورواج اور بدلے کے کلچر سے ہے۔یہ بھی اسی قدیم تمدنی رسوم ورواج کواسلام سمجھتے ہیں۔اس کلچر کا کہنا ہے کہ اگر دشمن تمہارے ایک آدمی کو ماردے توتم ان کے دس مارو؛جب کہ اسلامی عقیدہ اس کے برعکس یہ ہے کہ اگرایک شخص کسی کو ناحق قتل کرتا ہے،تو اسلامی عدالت کے فیصلے کے مطابق صرف اسی قاتل کوقتل کیا جائے گا،اس کے بدلے کسی دوسرے کو انتقاماًقتل کرنا غیر اسلامی ہے۔ میری ان سے اس بات پر بہت بحث ہوتی تھی۔مگر وہ اس بات پر مصر رہتے تھے کہ یہی اسلام ہے۔(افسوس کرنل صاحب کو بھی اسی بدلے کے کلچر کی بھینٹ چڑھنا پڑا)
دراصل افغان قوم کو ماضی میں بہت سی بدمعاش قوموں کا سامنا رہا ہے۔انہوں نے بڑی بڑی لڑائیاں لڑیں اوربہت نقصانات بھی اٹھائے ۔ اسلام سے پہلے بھی انہوں نے دوسری قوموں کے خلاف ایسی جنگیں لڑیں،جن میں انہیں طرح طرح کے حربے استعمال کرنے پڑتے تھے ۔اسلام قبول کرنے کے باوجود انہوں نے بعض قدیمی روایات کو ترک نہیں کیا۔وہ ان کو اسلام کے منافی نہیں سمجھتے،ان میں سے مہماں نوازی جیسی اچھی روایات بھی ہیں لیکن بدلہ جیسی غیر اسلامی عادت بد بھی ہے جسے وہ حرزِ جان بنائے ہوئے ہیں۔اسے وہ اپنے تمدن کا اہم ترین وصف جانتے اورایمان اور غیرت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔کسی قبیلے میں جب کوئی فرد یا افراد مارے جاتے ہیں،تو افغان روایات کے مطابق جرگہ بیٹھتا ہے،پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ غلطی کس کی ہے جب یہ واضح ہو جاتا کہ مخالف گروہ کی غلطی ہے تو پھر قبیلے میں چند لوگ اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم بدلہ لیں گے۔اس کے بعد یہ لوگ گھر چھوڑ دیتے ہیں ،حجرے میں بسیرا کرتے ہیں،وہیں کھانا کھاتے ہیں اور جب تک بدلہ نہ لے لیں سوسائٹی سے کٹے رہتے ہیں؛البتہ طالبان بالکل مختلف ہیں۔وہ اپنے قبائلی قوانین کے بجائے قرآن وسنت کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہیں۔ان کے خلاف بہت گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتاہے،لیکن طالبان کو جہاں تک میں نے دیکھا ہے وہ بہت انصاف پسند لوگ ہیں۔وہ دشمن سے بھی وہ سلوک کرتے ہیں جو ہم کتابوں میں صحابہ کرام کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ان کے حسن خلق کا نتیجہ ہے کہ ایک انگریز صحافی عورت چند روز ان کی قید میں رہنے کے بعد کہا:”وہ انسان نہیں فرشتے ہیں۔“ہاں جب سختی آتی ہے تو انسان کمزور ہے کبھی ایسا بھی ممکن ہے کہ ان سے بھی کسی کمزوری کا اظہار ہو جائے،لیکن عام حالات میں وہ نہایت مخلص،سچے ،مضبوط عقیدے کے اوراپنے امیر کا حکم ماننے والے لوگ ہیں۔ان میں کوئی قانون شریعت کے خلاف کسی جرم کا ارتکاب کرے تو کمانڈر قاضی سے درخواست کرتا ہے کہ اگرمیرے آدمی کا گناہ ثابت ہو جائے تو دوسروں کا ایک ہاتھ کاٹیں ،لیکن ہمارے مجرم کے ایک ہاتھ کے ساتھ ایک پیر بھی کاٹنے کا حکم دیں۔
افغان جہاد اور امریکی امداد
اسی کے عشرے کے آغاز میں امریکا سے ہمہ پہلو امداد آنے لگی۔ہم حیران تھے کہ امریکا میں بھی اتنے مخلص اورایسے ہمدرد لوگ ہو سکتے ہیں۔صدر کارٹر اور صدرریگن نے مجاہدین کو اسلام کے سچے سپاہی قرار دے کر ان کی بار بار تحسین و توصیف کی۔تب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب امریکا نظریں پھیر لے گا اور ان ہی مجاہدین کو دہشت گرد کہا کرے گااور ان پر کارپٹ بم باری کرے گا۔اس دوران میں بڑی تعداد میں عرب مجاہدین اور عرب شیوخ مذہبی لباس میں اور مخیر تاجروں کے لباس میں پاکستان آئے جن میں سے ایک اسامہ بن لادن بھی تھے لیکن بعض عرب شیوخ کی آمد ورفت صرف بڑے ہوٹلوں اور حویلیوں تک محدود رہی ۔جب کہ شیخ عبداللہ عزام اور اسامہ بن لادن جیسے لوگ جذبہ جہاد سے سرشارہو کر آئے تھے،انہوں نے پاکستان کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاﺅسوں میں قیام کی بجائے مجاہدین کے ساتھ پہاڑ وں پر بود وباش رکھی۔اسی زمانے میںامریکا نے بھی خاطر خواہ امداد دی۔اس میں نقد امداد بھی شامل تھی،اسلحہ بھی تھا،سٹنگر میزائل بھی تھے اور ہر شعبے کے اعلیٰ ترین امریکی ماہرین بھی تھے۔اب سٹنگر کی کہانی بھی سنیے۔
یہ 1986ءکی بات ہے ایک دن جب ہم ٹریننگ میں مصروف تھے کہ افغان جہاد کا معروف حامی اور سپورٹر امریکی پارلیمنٹ کا رکن چارلی ولسن اسلام آباد آگیا۔مجھے کہا گیا کہ وہ ہمیں ملنا اور زیر تربیت نوجوانوں کو دیکھنا چاہتا ہے؛لہٰذا میں اسے ٹریننگ کیمپ لے جاﺅں۔میں اسے اپنے ساتھ کیمپ لے گیا۔اس روز اتفاقاًاینٹی ایئر کرافٹ میزائل کے اسباق پڑھائے جا رہے تھے۔ایک نوجوان کمانڈر امیرگل پاچا تربیت کے دوران بے حد خوش ہوکر اٹھا اور ایک سام میزائل اٹھا کر باقاعدہ رقص کرنا شروع کر دیا۔چارلی ولسن نے مجھ سے کہا۔ میںاس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔وہ آیاتو چارلی نے اسے میرے ذریعے پوچھا کہ آیا وہ بہت خوش ہے؟ میں نے اس سے کہا”تہ ڈیر خوش حالہ دا؟“(تم بہت خوش ہو؟)چارلی کا سوال میری زبانی سن کر امیر گل نے کہا:”امام صاحب دہ تہ وئی ما تا خوش حالہ نہ دا“(امام صاحب اس سے کہ دیں ہم خوش نہیں ہیں) چارلی نے پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا،اس لیے کہ یہ اسلحہ زمین سے ہوا میں مار کرتا ہے،مگر زمین سے ہوائی جہازکو نشانہ نہیں بناتا۔جب تک یہ روسی طیاروں کو نہیں گراتا،ہمارے لیے بے کار ہے۔میں نے امیرگل کی بات چارلی سے کہی تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔اس نے کہا"Col. he has given me a big slap on my face,I will go back and get him stinger": "(کرنل اس نے میرے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا ہے۔میں واپس جاکر اس کے لیے سٹنگرلے کر آﺅں گا۔)چارلی ولسن واپس گیا اور واقعی سٹنگر لے کر آیا۔امریکی ہمیں سٹنگر نہیں دینا چاہتے تھے،وہ اس وقت بھی اس جنگ میں براہ راست ملوث نہیں ہونا چاہتے تھے۔وہ ہمیں روسی وچینی اسلحہ مصر وغیرہ سے خرید کر دے رہے تھے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا اسلحہ براہ راست ہم تک پہنچے۔چارلی ولسن نے وہاں مجاہدین کا کیس لڑا اورامریکی قیادت کو قائل کرلیا۔اس طرح پہلی بار سٹنگر میزائل افغان مجاہدین تک پہنچا۔اس کا افغان جہاد پرمثبت اثر پڑا اورروسی شکست کا عمل تیز ہوا۔
روسی شکست کے بعد
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید افغان جہاد میں سیاہ وسفید کے اختیارات میرے پاس تھے۔الیکٹرانک میڈیا کے بہت سے اینکر حضرات مجھ سے کہتے رہے ہیں کہ ا فغان جہاد میں جو خرابی پیدا ہوئی اس کا ذمے دار بھی میں ہوں،بلکہ ہم پر یہ الزام بھی عاید کیا گیا کہ ہم نے اسلحے کی خردبرد کی اور ہم پرسٹنگر میزائل فروخت کرنے کا الزام بھی عاید کیا گیا۔یہ بالکل خلاف حقیقت بات ہے،آئی ایس آئی نے یہ کام نہیں کیا۔چند جنگ جو کمانڈروں کے ہاتھ کچھ سٹنگر لگے تھے یا جو جنگ میں استعمال ہونے سے رہ گئے وہ ضرورادھر ادھر ہوئے۔میں نے انہیں بتایا کہ میں تو ایک کرنل تھا جب کہ اس پورے پراسس کی نگرانی پاک فوج کے کئی بریگیڈیر کرتے رہے۔سب سے پہلے بریگیڈیر رضاعلی آئے،پھر بریگیڈیر یوسف آئے،ان کے بعدبریگیڈیر جنجوعہ آئے۔سب سے زیادہ کام بریگیڈیر رضا علی نے کیا اور انہوں نے ہی اس پورے کام کا نقشہ تیار کیا اور ڈھانچہ کھڑا کیا۔انہوں نے اتنا عمدہ سٹرکچر کھڑا کیا جسے بعد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔یہ تین بریگیڈیر جن کا میں نے ذکر کیا،یہ جنیوا اکارڈ سے پہلے تک رہے۔یہ جہاد افغانستان کا بہترین زمانہ تھا۔ان کے بعد کے دور میں حالات اچھے نہیں رہے۔جنیوا کے معاہدے کے بعدپاکستان کے خفیہ اداروں کا کردار کم ہوتا چلا گیا،ہمارے زیادہ تر افسر واپس بلا لیے گئے،تاہم میں آخر دم(نائن الیون)تک افغانستان سے وابستہ رہا۔
امریکی امداد کا یہ سلسلہ جنیوا اکارڈ تک چلتا رہا۔جنیوا اکارڈ تک امریکہ پاکستان اور افغان مجاہدین تینوں کا ہدف یہ تھا کہ سوویت یونین کو شکست ہونی چاہیے اس کے بعد امریکا کے عزائم تبدیل ہوگئے۔ امریکا اسی وقت تک افغانوں کا دوست رہا جب تک ان کو بغیر وسائل کے لڑتے دیکھنے کے بعد اسے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ سرفروش لوگ امریکا کے واحد حریف روس کو بہت تھوڑی مالی امدادسے شکست دے سکتے ہیں، لیکن ان کو یہ امید نہیں تھی کہ یہ جنگ اتنی جلدی ختم ہوجائے گی۔ہمیں بھی توقع نہ تھی کہ افغان ہماری زندگی میں فتح سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔سوویت یونین نے ہماری اور امریکا کی توقع سے پہلے ہی دس برس کے اندر اندر ہار مان لی۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا واقعہ تھا۔ سوویت یونین کے افغانستان سے جاتے ہی امریکہ نے فوراً اپنی پالیسی تبدیل کرلی۔دراصل وہ افغان قوم سے خوف زدہ تھے۔انہوں نے سوچا کہ جس قوم نے ایک سپر پاور کو توڑ دیا ہے اگر وہ منظم ہو گئے یا انہوں نے اپنی حکومت بنا لی تو وہ کچھ اور بھی کر سکتے ہیں۔خاص طور پر یہ بات انہیں گوارا نہ تھی کہ افغانستان کی آزادی کے بعد وہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔جنیوا میں امریکا نے شیطانی چال چلی اور جنیوا معاہدے پر دستخط کرکے افغانوں کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا گیا ۔صدر جنرل ضیاءالحق جنیوا اکارڈ پر دستخط کرنے کے لیے راضی نہیں تھے،مگر امریکا نے پاکستان کے کمزور وزیر اعظم محمد خان جونیجوکے ذریعے افغان جہاد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔
(باقی اگلی قسط میں)
جناب آپ اس کرنل کا اصل چہرا بھی دیکھے
کرنل کا اصل چہرا اس کی اپنی زبانی
لال مسجد کے اصل مجرم منظر عام پر
abdulrehman303 آف لائن ہے   Reply With Quote
abdulrehman303 کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (01-11-11)
پرانا 31-10-11, 08:30 PM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افغانستان کی کہانی،کرنل امام کی زبانی (ساتویں اور آخری قسط ) روایت: کرنل امام
تحریر:عبدالہادی احمد


امریکا کو پاکستان سے نکالنا ہو گا
یہ سوال مجھ سے اکثر کیا جاتا ہے کہ امریکا روس کے خلاف افغانستان کی جنگ میں کب اور کیوں کودا؟سچ یہ ہے کہ امریکا شروع شروع میں تو افغانستان کے ذکر پر کانوں کو ہاتھ لگاتا تھا۔افغان جہاد شروع ہوا توامریکی صدر کارٹر کا دور تھا۔ صدرکارٹر افغان جہاد کی امداد کرنے سے گریزاں تھے ۔انہوں نے پاکستان سے بھی یہی کہا ،نہ تو ہم آپ کی عسکری امداد کریں گے نہ ہی ہم یہ پسند کریں گے کہ آپ کی طرف سے ایسی مداخلت کی جائے جس سے روس کو پاکستان پر حملہ کرنے کا موقع ملے۔صدر کارٹر نے پاکستان کو چالیس کروڑ ڈالر امداد کی پیش کش کی تو صدر ضیاءالحق نے"مونگ پھلی" کہ کران کا مذاق بھی اڑایا اور کہا ،امریکا ہم پر رحم نہ کھائے ہم امریکا کی طرف نہیں دیکھیں گے،اپنے وسائل میں رہتے ہوئے افغانوں کی امداد کرتے رہیں گے۔اس کے باوجود صدر کارٹر نے اپنا رویہ نہیں بدلا۔مالی امداد میں اضافہ کر دیا،لیکن عسکری امداد نہیں کی۔تاہم 1981ءمیں جیسے ہی صدرکارٹر کا دور ختم ہوا اورریگن صدر بن گیا ، امریکی پالیسی میں بھی بدلائوآگیا۔ صدر ریگن نے صدر بنتے ہی اپنے مشیروں کو ہماری ضروریات جاننے کے لیے ہمارے پاس بھیجا۔ان مشیروں میں سی آئی اے کے چیف ولیم کیسی بھی شامل تھے۔ کیسی نے افغان معاملے میں زبردست دلچسپی دکھائی اورجنرل ضیاءالحق سے کہا،آپ کو جو مدد بھی چاہیے ہم دیں گے۔ ضیا ءالحق صاحب نے ان کی امداد کو خوش ا ٓمدید کہا،لیکن ان سے یہ اصول بھی طے کر لیا کہ ہم آپ سے مدد تو لیں گے،آپ بے شک اسے مانیٹر بھی کریں اور مشورے بھی دیں،لیکن ہماری شرط یہ ہےآپ ہمارے کام میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔ ہم جس طرح ٹریننگ دے رہے ہیں اور دوسرے آپریشن چلا رہے ہیں،ان میں ہم کو مکمل یک سوئی چاہیے،کام کی رفتار میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔امریکیوں نے پوری طرح ہمارا ساتھ دیا اور ہر بات میں ہمارا کہا مانا۔ ہمارا کام بہت اچھی طرح چلا،بہت تھوڑے اخراجات میں زیادہ اور اچھے نتائج برآمد ہوئے۔امریکی ماہرین یہی چاہتے تھے۔ وہ بہت احتیاط سے اور پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے رہے، اس لیے کہ ان کا اندازہ تھا کہ یہ جنگ تیس برس تک چلے گی۔ وہ جنگ کی طوالت سے الرجک اور ناکامی سے خوف زدہ تھے۔ اس سے پہلے ویت نام میں سولہ برس تک بے پناہ اخراجات کر کے اوربے حساب جانی نقصانات اٹھا کر ناکامی کا سامنا کر چکے تھے۔اس لیے امریکی ہمیں بھی سمجھایا کرتے تھے کہ بہت کفایت شعاری سے کام لینا ہو گا،یہ کوئی آسان جنگ نہیں، یہاں افغانوں کا مقابلہ ایک ایسی سپر پاور سے ہے جو ان کے ملک کی سرحد کی دوسری طرف موجود ہے،اس لیے یہ بڑی لمبی جنگ ہو گی،روس اتنی جلد ہار نہیں مانے گا،اسے زبردست قوت اور حکمت عملی کی مدد سے ہی شکست دی جا سکے گی،مگر جنگ دس برس کے اندر اندر ختم ہو گئی۔یہ امریکی ماہرین کے ساتھ ساتھ دنیا کی دوسری اقوام کے لیے بھی حیرت کی بات تھی ،کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ روس اتنی جلدی بھی پسپا ہو سکتا ہے۔افغان قوم نے بے پناہ قربانیاں دیں،پندرہ لاکھ افغان شہید ہوئے،اورلاکھوں معزورہو گئے۔ روس کا بھی کم نقصان نہیں ہوا،اس کا جانی نقصان بھی ہوا، لیکن شکست کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس جنگ نے روس کی معیشت تباہ کر دی اور سوویت یونین کے ٹکڑے اڑادیے۔
پاکستان کا مطلب کیا
ہم افغانستان امریکا کی جنگ لڑنے نہیں گئے تھے،بلکہ اس لیے گئے کہ ہماری حکومت اور فوج نے شعوری طور پرافغان جنگ کو اپنی جنگ سمجھا تھا۔اس لیے بھی کہ یہ جنگ ہماری سرحد کے اُس پار اورسرحد کے اندر لڑی جارہی تھی۔ پھر بھی ہماری فوج اس میں براہ راست شریک نہیں ہوئی۔ ہمارے خفیہ اداروں نےایک کامیاب حکمت عملی کے ذریعے جنگ کو اپنی سرحدوں کے باہر رکھا۔ خدا نخواستہ روس پاکستان پر قبضہ کر لیتا ،توکیا ہماری فوج کو براہ راست نہ لڑنا پڑتا؟ہماری فوج اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک کی فوج ہے۔ جہاد اور شہادت اس فوج کا ماٹو اور نعرہ ہے۔ ہمارا فوجی اسلام کے نام پر بھرتی ہوتا ہے۔اس کی ماں اسے جنگ کے لیے تیار کرکے بھیجتی اور تاکید کرتی ہے،یاد رکھو تم پاکستان اور اسلام کے سپاہی ہو،شہادت تمہاری منزل ہے۔الحمد للہ مجھے بھی ہمیشہ یقین رہا کہ میں پاکستان کاسپاہی ہوں اور پاکستان کا مقصد ہی اسلام کی سربلندی ہے،میںاسی کام کے لیے بھرتی ہوا تھا۔ میں افغانستان کے جہاد میں بھی اسی جذبے کے تحت حصہ لیتا رہا۔ میں نے اپنی فوجی ڈیوٹی بھی اسی جذبے سے انجام دی اور اس سے بڑھ کر بھی کام کیا۔ پاکستان میرا وطن اور اسلام میرا مذہب نہ ہوتا تو میں کبھی اس طرح کا جان توڑ کام نہ کر سکتا۔ نہ میرے ساتھی اس طرح کر سکتے۔تاہم بدقسمتی سے پاک فوج کو اس کے مقصد سے ہٹایا جا رہا ہے۔اس لیے کہ پاکستان جس مقصد کے لیے بنا تھا اسے بھی اس مقصد سے دور رکھا گیاہے۔ علامہ اقبال نے نظریہ دے دیا اور حضرت قائداعظم نے اسے آگے بڑھایا۔اللہ کے فضل وکرم سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک وجود میں آگیا،لیکن بدقسمتی سے قائد زیادہ عرصے تک زندہ نہ رہے،ان کے بعد پاکستان کا نظریہ بھلا دیا گیا۔ وہ نظام اس ملک میں نہ آنے دیا گیا جو اقبال اور قائد کا خواب تھا۔ وہی انگریز کا دیا ہوا نظام باقی رہا،وہی پولیس، وہی عدالتی سسٹم، وہی جاگیردار اور وڈیرے جونکوں کی طرح ملک اور اس کے اقتدار سے چمٹے اس کا خون چوستے رہے۔ جو بھی سربراہ آیا خواہ فوجی تھا یا سیاسی،اس کویہ کرپٹ سسٹم باقی رکھنے میں ہی فائدہ نظر آیا۔ حکومتوں نے وہی حاکمانہ اور جاگیر دارانہ مزاج باقی رکھا ۔افسر شاہی کی تربیت کا وہی انداز باقی رکھا گیاجس سے وہ عوام کواسی طرح محکوم اور غلام سمجھیں جس طرح انگریز سمجھتے تھے۔کسی حکمران نے خود کو عوام کا خادم نہیں سمجھا۔ دراصل وہی جاگیردارحکومتی مناصب پر فائز رہے اور آج بھی ہیں جن کو انگریزوں نے اپنی خدمات کے عوض بڑی بڑی جاگیریں دی تھیں۔وہ جاگیریں آج بھی ان کی اولادکے پاس ہیں؛ان کے بچے ولایت میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عیش وعشرت کے دل دادہ ہیں۔ وہ جو کچھ کیمبرج اور ہارورڈ میں پڑھتے اور سیکھتے ہیں وہی پاکستان میں نافذ رکھنا چاہتے ہیں۔ان کو اسلام سے زیادہ فائدہ انگریزی نظام میں نظر آتا ہے۔ان لوگوں نے پاکستان میں اسلام بھی نہیں آنے دیا،مگریہاں کیمبرج اور ہارورڈ والی اصلاحات بھی نہ ہو نے دیں ۔ قوم کو مغرب کی سیاسی اور معاشی غلام سے آزاد بھی نہ ہونے دیا ۔ ہمارے ساتھ ہی آزادی حاصل کرنے والے ہندوستان میں کم از کم ایسی اصلاحات تو کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں وہاں کے غریب عوام کو فائدہ پہنچاہے۔
1983ءمیں بڑی مشکل سے ایک آئین پاس ہوا جس میں قرارداد مقاصد کو شامل کیا گیا۔آئین میں ضمانت دی گئی کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہ بنے گا اور نہ چلے گا لیکن ہوا کیا؟ یہاں آج تک سود کا نظام چل رہا ہے۔آئین پرکبھی عمل نہیں ہونے دیا گیا،بلکہ الٹا آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا۔ ہمارا ملک آج بھی استعمار کی کالونی بنا ہوا ہے۔ پہلے بھی یہاں نو آبادیاتی نظام تھا اب بھی نو آبادیاتی نظام ہے ۔ پہلے یہ خطہ انگریز کی کالونی تھا اب امریکی کالونی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کوئی ملک اپنے نظریے سے منہ موڑ کر زندہ رہ سکتا ہے۔پاکستان کو زندہ رکھنا ہے تو اس کے نظریے سے وابستہ رکھنا ہو گا۔یعنی پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ۔آج کی ہماری خستہ حالی اور بحران در بحران کی کیفیت اسی نظریے سے دوری کی وجہ سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان جب تک اپنے نظریے کے مطابق تبدیل نہیں ہوگا اور اپنے نظام کو اسلامی اصولوں کے تحت تبدیل نہیں کرے گا،نہ موجودہ مسائل سے نجات پا سکتا ہے نہ ہی ترقی کر سکتا ہے۔ ہم جب تک پاکستان میں لندن اور واشنگٹن کی جمہوریت لانے پر مصر رہیں گے اور وہ خالص اسلامی نظام لانے سے گریز کرتے رہیں گے جو اس مملکت کا اصل مقصد ہے،پاکستان ان مصائب اور مشکلات سے کبھی نہیں نکل سکے گا۔ مغرب کے نظام نے ہی یہ ساری خرابیاں پیدا کی ہیں،اگر مغرب کا نظام باقی رکھا گیاتوپاکستان کی نظریاتی تو کیا اس کی جغرافیائی سرحدیں بھی خطرے میں رہیں گی۔
ہماری دینی جماعتیں ما شا ءاللہ بڑی حد تک اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں،لیکن ہمارا انتخابی نظام شروع ہی سے جاگیرداری کے کنٹرول میں ہے،بیرونی مداخلت کی وجہ سے دینی قوتیں ہمیشہ غیر موثررہی ہیں۔دینی قوتوں کو اقتدار ملتا توملک میں اسلام کے نفاذکو ممکن بنایا جا سکتا تھا۔ایسا ہو جاتا تو اسلام دشمن عناصر پاکستان کو نقصان نہ پہنچا سکتے ،نہ غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کو اپنی کالونی بنانے کی ہمت ہوتی ہے۔ایران کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے،1989ءمیں دینی عناصر کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ایران جوامریکی کالونی بنا ہو تھا،امریکی اثر ونفوذ سے مکمل طور پر آزاد ہے اور ملک میں بڑی حد تک اتحاد اور امن و امان ہے۔ہمارے ملک میں دینی جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے،تاہم میں سمجھتا ہوں کہ یہاںسیاسی ملائوں کا کردار محل نظر ہے،وہ ہر رنگ میں ڈھلنے کا فن جانتے ہیں،خرابی پیدا کرتے ہیں اور خرابی پیدا کرنے والوں کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔مجھے ان کی نشان دہی کرنے کی ضرورت نہیں ،قوم انہیں جانتی ہے۔میری سمجھ سے ان کا کردار باہر ہے۔ان کا کردار مثبت ہوتا تو پاکستان آج اندھیروں میں نہ بھٹک رہا ہوتا۔یہ نظریاتی ابہام اور فرقہ پرستی کی بیماریاں بھی نہ ہوتیں۔ ملک کو بچانا ہے تو ساری قوم کو اس کے مقصد قیام سے ہم آہنگ کرنا ہو گا اور اہل پاکستان کو اسلامی نظام نافذ کرنے کی جد وجہد کرنی ہو گی ۔یقین مانیے یہ مغرب کی نام نہاد جمہوریت ہمارے ملک کے لیے زہر قاتل ہے۔آج جو لوگ افغانستان میں یہ نام نہاد جمہوریت لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ مغربی جمہوریت کا اسلام کے ساتھ پیوندلگ ہی نہیں سکتا۔پاکستان ہو یا افغانستان یا کوئی اور اسلامی ملک ،صرف اور صرف اسلام کا شورائی(یا جمہوری کہ لیں)نظام ہی ان کو راس آ سکتا ہے۔انسان کبھی دوسرے انسان کاحق ادا کر ہی نہیں سکتا،صرف اللہ تعالیٰ کا طے کردہ نظام عدل ہی ہے جو افراط اور تفریط کے بغیر دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ میں نے امریکا جا کر امریکا کو دیکھا ہے وہاں کے عوام کو ہر طرح کا انصاف ملتا ہے ،مگر دوسروں کے لیے ان کے انصاف کا پیمانہ مختلف ہے۔دراصل مغربی نظام کی بنیاد ہی نا انصافی پر رکھی گئی ہے۔اس میں طاقت کے بل پر دوسروں کوغلام بنا کر رکھا جانا جائز ہے۔انسانوںکی آزادی کے پھوکے دعوے ہیں،حالانکہ امیر قوموں کی امارت کا بھرم غریب قوموں اور افراد کے استحصال سے قائم ہے۔یہ غلامی کی بد ترین شکل ہے۔ غلام کو حقیر اجرت دی جاتی ہے اور آقااس کی محنت کا سارا پھل اسلحے اور طاقت کے بل پر وصول کر تے ہیں ۔
امریکا کواس خطے سے نکالنا ہوگا
امریکا کا خیال تھاروس کوشکست دینا مشکل ہے،ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا،اسی طرح انہوں نے ایک بار پھر غلط اندازہ لگایاکہ وہ روس سے بڑی سپر پاور ہیں اس لیے افغان قوم ان کو شکست نہیں دے سکے گی۔ طالبان شروع دن سے جانتے تھے کہ وہ امریکا کومار کر افغانستان سے نہیں نکال سکتے ۔ نائن الیون کے بعدانہوں نے ایک خوف ناک حملے کا سامنا کیا تھا۔یہ ایسی بم باری تھی جو انسان تو کیا پتھروں کو بھی پانی کی طرح پگھلا دیتی ہے ۔ ملا عمر جب کابل سے نکلے تھے تو امریکی جہاز اور میزائل ان پر کارپٹ بم باری کررہے تھے۔ بظاہر ان کی صفوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا گیاتھا ۔امریکیوں نے سمجھا کہ دشمن کو افغانستان کے شہروں،بستیوں اورپہاڑوں میں نابود کر دیا گیا ہے، جو چند ایک بچ گئے ہیں ان میں دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کا دم خم نہیں رہا۔اس وقت کسی کو یقین نہیں آتا تھاکہ یہ معجزہ بھی رونما ہو سکتا ہے کہ طالبان دوبارہ زندہ ہوکرنہ صرف اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے،بلکہ امریکا کے لیے ایک چیلنج بن جائیں گے۔ تاہم ملا محمد عمر کو اللہ کی ذات پر بھروسہ تھا ،انہوں نے کبھی ڈینگ نہیں ماری۔آج بھی کہ جب طالبان امریکا اور نیٹو سے ملک کا ستر فی صد علاقہ واپس چھین چکے ہیں ، وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم امریکا کو مار مار کر بھگا دیں گے،بلکہ وہ کہتے ہیں ہم امریکا کو اتنا تھکا دیں گے کہ بھاگنے کے بغیر اس کے پاس کوئی چارئہ کار نہیں رہے گا۔خود طالبان جہاد سے کبھی نہیں تھکیں گے،وہ گوریلا وار فیئر کا ہنر جانتے ہیںاور وہ ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں عوام ان سے محبت کرتے ہیں۔ان کا دشمن نہایت بزدل ہے، وہ میدان میں طالبان کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے۔امریکی فوج بزدلی کی طیل تاریخ رکھتی ہے۔وہ کہیں بھی میدان میں آنے کی ہمت نہیں رکھتی۔یہی وجہ ہے کہ امریکا نے ایک مدت تک صرف جہا زوں اور میزائلوں کی بم باری سے کام چلایا اور جب یقین ہو گیا کہ طالبان کو اچھی طرح کچل دیا گیا ہے تب ان کی فوج چھائونیوں سے باہر آئی ۔طالبان کو اپنی منتشر جمعیت کو جمع کرنے میں خاصا وقت لگا،لیکن جب وہ میدان میں نکلے،تو امریکی اور نیٹوکے فوجی طالبان کے پہلے ہی ہلے میں گھبر ا گئے ۔ایک برس کے بعد ہی وہ طالبان کو کروڑوں ڈالر کی رشوت کی پیش کش کرکے کہنے لگے تھے کہ تم ہم پر حملے نہ کرو ہم تمہاری طرف سے ہتھیار نہ اٹھانے کی ہرقیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔برطانیہ، اٹلی اور امریکا جیسے ممالک کئی بار اپنے خفیہ اداروں کی معرفت طالبان کو بھاری رشوت کی پیش کش کر چکے ہیں۔کسی ملک کی فوج کے لیے اپنے مخالف کو جنگ کے میدان میں رشوت دے کر موت سے بچنے کی کوشش کرنے سے گندا اور رذیل کام اورنہیں ہو سکتا،پھر یہ بے کار بھی ثابت ہوا۔شمالی اتحاد کے کمانڈر،رشید دوستم اور کچھ وار لارڈز نے امریکا سے اربوں ڈالر ہتھیا لیے مگر وہ بھاری رشوت لے کر بھی امریکا کی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں۔سال 2002ءتک توممکن تھا کہ رشوت کا حربہ کام کر جاتا جب طالبان بظاہر ٹوٹ پھوٹ گئے تھے اور منتشر تھے۔مگر اب تو طالبان ملا عمر کے جھنڈے کے نیچے جمع اور متحدہوگئے ہیں اور غیر ملکی طاقتوں کے مقابلے میں ناقابل ِ شکست طاقت بن چکے ہیں۔امریکی خفیہ اداروں نے بھاری رقوم خرچ کر کے اور عالمی میڈیا نے پروپیگنڈے کے بل پرطالبان میں اعتدال پسند اور انتہا پسند کی تفریق کرانے کی بہت کوشش کی، مگراس میں انہیں سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔چند ایک وار لارڈز کوطالبان قرار د ے کر دبئی اورلندن وغیر کی سیریں کرائی گئیں،ان سے مذاکرات کی خبریں پھیلائی گئیں، مگر طالبان نے ان کو شناخت کرنے سے بھی انکار کر دیا۔
میں نے طالبان کے مختلف لیڈروں سے بات چیت کر کے دیکھا ہے وہ مذاکرات کے خلاف نہیں،لیکن وہ کہتے ہیں مذاکرات کا فیصلہ امیرالمومنین(ملامحمد عمر) کریں گے اورنیٹو کی افواج کے ملک سے چلے جانے کے بعد ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ میرا اپنا خیال بھی یہی ہے کہ امریکا جب تک افغانستان پر قابض ہے برابری کی سطح پرمذاکرات ممکن نہیں۔ ہماری اپنی بھی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ امریکا پاکستان کی سرحد سے جلد سے جلد دور چلا جائے۔ اگر امریکا یہاں رہتا ہے تو سب سے بڑا نقصان پاکستان کا ہوگا اور اگر ہم نے امریکا کو پاکستان میں مداخلت اوراس کی بلیک واٹر جیسی ایجنسیوں کو کھل کھیلنے کا موقع دے دیا ،تویہاں بہت بڑی قتل و غارت گری ہوگی۔امریکا چاہتا ہے یہاں پر خانہ جنگی ہو ،لوگ ایک دوسرے سے لڑیں ،فیکٹریاں بند ہو جائیں اورایسی بدامنی ہو جسے ختم کرنے کے لیے ہم خود امریکا سے درخواست کریں۔اگر یہ صورت حال ہوئی توامریکا ایسے کاسہ لیس حکمرانوں کو بھی ڈھونڈ نکالے گا جواس سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کی استدعا کریں گے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ امریکا کا وجود سب سے بڑی برائی ہے۔ وہ جہاں پر بھی گیا ہے اس نے خرابی کی ہے۔دنیا بھر میں کسی ایک جگہ کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی کہ جہاں امریکاگیا ہو اور وہاں خرابی نہ ہوئی ہو۔روس کے جانے کے بعد افغانستان کے حالات خراب کرنے کی تمام تر ذمے داری بھی امریکا پر عاید ہوتی ہے۔
میں دیکھ رہا ہوں امریکا آج بھی اس خطے میں ایک شیطانی منصوبے کی تکمیل میں مصروف ہے ۔ بظاہرافغانستان اور پاکستان کا قبائلی علاقہ نشانہ ہے ،لیکن امریکا کے افغانستان میں رہنے سے اس پورے خطے میں زہر پھیل رہا ہے۔امریکا جب سے اس خطے میں آیا ہے بستیوں اور شہروں کو سول وار کا سامنا ہے اورقوموں اور ملکوں میں لڑائیاں ہورہی ہیں۔یہ صرف افغانستان اور پاکستان کے حالات نہیں اس پورے خطے میں فساد رونما ہوگیاہے۔اس خطے کی معیشت تباہ ہوئی ہے اور تمام ملکوں میں مہنگائی کا طوفان آیاہواہے۔پاکستان میں تو امریکا پہلے ہی خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔افغانستان اور پاکستان جوآپس میں دو سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھے،دشمن بنے ہوئے ہیں۔افغانستان سے پاکستان میں خود کش بم بار بھیجے جاتے ہیں،یعنی ایک اسلامی ملک کو تباہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے یہ کون کر رہا ہے۔اس کام پر اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں اوریہ کام بلاوجہ ہی تو نہیں۔اگر پاکستان میں کوئی باشعوراور مخلص حکومت ہوتی تواس سلسلے کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا چکے ہوتے ۔پاکستان سے عوام کے ڈیلی گیشن وہاں جاتے ،جووہاں جا کر عوام سے ملتے اورمختلف اسلامی جماعتوں کے سر براہوں سے ملتے۔افغان علماءاور عوامی لیڈروں سے مل کر ان سے پوچھتے کہ آپ کو ہم سے کیا شکایت ہے۔اگر شکایت ہے تو بتائیں تا کہ ہم اس کو دور کریں ۔افغانوں کی دشمنی کو دوستی میں بدلا جا سکتا ہے،اس لیے کہ آج بھی ہر پانچواں افغان پاکستان میںرہتا ہے۔ میں یہ بات پاکستان کے پالیسی سازوں کو بتا چکا ہوں کہ افغانستان اور پاکستان کی دشمنی مصنوعی ہے،یہ امریکا کی پیدا کردہ اور عارضی ہے، مگر اس کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنی پالیسیاں تبدیل کرنی ہوں گی۔اب ہمیں امریکا سے صاف صاف کہ دینا چاہیے کہ وہ ہماری سڑکیں نہ استعمال کرے،ہمارے ہوائی اڈے خالی کر دے اور ہمارے ملک پر ڈرون حملے روک دے۔اس سے زیادہ احمقانہ پالیسی کیا ہو گی کہ ہم نے پانچ چھ ارب ڈالر کے بدلے سارا پاکستان امریکا کے پاس گروی رکھ دیا۔اس کے منحوس چند ارب ڈالر ہمارے کس کام کے،جب کہ ہمارے ماہرین معاشیات کے اندازوں کے مطابق ہمیں اسی عرصے میں پچاس ارب ڈالرکا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ امریکا کا ارادہ یہاں سے جانے کا نہیں ،اسے جانے پر مجبور کرنا ہو گا۔ورنہ امریکا پاکستان پر دبائو ڈالنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈا کر تار ہے گا۔پاکستان نے مشرف دور میں بہت سی غلطیاں کی ہیں اب اسے یہ غلطیاں دہرانی نہیں چاہئیں۔ اب پاکستان کو وہی کچھ کرنا چاہیے جس میں اس کا اپنا فائدہ ہو،امریکی مفاد کے لیے امریکی ڈکٹیشن پر چلنا ہمارے لیے تباہی کا باعث ہو گا۔
طالبان نے بھاری قربانیا ں پیش کر کے اسے افغانستان سے واپسی پر آمادہ کر لیا ہے،ہمیں بھی امریکا کو پاکستان سے نکالنے کے لیے قربانی دینے سے ڈرنا نہیں چاہیے۔اب مشرف کا دور نہیں رہا،یہ سر جھکانے کا نہیں سر اٹھانے کا وقت ہے ۔اگراس وقت ہم امریکا کو یقین دلا سکیں کہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اس سے بیزار ہو گئے ہیں،اس سے پہلے کہ یہ بیزاری اور نفرت حد سے گزر جائے امریکیوں کی بہتری اسی میں ہے کہ اب اس خطے سے چلے جائیں۔امریکیوں کو اس بات کا یقین دلانے کی بھی ضرورت ہے اگر اس کی طرف سے ہمیں نقصان پہنچایا گیا تو ہم بھی اسے نقصان پہنچائیں گے ۔صرف اسی صورت میں ہم نقصان سے بچ سکتے ہیں،ورنہ امریکا اس پر تلا ہوا ہے کہ اسے یہاںزیادہ سے زیادہ رہنے کا بہانہ ملے۔فی الحال اس نے القاعدہ اور قبائلی علاقے کی صورت حال کا بہانہ بنا رکھا ہے ۔اس کے بعد جب اسے یہاں سے جانا بھی پڑ ا تو وہ چاہے گا کہ پاکستان کو تباہ و برباد کر کے جائے۔اس لیے میں سمجھتا ہوں امریکا کے ان عزائم کے واضح ہونے کے بعد بھی امریکا سے تعاون کرنا پاکستان سے بد ترین دشمنی ہے۔
میں سمجھتا ہوں قوم پر اس وقت نہایت ہی سخت وقت پڑا ہواہے۔تاہم ابھی تلافی کی صورت باقی ہے ،ہمیں یہ مہلت غفلت اورلاپروائی سے ضائع نہیں کردینی چاہیے ۔ساری قوم کو چاہیے کہ اللہ سے معافی مانگے۔ظلم،قتل وغارت ترک کر کے دین کی طرف مائل ہو،توبہ کرے،قوم کا ہر فردپانچ وقت کی نماز ادا کرے اور سجدے میں جا کر اور رو رو کر پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا مانگے۔ حکومت اپنی پالیسی بدلنے کے لیے تیار نہ ہو، تو عوام کو چاہیے حکومت کو مجبور کریں کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کرے اور امریکی غلامی ترک کرے۔عوام اگر طے کر لیں کہ وہ آزادی کا سودا نہیں ہونے دیں گے ،گھاس کھا لیں گے،پھٹے پرانے کپڑے پہن لیں گے، بھوکے رہ لیں گے ،مگر اپنی آ زادی کا سودا نہیں کریں گے،تو نہ امریکا ہمارا کچھ بگاڑ سکتا ہے،نہ امریکی غلام اور ایجنٹ ہماری آزادی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ساری دنیا بھی ہمارا بائیکاٹ کر دے اور ہمارے چاروں طرف دیوار چین سے زیادہ اونچی دیواربھی کھڑی کر دی جائے، تب بھی ہم بھوکے نہیں مریں گے ،نہ تنہائی سے ہمارا کچھ نقصان ہو گا۔ہمارے پاس بے پناہ وسائل ہیں،لُوٹ مار ختم ہو جائے تو پاکستان غریب نہیں رہ سکتا۔لیکن ہمیں امریکا کو ہر قیمت پر روکنا ہو گا اور پاکستان پراس کا تسلط ختم کرنا ہوگا۔کیا ہم اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب ہمارے کالج اور یونیورسٹیاں بند ہو جائیں گی اور نوجوان سڑکوں پر آکر گاڑیاں لُوٹنے کا دھندا اختیار کر لیں گے۔اگر یہ صورت پیش آئی تو بہت بڑا فساد ہو گا۔ہماری پولیس پہلے ہی ناکارہ ہو چکی ہے ،وہ اس صورت حال سے نہیں نمٹ سکے گی۔کیا ہر جگہ رینجرز کو بلایا جائے گا اور فوج کو مداخلت کی دعوت دی جائے گی؟فوجی مداخلت اس سے بھی بڑی تباہی لاتی ہے۔امریکا کے خفیہ ادارے ہمارے شہروں میں پھیل چکے ہیں،وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور ہمارے اندرونی وبیرونی دشمن ہماری بے بسی کا تماشا کریں گے۔
آج ہمارا حال کیا ہے ،ہمارے اوپرڈرون حملے ہو رہے ہیں،اس میں ہماری حکومت کی امداد اور تعاون شامل ہے۔کراچی سے لاکھوں ٹن اسلحہ لوڈ ہو کر پشاور اور کوئٹہ کے راستے افغانستان جا چکا ہے اور اب بھی جا رہا ہے۔ ہماری حکومت کی مدد اور تحفظ کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ہماری حکومتیں سینکڑوں لوگوں کو امریکا کے حوالے کر چکی ہیں،محض شک پر یا امریکا کے کہنے پر۔ان کی بڑی اکثریت ہمارے اپنے ایسے شہریوں کی تھی جو آگے چل کر بے گناہ ثابت ہوئے اور امریکا نے انہیں گوانتا نامو بے جیسے اذیت کدوں میںطویل عذاب کے سال گزارنے پر مجبور کرنے کے بعد رہا کر دیا۔ہم نے اپنے افغان بھائیوں سے کیا برتائوکیا؟ہم نے اپنے ایک معزز مہمان اور سفیر ملا ضعیف سے کیا سلوک کیا؟ افغان قوم کو دیکھیں جسے کم علم اور جاہل کہا جاتا ہے کہ اپنے ایک مہمان کی جان اور عزت بچانے کے لیے اپنے ملک اور حکومت کو دائو پر لگا دیا اور ایک ہم ہیں کہ اپنے ایک معزز اور محترم مہمان سے ایسی بد سلوکی کی جس پر پوری دنیا نے ہماری مذمت کی۔دنیا میں آج تک کسی ملک کے سفیر سے یہ سلوک نہیں کیا گیا۔یہ ہمارا بہادر جرنیل تھا کہ جس نے ایک سفیر کو گرفتار کرکےاور ٹھڈے مار مارکرامریکا کے حوالے کیا۔ وہاں اس سے جو سلوک کیاگیا،ساری دنیا اسے ملا ضعیف کی کتاب میں پڑھ کر ہمارے قومی کردار پر تھو تھو کر چکی ہے۔شرمندگی کا یہ داغ تو ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔
ایک طرف ہمارا یہ کردار ہے اور دوسری طرف افغان طالبان کا کرداردیکھیے کہ ہماری لگ بھگ نوے ہزار فوج سرحد پر کھڑی ہے اور طالبان کے خلاف امریکا کو سپورٹ دے رہی ہے،اس پر ہمارے اپنے قبائل تو ہمارے دشمن بن گئے ہیں،مگر آج تک ملا عمر کے مجاہدوں نے ہماری فوج کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا۔ملا عمر ایک ایسا طاقت ور شخص ہے جس نے امریکا جیسی سپر پاورکو نکیل ڈال دی ہے اور اسے مذاکرات کے لیے مجبور کر دیا ہے، لیکن ہمارے ہاتھوں بد ترین نقصان اٹھا کر بھی کبھی ہم سے بدلہ نہیں لیا۔ کوئی ایک مثال پیش نہیں کر سکتا کہ افغان طالبان نے آج تک پاک فوج پر ایک بھی حملہ کیا ہو۔
٭٭٭٭


کرنل امام شہید کی بیان کردہ وہ کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے جو ا فغان جہادکے بارے میں ان کے دیدہ ہ شنیدہ پر مشتمل ہے اور کسی حد تک ان کی آپ بیتی بھی ہے۔ظاہر ہے اس میں وہ حصہ شامل نہیں جو ان کے اغوا سے لے کر ان کی شہادت تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔ان کے قاتل کون تھے اور انہیں قتل کیوں کیا گیا؟اس سلسلے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے۔کچھ باتیں سامنے آئی ہیں اوربہت کچھ ابھی پردئہ اخفا میں ہے۔ واقعات کی تو ضیح وتنقیح میں ابھی کچھ وقت لگے گا،تاہم اب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ اوائل 2010ءمیں کرنل امام کو اغوا کرنے والے گروپ نے قطعی جھوٹا دعویٰ کیاتھا کہ اس کا تعلق طالبان سے ہے ۔جنوری2011ءمیں کرنل امام کو شہید کرنے والوں نے بھی جھوٹ بولا تھاکہ وہ طالبان ہیں۔طالبان تو اپنے استاد کی طرف پیٹھ نہیں کرتے،اسے قتل کیسے کر سکتے ہیں۔کرنل امام جن لوگوں کی قید میں تھے ایک موقعے پر ان کے کڑے پہرے میں شہید کوایک بیان پڑھ کر سنانے پر مجبور کیا گیا۔بیان پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا تھا کسی دوسرے کا لکھا ہوا ہے کیوں کہ وہ اسے بمشکل ہی پڑھ پائے۔اس بیان میں ان سے کہلوایا گیا کہ وہ لشکر جھنگوی العالمی کے احمداللہ منصور قبضے میں ہیں۔کرنل امام نے کہا:” خالد خواجہ کو قتل کیا جا چکاہے میرے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کیا جا سکتا ہے،اس لیے اغوا کاروں کے مطالبات قبول کیے جائیں“۔
اغوا کاروں اور قاتلوں نے کرنل امام کی رہائی کے لیے تین کروڑ تاوان کی رقم کا مطالبہ کیا تھاجوپاکستان کی طرف سے پورا نہ کیا گیا۔کیسا المیہ ہے کہ تین پاکستانیوں کے امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے پاکستان نے بیس کروڑ اد کر دیے ،لیکن پاکستان کے عظیم سپوت اور خادم کرنل امام کی رہائی کے لیے تین کروڑ نہ دیے، چنانچہ سفاّک قاتلوں نے 23جنوری2011ءکو کرنل امام کو شہیدکردیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون ۔اس کے بعد جھوٹ در جھوٹ بیانات کا نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوگیا۔ افغانستان مجاہدین کے استاد اور اس شعبے میں سب سے اہم خدمات انجام دینے والے مجاہد کے قتل سے پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کے سوا کسی کو خوشی نہیں ہو سکتی۔قاتلوں نے میڈیا کو پروپیگنڈے کے لیے جھوٹ سے لبریزاچھاخاصامواد فراہم کیا ۔اغوا کاروں نے شروع میں کہاتھا ان کی تنظیم کا نام ایشین ٹائیگرہے،پھر کہا وہ طالبان کے پنجابی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور آخرمیں لشکر جھنگوی پر تان ٹوٹی۔تاہم اب تک کے واقعات سے واضح ہو چکا ہے کہ قتل کرنے والوں کے تار کہیں اور سے ہلائے جارہے تھے۔اب اس بات میں کیا شک ہے کہ افغانستان کئی دشمن ملکوں کے خفیہ اداروں کے لیے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کا ایک محفوظ ترین مقام ہے۔بلوچستان میںبھارت کی سپانسر شپ سے چلائی گئی علاحدگی کی سازش رچانے اور کراچی میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کے پیچھے را، سی آئی اے اور موساد کا ہاتھ بے نقاب ہو چکا ہے۔دشمن کے ایجنٹوں کو مجاہدین کے اہم کمانڈروں کو قتل اور اغوا کرنے کا کردار سونپا گیاہے۔یہی گروپ پاکستان میں بم دھماکوں،خودکش حملوں اورہیروئن او اسلحے کی سمگلنگ کے فروغ میں ملوث ہیں۔ کرنل امام کے قتل سے صرف پاکستان کے دشمنوں کو ہی فائدہ ہوا ،لہٰذا یہ یقینی امر ہے کہ انہیں قتل بھی انہوں نے کیاہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ان لوگوں کو اپنے علاقوںمیں مکمل تحفظ حاصل ہے اوران کوآ ٓج تک ایک بھی ڈرون حملے کا نشانہ نہیں بنایاگیا۔ان کی سرگرمیوں سے طالبان نے کبھی اظہار یک جہتی نہیں کیا،ہاں ان کی سرگرمیوں سے یہود وہنود کے چینل جشن منانے لگتے ہیں۔
کرنل امام کومظلومانہ شہادت مبارک ہو۔ پاکستان ،افغانستان بلکہ پوری امت کے لیے اس عظیم شہید کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان دو نوں ملکوں کے یکساں محسن ہیں اور رہیں گے۔ دنیا بھر میں جہادکا چشمہ صافی جب تک جاری رہے گا،لوگ کرنل امام شہیدکے کارناموں کو یاد رکھیں گے۔امریکی ایجنٹ ان کے بارے کچھ بھی کہیں,انہیں ہمارے دلوں سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
رفتید ولے نہ از دلے ما
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ہادی (01-11-11), قاسمی (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 11:19 AM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,283
کمائي: 26,409
شکریہ: 8,453
1,582 مراسلہ میں 3,501 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وہ عظیم لوگ ہیں طالبان
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (01-11-11), رضی (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 12:48 PM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 346
کمائي: 6,553
شکریہ: 577
180 مراسلہ میں 317 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Jehad-E-Afghanistan By Kernal Imam.pdf
ہادی آن لائن ہے   Reply With Quote
ہادی کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 08:54 PM   #24
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 7
کمائي: 250
شکریہ: 4
7 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کرنل امام ایک عظیم سرمایہ تھے۔ اﷲ ان کی مغفرت کرے اور ان جیسا کوئی شخص ہمیں عطا کرے۔
محمد مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد مسلم کا شکریہ ادا کیا
ہادی (01-11-11), نبیل خان (04-11-11), رضی (01-11-11)
جواب

Tags
فروخت, فرض, کارنامے, کراچی, پاکستانی, پسند, وزیر, قرآن, نماز, موت, ایمان, امریکہ, اجنبی, احتجاج, اسلامی عقیدہ, بادشاہت, تعلیم, جیل, جرم, دوست, طالبان, عورت, عبادت, صحابہ, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
پاکستان فرانس میں سیکورٹی،تجارت اوراقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط ذوالفقار علی خبریں 0 06-05-11 11:40 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:48 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger