واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > آپ بیتی




جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی (1)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-08-11, 11:00 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی (1)

جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی (1)

جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی (1)
روایت: کرنل امام
تحریر:عبدالہادی احمد

جنرل حمید گل نے ایک موقعے پر کرنل امام کی موجودگی میں مجھ سے کہا تھا۔”کبھی کرنل امام کا انٹرویو بھی کریں،ان کا سینہ افغان جہاد کا خزینہ ہے“۔میں بے حد خواہش کے باوجودکرنل امام کا انٹرویو نہ کر سکا۔اس دوران میں وہ اپنوں کی بے حسی اور غیروں کی سازش کے نتیجے میں بڑے الم ناک طریقے سے شہید کر دیے گئے۔کرنل امام جیسے لوگ ملک وقوم کے لیے باعث فخر ہوتے ہیں۔ان کی شہادت سے امریکا،اسرائیل اور بھارت کو ہی خوشی ہوئی ہو گی یا پھرروس کو جس کی مضبوط سلطنت کوپاش پاش کرنے میں کرنل امام کا بنیادی کردار تھا ۔کرنل امام چلے گئے لیکن ان کی بازگشت موجود ہے ۔چنانچہ جب مجھے ان کے حالات خصوصاً جہاد افغانستان میں ان کی خدمات کی جستجو ہوئی،توان کے بہت سے وڈیو اور آڈیو انٹرویو مل گئے ۔ان کے اپنے الفاظ اور ان کی آوازمیں حالات و واقعات کی ایک ایسی تصویر ابھر آئی جومعلومات افزا ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان افروز بھی ہے۔اس طرح میں کرنل امام کی زبانی جہاد افغانستان کی وہ کہانی پیش کر سکا جس کے بیشتر حصے کو آپ بیتی کہا جا سکتاہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہماری قوم اپنے بہادر اور محب وطن سپاہی کے کارنامے کو یاد رکھے ۔کرنل امام کو جن حالات میںقتل کیا گیااور اس کے بعدان کے کردار کو مسخ کرنے کی جس طرح شعوری اور غیر شعوری کوششیں کی جا رہی ہیں، ضروری ہوگیا ہے کہ تصویر کا وہ رخ بھی سامنے لانے کی کوشش کی جائے جو امریکا اور اس کے حواریوں کے لیے سخت ناگوار ہے ۔اس تحریر سے یقیناً آپ محسوس کریں گے کہ مرحوم کرنل امام اپنے بارے میں اور افغانستان کے جہاد کے بارے میں دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے کا ابطال کرتے نظر آتے ہیں۔حالانکہ ان کی یہ باتیں ڈیڑھ دو برس یا زیادہ پرانی ہیں،مگران سے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ آج بھی ہمارے آس پاس ہوں۔پاکستان اور جہاد کے دشمن کرنل امام کو شہید کر کے امریکا کی ایک گھٹیا سازش کامیاب کر نے میں تو کامیاب ہوگئے ،لیکن وہ کرنل امام کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے،ان کا نام اور کام تو تاریخ میں کبھی نہ مٹنے والے نقش کے طور پر ثبت ہو چکا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میرا نام سلطان امیرتارڑ ہے،جہاد افغانستان کے دنوں میں مجھے نماز کے لیے آگے کر دیتے تھے۔اس طرح میرا نام کرنل امام پڑ گیا۔ اب تو میرے اپنے بچے تک میرا اصل نام نہیں جانتے۔مجھے بھی اب اپنا یہی نام اچھا لگتا ہے،کیوں کہ یہ بہت اچھے لوگوں کا دیا ہوا نام ہے۔میں چکوال کا باسی اور پنجابی تارڑ قبیلے کا ایک فردہوں۔ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد پی ایم اے جائن کیا۔تربیت کے بعد میں15-FFرجمنٹ میں گیا۔اس کے بعد ایس ایس جی میں چلا گیا۔ یہاں میں نے ساڑھے آٹھ سال گزارے۔اس کے بعد واپس اپنی یونٹ میں آگیا اور اپنی یونٹ کو کمانڈ کیا۔اس کے بعد افغانستان میں میری خدمات کی ضرورت پڑی اور مجھے مجاہدین کو گوریلا ٹریننگ دینے کے کام کے لیے منتخب کر لیا گیا۔افغانستان میرے لیے بہت اجنبی مقام تھا۔کام کے آغازمیں بہت سی رکاوٹیں پیش آئیں۔میرے لیے وہاں کا کلچر مختلف تھا، رہن سہن، زبان،موسم ،خورد ونوش اورلوگوں کے طور طریقے مختلف تھے۔شروع میں ان کے مرچ کے بغیر کھانے نہیں کھا سکتا تھا۔اپنے ساتھ اچار کی بوتلیں لے کر جاتا تھا،لیکن یہ انتظام زیادہ عرصے تک چل نہ سکا،رفتہ رفتہ ان کا کھانا مجھے اتنا پسند آیا کہ میں گھر میں بھی یہی پکوا کر کر کھاتا ہوں،ان کا لباس مجھے اتنا پسند آیا کہ میں آج بھی یہی پہنتا ہوں۔ان کی زبان مجھے اتنی پسند آئی کہ جوں ہی کوئی افغان یا پشتون ملتا ہے میں پشتو بولنا شروع کر دیتا ہوں۔افغان جہاد سے وابستہ ہو کر جو کام میں نے کیا،الحمد للہ اس پر مجھے فخر ہے۔مجھے یہ کام میرے ادارے نے سونپا تھا،یہ ایک سخت قسم کا چیلنج تھاتاہم جب آپ کے سامنے ایک ایسا مقصد ہو جوآپ کے عقیدے اور نظریے سے متعلق ہو تو رکاوٹیں خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میرا پیشہ اور میرا جاب میرے عقیدے کے عین مطابق تھا۔الحمد للہ میں نے ربع صدی کا عرصہ افغان جہاد سے کسی نہ کسی درجے کی وابستگی میں گزارا ۔کبھی پشیمانی نہیں ہوئی،کبھی تھکان اور بے زاری نہیں ہوئی ،اس لیے میں اس کام کو عبادت اور فرض جان کر کرتا رہا۔میرے باقی ساتھی تو تھوڑا تھوڑا عرصہ گزارنے کے بعد واپس جاتے رہے،لیکن میں ربع صدی گزار کر نائن الیون کے بعد واپس آیا۔
میں1974ء میں سپیشل فورسز کے ساتھ خصوصی تربیت کے لیے امریکا گیا۔ میں چونکہ اپنے کورس میں اول آیا تھا اس لیے ایس ایس جی نے مجھے ایڈوانس کورس کے لیے امریکا بھیجا۔میں اس وقت ایس ایس جی کاافسر تھا۔میں یہی تعلیم چراٹ میں حاصل کر چکا تھا،البتہ اس کا ہمیں فائدہ ہوا کیوں کہ امریکیوں کا پڑھانے کا طریقہ جدید تھا اور ان کے پاس زیادہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی تھی۔میرا خصوصی مضمون”دھماکے اور سبوتاژ“تھا۔ مجھے امریکا جا کر اس مضمون میں مہارت حاصل کرنے میں بہت مدد ملی۔میں نے وہاں رہ کر اپنی اس صلاحیت میں زیادہ پختگی حاصل؛یعنی کس طرح آپ خالی ہاتھ ایک عام کچن یا واش روم میں واشنگ پاﺅ ڈر،چینی ،نمکیات اور گھریلو استعمال کی چیزوں سے بیس منٹ کے اندر اندر ہلاکت خیز بم بناکر دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔امریکیوں کے لیے میرے اندر حیرت کا عنصر بھی تھا۔میں نماز کا پابند تھا، امریکی مجھے نماز کی پابندی کرتے دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔شایدانہوں نے پہلا افسر دیکھاتھا جو کیمپ میں تربیت کے دوران بھی نماز پڑھتا تھا،بلکہ جب میں پیرا شوٹ سے چھلانگ لگاتا تو جنگل میں بھی نماز پڑھتا تھا۔ وہ ا سلام کے بارے میں بنیادی باتیں مثلاً نماز کی ادائیگی وغیرہ کے بارے میں جانتے تھے،لیکن جب دیکھتے کہ میں کسی حال میں نماز نہیں چھوڑتا تو اس پرحیرت کا اظہار کرتے رہتے تھے۔وہ اسلام کے بارے میں مجھ سے پوچھتے رہتے تھے اور میں ان کے سوالوں کا جواب دیتا تھا۔
کابل میں کمیونزم اور اس کا ردِعمل
کابل میں کمیونزم کے اثرات ظاہر شاہ کے زمانے میں ہی پھیل چکے تھے۔ شمالی افغانستان میں توحالت یہ تھی کہ سوویت یونین سے منظوری حاصل کیے بغیر ایک معمولی پولیس افسر بھی تعینات نہیں کیاجاتاتھا،مبادا کمیونسٹ حکمران ناراض ہوجائیں۔تاہم افغانستان کے جہاد کی کہانی 1973 ءسے شروع ہوتی ہے۔یہی سال تھا جب17 جولائی 1973ءکو سردار داﺅد نے ظاہر شاہ کے غیر ملکی دورے سے فائدہ اٹھا کر روسیوں کی مدد سے اس کا تختہ الٹ دیا ۔ سردار داﺅد خان ظاہر شاہ کا بہنوئی تھا،اس نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ملک سے بادشاہت ختم کرکے اپنی صدارت کا اعلان کر دیا۔۔داﺅد کا رجحان روس کی طرف تھا۔روس خاصے عرصے سے اس علاقے میں اپنا اثر ونفوذ بڑھا رہا تھا۔سردار داﺅد کے آنے کے بعدروسیوں نے اس سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اس کے ملک کی ہر طرح کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔روسیوں نے سردار داﺅد کو بھاری مالی امداد کی پیش کش کے ساتھ ساتھ فوجی اور سول افسروں کو تربیتی سہولتیں فراہم کرنے اور طلبہ کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے روسی اداروں کی خدمات پیش کر دیں۔اس پر افغان افسروں اورطلبہ کے بہت سے بیج ماسکو گئے جن کوتعلیم و تربیت کے بجائے کمیونزم کا بپتسمہ دیا گیا۔ان میں سے بہت سے افسر اور نوجوان طلبہ پکے کمیونسٹ بن کر لوٹے۔واپس آکر انہوں نے کمیونزم کی تبلیغ شروع کردی۔ کابل یونیورسٹی اور کابل کی پولی ٹیکنک انجینئرنگ یونیورسٹی میں کمیونزم ااور سوشلزم کا فروغ ہونے لگا۔ کابل کے بڑے تعلیمی ادارے کمیونسٹ طلبہ اور اساتذہ کا گڑھ بن گئے ،یہاں تک کہ کابل یونیورسٹی کی شریعت فیکلٹی میں بھی بعض بااثر کمیونسٹ اساتذہ تعینات کر دیے گئے۔اسی زمانے میں کابل میں کمیونسٹ طلبہ اور اسلامی نظریے سے وابستہ طلبہ کے مابین کشمکش شروع ہوئی۔ یونیورسٹی کے اساتذہ میں استاذ غلام محمد نیازی، پروفیسر برہان الدین ربانی اور طلبہ میں عبدالرحیم نیازی، عبدالرب الرسول سیاف اور انجینئر گلبدین حکمت یار پیش پیش تھے ۔ عبدالرحیم نیازی جو ایک کرشماتی لیڈر تھے،پراسرار طریقے سے زہر دے کر قتل کر دیے گئے۔ ان کی نماز جنازہ سے ایک ہمہ گیر تحریک شروع ہوئی جس کی قیادت استاد برہان الدین ربانی ،استاذ سیاف،حکمت یار ،حبیب الرحمن شہید ، سیف الدین شہید اور مولوی محمد یونس خالص کررہے تھے۔ نوجوانوںپر داﺅد کا ستم ٹوٹا۔چوبیس سالہ انجینئر حبیب الرحمن پاکستان آئے، واپسی پر دائود کے زیر عتاب آئے ان پر فوجی افسران کے ساتھ مل کرحکومت کے خلاف سازش کا الزام لگاکر پھانسی دے دی گئی۔
کمیونزم کی سرکاری سرپرست کا نتیجہ یہ نکلا کہ خلق اور پرچم کے نام سے دو بڑی مضبوط پارٹیاں بن گئیں۔اس کے علاوہ چینی کمیونزم کے اثرات کے تحت بھی دو جماعتیں بنیں۔اس پرعوام میں سخت ردعمل ہوا،خاص طور پر کابل یونیورسٹی کے اسلامی فکر رکھنے والے پروفیسروں اور طلبہ نے سخت احتجاج کیا۔سردارداﺅ دنے ان طلبہ کی شدید مار پیٹ کی۔بہت سے گرفتار کر لیے گئے،کچھ زخمی ہو کرہیسپتالوں میں جا پہنچے اور کچھ زیرِ زمین چلے گئے اور چند ایک بھاگ کر پاکستان آگئے۔ان میں پروفیسربرہان الدین ربانی،انجنیئرحکمت یار،احمد شاہ مسعود اور مولوی یونس خالص زیادہ اہم تھے۔پروفیسر سیاف بھی ان کے ساتھی تھے مگروہ گرفتار ہو کر جیل جا پہنچے۔
کابل سے جان بچا کر پاکستان آنے والے نوجوانوں کا استقبال جماعت اسلامی نے کیاجن کے ان سے پرانے مراسم تھے۔یہ بھٹو صاحب کا دور تھا جو ایک ذہین آدمی تھے،انہوں نے صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔بھٹو نے نصیر اللہ بابر صاحب کو جو اس وقت بریگیڈیرتھے اور پشاور کے قلعہ بالاحصار میں ایف سی کے کما نڈنٹ تھے،یہ حکم دیا کہ ان افغان نوجوانوں کو منظم کریں۔اس وقت تک یہ کل35جوان تھے اور ایک دو ان کے لیڈر تھے۔ بابر صاحب نے انہیں منظم کر نے کی کوشش کی۔کسی تالاب میں مینڈکوں کویک جا کرنا آسان ہے،لیکن افغانوں کو متحد و یک جا کرنا مشکل ہے۔بابر صاحب کو انہیں اکٹھا کرنے میں چھ مہینے لگے۔تاہم ان نوجوانوں کو منظم کرنے میں اصل کردار جماعت اسلامی نے ادا کیا۔سرکاری اداروں تک رسائی سے پہلے ان کی رہائش اور خوردونوش کا انتظام جماعت اسلامی نے کیا۔جماعت کے لیڈروں نے ان سے یہ معلوم کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔انہوں نے جماعت اسلامی کی مقامی قیادت کو بتایا کہ ہم پہلے تو اپنی سیاسی صف بندی کرنا چاہتے ہیں اس کے بعدہم سوچیں گے کہ کمیونزم کے سیلاب کے آگے بند کیسے باندھا جا سکتا ہے۔چنانچہ جمعیت اسلامی کے نام سے پہلی جماعت بنائی گئی،پروفیسر ربانی اس کے صدر بنے۔کچھ عرصے کے بعد ان میں اختلاف پیدا ہو گیا اور طلبہ کا ایک گروپ حزب اسلامی کے نام سے الگ ہو کرمنظم ہو گیا اور انجنیئرگلبدین حکمت یار اس کے سربراہ بنائے گئے۔نصیر اللہ بابر صاحب نے بھی ان نوجوانوں کو ایک سیاسی ہیئت دینے کی کوشش کی مگر بابر صاحب سے کہا گیا:بریگیڈیر صاحب اآپ پارٹی بنانے کا خیال چھوڑیں،ہمیں گوریلا جنگ کی ٹریننگ دیں،تاکہ ہم جا کر ان لوگوں کو روکیں جوہمارے ملک میں گمراہی پھیلا رہے ہیں۔بریگیڈیر بابر صاحب کو محدود ٹاسک ملا تھا جس کا تذکرہ وہ یوں کرتے تھے کہ ہم نے افغان مجاہدین کی ابتدائی پشتی بانی صرف اس مقصد کے لیے کی تھی کہ ہم دائود کی افغان حکومت کو پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں سے روکنا چاہتے تھے ۔تب بھٹو صاحب کوبالکل اندازہ نہیں تھاکہ ان کی وفات کے بعدروس افغانستان پر قبضہ کر لے گا اور ان کے ہی تربیت یافتہ لوگ روس کے خلاف جہاد کا آغاز کریں گے۔
کابل میں سرخ سویرا
اپریل1978ءمیں خلق پارٹی کے فوجیوں نے صدر سردار دائود کو پورے خاندان کے ساتھ تہ تیغ کردیا اور افغانستان میں باقاعدہ سوشلسٹ انقلاب لے آئے۔کمیونسٹ انقلابیوں نے کشت و خون کا بازار گرم کیا، کابل کی گلیاں خون سے سرخ کردی گئیں۔ روس نواز افغان جماعتیں اس پر بھی مطمئن نہ تھیں ۔چند ماہ کے اندر انقلابی آپس میں دست و گریبان ہوئے۔اقتدار کی رسہ کشی میں کمیونسٹوں نے ایک دوسرے کا بے دریغ قتل عام کیا۔ نور محمد ترہ کی جو اانقلاب کے سرخیل کے طور پر نمودار ہوا تھااس مناقشے میں قتل کردیا گیا۔اس کے بعد بھی انقلابی اسی طرح ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہے اور ان کے مابین چپقلش جاری رہی۔ نور محمد ترہ کی کو حفیظ اللہ امین نے راستے سے ہٹایا تھا تو چند ماہ بعدحفیظ اللہ امین کوبھی امریکی سی آئی کا کارندہ کہ کر انقلاب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اپریل 1978ءسے لے کردسمبر 1979ءتک سویت یونین کے دو خدمت گزار یکے بعد دیگرے فنا کے گھاٹ اترے اوران کے بعد روس کاتیسرا مہرہ ببرک کارمل روسی ٹینکوں پر سوار کابل میں داخل ہوا۔
ٍجہاد کا آغاز اور بھٹو
1973ءمیں نصیراللہ بابر نے بھٹو صاحب کو بتادیا کہ یہ لوگ گوریلا ٹریننگ چاہتے ہیں۔بھٹو صاحب نے آرمی چیف سے کہا۔آرمی چیف نے جنرل غلام محمدملک سے کہا جو اس زمانے میں ایس ایس جی کے کمانڈنٹ تھے۔میں پشاور میں ایس ایس جی کے پیرا شوٹ سکول کا کمانڈنٹ تھا۔ جنرل ملک نے مجھے ٹیلی فون پر کہا”بریگیڈیر بابر آپ سے کچھ کام لینا چاہتے ہیں اوریہ کام آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔وہ آپ کو بلائیں گے۔ " "But don't disclose your identity over there,do it secretly اپنی شناخت ظاہر مت کرنا، یہ کام مخفی رہ کر کرنا ہے)“انہوں نے مجھے تاکید کی کہ میں فوجی جیپ میں نہ جاﺅں، سول لباس میں جاﺅں اور مجھے لے جانے کے لیے سول گاڑی آئے گی اسی میں جاﺅں۔اس طرح ان نوجوانوںکی ٹریننگ شروع ہوئی۔1975ءمیں یہ کام محدود پیمانے پراور نہایت خاموشی سے شروع کیا گیا،لیکن اگلے مرحلے پربہت بڑے پیمانے پرٹریننگ دی گئی ۔ میں نے شروع میں تین مختصر کورسز کرائے۔پہلے کورس میں حکمت یاربھی تھے،احمد شاہ مسعود اور کابل کے گورنر مولوی دین محمد بھی شامل تھے۔پہلے میں نے کورسز کرائے ۔میر ے بعد کرنل راز اور میجرظہور صاحب اس پروگرام سے وابستہ ہوئے۔انہوں نے بہت کام کیا۔تاہم یہ پروگرام محدود عرصے تک جاری رہ کر ختم ہو گیا۔وہ نوجوان جنہوں نے ہم سے تربیت حاصل کی انہوں نے جلال آباد جا کرچند کارروائیاں کیں اور صدر داﺅ کو اپنے وجود کا احساس دلایا۔ان کارروائیوں سے کابل حکومت کے لیے کمیونزم کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہوئی۔سردار داﺅد خان جو ہمارے خلاف ہو رہا تھا،اس کے بعد پاکستان آیا۔اس نے بھٹو صاحب سے ملاقات کرکے اچھے تعلقات قائم کرنے کا وعدہ کیا۔افغان نوجوانوں کی گوریلا تربیت کا پہلا مرحلہ تھوڑی مدت تک جاری رہا۔تاہم دسمبر1978ءمیں جب روسی فوجیں کابل میں اتریں تو مجاہدین کی تربیت کا پروگرام دوبارہ شروع ہو گیا۔
یہ ہماری جنگ تھی
یہاں پر میں یہ واضح کر دوں کہ وہ بڑی جنگ جو آگے چل کر شروع ہوئی یہ ہماری اپنی جنگ تھی،یہ امریکا کی جنگ ہر گز نہیں تھی۔اگرچہ ہم پہلے مرحلے میں ہی کھل کر جہاد کی پشتیبانی کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہو گئے تھے،لیکن امریکا اس پر تیار نہیں تھا۔ورنہ داﺅدکے قتل کے بعد برسر اقتدار آنے والے کمیونسٹ رہنما ترہ کی کی حکومت کو امریکا تسلیم نہ کرتا۔ حکومت پاکستان نے بھی امریکا کے کہنے پر اسے تسلیم کرلیاتھا، حالانکہ جنرل ضیاءالحق کو اچھی طرح معلوم تھاکہ یہ حکومت بہت کمزور ہے اوراصولاً اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے ۔ یہ جنگ چھوٹے پیمانے پر ایک دو سو مجاہدین سے شروع ہوئی جن کے پاس ڈھنگ کااسلحہ بھی نہ تھا،مگر ہم اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ اپنے حصے کا کام کر رہے تھے۔اس لیے کہ ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ روس کے قدم افغانستان میں رکنے والے نہیں۔اگر ہم اس سرخ ریلے کوڈیورنڈ لائن کے اس پار روکنے میں کامیاب نہ ہوئے توپاکستان بھی وسط ایشیا کی ریاستوں کی طرح سوویت یونین کی غلامی پر مجبور ہو جائے گا۔اس لیے میں اور میرے جو ساتھی اس جنگ میںمجاہدین کے مددگار بنے پورے جذبے سے اوریہ سمجھتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہوئے تھے کہ یہ ہمارے ملک کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔اس وقت کسی کو پتہ بھی نہ تھا کہ آگے کیا پیش آنے والا ہے۔ ہمیں اس وقت کسی بیرونی طاقت کی حمایت حاصل نہ تھی نہ ہی کسی نے امداد کی امید دلائی تھی۔میں یہ بات بلا خوف تردید کہ سکتا ہوں کہ 78،79اور1980 کے تین برسوں کے دوران روس کے ساتھ افغان مجاہدین کی جنگ کا سارا بوجھ پاکستان پر تھا اورپاکستان بالکل تنہا تھا۔اس کی مدد کوئی نہیں کر رہا تھا۔ہم نے بڑی بے سروسامانی کے عالم میں افغانوں کو ٹریننگ دی اور درے کے ہتھیار فراہم کیے،ہم نے ان کو دوسری جنگ عظیم کی زنگ آلود بندوقیں ان کو دیں۔دوسری طرف یہ بے چارے اپنی بھیڑ بکریاں بیچ کر رائفل خریدتے تھے۔روس کے قبضے کے بعد1978ءکا سال اسی حال میں گزر گیا ،اسی کا سال اسی بدحالی میں گزرا۔مجاہدین کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں ہوتا تھا ۔اس وقت تک امریکہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ افغانستان میں سوویت یونین کو شکست ہوسکتی ہے۔پھر جب امریکامدد پر آمادہ ہوگیاتب بھی اسے یقین نہ تھا کہ افغان مجاہدین روس جیسی سپر پاور کو شکست دے سکتے ہیں۔امریکا سے جو ماہرین آتے تھے ان کا کہنا تھاکہ روس کی جنگ کم از کم تیس برس تک چلے گی، اس لیے کہ انہوں نے ویت نام میں خود مار کھائی تھی اور ایسے لوگوں سے مار کھائی تھی جن کا اوسط قد چار فٹ پانچ انچ تھا۔امریکا نے ویت نام کی جنگ میں سولہ برس گزارے تھے۔وہ کہتے تھے ویت نام سات سمندر پار تھا،جب کہ روس افغان سرحد کے اس پار ہے،اس کے لیے یہ جنگ بہت آسان ہے۔تاہم جب امریکا نے سمجھ لیا کہ بازی ان کے حق میں جلد ہی پلٹ سکتی ہے،تو وہ ہر قسم کی امداد دینے آگیا۔اس لیے کہ افغانوں نے بے سروسامانی کے باوجود شروع ہی سے زبردست جنگ لڑی تھی۔روس کی فوری شکست کی بڑی وجہ یہ تھی کہ روسی فوجیوں کی کثرت سے ہلاکتوں نے قوم کا حوصلہ توڑ دیا دوسرے اس کی معیشت تباہ ہو گئی۔حالات جب ان کے کنٹرول سے باہر ہونے لگے تو انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی ،لیکن جاتے جاتے سوویت یونین ٹوٹ گیا۔
افغانستان میں روس آگیا ،تب بھی امریکی صدر کارٹر نے ہم سے کہاتھاکہ آپ کسی قسم کی دخل اندازی نہ کریں،نہ ہی امریکا افغانستان میں دخل اندازی کرے گا،ہم نہیں چاہتے کہ روس کو ڈیورنڈ لائن عبور کرنے کا بہانہ ملے۔ورنہ وہ ایک ہی ہلے میں اسلام آباد اور وہاں سے کراچی پہنچ جائے گا اور اس کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ امریکہ بے حدمحتاط تھا بلکہ انہوں نے افغانستان کو سوویت یونین کے دائرہ اثر میں دینا قبول کرلیاتھا۔ وہ افغانستان میں سوویت یونین کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے افغان مجاہدین کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے ٹریننگ دینے کا معاملہ نہایت خفیہ رکھا ۔ٹریننگ دینے والا تنہا میں ہی نہیں تھا،دو سو سے زیادہ ایس ایس جی کے افسروں نے یہ کام کیا اورہماری ٹریننگ دینے والی بارہ تیرہ ٹیم تھیں ۔مجموعی طور پر تقریباًپچانوے ہزار افغانوں کوٹریننگ دی گئی۔میں نے اگلے بیجوں میں جن لوگوں کو تربیت دی ان میں ملا عمر اور اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔ جہاد شروع ہو گیا ،مجاہدین روس پر کاری لگانے لگے جس کی توقع امریکا نہیں کرتا تھاتو اس نے کہاہم مہاجرین کے لیے پاکستان کی اقتصادی امداد کریں گے۔صدر کارٹر نے جب پہلی بار کہا ہم آپ کو چالیس ملین دیں گے تو صدر ضیا ءالحق نے کہا :”Thank you very much, this is handful of peanut,we don't need it “(بہت شکریہ ہمیں اس مٹھی بھر مونگ پھلی کی ضرورت نہیں)یہ صدر کارٹر کے لیے بلیغ طنز تھا، اس لیے کہ کارٹر صاحب کی ریاست مونگ پھلی کی کاشت کے لیے مشہور ہے اور وہ خود بھی اس کے بڑے کاشت کار اور تاجر تھے۔کارٹر کادور گیا نئے صدر ریگن بنے تو حالات بدل چکے تھے۔انہوں نے اپنے مشیر بھیجے۔سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی نے پہلی بار کھل کر ہم سے کہا،امریکا آپ کو ہر قسم کی امدادد ے گا۔ہم کو امریکا کی امداد کی ضرورت بھی تھی،تاہم ضیاءالحق صاحب نے امریکیوں سے صاف صاف کہ دیا کہ آپ ہمارے کام میں مداخلت نہیں کریں گے، یہ کام جس طرح چل رہا ہے اسی طرح چلنے دیں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔ہاں اگرکوئی خرابی دیکھیں تو ضرور نشان دہی کریں۔
بدلے کا کلچر
افغانوں میں بدلے کا کلچر بہت پرانا ہے،یہ ان کی تین ہزار سال پرانی تہذیب کا حصہ ہے۔ اس کا تصور اسلام کے مطابق نہیں اسی لیے طالبان نے اسے ترک کر دیا ہے،لیکن باقی جو ستر فی صد افغان ہیں وہ اسے اسلام کے عین مطابق قرار دیتے اور اس پر سختی سے قائم ہیں۔بہت سے لوگوں کوافغانستان میں امریکا سے بر سر پیکارطالبان مجاہدین اورتحریک طالبان پاکستان کے رویوں سے حیرانی ہوتی ہے۔لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں،تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ پاکستانی طالبان کا تعلق بھی قبائلی رسم ورواج اور بدلے کے کلچر سے ہے۔یہ بھی اسی قدیم تمدنی رسوم ورواج کواسلام سمجھتے ہیں۔اس کلچر کا کہنا ہے کہ اگر دشمن تمہارے ایک آدمی کو ماردے توتم ان کے دس مارو؛جب کہ اسلامی عقیدہ اس کے برعکس یہ ہے کہ اگرایک شخص کسی کو ناحق قتل کرتا ہے،تو اسلامی عدالت کے فیصلے کے مطابق صرف اسی قاتل کوقتل کیا جائے گا،اس کے بدلے کسی دوسرے کو انتقاماًقتل کرنا غیر اسلامی ہے۔ میری ان سے اس بات پر بہت بحث ہوتی تھی۔مگر وہ اس بات پر مصر رہتے تھے کہ یہی اسلام ہے۔(افسوس کرنل صاحب کو بھی اسی بدلے کے کلچر کی بھینٹ چڑھنا پڑا)
دراصل افغان قوم کو ماضی میں بہت سی بدمعاش قوموں کا سامنا رہا ہے۔انہوں نے بڑی بڑی لڑائیاں لڑیں اوربہت نقصانات بھی اٹھائے ۔ اسلام سے پہلے بھی انہوں نے دوسری قوموں کے خلاف ایسی جنگیں لڑیں،جن میں انہیں طرح طرح کے حربے استعمال کرنے پڑتے تھے ۔اسلام قبول کرنے کے باوجود انہوں نے بعض قدیمی روایات کو ترک نہیں کیا۔وہ ان کو اسلام کے منافی نہیں سمجھتے،ان میں سے مہماں نوازی جیسی اچھی روایات بھی ہیں لیکن بدلہ جیسی غیر اسلامی عادت بد بھی ہے جسے وہ حرزِ جان بنائے ہوئے ہیں۔اسے وہ اپنے تمدن کا اہم ترین وصف جانتے اورایمان اور غیرت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔کسی قبیلے میں جب کوئی فرد یا افراد مارے جاتے ہیں،تو افغان روایات کے مطابق جرگہ بیٹھتا ہے،پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ غلطی کس کی ہے جب یہ واضح ہو جاتا کہ مخالف گروہ کی غلطی ہے تو پھر قبیلے میں چند لوگ اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم بدلہ لیں گے۔اس کے بعد یہ لوگ گھر چھوڑ دیتے ہیں ،حجرے میں بسیرا کرتے ہیں،وہیں کھانا کھاتے ہیں اور جب تک بدلہ نہ لے لیں سوسائٹی سے کٹے رہتے ہیں؛البتہ طالبان بالکل مختلف ہیں۔وہ اپنے قبائلی قوانین کے بجائے قرآن وسنت کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہیں۔ان کے خلاف بہت گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتاہے،لیکن طالبان کو جہاں تک میں نے دیکھا ہے وہ بہت انصاف پسند لوگ ہیں۔وہ دشمن سے بھی وہ سلوک کرتے ہیں جو ہم کتابوں میں صحابہ کرام کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ان کے حسن خلق کا نتیجہ ہے کہ ایک انگریز صحافی عورت چند روز ان کی قید میں رہنے کے بعد کہا:”وہ انسان نہیں فرشتے ہیں۔“ہاں جب سختی آتی ہے تو انسان کمزور ہے کبھی ایسا بھی ممکن ہے کہ ان سے بھی کسی کمزوری کا اظہار ہو جائے،لیکن عام حالات میں وہ نہایت مخلص،سچے ،مضبوط عقیدے کے اوراپنے امیر کا حکم ماننے والے لوگ ہیں۔ان میں کوئی قانون شریعت کے خلاف کسی جرم کا ارتکاب کرے تو کمانڈر قاضی سے درخواست کرتا ہے کہ اگرمیرے آدمی کا گناہ ثابت ہو جائے تو دوسروں کا ایک ہاتھ کاٹیں ،لیکن ہمارے مجرم کے ایک ہاتھ کے ساتھ ایک پیر بھی کاٹنے کا حکم دیں۔
افغان جہاد اور امریکی امداد
اسی کے عشرے کے آغاز میں امریکا سے ہمہ پہلو امداد آنے لگی۔ہم حیران تھے کہ امریکا میں بھی اتنے مخلص اورایسے ہمدرد لوگ ہو سکتے ہیں۔صدر کارٹر اور صدرریگن نے مجاہدین کو اسلام کے سچے سپاہی قرار دے کر ان کی بار بار تحسین و توصیف کی۔تب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب امریکا نظریں پھیر لے گا اور ان ہی مجاہدین کو دہشت گرد کہا کرے گااور ان پر کارپٹ بم باری کرے گا۔اس دوران میں بڑی تعداد میں عرب مجاہدین اور عرب شیوخ مذہبی لباس میں اور مخیر تاجروں کے لباس میں پاکستان آئے جن میں سے ایک اسامہ بن لادن بھی تھے لیکن بعض عرب شیوخ کی آمد ورفت صرف بڑے ہوٹلوں اور حویلیوں تک محدود رہی ۔جب کہ شیخ عبداللہ عزام اور اسامہ بن لادن جیسے لوگ جذبہ جہاد سے سرشارہو کر آئے تھے،انہوں نے پاکستان کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاﺅسوں میں قیام کی بجائے مجاہدین کے ساتھ پہاڑ وں پر بود وباش رکھی۔اسی زمانے میںامریکا نے بھی خاطر خواہ امداد دی۔اس میں نقد امداد بھی شامل تھی،اسلحہ بھی تھا،سٹنگر میزائل بھی تھے اور ہر شعبے کے اعلیٰ ترین امریکی ماہرین بھی تھے۔اب سٹنگر کی کہانی بھی سنیے۔
یہ 1986ءکی بات ہے ایک دن جب ہم ٹریننگ میں مصروف تھے کہ افغان جہاد کا معروف حامی اور سپورٹر امریکی پارلیمنٹ کا رکن چارلی ولسن اسلام آباد آگیا۔مجھے کہا گیا کہ وہ ہمیں ملنا اور زیر تربیت نوجوانوں کو دیکھنا چاہتا ہے؛لہٰذا میں اسے ٹریننگ کیمپ لے جاﺅں۔میں اسے اپنے ساتھ کیمپ لے گیا۔اس روز اتفاقاًاینٹی ایئر کرافٹ میزائل کے اسباق پڑھائے جا رہے تھے۔ایک نوجوان کمانڈر امیرگل پاچا تربیت کے دوران بے حد خوش ہوکر اٹھا اور ایک سام میزائل اٹھا کر باقاعدہ رقص کرنا شروع کر دیا۔چارلی ولسن نے مجھ سے کہا۔ میںاس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔وہ آیاتو چارلی نے اسے میرے ذریعے پوچھا کہ آیا وہ بہت خوش ہے؟ میں نے اس سے کہا”تہ ڈیر خوش حالہ دا؟“(تم بہت خوش ہو؟)چارلی کا سوال میری زبانی سن کر امیر گل نے کہا:”امام صاحب دہ تہ وئی ما تا خوش حالہ نہ دا“(امام صاحب اس سے کہ دیں ہم خوش نہیں ہیں) چارلی نے پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا،اس لیے کہ یہ اسلحہ زمین سے ہوا میں مار کرتا ہے،مگر زمین سے ہوائی جہازکو نشانہ نہیں بناتا۔جب تک یہ روسی طیاروں کو نہیں گراتا،ہمارے لیے بے کار ہے۔میں نے امیرگل کی بات چارلی سے کہی تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔اس نے کہا"Col. he has given me a big slap on my face,I will go back and get him stinger": "(کرنل اس نے میرے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا ہے۔میں واپس جاکر اس کے لیے سٹنگرلے کر آﺅں گا۔)چارلی ولسن واپس گیا اور واقعی سٹنگر لے کر آیا۔امریکی ہمیں سٹنگر نہیں دینا چاہتے تھے،وہ اس وقت بھی اس جنگ میں براہ راست ملوث نہیں ہونا چاہتے تھے۔وہ ہمیں روسی وچینی اسلحہ مصر وغیرہ سے خرید کر دے رہے تھے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا اسلحہ براہ راست ہم تک پہنچے۔چارلی ولسن نے وہاں مجاہدین کا کیس لڑا اورامریکی قیادت کو قائل کرلیا۔اس طرح پہلی بار سٹنگر میزائل افغان مجاہدین تک پہنچا۔اس کا افغان جہاد پرمثبت اثر پڑا اورروسی شکست کا عمل تیز ہوا۔
روسی شکست کے بعد
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید افغان جہاد میں سیاہ وسفید کے اختیارات میرے پاس تھے۔الیکٹرانک میڈیا کے بہت سے اینکر حضرات مجھ سے کہتے رہے ہیں کہ ا فغان جہاد میں جو خرابی پیدا ہوئی اس کا ذمے دار بھی میں ہوں،بلکہ ہم پر یہ الزام بھی عاید کیا گیا کہ ہم نے اسلحے کی خردبرد کی اور ہم پرسٹنگر میزائل فروخت کرنے کا الزام بھی عاید کیا گیا۔یہ بالکل خلاف حقیقت بات ہے،آئی ایس آئی نے یہ کام نہیں کیا۔چند جنگ جو کمانڈروں کے ہاتھ کچھ سٹنگر لگے تھے یا جو جنگ میں استعمال ہونے سے رہ گئے وہ ضرورادھر ادھر ہوئے۔میں نے انہیں بتایا کہ میں تو ایک کرنل تھا جب کہ اس پورے پراسس کی نگرانی پاک فوج کے کئی بریگیڈیر کرتے رہے۔سب سے پہلے بریگیڈیر رضاعلی آئے،پھر بریگیڈیر یوسف آئے،ان کے بعدبریگیڈیر جنجوعہ آئے۔سب سے زیادہ کام بریگیڈیر رضا علی نے کیا اور انہوں نے ہی اس پورے کام کا نقشہ تیار کیا اور ڈھانچہ کھڑا کیا۔انہوں نے اتنا عمدہ سٹرکچر کھڑا کیا جسے بعد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔یہ تین بریگیڈیر جن کا میں نے ذکر کیا،یہ جنیوا اکارڈ سے پہلے تک رہے۔یہ جہاد افغانستان کا بہترین زمانہ تھا۔ان کے بعد کے دور میں حالات اچھے نہیں رہے۔جنیوا کے معاہدے کے بعدپاکستان کے خفیہ اداروں کا کردار کم ہوتا چلا گیا،ہمارے زیادہ تر افسر واپس بلا لیے گئے،تاہم میں آخر دم(نائن الیون)تک افغانستان سے وابستہ رہا۔
امریکی امداد کا یہ سلسلہ جنیوا اکارڈ تک چلتا رہا۔جنیوا اکارڈ تک امریکہ پاکستان اور افغان مجاہدین تینوں کا ہدف یہ تھا کہ سوویت یونین کو شکست ہونی چاہیے اس کے بعد امریکا کے عزائم تبدیل ہوگئے۔ امریکا اسی وقت تک افغانوں کا دوست رہا جب تک ان کو بغیر وسائل کے لڑتے دیکھنے کے بعد اسے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ سرفروش لوگ امریکا کے واحد حریف روس کو بہت تھوڑی مالی امدادسے شکست دے سکتے ہیں، لیکن ان کو یہ امید نہیں تھی کہ یہ جنگ اتنی جلدی ختم ہوجائے گی۔ہمیں بھی توقع نہ تھی کہ افغان ہماری زندگی میں فتح سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔سوویت یونین نے ہماری اور امریکا کی توقع سے پہلے ہی دس برس کے اندر اندر ہار مان لی۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا واقعہ تھا۔ سوویت یونین کے افغانستان سے جاتے ہی امریکہ نے فوراً اپنی پالیسی تبدیل کرلی۔دراصل وہ افغان قوم سے خوف زدہ تھے۔انہوں نے سوچا کہ جس قوم نے ایک سپر پاور کو توڑ دیا ہے اگر وہ منظم ہو گئے یا انہوں نے اپنی حکومت بنا لی تو وہ کچھ اور بھی کر سکتے ہیں۔خاص طور پر یہ بات انہیں گوارا نہ تھی کہ افغانستان کی آزادی کے بعد وہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔جنیوا میں امریکا نے شیطانی چال چلی اور جنیوا معاہدے پر دستخط کرکے افغانوں کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا گیا ۔صدر جنرل ضیاءالحق جنیوا اکارڈ پر دستخط کرنے کے لیے راضی نہیں تھے،مگر امریکا نے پاکستان کے کمزور وزیر اعظم محمد خان جونیجوکے ذریعے افغان جہاد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔
(باقی اگلی قسط میں)

Last edited by عبدالہادی احمد; 29-08-11 at 08:40 AM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-08-11), ہادی (30-08-11), پاکستانی (19-09-11), معظم (29-08-11), wajee (28-08-11), اویسی (29-08-11), حسن قادری (29-08-11), راجہ اکرام (01-11-11), رضی (29-08-11), شمشاد احمد (29-08-11), عبدالقدوس (28-08-11), عبداللہ آدم (28-08-11)
پرانا 28-08-11, 12:44 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,519
کمائي: 87,964
شکریہ: 5,178
5,031 مراسلہ میں 11,443 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دوسری قسط کا انتظآر ہے
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (07-09-11)
پرانا 29-08-11, 07:00 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاد افغانستان کی کی کہانی کرنل امام کی زبانی۔۲
روایت: کرنل امام
تحریر:عبدالہادی احمد


کرنل امام نے افغان جہاد میں تنہا ایک لشکر جتنا کام کیا۔انہوں نے ہی ملاعمر،حکمت یاور اور اہم مجاہد کمانڈروں کو تربیت دی۔ روس کو عبرت ناک شکست دینے میں ان کے کردار کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارئہ جرات اور ستارئہ امتیاز دیا گیا۔افغانستان کا جہاد کامیابی سے ہم کنار ہو گیا ،تو ان سے کہا گیا کہ اب گھر بیٹھیں آرام کریں،مگر ان کے سینے میں جہاد کا شعلہ ابھی بجھا نہیں تھا۔1973ءمیں کیپٹن کی حیثیت سے امریکہ کے فورٹ براگ ملٹری کالج گئے، گرین بیریٹ حاصل کیا اور اسپیشل سروسز گروپ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ اسی زمانے میں بریگیڈیئر نصیر اللہ خان بابر نے ذوالفقار علی بھٹوکے کہنے پر افغانوں کے تربیتی کیمپ بھی قائم کیے۔ ان کیمپوں میں فوج کے جن افسروں کی ڈیوٹی لگائی ان میں کرنل امام بھی شامل تھے۔کرنل امام افغان مجاہدین کے لیے بنائے گئے افغان سیل میں دو سو سے زیادہ اہل کاروں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ جنگ کے بعد طالبان نے کرنل امام کو بہت احترام دیا۔ پاکستان نے ان کی پوزیشن سے فائدہ اتھاتے ہوئے انہیں پہلے قندھار اور پھر ہرات میں اپنا قونصل جنرل بنایا۔کرنل امام طالبان کے پورے دور میں افغانستان میں رہے۔ کرنل امام نے 2001ءمیں پرویز مشرف کی طرف سے افغان پالیسی میں تبدیلی کی مخالفت کی۔ وہ افغان طالبان کے حامی تھے لیکن پاکستان میں طالبان کی کارروائیوں کے مخالف تھے۔ مارچ 2010میں آئی ایس آئی کے ایک سابق افسر خالد خواجہ اور ایک برطانوی صحافی اسد قریشی کے ہمراہ شمالی وزیرستان روانہ ہوئے۔ کرنل امام پاکستانی طالبان اور فوج میں سیز فائر کا مشن لے کر گئے تھے۔ وہ سیکورٹی فورسز کے تعاون سے بنوں کے راستے شمالی وزیرستان میں داخل ہوئے تھے۔اس علاقے سے کوئی عام پاکستانی سیکورٹی حکام کی مرضی کے بغیر ایک مسافر وین میں شمالی وزیرستان نہیں جاسکتا ،لیکن آگے جاکر کرنل امام اور ان کے ساتھی اغوا کر لیے گئے۔ اغوا کاروں نے خالد خواجہ کو قتل کردیا، برطانوی صحافی اسد قریشی کو تاوان لے کر رہا کردیا اور کرنل امام کی رہائی کے بدلے اپنے سترساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ملا عمر نے بھی اغوا کاروں سے اپیل کی کہ وہ مجاہدین کے استاد کو رہا کر دیں،مگریہ درخواست بھی رد کردی گئی ۔ کرنل امام پاکستان کے بہادر سپوت اور سچے مسلمان تھے۔ان کو پاکستان کی حدود کے اندر نہایت مظلومانہ انداز میں شہید کر دیا گیا ،مگرپاکستان اپنے جاں نثار افسر کی جان بچانے کے لیے کچھ نہ کرسکا۔
کرنل امام کی ساری جوانی جہاد کے فروغ میں گزری اور بڑھاپے میں شہادت نصیب ہوئی۔انہوں نے جو بہترین جہاد کیاتھا،شہادت اس کا بہترین صلہ ہے۔ تاہم قوم کا یہ فرض ہے کہ اس عظیم مجاہد اور شہید کی اس قربانی کو یاد رکھے۔ ہم کرنل امام کی زبانی جہاد افغانستان کی کہانی اسی لیے پیش کر رہے ہیں،تاکہ ان کے خلاف حقائق کو مسخ کرنے اور دشمن میڈیا کی طرف سے جو پرپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کا تدارک ہو اور سچائی واضح ہو کر سامنے آسکے۔ زیر نظر قسط میں یہ حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ کرنل امام کس کو دوست اورکسے دشمن سمجھتے تھے اورکیوں؟اور کس کو ان کے قتل سے فائدہ پہنچ سکتا تھا؟
××××××××××××××××××××××××× ×××××

میرے دل میں اس روسی جرنیل کا بڑا احترام ہے جس نے افغانستان میں روسی فوجوں کی کمان کی تھی اور جب روس کے صدرنے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تواس نے ہی ایک کمانڈر اور ایک سپاہی کے طور پر سب سے آخر میں دریائے آمو کاپل عبور کیاتھا۔اس موقعے پر اس نے پیچھے مڑ کر سرحد کے اس پار دیکھا اوریہ یادگار فقرہ کہا :" آئندہ افغانستان پر حملہ کرنے والوں کو حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ہو گا"۔حالانکہ روسی فوج برطانوی اور امریکی فوج کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہادرسپاہیوں پر مشتمل ہے۔ اس نے مختلف جنگوں میں اپنی پامردی ثابت کی ہے؛جب کہ برطانیہ اور امریکا نے تو دنیا میں پست ہمتی اور بزدلی کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔وہ زمانہ کہ جب روسی افغانستان پر حملہ کر چکے تھے اور ہم افغانوں کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑ رہے تھے۔ رروس نےجن دنوں افغانستان پر حملہ اور قبضہ کررکھا تھا،میرا ایک روسی سفارت کار سے دلچسپ مکالمہ ہوا تھا۔ میں نے جب اسے کہاتھا:
"آپ افغانوں کو کبھی شکست نہیں دے پائیں گے ،بہتر ہے اپنی توانائی بچا کر رکھیں،آپ کے کام آئے گی"۔ مجھے یاد ہے اس نے کہاتھا:
"مجھے آپ سے اتفاق نہیں ۔ ہم روسیوں کے قدم دنیا بھر میں ہر جگہ پہنچے ہیں اور ہم ہر مقام پر فتح مند رہے ہیں۔کیا آپ اس حقیقت کا انکار کرتے ہیں؟" اس پرمیں نے اپنی بات کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا:
"جناب والا مجھے آپ کی فوجوں کی بہادری کا اعتراف ہے،لیکن تاریخ کی گواہی یہی ہے۔ گزشتہ تین ہزار برس کے عرصے میں کئی بار یہاں بیرونی طاقتوں نے حملے کیے،ان میں عام مملکتیں بھی تھیں اور سپر پاورز بھی ۔ سکندر اعظم حملہ آور ہوا،ہُن آئے،آریا آئے،منگول آئے ، ازبک آئے اور برطانوی بھی بار بار حملہ آور ہوئے مگر کوئی ایک بھی یہاں سے کامیاب ہو کر واپس نہیں گیا،بلکہ سب ہی اپنے خون میں ڈوب کر لوٹے اور افغانستان ہمیشہ حملہ آوروں کے لیے قبرستان ثابت ہوتا رہاہے۔ وہ جو طاقت ور تھے اور جنہوں نے شروع میں افغانوں کا قتل عام کیا،ان کو افغان قوم نے کبھی معاف نہیں کیا۔اس لیے کہ وہ کسی حملہ آور کے سامنے سر نگوں نہیں ہوتے ،بلکہ پہاڑوں میں گم ہو جاتے ہیں۔پھر جب وہ سامنے آتے ہیں تو حملہ آور اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔انگریزجب دنیا کی بڑی سپر پاور تھے،تین بار افغانستان پر حملہ آور ہوئے اور ہر بار منہ کی کھائی۔ایک بار تو ساری فوج میں سے صرف ایک ڈاکٹر زندہ بچاجس نے واپس جاکر یہ داستان غم انگریزوں کو سنائی۔ دوسری افغان جنگ میں ہرات کے گورنر نے انگریزوں کو عبرت ناک شکست دی۔ اس پرروسی سفارت کار نے کہا:
آپ روسیوں کو نہیں جانتے ،ہم جہاں قدم رکھتے ہیں اچھی طرح جما کر رکھتے ہیں۔اور جہاں ہم جم جاتے ہیں وہاں سے کوئی ہمیں نکال نہیں سکتا۔ میں نے کہا:
یور ایکسی لنسی افغان بالکل مختلف لوگ ہیں یہ اپنی آبرو اور آزادی کے لیے کوئی بھی قربانی دینے سے نہیں ڈرتے۔ وقت میر ی بات کی صداقت ثابت کرے گا۔ اس روسی سفارت کار نے تب میری بات تسلیم نہیں کی تھی ،مگر آج روسی مان گئے ہیں کہ افغان ناقابل شکست قوم ہے۔ مجھے یقین ہے امریکہ کو بھی اللہ تعالیٰ ذلت آمیز شکست سے دوچار کرنے کے لیے گھیر کر افغانستان میں لایا ہے۔ اس کو بھی پہلی دو سپر طاقتوں کی طرح افغان شکست دیں گے اورافغانستان اس مرتبہ بھی حملہ آوروں کا قبرستان ثابت ہونے کا اپنا کردار باقی رکھے گا ۔اللہ نے افغانستان کے کہساروں کو جب تک قائم رکھنا ہے افغانوں کو بھی قائم رکھے گا۔
افغان باقی کوہسار باقی
الحکم للہ والملک للہ
دس برس کے اندر اندر امریکا اعتراف کر رہا ہے کہ وہ افغانستان کے پہاڑوں پھنس گیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکا افغانستان میں آنے سے پہلے ہی وہ غلطیاں دہرانا نہیں چاہتا تھاجو انگریزوں اور روسیوں سے ہوئیں۔امریکا اسی لیے اپنے ساتھ ساری دنیا کے لشکر اور جدید اسلحے کے پہاڑلے کر آیا۔ پھر وہ اپنی فوج کے بجائے میزائل اور بم استعمال کرتا رہا ہے،ڈرون طیاروں کو لڑا تارہا ،تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہولیکن یہی اس کی اصل کمزوری ثابت ہوئی۔اس کا سپاہی لڑنے کے لیے تیار نہیں،خصوصاًمرنے کے لیے تو بالکل ہی تیار نہیں ،کیوں کہ اس کے سامنے کوئی مقصد نہیں۔ ان میں ہر ایک بھاگنے کی فکر میں رہتا ہے،ان کی نصف سے زیادہ فوجی لڑکیاں افغانستان سے فرار ہونے کے لیے آبرو باختہ ہونے کا اعتراف کر لیتی ہیں ۔ وہ یہ بہانہ بنا کر امریکا واپس بھاگ جاتی ہیں کہ وہ مرد سپاہیوں سے دوستی کے نتیجے میں امید سے ہیں۔ایسےبد کردار لوگ افغان مجاہدین سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟بے شک افغانوں کے پاس لڑنے کے لیے کبھی اچھااسلحہ نہیں رہا،مگر ان کے پاس مضبوط عقیدہ اور ایمان ہے جواسلحے سے بڑھ کر ہے اورآزادی سے محبت انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ پھران کے پاس جنگ کا بہترین تجربہ ہے۔ وہ تیس برس سے اس طرزِ جنگ کے خوگر ہیں،ان کی ایک پوری نسل میدانِ جنگ میں پیدا ہوئی ہے۔امریکا کو معلوم تھاکہ وہ تنہا افغانوں سے نہیں جیت سکتا،اس لیے اس نے اقوام متحدہ کی چھتری کے نیچے نیٹو کی فوجوں کو ساتھ ملایا،مگربندوقوں کے ساتھ ایمان کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔امریکیوں کے پاس ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ تو ہے ،لیکن وہ ایمان سے محروم ہیں۔ اسی لیے میدان میں سپر پاور بری طرح شکست کھا چکی ہے ،اس کا ثبوت یہ ہے کہ لوگوں میں اربوں ڈالر رشوت بانٹ کر ساتھ ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے،لیکن افغان قوم کے ساتھ اپنے گزرے ہوئے طویل برسوں کےبعد میں کہ سکتا ہوں کہ یہ قوم ڈالروں کے بدلے اپنی فتح نہیں بیچے گی۔
روس کو شکست دینے کے لیے پندرہ لاکھ افغان شہید ہوئے۔افغانوں کے پاس ڈالر نہیں تھے اپنے سر ہی تھے،سر کٹانے میں انہوں نے بخل نہیں کیا۔اس جنگ پر کل پانچ ارب ڈالر خرچ ہوئے،ڈیڑھ ارب ڈالر سعودی عرب ،پاکستان اور دوسرے اسلامی ملکوں نے دیے اورساڑھے تین ارب ڈالر امریکا نے خرچ کیے۔ امریکا(2010ءمیں) آج تک افغانستان کی جنگ پر 12 ٹریلین ڈالر لٹا چکا ہے،اس کے ہزاروں تابوت امریکا پہنچ چکے ہیں اورمسلسل پہنچ رہے ہیں ،ہزاروں زخمی ہیسپتالوں میں پڑے ہیں اور ہزاروں ذہنی طور پر معذور ہو چکے ہیں۔اس کے سوا شکست کا شرم ناک داغ اس کے چہرے پر لگنے والا ہے۔اس سے بچنے کے لیے وہ اپنا بوریا بستر لپیٹ کر پاکستان آرہا ہے۔انہوں نے اپنے انخلا کے لیے جو مدت مقرر کی ہے،اس سے امریکی شکست فتح میں نہیں بدل جائے گی،صرف یہ ہوگا کہ دنیا کو دکھانے کے لیے افغانستان میں بھاری بم باری کی جائے گی۔ بہت زیادہ شہری شہید ہوں گے اور امریکا کہے گا ہم نے القاعدہ کی کمر توڑ دی ہے اورطالبان کو کمزور کر دیاہے،ہمارا مشن مکمل ہو گیا ہے اس لیے ہم واپس جاہے ہیں۔ یوں امریکابزعمِ خویش اپنی ناک کٹنے سے بچا لے گا،لیکن ناک تو پہلے ہی کٹ چکی ہے،اس کے برے اثرات تو امریکی پوزیشن پر پڑ رہے ہیں، لوگ جان گئے ہیں کہ نام نہاد سپر پاور اندر سے کتنی کھوکھلی ہو چکی ہے،لیکن اس کے پاکستان پر بھی بے حد برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت قبائلی علاقہ عدم استحکام کا مرکز بنا ہوا ہے،امریکی مداخلت جاری رہی تو پنجاب بھی بدامنی کی لپیٹ میں آ جائے گا اور موجودہ حالات میں امریکا اس سے زیادہ کی آرزو بھی نہیں رکھتا۔
نائن الیون اورپاکستان
نائن الیون کے بعد پاکستان کی حکومت یک لخت امریکا کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی۔ شیروں کا سردار کوئی گیدڑ ہو تو وہ سب کو گیدڑ بنا دیتا ہے۔ ہماری قیادت نہایت بزدل تھی۔جنرل مشرف نہ صرف سیاسی بصیرت سے محروم شخص تھا،بلکہ اس کے اندر ملی غیرت اور حمیت کی بھی سخت کمی تھی۔دنیا بھر میں کوئی فوجی جرنیل اور سربراہ ایسا ڈرپوک نہیں ہوا ہوگا جس نے ایک ٹیلی فون سے ڈر کر وہ ساری بات قبول کر لی جس کی خود امریکیوں کو بھی توقع نہیں تھی کہ مان لی جائے گی ۔عراق پر حملے کے لیے ترکی سے 26ملین ڈالر کے بدلے میں راستہ مانگا گیاتھا،ترک قیادت نے کہا، ہم اپنی پارلیمنٹ سے پوچھیں گے۔پارلیمنٹ نے اجازت نہیں دی ،ترکی نے صاف انکار کر دیا۔ ہمارے ہاں پارلیمنٹ کہاں تھی،بزدل جرنیل نے کسی سے مشاورت کیے بغیراپنا سب کچھ امریکا کے قدموں میں ڈھیر کر دیا اورہم نے امریکا سے نہایت گھٹیا قسم کا تعاون شروع کر دیا جس سے آہستہ آہستہ ہماری گردن پرامریکی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی۔اب امریکا ہمارے شہریوں کو اپنے ڈرون طیاروں کے ذریعے مار رہا ہے اور ہم سب اس کے زر خرید بنے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کو اپنی غلام ریاست سمجھتا ہے۔
ملا عمر سے ملاقات
ملامحمد عمر مجاہد سے میری پہلی ملاقات1985ءمیں ہوئی جب وہ ایک عام مجاہد کے طور پر میرے کیمپ میں ٹریننگ حاصل کرنے آئے تھے۔ تاہم میں اس وقت انہیں جانتا نہیں تھا، کیوں کہ وہ کوئی کمانڈر نہیں تھے،عام مجاہد تھے۔ وہ استاذ ربانی کی پارٹی میں تھے اور ایک عام مجاہد کے طور پر لڑتے رہے تھے۔ 1994ءمیں جب میری ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تب انھوں نے مجھے بتایا کہ میں آپ کا شاگرد ہوں اور آپ سے ملاقات کر چکا ہوں اور میں نے فلاں کیمپ میں آپ کی نگرانی میں ٹریننگ حاصل کی تھی۔ مجھے اس موقعے پر وہ کمانڈر تو یاد آگیا جس کا وہ حوالہ دے رہے تھے،یعنی تب میں ان کے کمانڈر کو جانتا تھا لیکن ملا محمد عمر کو نہیں۔ بعد میں ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ملا عمرایک سچے اور مخلص مسلمان ہیں،ان کا انداز بہت صاف اور پر اثر ہے۔ ان کی شخصیت، بات چیت کا انداز بھی متاثر کن ہے۔ایک لڑائی کے دوران وہ زخمی ہوئے اور ان کی ایک آنکھ بھی شہید ہوگئی۔ ہم نے کراچی کے ایک ہسپتال میں ان کاعلاج کرایا ۔ کچھ لوگ انہیں مافوق الفطرت ثابت کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی آنکھ کو زخمی ہونے کے بعد چاقو کے ذریعے ڈھیلے سے سے نکالا اورخود ہی سی دیا،یہ سراسر افسانہ ہے ،حقیقت یہ ہے کہ ان کی آنکھ کا باقاعدہ ہسپتال میں آپریشن ہواتھا۔
باپ نہیں خادم
اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ مجھے طالبان کو منظم کرنے کا کام سونپا گیاتھا۔ مجھے با بائے طالبان بھی کہا گیا۔مجھے ان سے وابستہ اس لیے سمجھا گیا کہ میں آخر تک افغانستان سے وابستہ رہا۔ میرے بچوں نے بھی مجھ سےکہا کہ وہ سارے لوگ جو افغان جہاد سے منسلک رہے تھے سب نکل گئے ہیں، آپ کیوں ابھی تک ادھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب طالبان افغانستان میں منظم ہونا شروع ہوئے تو آئی ایس آئی بھی مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ یہ کون لوگ ہیں؟میں نے کہا یہ ہمارے شاگرد ہیں۔ مجھ سے پھرپوچھا گیا، مزید تفصیل سے بتاﺅ کہ یہ کون لوگ ہیں۔میں نے یقین دلانےکی کوشش کی مگرانہیں میری بات کا اس وقت تک یقین نہ آیا جب تک میں نے ان کو تفصیل سے بتا نہ دیاکہ فلاں الماری میں ، فلاں دراز میں اورفلاں فائل میں دیکھو تمہیں ملا محمد عمر کا نام مل جائے گا،فلاں صفحے پر ملا ربانی کا نام ہو گا۔تب انھیں یقین آیا کہ یہ طالبان تو ہمارے اپنے ٹرینڈ لوگ ہیں،اس وقت تک وہ انہیں امریکی سمجھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ سابق ڈائرکٹر جنرل آئی ایس آئی بھی یہی سمجھ رہے تھے۔ان کے خلاف پروپیگنڈا ہی ایسا تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ ملا بورجان ملا بورجان نہیں کوئی انگریز جرنیل ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ یہ ہمارے سب سے اچھے شاگردوں میں سے ہیں۔ میں نے انہیں باور کرایا کہ پہلے یہ لوگ مختلف پارٹیوں میں تھے اب اکٹھے ہو کر ایک ہی جھنڈے کے نیچے کام کر رہے ہیں۔مجھے طالبان سے محبت ہے۔ان کے کردار کی وجہ سے۔میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا تھا۔میں نے ملا عمر سے آخری ملاقات کی تو ان سے کہا تھاکہ اگر وہ کہیں تو میں پاکستان کو خدا حافظ کہ کر یہیں ان کے ساتھ رہ جاتا ہوں۔ ملا عمر نے کہا، نہیں آپ جائیں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہیں،مجھے آپ کے یہاں رہنے کا اتنا فائدہ نہیں ہوگا۔ جاتے جاتے میں نے کہا ،ملا صاحب ایک بات یاد رکھنا امریکیوں کے ساتھ دو بدو جنگ (Conventional Warfare)نہیں کرنا ،آپ مارے جاﺅ گے، ان کے خلاف ہمیشہ گوریلا جنگ (Guerrilla Warfare)لڑیں۔ اس پرملا عمر نے کہا:"امام صاحب ایک بار میں دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں کہ افغان دو بدو جنگ میں کیسے ہیں، پھر میں گوریلا جنگ شروع کروں گا۔" تاہم امریکا نے انہیں اس کاموقع ہی نہیں دیا۔ انھوں نے نہایت سخت کارپٹ بمباری کی ۔ طالبان نے جب دیکھا کہ مجاہدین سے زیادہ عام شہری شہید ہو رہے ہیں تو وہ کابل سے نکل گئے۔
اس میں شبہ نہیں کہ ملا عمر کو حالات نے قائد بنایا،لیکن انہوں نے اپنی بہترین اہلیت ثابت کی۔موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراس کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں۔انہوں نے دشمنوں اور دوستوں دونوں کے دباﺅ کا یکساں مقابلہ کیااور کبھی کمزوری نہیں دکھائی۔بڑے سے بڑا دبائو برداشت کیا۔نہ صرف اسامہ بن لادن کے معاملے میں وہ ثابت قدم رہے،بلکہ ہر معاملے میں ثابت قدمی دکھائی۔
یہ نائن الیون سے تین برس پہلے کی بات ہے ،ستمبر1998ءمیں پاکستانی آئی ایس آئی کے سربراہ نے سعودی پرنس ترکی الفیصل کے ساتھ ملا عمر سے قندھار میں ملاقات کی اوراسامہ بن لادن کو افغانستان سے نکالنے پر زوردیا۔ شہزادے نے طالبان کے قائد سے کہا کہ آپ نے تین ماہ پہلے وعدہ کیا تھا کہ اسامہ کو ہمارے حوالے کر دیں گے،مگر اب آپ اسامہ کو سعودی عرب کے حوالے کرنے سے گریزاں ہیں۔ شہزادے نے ملا عمر سے شکایت کی کہ یہ صرف امریکا کا معاملہ نہیں، اسامہ سعودی عرب میں بھی حکومت کے خلاف تحریک کاروحِ رواں ہے۔ طالبان اسے سعودی عرب کے حوالے کرنے کا وعدہ کیوں پورا نہیں کرتے۔
اس موقعے پرآئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے ملا عمر سے کہا، روسیوں کے خلاف جہاد کو پاکستان اور سعودی عرب دونوں نے سپورٹ کیا تھا،لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کو ناراض نہ کریں۔ وہ اسامہ کو یا تو افغانستان سے نکال دیں یا پھر اسے اس کے اپنے ملک کی حکومت کے حوالے کردیں۔ آئی ایس آئی کے ڈائرکٹر نے ملا عمرسے کہا ،اسامہ پاکستان سے طالبان کے تعلقات پر بھی برے اثرات ڈال سکتا ہے۔انہوں نے اس اندیشے کا اظہاربھی کیا کہ امریکا اسامہ کا بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ بھی کر سکتا ہے۔ اگر اسامہ کو افغانستان سے نکال دیا جائے گا تو دوسرے ممالک بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلیں گے۔ شہزادے نے بار بار تین ماہ پہلے کے وعدے کا حوالہ دیا۔ ملا عمر نے بڑی استقامت سے یہ دباﺅ سہا،آخر میں کہا،شہزادہ صاحب آپ کو جھوٹ زیب نہیں دیتا،میں نے آپ کے ساتھ کبھی کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا تھا۔ ملا عمر نے کہا،بڑے افسوس کی بات ہے کہ سعودی اس موقعے پر افغانستان کی مدد کرنے کی بجائے ہم پر اسامہ کا بہانہ بنا کر دبائو ڈال رہے ہیں۔اسامہ کو اس وقت بے یار ومدد گار کیسے چھوڑا جا سکتا ہے کہ جب کوئی بھی ملک انہیں پناہ دینے کے لیے تیارنہیں اور ان کو شمالی اتحاد والوں سے بھی خطرہ ہے جنہیں ایران کی مدد حاصل ہے۔ شہزادہ کچھ دیر تک ضبط کرتا رہا لیکن پھر وہ اپنے حواس کھو بیٹھا۔ اس نے ملا عمر پر انگلی تانی جو ملا عمر کو خاصی ناگوار گزری۔ اچانک ملا عمر اٹھے اورغصے میں باہر چلے گئے۔ ایک گارڈ بھی ان کے پیچھے گیا۔ چند منٹ بعد ملا عمر واپس آئے تو ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا اورقمیص بازوئوں سمیت گیلی ہورہی تھی۔ ملا عمر نے کہا ،میں دوسرے کمرے میں اس لیے گیا تھاتاکہ اپنے سر پر ٹھنڈا پانی ڈال کر اپنے آپ کو ٹھنڈا کرسکوں۔ شہزادے اگر تم میرے مہمان نہ ہوتے تو آج میں تمہیں عبرت ناک سزا دیتا۔اس کے بعدملا عمر کا غصہ آہستہ آہستہ فرو ہو گیا۔انہوں نے کہا،میں اسامہ کا فیصلہ کرنے کے لیے سعودی اور افغان علماءپر مشتمل ایک کونسل بنانے کے لیے تیار ہوں۔ اس موقعے پرملا عمرنے اسامہ ہی کی طرح سعودی عرب میں امریکی فوج کے آنے کی سخت الفاط میں مخالفت کی اور کہا کہ سعودی عرب کو آزاد کرانے کے لیے ساری مسلم امہ کو متحد ہوجانا چاہیے۔ ملا عمرنے کہا، پرانے سعودیوں کو اپنی عزت کا احساس ہوتا تھا،وہ کبھی بھی امریکی فوجوں کو سعودی عرب میں داخل نہ ہونے دیتے۔انہوں نے کہا،میں نے اسامہ سے یہ لکھوا لیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت میں رہ کر کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی میں ملوث نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مہمانوں کو رخصت کرتے ہوئے ایک بار پھر لگی لپٹی رکھے بغیر کہا: مجھے بہت افسوس ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان اسامہ کے بحران میں طالبان کے بجائے امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ملا عمر کی یہ جرات گفتار ان کے ایمان ویقین کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
(جاری ہے)

Last edited by عبدالہادی احمد; 29-08-11 at 06:25 PM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-11-11), اویسی (29-08-11), حسن قادری (29-08-11), شمشاد احمد (29-08-11), عبداللہ آدم (30-08-11)
پرانا 29-08-11, 07:10 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی (3)
روایت: کرنل امام
تحریر:عبدالہادی احمد
سچی بات یہ ہے میں اول و آخر ایک سپاہی ہوں، میں ملکوں کی سیاسی مصلحتوں ،حکومتوں کی چالوں اور سیاسی مدبروں کی چالاکیوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ مجھے اس بات کااعتراف ہے کہ میں امریکیوں کو شروع میں بالکل نہیں پہچان سکا۔ وہ روس کے خلاف افغان مجاہدین کا ساتھ دینے آئے تو میں حیران تھا کہ امریکی اتنے اچھے بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ مجاہدین کے لیے سب کچھ کرنے پر آمادہ تھے،بلکہ طالبان کو بھی شروع شروع میں انہوں نے بھرپور حمایت دی۔امریکا کی خارجہ امور کے لیے ڈپٹی سیکرٹری مسزرابن رافیل(اس امریکی سفارت کار کی بیوی جو جنرل ضیاءالحق کے ساتھ طیارے کے حادثے میں مارا گیا تھا) ہر پندرہ دن بعد آتی تھی اور طالبان کی تعریفیں کرتے نہ تھکتی تھی۔"They are very good boys,doing very good job."(یہ بہت اچھے بچے ہیں،بہترین کام کر رہے ہیں) جس طرح آج امریکی پاک فوج کو بھی پیسے دیتے ہیں کہ قبائلیوں کو مارو۔اُدھر سے قبائل کو بھی مدد دیتے ہیں کہ فوجیوں کو مارو۔ان کی ایجنسیاں قبائلیوں میں بھاری رقوم بانٹ رہی ہیں۔اس وقت بھی امریکی مجاہدین کے گروہوں اور طالبان کو آپس میں لڑا رہے تھے،تا کہ باہم لڑ لڑ کر ان کی طاقت کمزور ہو۔امریکا کا خیال تھا کہ یہ لوگ جن کی کوئی سیاسی بنیاد نہیں ، لڑتے لڑتے خود ہی ختم ہو جائیں گے یا پھر امریکا کے ہاتھ میں کھیلنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن جب یہی ”گڈ بوائز“ بغیرکسی قابل ذکر مزاحمت کے پیش قدمی کرتے رہے اورسب کو ہٹاتے ہٹاتے کابل جا پہنچے اور ہاتھوں میں قرآن لے کر کہا، یہ ہمارا آئین ہے، تو امریکیوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔انہوں نے طالبان پر گوناں گوںپابندیاں عاید کر دیں۔ان کی ہوائی سروس بند ہو گئی،ان پر اقتصادی قدغنیں لگ گئیں،لیکن اس کے باوجود طالبان کامیاب رہے۔انہوں نے امن و امان قائم کر لیا،برائیوں کا قلع قمع کر دیا اور اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر نو کا کام شروع کر دیا۔
فرشتوں سے بڑھ کر
میری خوش قسمتی یا بد قسمتی ہے کہ میں نے دونوں قسم کے طالبان (افغان اور پاکستانی)کو دیکھا ہے اور دونوں کے ساتھ رہا ہوں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہم افغانستان آنے جانے کے لیے گاڑیاں استعمال نہیں کر سکتے تھے،رات کے وقت بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے ہوئے پیدل چلتے تھے۔اس لیے کہ روسی جہازدن رات بڑی سخت بم باری کرتے تھے۔ راستے میں کئی باروزیرستان سے بھی گزر ہوتا تھا۔ قبائل کے لوگ مجھے جانتے تھے ،مہمان نواز لوگ تھے اوربہت تعاون کرتے تھے(افسوس کرنل امام کا حسن ظن جان لیوا ثابت ہوا)۔ میں نے جس حد تک ان کو دیکھاہے یہ ہم سے بہتر پاکستانی اور زیادہ اچھے مسلمان ہیں۔ تاہم وہ اپنی روایات پر اتنی سختی سے کاربند ہیں کہ بسا اوقات روایت کو شریعت پر بھی ترجیح دے دیتے ہیں۔ پہلے ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی ،پٹھانوں کی سوسائٹی میں طالبان کی تعداد ویسے بھی چار پانچ فی صد سے زیادہ نہیں ہوتی،مگر اب تو ایسا لگتا ہے ہرشخص طالبان ہے۔ان میں مدارس کے پڑھے لکھے لوگ کم ہیںبلکہ بعض لوگ تو محض بندوق اٹھا کر طالبان بن گئے ہیں۔ یہ شریعت کے قوانین کے بجائے پشتون روایات کے مطابق جنگ کرتے ہیں۔ بدلے کی روایت کو اس میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ پشتون روایات میں بھی بعض اچھی باتیں ہیں،مثلا یہ اپنی آزادی پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتے،لیکن خراب بات یہ ہوئی ہے کہ بیرونی اثرات سے ان میں بہت سے خراب لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں۔مثلاً سمگلر اورچور بھی ان میں شامل ہو گئے۔اس سے بھی بڑا نقصان یہ ہوا کہ ڈالروں کی بوریاں یہاں آئیں۔امریکی سی آئی اے،بھارت کی را،افغانستان کی خاد اور اسرائیلی موساد سب مل کر یہاں کام کر رہے ہیں۔کئی بارجاسوس اور ہتھیار بھی پکڑے گئے ،مگر امریکی ان کی سرپرستی کو موجود تھے۔ مقامی کے علاوہ دوسرے ملکوں کے ایجنٹ بھی ان میں شامل ہو گئے ہیں جن کوخریدا گیا ہے۔
دوسری طرف افغان طالبان کی اکثریت سچے مجاہدوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے طویل عرصہ جہاد میں گزارا ہے،یہ ڈالروں کے لیے نہیں اللہ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں۔اسلام کے سچے شیدائی ہیں،جنگ کی بھٹی سے گزر کر ان کی خامیاں اور کمزوریاں بھی خوبیوں میں بدل گئی ہیں۔ یہ لوگ افغان جہاد کے عرصے میں مختلف جماعتوں میں شامل تھے۔ روس کی شکست کے بعد جب افغانستان میں بدامنی شروع ہو گئی تو ان طالبان نے ان جماعتوں کو چھوڑ کر ملا محمد عمر کی قیادت میں اپنی جماعت بنا لی۔یہ لوگ جتنا عرصہ حکومت میں رہے،افغانستان میں امن وامان رہا۔انہوں نے شرافت ،پاکیزگی اور انصاف کو رواج دیا۔عین اس وقت جب امریکا افغانستان پر کارپٹ بم باری کر رہا تھا،طالبان نے اخلاقی عظمت کی ایک مثال قائم کی۔ کچھ بیرونی عناصر اور مغربی جاسوس جوامریکی حملے سے کچھ عرصہ پہلے جاسوسی اور مختلف جرائم میں پکڑے گئے تھے ۔امریکا نے حملہ کیا تو وہ طالبان کی قید میں تھے۔ حملہ ہوا توطالبان نے انہیں یہ کہتے ہوئے رہا کر دیا کہ اب ہم آپ کی حفاطت نہیں کر سکتے،آپ سے انصاف نہیں کر سکتے ،اس لیے آپ کو محفوظ مقام پر پہنچا کر چھوڑرہے ہیں،تاکہ آپ پاکستان کے راستے اپنے ممالک کو واپس جا سکیں۔ان میں سات عورتیں بھی تھیں۔ان ہی میں سے ایک جرنلسٹ ایوان ریڈلے بھی تھیں۔ جیسے ہی یہ خواتین افغانستان سے باہر نکلیں،عالمی میڈیا ان کی طرف دوڑ پڑا۔ وہ ان سے طالبان کے مظالم کی کہانیاں سننا چاہتے تھے،مگر انہوں نے میڈیا سے کہا:طالبان تو انسان نہیں ، فرشتے ہیں،بلکہ فرشتوں سے بھی بلند ہیں۔ ان اندر تو ایسی حیا تھی کہ جتنی ہماری عورتوں میں بھی نہیں ہوتی۔ہم ان کو گالیاں دیتی، ان پر چیختی چلاتی اور ان کواپنے گندے کپڑے اٹھا اٹھا کر مارتی تھیں، مگروہ ہماری طرف دیکھتے بھی نہیں تھے اور ہماری بد تمیزی کے باوجود بھی ہمیں بڑے ادب اور احترام سے بہن کہ کر مخاطب کرتے تھے۔ان ہی خواتین میں ریڈلے بھی تھیں جو طالبان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر بعد میںمسلمان ہو گئیں۔ یقین مانیے افغانستان میںملا عمر کے تحت مصروف جہاد طالبان بہت ہی اعلیٰ کردار کے لوگ ہیں۔میں نے ان کو بھی دیکھا ہے،ان کے ساتھ بھی رہا ہوں۔ یہ پورے ملک کے منتخب لوگ ہیں؛جب کہ پاکستانی طالبان ان سے بہت مختلف ہیں۔امریکا پاکستانی طالبان میں سرنگ لگا چکا ہے۔ ان کے اندراپنے ایجنٹوں کی پرورش کرتاہے، وہ یہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں امن امان قائم نہ ہونے دیا جائے ،تاکہ پاکستان کو اس قدر کمزور کر دیا جائے کہ وہ امریکا کے سامنے کبھی سر نہ اٹھاسکے اور اس سے بھیک مانگ کر بسر اوقات کرنے پر مجبور ہو۔ امریکا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کی فوج کو اتناکمزور کر نا اور اس کی سوسائٹی کو اتنامنتشر کر دینا چاہتا ہے کہ آسانی سے اس کی ایٹمی قوت پر ہاتھ ڈال سکے۔ افغانستان میں مجاہدین نے امریکا کو قدم جمانے کا موقع نہیں دیا،اب وہ چاہتا ہے جاتے جاتے اس خطے میں گھس کر پاکستان کا بازو مروڑ ے تاکہ ہندوستان کو ریلیف مل سکے ۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی قیادت آج بھی اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔امریکی عزائم میں رکاوٹ ڈالنا تو کجا پوری وفاداری سے اس کا ہاتھ بٹایا جارہا ہے، تاکہ وہ ہمارے ہی خنجر سے ہماری ہی گردن کاٹ سکے۔
پاکستان میں جو خود کش حملے ہوتے ہیں اور بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں ،اس میں بھی امریکی ایجنٹ پوری طرح ملوث ہیں۔ان کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ ہر وقت اس خطے کو لہو لہان رکھیں۔یہ بات بھی درست ہے کہ لوگ خود کش ہنسی خوشی نہیں بنتے، انہیں خود کش بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ایک طرف کروڑوں ڈالرسے لوگوں کا ایمان خریدا جاتا ہے دوسری طرف ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ کم سن لوگوں کو انتقام پر اکسایا جائے۔جب یہ لوگ زمین پر دیکھتے ہیں کہ ہمارے پشتون علاقے کے خلاف جو ہتھیار استعمال ہوتے ہیںوہ کراچی سے لوڈ ہوتے ہیں،پاکستان کی سڑکوں پر سے گزر کر یہ ٹرک افغانستان پہنچتے ہیں، ڈرون طیارے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے اڑ کرحملے کرتے اور ان کے ماں باپ، بہن بھائیوں اور بچوں کو مارتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں ان کے خلاف یہ جنگی کارروائیاں کرنے والے پشاور سے اور کوئٹہ سے اندر جاتے ہیں،توان کے دل جلتے ہیں ،امریکی ایجنٹ ان کوانتقام پر آمادہ کرتے ہیں۔پاکستان کے خلاف نفرت کاشت کی جا رہی ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ بے گناہ قبائلی عوام کو قتل کرنے والے پاکستان ہی کی سڑکیں اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر اس پر وہ امریکا کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں تو امریکا سے تعاون کرنے والوں کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔
اسامہ جیسا کہ میں نے اسے دیکھا
اسامہ بن لادن افغان جہاد کے دوران ہمارے ساتھ رہا۔ وہ ایک بہترین مجاہد تھا۔ جہاں تک نو گیارہ کا تعلق ہے تو اسامہ بن لادن نے واضح الفاظ میں اس میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ میں بھی جہاں تک ان کو جانتا ہوں وہ اتنے بڑے پیمانے پر حملے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ امریکا میں جس روز نائن الیون کے موقعے پرٹاور گرے ہیں اسامہ بن لادن افغانستان کے ایک کیمپ میں بیٹھے ہوئے تھے۔اگرچہ ان حملوں کے وقت ہمار اسامہ بن لادن سے کوئی رابطہ نہیں تھا،مگر ایسی باتیں چھپی تھوڑی رہتی ہیں۔ مجھے اس سلسلے میںپبلک میں بات کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔ ایک سیمی نار میں جہاں امریکی، روسی اور دوسرے ممالک کے سفارت کار موجود تھے میں نے ان کے سامنے یہ ثابت کیا تھا کہ ایک شخص افغانستان جیسے بے وسیلہ ملک میں بیٹھ کر یہ کام نہیں کر سکتا۔امریکا جیسے ملک میں جہاں ٹیکنالوجی کی ہر سہولت موجود ہے کیسے ممکن تھا کہ چار جہاز اٹھیں اور کئی گھنٹے تک اڑتے رہیں،سیکورٹی کو بائی پاس کریں،تمام ہوائی اڈوں کے نظام کو ڈاج کر دیں،ڈیرھ درجن ہائی جیکر ایک ہی وقت میں مختلف روٹ اختیار کریں اور ممنوعہ علاقوں سے بے روک ٹوک گزر جائیں۔میں نے امریکی سفارت کاروں سے پوچھا آپ کے سی ون تھری زیرو تو ایسی صورت حال کے لیے ہر لمحے تیار کھڑے رہتے ہیں،وہ تو امریکا کی تمام فضاﺅں کی خبر رکھتے ہیں،پھر انہوں نے اکٹھے چار جہازوں کواتنے وسیع علاقے میں کیوں کھلا چھوڑ دیا؟مواصلاتی ادارے کیوں ان کوintrcept نہیں کر سکے؟میں نے کہا یہ کام القاعدہ نہیں کر سکتی تھی۔ پھروہ لوگ جنہوں نے یہ کیا ہے وہ امریکا کے گرین کارڈہولڈر تھے،وہ بھی اتنی بڑی پلاننگ نہیں کر سکتے تھے جب تک ملکی اداروں کی طرف سے ان کی مدد نہ کی جاتی۔ سوال یہ ہے ان مدد گار اداروں سے اب تک پرسش کیوں نہیں کی گئی؟یہ بات عالمی سطح پر بھی ثابت ہو چکی ہے کہ نائن الیون ایک پہلے سے طے شدہ سازش تھی۔جہاز اوپر لگ رہا ہے ،عمارت نیچے سے گرتی ہے۔اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ٹوئن ٹاور جہازوں سے نہیں بلکہ ان عمارتوں کی تہہ میں بچھائے ہوئے بارود سے گرائے گئے تھے۔
میں افغانستان میں تھا تو میں نے کبھی القاعدہ کا نام تک نہیں سنا تھا۔یہ تب اسلامک انٹرنیشنل ریلیف ارگنائزیشن تھی جس پرکسی کو اعتراض نہ تھا۔میں امریکیوں کے سا تھ کام کرتا رہا ہوں میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ عربوں کے افغانستان کے آنے پر تو امریکی بے حد خوش تھے۔اسامہ جب افغانستان آیا تو امریکی بہت خوش تھے۔ شیخ عبداللہ عزام آئے تو بھی امریکا بہت خوش ہوا۔ دوسرے عرب آئے امریکی خوش تھے۔ یہاں تک کہ جب ہمارے کوسٹل گارڈ کبھی کبھار عربوں کواسلحہ رکھنے کی بنا پر پکڑ لیتے تھے، تو امریکی ادارے ہمیں ان کے بارے میں بتاکر کہتے تھے: کرنل امام آپ کے اتنے لوگ پکڑے جا چکے ہیں،جائیں اور جا کرانہیں رہا کروا کر افغانستان بھجوائیں۔ آئی ایس آئی سے پہلے امریکی ہمیں بتاتے تھے اورمیں انہیں چھڑا تا تھا۔ اسامہ بن لادن کی شخصیت تب ایسی نمایاں بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت وہ ایک عام شہری اور ایک انجینیرتھے۔یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ شروع شروع میں جب بم باری ہوتی تو وہ گھبرا جایا کرتے تھے۔ اسامہ اپنے والد کی وصیت کے مطابق پیسے لے کر افغانستان آئے تھے تاکہ غریبوں اور مجاہدین میں تقسیم کر سکیں۔ میرے اندازے کے مطابق ان کے پاس کل ملا کر چالیس ملین ڈالر تھے جو انہوں نے مجاہدین میں تقسیم کیے۔شروع میں وہ استاذ سیاف کے مہمان تھے، کبھی کبھار وہاں سے گزر ہو تاتو میں ان کے پاس بیٹھ کر چائے پی لیتا تھا، اس سے زیادہ ہماری ملاقات نہیں رہی۔ اسامہ بن لادن سے میرا آخری رابطہ1990ءمیں جلال آباد آپریشن کے دوران ہوا تھا۔جلال آباد آپریشن میں اسامہ نے بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے ہمارے لیے بڑا کام کیا ،مگر وہ کبھی ہمارے مالی معاون نہیں رہے۔۔ اس وقت وہ مجاہد تھے تو اب دہشت گرد کیسے ہو گئے۔ یہ دہشت گرد نہیں، بلکہ امریکا نے انھیں دہشت گرد مشہور کیا ہے کیوں کہ امریکا خود دہشت گرد ہے۔مجھے معلوم ہے کہ1994ءتک اسامہ امریکا کا چہیتا تھا اور وہ اس سے بہت خوش تھے ۔اس کے بعد امریکی اسامہ کے دشمن بنے اور اس کا سبب خلیج کی جنگ تھی۔
اسامہ اپنے دورِ طالب علمی کے فوراً بعد افغانستان آئے تھے۔وہ زمانہ طالب علمی سے ہی مذہبی رجحانات کی حامل شخصیت تھے ۔1979ءمیں افغانستان پر روسی جارحیت نے ان کی زندگی پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کیے۔انہوں نے اپنی دولت مجاہدین کی امداد واعانت کے لیے مخصوص کر دی۔ بعد ازاں خود بھی فریضہ جہاد ادا کرنے کے لیے افغانستان چلے گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب خود امریکی سی آئی اے والے اسامہ کو اسلحہ و تربیت فراہم کرنے میں پیش پیش تھے۔ سوویت یونین کی شکست کے بعداسامہ واپس سعودی عرب چلے گئے۔ نوے کے عشرے میں ہونے والی خلیجی جنگ میں جب امریکی فوج نے جزیرةالعرب میں قدم رکھے تو اسامہ نے اسے سخت ناپسند کیا۔ان کا کہنا تھاصدام کے کویت پر حملے کا تدارک کرنے کے عرب موجود ہیں،امریکا کیوں سعودی سرزمین پر آ کر بیٹھ گیا ہے اور اس کے فوجیوں کی تنخواہیں سعودی خزانے سے کیوں ادا کی جا رہی ہیں۔؟یہیںسے امریکا کو اسامہ سے پرخاش شروع ہوئی،یہی اسامہ کا” پہلا اور آخری گناہ“ تھا اور اسی مسئلے پر ان کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ اختلافات پیدا ہو ئے۔امریکی مطالبے پرسعودی عرب نے اسامہ کی شہریت منسوخ کردی،وہ مجبور ہو کر سوڈان چلے گئے۔اسی دوران اسامہ کی طرف سے جاری ہونے والے اس فتوے نے عالم گیر شہرت حاصل کی جس میں انہوں نے امریکی مفادات پر حملوں کو جائز قرار دیا ۔ان کے اس فتوے نے پوری دنیا میں امریکیوں کے خلاف پہلے سے موجود نفرت میں مزید اضافہ کر دیا ۔امریکہ تلملا اٹھا اور اس نے اسامہ کی گرفتاری کے لیے سوڈان پر دباﺅ ڈالا ۔اس پر اسامہ کوسوڈان بھی چھوڑنا پڑا،وہ افغانستان منتقل ہو گئے۔اس وقت تک طالبان افغانستان میں تقریبا اسی فی صد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکے تھے۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کو نہ صرف اپنے ملک میں پناہ دی بلکہ آخر دم تک اپنے بھائی اور محسن کی حفاظت بھی کی۔اسی دوران امریکہ نے قندھار میں اسامہ کے مبینہ ٹھکانے پر کروز میزائلوں سے حملہ بھی کیا لیکن ناکامی امریکہ کا مقدر بنی۔
امریکی پروپیگنڈے نے اسامہ کو کچھ کا کچھ بنا ڈالا۔مثلاًاسامہ اور القاعدہ کے بارے میں کہا گیا کہ یہ افغانستان کو وہابی ریاست بنانا چاہتے تھے۔میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ یہ بالکل سفید جھوٹ ہے۔افغان قوم اپنے عقائد اور مسلک پر بہت پختگی کے ساتھ قائم ہے۔افغان بھی افغانستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے ۔میں نے بھی افغانستان میں اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر کام اسی جذبے سے کیا کہ ہم افغانستان سے روسی انخلا کے بعد اسے ایک اسلامی ریاست بنائیں گے۔تاہم جہاں تک اسامہ بن لادن کے مسلک کے مطابق افغانستان کو ”وہابی“ ریاست بنانے کا سوال ہے تو وہاں اسامہ سے بہت بڑے بڑے عالم موجود تھے۔ استاذ ربانی اور استاذ سیاف اور حکمت یار سب بہت بڑے علماءتھے اور ان میں سے کوئی بھی وہابی نہیں تھا۔ اگر ایسی کوئی کوشش کی بھی جاتی تو طالبان یا باقی افغان مجاہدین دھڑے اسے کبھی بھی قبول نہ کرتے۔ میں نے کبھی افغان مجاہدین کو اسامہ کے پیچھے نماز پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ وہ اس کی موجودگی میں بھی میرے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ وہ لوگ جو میرے جیسے جاہل اورکم علم آدمی کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے، لیکن اسامہ جیسے ایک قابل آدمی کے پیچھے نہیں پڑھتے تھے،وہ اپنا ملکی ، سیاسی اور شریعتی نظام کیسے وہابیوں کے حوالے کر سکتے تھے۔
35مثالی نوجوان
مجاہدین کی ٹریننگ کے دوران مجھے افغانوں کی ایک عمومی کمزوری بہت پریشان کرتی تھی۔ان میں سے ہر ایک زیادہ زور ہتھیار چلانے پر دیتا تھا۔گن چلانا سیکھ لیا ،ہتھیار مل گیااس کے بعد وہ جلد از جلد واپس جا کر جہاد میں حصہ لینے کی کوشش کرتے تھے۔ گوریلا جنگ کی حکمت عملی اور چالیں سیکھنے میں ان کو دلچسپی نہ تھی ۔وہ کہتے بھی تھے کہ ہم کو جنگ کے جوطریقے اپنے آباﺅ اجداد سے ملے ہیں وہی بہترین ہیں،ان کے سوا کسی جنگی حکمت عملی کی ضرورت نہیں۔اس کا اکثر ان کو نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔میں نے ایک مرتبہ مولوی محمد نبی محمدی سے کہا کہ مجھے کچھ ایسے دین دار اور مخلص مسلمان نوجوانوں کی ضرورت ہے جن کی میں ایسی ٹریننگ کروں کہ وہ گوریلا وار فیئر کے تقاضوں سے آشنا ہو جائیں۔انہوں نے پچاس آدمی بھیج دیے۔میں نے ان میں سے35 افراد چن کر ان کی ٹریننگ شروع کی۔ان کو ہم نے گوریلا جنگ کی مکمل تربیت دی۔ان کو سکھایا گیا کہ بجائے اس کے کہ وہ پاکستان اور کسی دوسرے دوست ملک کے اسلحے کا انتظار کریں،وہ اپنی صلاحیت سے کام لے کر دشمن سے اسلحہ کیسےچھین سکتے ہیں۔اسی طرح اگر ان کو رقم کی ضرورت ہے تو پیسہ بھی وہیں سے پیدا کریںجہاں لڑرہے ہیں۔میں نے ان لڑکوں کو کھردرے پہاڑوں پر دوڑا دوڑا کر خوب مضبوط اور گوریلا چالوں کا اچھا ماہر بنایا۔اس کے بعد مجھے یہ خیال آیا کہ ایسی تدبیر کرنی چاہیے کہ ان لوگوں کی صلاحیت مثبت طریقے سے استعمال ہو،ورنہ خدانخواستہ یہ منفی راستوں پر چل پڑے توقوم کا بہت نقصان ہو گا۔چنانچہ ایک مخلص عالم دین کو ان کی نظریاتی اور دینی رہنمائی کے لیے منتخب کر کے ساتھ بھیجا گیا ،تاکہ وہ ان کو بتا سکے کہ وہ پہلے مسلمان ہیں پھر وطن کے سپاہی ہیں۔ان مولوی صاحب نے ان کو یہ سکھایا کہ جہاد فی سبیل اللہ کا مطلب کیا ہے اوراس کا اجر کیا ہے۔ان کو میں نے کوئی بڑا ہتھیار نہیں دیا،بس ایک ایک پستول دیا اور تھوڑی سی رقم دی۔ یہ لوگ جب افغانستان گئے تو انہوں نے وہاں طوفان مچا دیا۔ان کی کارکردگی دیکھ کر لوگ حیران ہوئے۔ ان میں سے دس بارہ شہید ہو گئے ہیں، باقی زندہ ہیں اور ملا عمر کی شوریٰ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ مخلص لوگ ہیں اور افغانستان کی موجودہ جہادی کامیابیوں میں بھی ان کا بڑا اہم کردار ہے۔ان لوگوں نے ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کو بھی ٹریننگ دی ہے۔
قونصلر کے طور پر نامزدگی
1994ءجب طالبان کابل پہنچ گئے تو مجھے پاکستان سے حکم ملا کہ تم ہرات میں جا کر پاکستانی قونصلیٹ کھولو۔یہ بے نظیرکا دور تھا ۔حکومت چاہتی تھی کہ جیسے ہی امن وامان قائم ہو،پاکستان وسطِ ایشیا کے تجارتی راستے سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوجائے۔ افغان جنگ کے خاتمے پرہم اقتصادی پابندیوں کی زد میں تھے اوربالکل بے و سیلہ تھے۔اب ہم اس خطے میں موجود بے پناہ تجارتی امکانات سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ نصیر اللہ بابر صاحب اور بے نظیر صاحبہ کی مرضی تھی کہ یہ اہم تجارتی راستہ کھل جائے۔اگر یہ بحال ہو جاتا تو افغانستان میں کسی قدر استحکام آنے کے بعد ہم روس تک تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کر سکتےتھے۔میرے خیال میں یہ ایک بہترین فیصلہ تھا،لیکن مجھے افغانستان صرف اسی لیے نہیں بھیجا گیاتھا،دراصل میرے اعلیٰ افسران بھی مجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ میں نےایک دن مذاقاً اپنے جنرل صاحب سےیہ بات کہی تو انھوں نے کہا : "You will be more dangerous outside, we wanted to keep you under our thumb" (باہر تم اس سے زیادہ خطرناک ہو گے،ہم تمہیں اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔)
اس وقت جنگ ختم ہو چکی تھی مگر حالات کیا کروٹ لیتے ہیں، اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔مجھے بالکل پتہ نہ تھا کہ افغانستان میں کیا حالات پیش آئیں گے۔ افغانستان کی روایت یہ رہی ہے کہ جنگ کے دوران وہاں پر امن امان ہوتاہے، لیکن جنگ کے بعد امن امان نہیں ہوتا ،بلکہ لوٹ مار شروع ہو جاتی ہے۔ان حالات میں افغانستان جانا ، ہرات جیسے دو ر دراز علاقے تک پہنچنا اور پھرایک قونصل خانہ چلانا ہوا میں قلعہ تعمیر کرنے سے کم نہ تھا۔ مجھے اپنے دوستوں کی طرف سے یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ میںیہ خطرہ مول نہ لوں،مگر میں نے بہت بڑا رسک لیا اور ہرات روانہ ہوگیا۔ میں پاکستان سے بالکل اکیلا نکلا لیکن قندہار پہنچتے پہنچتے میرے ساتھ میری حفاظت کے لیے مجاہدین کی بیس گاڑیاں اور 120کے قریب مجاہدین موجودتھے۔ میں حیران تھا کہ اتنے لوگوں کے لیے کھانے پینے کا انتظام کیسے ہو گا۔ ہم جہاں چائے پینے کے لیے بھی ٹھہریں گے تو اس شخص کا تو بیڑہ غرق ہو جائے گا۔ افغان بہت مہمان نواز ہیں، انھیں چاہے قرضہ ہی کیوں نہ لینا پڑے لیکن مہمانوں کی خاطرتواضع میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ہرات پہنچنے تک راستے میں متعدد طالبان کمانڈروں سے ملا قات ہوئی،ان میں سے غالب اکثریت ان کی تھی جو میرے تربیتی کیمپوں میں رہ چکے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بڑے پیمانے پرامن وامان قائم کرنے کا مشن شروع کر نے لگے ہیں اور یہ ساری خرابیاں، چوری چکاری اور ڈاکہ زنی وغیرہ کو ختم کرکے دم لیں گے۔اس سے پہلے یہ واقعہ پیش آ چکا تھا کہ ایک دن قندھار سے باہرچیک پوسٹ پر محافظوں نے دو لڑکوں کو جنسی زیادتی کرنے کے بعد قتل کردیاتھا۔اس کے بعد ملا عمر اپنے مدرسے کے چند شاگردوں کے ساتھ چیک پوسٹ پر پہنچے تھے اور مجرم محافظوں کو قرار واقعی سزا دی تھی۔ اس کے بعد طالبان ایک محافظ کے طور پر اٹھے اور سارے افغانستان پرچھا گئے۔
طالبان کے بارے میں لوگوں کا تاثر
قندھار پر طالبان کا قبضہ ہو اتومیں وہاں موجود تھا۔ کچھ چرسی بھنگی جو مجاہدین کے ساتھ رہا کرتے تھے لیکن وہ پہلی صف کے لوگ نہیں تھے، میں ان کو پہلے سے جانتا تھا، اس موقعے پروہ بھاگ گئے۔باقی کچھ لوگ سفید کپڑے پہنے سفید پگڑیاں باندھے ایک ہاتھ میں کلاشنکوف اور دوسرے میں مشکٰوة شریف اٹھائے ہوئے اسے پڑھتے نظر آرہے تھے۔ وہ اپنے حدیث کے امتحان کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے جو طالبان نے ان سے لینا تھا۔ میں اور آگے بڑھا تو کچھ خواتین نظر آئیں۔میں نے سلام کیا ان میں سے کچھ مجھے جانتی تھیں میری آﺅ بھگت کرتے ہوئےپوچھنے لگیں: ”امام صاحب سنگہ حال دے“ (امام صاحب کیا حال ہے؟) میں ان کے بچوں کا استاد تھا،تقریباً ہر گھر میں خواتین مجھے جانتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: ”خیر دا،ستا سنگہ حال دے“(میں ٹھیک ہوں،آپ کا کیا حال ہے؟) تو بولیں: ”خدائے فضل دے“ (اللہ کا فضل ہے) اور پھر طالبان کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگیں: ”ملائکان راغلی دی“ (فرشتے آ گئے ہیں۔) میں آپ کو صرف وہ بتا رہاہوں جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان ہی دنوں پیر صاحب کے قبائل کے لوگ مجھے ان کے علاقے میں کھانے پر لے گئے۔ پیر صاحب کے لوگ مجھے کہنے لگے :امام صاحب!آپ یہ طالبان کہاں سے لے آئے ہو؟میں نے کہا یہ تو آپ کے طالبان ہیں، مجھ پر الزام مت لگاﺅ۔ انھوں نے کہا،امام صاحب مصیبت یہ ہے ہماری عورتیں بھی طالبان کی حمایت کرتی ہیں۔ان میں سے ایک شخص نے بتایاہماری عورتیں پانی بھرنے جارہی تھیں کہ وہاںمسلح طالبان آ گئے۔ کلاشن کوفیں دیکھ کر ایک لڑکی نے دوسری سے کہاراستے سے ہٹ کر کھڑی ہو جاﺅ”سگان راغلے"(کتے آ رہے ہیں) ۔ دوسری نے سر اٹھا کر دیکھا اور کہا:اری پریشان کیوں ہوتی ہو،یہ طالبان ہیں۔اس سے اندزہ لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان سے پہلے کے بندوق برداروں کو عوام کیا سمجھتے تھے۔امریکا نے بہت کوشش کی کہ افغان قوم کو آزادی کے نام سے بے پردگی پر آمادہ کریں،مگر افغان قوم کی اکثریت باپردہ ہی رہی۔ طالبان پر الزام ہے کہ انھوں نے عورتوں کو گھروں میں بند کر دیا اور انھیں برقعے کے بغیر باہر نکلنے سے روک دیا۔ کابل میں آج طالبان نہیں اور وہاں"امریکی آزادی"بھی ہے۔وہاںجا کر دیکھیں،خواتین کی اکثریت وہاں بھی برقع اوڑھتی ہے۔ کیا انہیں بھی طالبان نے پردہ کرنے پر مجبورکر رکھاہے؟
(جاری ہے)
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-11-11), اویسی (07-09-11), حسن قادری (29-08-11), رضی (29-08-11), شمشاد احمد (29-08-11), عبداللہ آدم (30-08-11)
پرانا 29-08-11, 07:43 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاد افغانستان کی کہانی،کرنل امام کی زبانی (4)
روایت: کرنل امام
تحریر: عبدالہادی احمد
کرنل سلطان امیر تارڑ بریگیڈیر کے رینک میں ریٹائر ہوئے ،لیکن جہاد افغانستان میں انہوں نے کرنل کے رینک میں اہم ترین کارنامے انجام دیے، اس وجہ سے کرنل ان کے نام کا حصہ بن گیا ۔ شجاعت ، جان فشانی اور خطرات سے کھیلنا کرنل امام کے مزاج کا حصہ تھا۔وہ پہلے طالب علم تھے جنہوں نے فضائی جمپ کے مقابلوں کے دوران زمین سے صر ف چھ سومیٹر کی دوری پر اپنا پیرا شوٹ کھولا ۔ کرنل امام1974ءمیں افغانستان میں افغان مجاہدین کو ٹریننگ دینے پر مامور ہوئے تو ملا عمر سمیت ہزاروں مجاہدین اور بہت سے نا مورافغان کمانڈروں کا استاد ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔آئی ایس آئی کے ایڈیشنل ڈائر یکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ اپنی اعلیٰ فوجی صلاحیتوں اور کارناموں کی بدولت ستارہ جرات، تمغہ بسالت،اور ستارہ امتیاز سے نوازے گئے۔گور یلاطرز جنگ کے اس منفرد ماہر اور دلیرسپاہی کو امریکا سے اعلیٰ ترین اعزازات ملے،لیکن افغانستان پرحملے کے بعدجب انہوں نے امریکی پالیسی پر شدید تنقید کی تو امریکی ان کے دشمن بن گئے اور یہ دشمنی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ انہوں نے مغربی اخبارات اور چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے بہت پہلے کہ دیا تھا کہ نیٹوفورسز افغانستان میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں، ہرصورت میں انہیں طالبان سے مذاکرات کرنے ہوں گے۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ پاک فوج نے ان کی رہائی کے لیے کچھ نہ کیااورانہیں ظالموں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا۔
٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭

مجھے امیرالمومنین ملا عمر سے ملاقات کے ایک سے زیادہ د مواقع ملے،ان کے دل کی بات معلوم کرنا آسان نہ تھا،لیکن جب میں نے امریکی انتظامیہ سے طالبان کے مذاکرات کی بات کی تو انہوں نے کہا،ہم لڑائی نہیں چاہتے لیکن مذاکرات سے پہلے امریکا کو افغانستان سے نکلنا ہو گا۔میں نے محسوس کیااگر امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش آئی تو طالبان بڑے دل کے لوگ ہیں وہ انکار نہیں کریں گے۔دریں اثنا طالبان کے سربراہ ملا عمر نے امریکہ یا صدر حامد کرزئی سے کسی قسم کے مذاکرات کے امکان سے بھی انکار کیا ہے،جب تک دیگر شرائط کے علاوہ غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل نہیں ہو جاتا ۔امریکی ملا عمر سے مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وہ اپنی ناک بھی بچانا چاہتے ہیں۔اس لیے پہلے تو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن ملا عمر اور ان جیسے افراد سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کرتی رہیں۔کسی نے ان سے پوچھا کہ کرنل امام بھی ملا عمر سے مذاکرات سے کرا سکتا ہے، تو انہوں نے ناک سکیڑتے ہوئے کہا، ہم کرنل امام سے بھی بات نہیں کریں گے ،لیکن اب وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں،مگر فیس سیونگ کے لیے اپنی شرائط بھی پیش کر رہے ہیں۔ ملا عمر اچھے آدمی ہیں ، وہ افغانستان میں جنگ نہیں امن چاہتے ہیں،لیکن وہ مذاکرات اپنی شرائط پر کریں گے ،امریکا تو شکست خوردہ ہے اسے اپنی شرائظ پیش کرنے کا حق نہیں۔اس سے قبل یہ خبر بھی آئی تھی کہ دبئی میں طالبان کے کچھ رہنماو ں کی اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہل کار سے ملاقات ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں آنے والے طالبان رہنما کو ملا عمر کی منطوری حاصل نہیں تھی،بلکہ ان میں ملا عمر کی شوری ٰکاکوئی رکن شامل نہیں تھا،اسی لیے تحریک طالبان افغانستان نے اقوام متحدہ کے نمائندے کے ساتھ دبئی میں ملاقات کی تردید کی ہے۔ادھر صدر اوباما نے کہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔
تجارتی قافلے کی رہنمائی
1994ءمیں بے نظیر بھٹو کے زمانے میں ان کے کہنے پر میں اشک آباد کے لیے ایک کارواں لے کر روانہ ہوا۔ یہ مکمل طور پر ایک تجارتی کاررواں تھا۔ افغانستان میں اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی اس لیے سب لوگوں نے منع کیا کہ یہ کاررواں نہ بھیجا جائے، تاہم جنرل نصیر اللہ بابر صاحب نے کہا کہ کرنل امام ساتھ جائے گا تو کاررواں چلا جائے گا۔پاکستان کی حکومت دنیا کو بتاناچاہتی تھی کہ ادھر سے راستہ کھل گیا ہے اوریہ حکومت کی اقتصادی ضرورت تھی۔ اس کاررواں میں تیس ٹرک تھے۔ان میں بچوں کے لیے کھلونے،ادویات اور ہسپتالوں کا کچھ سامان تھا۔ بے نظیر صاحبہ ان ہی دنوں ترکمانستان کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کے لیے کے اس کے دارالحکومت اشک آباد جا رہی تھیں اور بابر صاحب چاہتے تھے کہ ٹرک ان کے دورے کے دنوں میں وہاں پہنچیں۔ مجھے قندھار سے گزر کر ہرات اور ہلمت کے راستے اشک آباد اورآگے بخارا جانا تھااور واپس آنا تھا۔ کچھ ہمسایہ ممالک کے کہنے پرکچھ مسلح لوگوں نے ہمارے قافلے کو روک لیا۔یہ زیادہ ترکمیونسٹ تھے تاہم ان میں کچھ مجاہدین بھی شامل ہو گئے تھے۔ میں حیران ہوا کہ حکمت یار اور سیاف صاحب کے مجاہدین بھی ان کے ساتھ موجود تھے،وہ سب مجھے جانتے تھے اس لیے جب میں ان کے سامنے آیا تو وہ مجھ سے آنکھیں نہیں ملا سکتے تھے۔قافلے کو روکنے والوں نے مجھ سے کہا،آپ کی حکومت طالبان کی مدد کر رہی ہے۔ میں نے کہا آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔میری بات کا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیاصرف اتناکہا ،آپ ہمارے استاد ہیں، آپ جہاں جانا چاہیں چلے جائیں، لیکن کانوائے پاکستان حکومت کا ہے اسے ہم نہیں جانے دیں گے۔ وہاں پر میں نے ان سے کافی دیرگفتگو کی۔ میں نے ان سے کہا،میں نے 14 سال آپ کی قوم کی خدمت کی ہے اور آپ مجھے اس کا یہ صلہ دے رہے ہیں اور اس پر آپ جھوٹ بھی بول رہے ہیں۔ ٹرکوں میں دیکھ لیں ایک چیز بھی قابل اعتراض نہیں۔ ہمیںوہاں چند گھنٹے تک حراست میں بھی رکھا گیا تاہم مجھے جانے دیا گیا۔ میں بہت بے چین تھا۔ میں نے آئی ایس آئی اور حکومت سے کہ دیا کہ اگر کوئی پوچھے تو کہ دیا جائے، قافلہ لڑائی کی وجہ سے رکا ہے اور کسی کو یہ نہ بتایا جائے کہ ہم کوحراست میں لیا گیا ہے۔ میں دو تین دن تک ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کیا کر رہے ہیں، آپ کی ہزاروں کی تعداد میں مائیں، بہنیں اور بیٹیاںآج بھی ہماری مہمان ہیں اور آپ ہمارے ساتھ یہ حرکت کر رہے ہیں۔ان میں سے اکثر میرے شاگرد تھے ،میری تلخ باتوں کا جواب بھی بہت احترام سے دیتے تھے۔میرے ایک شاگرد نے آ کر مجھ سے کہا کرزئی صاحب کے والد صاحب آئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ ان ٹرکوں میں اسلحہ رکھوا دو اور میں سی این این اور وائس آف امریکاوالوں کو بلا کر دکھاتا ہوں، تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ کرنل امام کیا کر رہا ہے۔یہ سن کر میں بے بس ہو گیا، میں اور تو کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لیے سجدے میں چلا گیا۔میں نے بے حد عاجزی سے دعا کی کہ اے اللہ میں نے آج تک کبھی غلط کام نہیں کیا۔ ان خبیثوں کی بیویوں کوکوئٹہ میں راشن پہنچا تا تھا، جبکہ یہ مجاہدین کے خلاف لڑ بھی رہے ہوتے تھے اور یہ سب مجھے جانتے بھی ہیں اور اس کے باوجود یہ میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔ بارگاہ الٰہی میں حاضری سے بڑی تسلی ہوئی۔ایک بزرگ نے بھی تسلی دی کہ فکر مت کرو،ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے کہا حضرت کب تک ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے بعد طالبان آگئے۔انھوں نے بھی مجھ سے شکوہ کیا کہ یہ سب تمھاری وجہ سے ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ میری وجہ سے تو مجاہدین واپس چلے گئے ہیں، چند ایک تخریب کار رہ گئے ہیں جنھوں نے قافلہ روکا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ہم ان پر حملہ کرنے والے ہیں،مگر خدشہ ہے کہ اس سے آپ کے قافلے کے لوگ مریں گے۔ میں نے کہا ،ہمیںمرنے دو،ہماری وجہ سے اپنا کام مت روکو۔ انھوں نے حملہ کیا اور میں نے اپنے لوگوں سے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ حملہ ہو گا۔ قافلے کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ جب حملہ ہو تو اس لائن کے اوپر آپ نے کھڑا ہونا ہے۔ دراصل وہ ہم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ بے شک اسی لائن میںکھڑے ہو جانا،لیکن جوں ہی کسی بھی طرف سے پہلی گولی چلے، سب کے سب نیچے گر جانا اور یہ ظاہر کرنا کہ تمہیں گولی لگ گئی ہے۔ اس وقت تمھارے پاس کوئی نہیں آئے گا سب کو اپنی فکر پڑی ہو گی۔ وہی ہوا، طالبان کی طرف سے پہلا مارٹر کا گولہ آیا تو سب لوگ بھاگ گئے۔ اس کے بعد جب میں ادھر پہنچا تو ہماراسارا قافلہ زندہ سلامت موجود تھا، قافلے کے لوگ موجود تھے کچھ سامان جولوگ اتار کر گھروں میں لے گئے تھے وہ دوبارہ لوڈ کیا اور میں کاررواں کو لے کر واپس آ گیا۔
ملا عمراور طالبان
1994ءمیں میری قندھار میں متعدد طالبان رہنماﺅں سے ملاقات ہوئی۔ان میں ملا یار محمد،ملا محمد ربانی،ملا عبدالرزاق جیسی بہت اہم شخصیات بھی تھیں۔یہ سب میرے سٹوڈنٹ تھے اور بہت نامور لوگ تھے ،مختلف لڑائیوں کے دوران اپنی جرات وشجاعت کا مظاہرہ کر چکے تھے۔مجھے یاد ہے غالباً1997ءمیں ایک مغربی جریدے نے میرے بارے میں لکھا تھا :
He pulled out Afghan zealests and religous students and gave them training,and they became taliban"(اس نے افغانستان بھر سے مذہبی عناصر اور دینی مدارس کے طلبہ کو ڈھونڈنکالا ،انہیں ٹریننگ دی اور یہی بعد میں طالبان بنے)یہ بات بڑی حد تک درست تھی۔میں نے یہاں آکر بریگیڈیر یوسف سے کہا تھا کہ مختلف پارٹی لیڈر جو بندے ٹریننگ کے لیے بھیجتے ہیں،یہ ٹھیک نہیں مجھے اجازت دیں کہ میں مدارس کے طلبہ کو ٹریننگ دوں۔میرے تجربے میں آیاہے کہ یہ بہت صحیح ٹریننگ کرتے ہیں۔اس کے بعد میں ان کو اکٹھا کرنے میں لگ گیااور یہ بہت عمدہ ٹریننگ لیتے رہے۔اس وقت کس کو معلوم تھاکہ یہی لوگ آگے چل کر طالبان بن جائیں گے،تاہم اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ طالبان مجاہدین اور لیڈر شپ ان ہی لوگوں پر مشتمل ہے۔مجھے بہت سے لوگوں نے ”بابائے طالبان“کہا لیکن میں خود کو ان کا خادم کہتا ہوں۔ایمان داری سے کہتا ہوں کہ وہ بہت اچھے اور بہت نیک لوگ ہیں ،میں تو ان کے مقابلے میں بہت حقیر اورگناہ گار ہوں۔ان کے اعلیٰ کردار کے بارے میں ان کی قید میں رہنے والوں نے گواہی دی ہے۔ان کی کسٹڈی میں رہنے والی انگریز صحافی خاتون ایوان ریڈلے باہر نکلی توساری دنیا کے سامنے کہا:"وہ انسان نہیں فرشتے تھے۔"
میں بات کر رہا تھا ان طالبان کی جو1994ءمیں قندھار میں مجھے ملے تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا:اما م صاحب ہم اس لوٹ مار اور بدامنی کو ختم کرنے کا کام شروع کرنے لگے ہیں۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج کسی کی عزت محفوظ نہیں،ایک آدمی گاڑی پر گھر سے نکلتا ہے اور رات کو خستہ حال ہو کر پیدل گھر پہنچتا ہے،گاڑی راستے میں چھین لی جاتی ہے۔میں نے کہا آپ جو کرنے جا رہے ہیںیہ تو بہت مشکل کام ہے آپ کے پاس تو وسائل ہی نہیں۔یہ لوگ جو لوٹ مار کر رہے ہیں،یہ تو بہت طاقت ور لوگ ہیں۔ان کے پیچھے افغانستان جہاد کا اسلحہ ،تجربہ اور افرادی طاقت ہے۔آپ چند دن لڑیں گے مگر ان کے مقابلے سے عاجز آ کر واپس اپنے مدارس اور مساجد میں آ جائیں گے۔ان میں سے ہر ایک نے ایک ہی فقرہ کہا۔”کوئی بات نہیں اللہ ہماری مدد کرے گا۔“ میں ہرات پہنچا،وہاں مزارِ جامی پر فاتحہ پڑھنے رکا توکچھ طالبان سے وہاں ملاقات ہوگئی۔یہ سب بھی میرے شاگرد تھے۔بہت محبت سے ملے۔ میں نے کہا آپ کہاں ؟کہنے لگے،ہمارا وفد استاد ربانی سے ملنے جارہاہے۔ہم ان کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ہم یہ کام شروع کرنا چاہتے ہیں، آپ کی بہتری اس میں ہے کہ ہماری مدد کریں،لیکن آپ کی مدد کے بغیربھی یہ کام ہو گا۔استاد ربانی نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا:"بسم اللہ ، شروع کرو"۔تاہم کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔یہ میرے پاس آئے اور کہا،ہم یہ کام شروع کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا ،خدا کے بندو میرے پاس آپ کی مدد کے لیے کچھ نہیں،وہ دور لد گیا جب میں آپ کو اسلحہ دیا کرتا تھا،اب میری یہ تنخواہ ہے،یہ پیش کرتا ہوں اگر اس سے آپ کا کچھ کام چلے۔بہر حال وہ چلے گئے انہوں نے قندھار سے کام شروع کر دیا اور بہت جلد قندھار پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعدہر طرح کا اسلحہ بھی ان کے ہاتھ آگیا۔قندھار میں پشور نامی ایک مقام پر ہم نے جنگ کے دوران اسلحے کا ایک بڑا ڈپوقائم کیا تھا،اس میں تقریباً سات ہزارمیٹرک ٹن اسلحہ تھا۔جنگ ختم ہوئی تو ہم نے یہ اسلحہ افغان مجاہدین کے حوالے کردیا۔پہلے مجددی صاحب تھے،ان کے آدمیوں نے چارج لیا،پھرربانی صاحب آگئے تو ان کا ایک افسر انچارج بن گیااس کے بعد حکمت یار کے گروپ نے زبردستی چارج سنبھال لیا۔طالبان آگئے تو یہ ان کے قبضے میں آگیا۔
میں قونصل جنرل بن کر افغانستان گیا تو طالبان کی یورش کا ابھی آغازہی ہوا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ اسی زمانے میں طالبان نے پہلے قندھار اور پھر آہستہ آہستہ سارے افغانستان پر قبضہ جما لیا۔مغربی میڈیانے کہا اس قبضے میں پاکستان کی امداد شامل تھی۔میری جانب بھی انگلیاں اٹھیں۔وہ مجاہدین جن سے طالبان نے اقتدار چھین لیا تھا، وہ مجھ پر بلاوجہ ناراض بھی ہوئے،لیکن میں پوری ایمان داری سے کہتا ہوں کہ میرا اس پورے معاملے سے کو ئی تعلق نہ تھا۔میں توکبھی اپنے دفتر سے باہر ہی نہیں نکلا۔طالبان کی تحریک خالصتاً طالبان کی تحریک تھی میں کوئی خارجی عنصر موجود نہ تھا۔یہی وجہ کہ کسی نے مزاحمت بھی نہیں کی۔سوائے حکمت یار کے لوگوں کے۔وہ بھی قندھار میں دفاعی لائن ہی بناتے رہے اور طالبان نے شہرپر قبضہ بھی کر لیا۔اس کے بعد حکمت یار گروپ نے زابل پہنچ کر تھوڑی دیر مزاحمت کی،مگر طالبان کے سامنے کچھ پیش نہ گئی،یہاں سے نکل کرحکمت یاراپنے مضبوط ٹھکانے میدان میں کچھ دیر رکے ،مگر طالبان نے یہاں سے بھی نکال دیا،یہاں سے چہار آسیاب گئے،سروبی میں قدم جمانے کی ناکام کوشش کی۔اب کابل بالکل سامنے تھا۔طالبان اب پروفیسر ربانی سے کہ رہے تھے صدر صاحب آپ کا وقت ختم ہوا ،اب آپ کابل کو خالی کردیں۔ طالبان کی اس سرعت انگیز پیش قدمی پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوتی ہے،لیکن چونکہ میں ان کو جانتا ہوں اس لیے میں ان کی کامیابیوں پر حیران نہیں ہوتا۔اپنی معلومات کی بنا پر میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ امریکا کبھی ان سے نہیں جیت سکتا۔امریکا کو آج طالبان کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے ،لیکن امریکی انتظامیہ اپنی قوم کو دھوکا دے رہی ہے۔حالانکہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ طالبان کو افغانستان میں عوامی حمایت حاصل ہے،ان کوہر بستی میں پناہ اور رہائش ملتی ہے،کھانا اور بستر فری ملتا ہے،سات سمندر پار سے آئے ہوئے امریکی ان کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ جن کے لیے یہاں نفرت اور لعنت کے سوا کچھ نہیں؟امریکی صرف اپنے دنیاوی عیش کے بارے میں سوچتا ہے۔افغانستان میں ایک میرین کے شب و روز اپنی گرل فرینڈ اور اپنے گھر واپسی کے خواب دیکھتے گزرتے ہیں ،اس لیے وہ اپنے ان لیڈروں کو گالیاں دیتا ہے جنہوں نے اس کو اس بے مقصد جنگ کا ایندھن بنا رکھا ہے؛جب کہ طالبان اس جنگ کو اپنی زندگی بھی سمجھتے ہیں اور عقبیٰ بھی۔وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فتح کی شکل میں انہیں پوری دنیا میں امریکا جیسی سپر پاور کو شکست دینے کا فخر حاصل ہو گا جب کہ شہادت کی صورت میں ان کو جنت اور اللہ کی رضا ملے گی؛لہٰذا امریکی طالبان کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
بیرونی میڈیا نے ملا عمر کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کو سراپابرائی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے،زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے ان کے کردار کو اس طرح اچھالا گیا ہے جس سے ثابت ہو کہ وہ ایک مذہبی جنونی شخص ہیں، ان کی کسی خوبی کو کبھی بیان نہیں کیا گیا۔ ایک منصف مزاج شخص اپنے دشمن کے بارے میں بھی لکھتا ہے تو اس کی دوچار خوبیاں ضرور بیان کردیتا ہے، مگرمغربی میڈیا طالبان کی خوبی کا ذکر کرنے میں بے حد بخل سے کام لیتا ہے۔وہ یہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں کہ طالبان سے ان کی قوم محبت کرتی ہے۔انہوں نے شمال اور جنوب میں پھوٹ ڈالنے اور ملک کوتقسیم کرنے کی سازش کر رکھی ہے،لیکن کیا یہ سازش کامیاب ہو پائے گی؟وہ کہتے ہیں شمال کے تاجک،ازبک اور ہزارہ طالبان سے نفرت کرتے ہیں اورتاجک اور ازبک عوام نے کبھی طالبان کا ساتھ نہیں دیا، حالانکہ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ ترکمانوں نے طالبان کا ساتھ دیا جب ہی وہ بغیر لڑائی لڑے فاریاب حاصل کر سکے۔ اس کے بعد ازبکوں نے مدد کی تب ہی طالبان جوزجان بغیر لڑے حاصل کر سکے۔ پھر یہ مزار شریف پہنچ گئے تب ایران کو پریشانی لاحق ہو گئی اور ایران نے ناردرن الائنس اور ہزارہ لوگوں سے کہا کہ میں نے تمھاری اتنی مدد کی ہے ،اٹھو اورطالبان کے خلاف مزاحمت کرو۔ تب ہزارہ(شیعہ) اورشمالی اتحاد کے کچھ لوگوں نے ان کے خلاف جنگ کی اور ان کو کافی نقصان پہنچایا، لیکن پھر بھی طالبان نے ان علاقوں پر عوام کی مدد سے قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد قندوز انھوں نے عوام کی مدد سے بغیر کوئی گولی چلائے حاصل کر لیا۔ صرف احمد شاہ مسعود نے کچھ دیر تک جنگ کی اور کسی نے جنگ نہیں کی۔
ملاعمر سے میری پہلی ملاقات
ملا عمر سے میری پہلی ملاقات1995ءمیں قندھار میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ طالبان حکومت کے سربراہ بن گئے تھے۔یہ ملاقات مختصر تھی ۔انہوں نے خود مجھے بتایا تھا کہ میں آپ کا شاگرد ہوں۔میں نے پوچھا،اچھا آپ نے کب اور کہاں پرٹریننگ کی تھی ؟انہوں نے بتایا کہ میں فلاں کیمپ میں فلاں کمانڈر کے ساتھ آیا تھا۔مجھے وہ کمانڈر یاد آگیا جس کا تعلق استاد ربانی کی جمعیت اسلامی کے ساتھ تھا۔ملا عمر نے بتایا کہ انہوں نے ایک عام سپاہی کے طور پر ٹریننگ کی تھی اور تب وہ بھی استاد ربانی کے گروپ میں شامل تھے۔ملا عمر ایک بہادر اور جری سپاہی ہیں اور میزائل چلانے کے دھنی رہے ہیں ،مگر مجلس میں دھیمی آواز میں گفت و شنید کرتے ہیں۔تاہم ان کا لہجہ بے حد صاف ہے اوراظہا خیال کرتے ہوئے اپنا مطلب واضح کرنے پر بہترین قدرت رکھتے ہیں۔دوسرے کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع دیتے ہیںاور کسی جواب طلب بات پر مخاطب کو مطمئن کرتے ہیں وہ مجاہدین جنہوں نے سوویت یونین کی افواج کو افغانستان سے نکالنے کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی تھی،ملا عمر اس کے ہر اول دستے میں شامل تھے۔ سوویت افواج کے ساتھ جنگ میں ہی ان کی ایک آنکھ کونقصان پہنچا جس کا علاج کراچی کے ایک ہیسپتال میں ہوا۔قندھار میں اپنے مختصر قیام کے دوران ہم نے دیکھا کہ ملا عمر کے قریبی ساتھی ان کے بے حد گرویدہ ہیں۔میں نے ان کے ساتھ رہنے والے ایک مجاہد سے پوچھا کہ آپ نے ملا عمر میں کیا خاص خوبی دیکھی ہے؟مجاہد نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا ،وہ بالکل سادہ آدمی ہیں، رات کا کھانا اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہی دستر خوان پراور زمین پر بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ہمارا کھانا نہایت ہی سادہ ہوتا ہے ۔ چند روز قبل ملا عمر زکام میں مبتلا ہو گئے اس روز ہم نے ان کے لیے گوشت کی یخنی بنالی۔ ملا عمر نے اپنے لیے اس خاص اہتمام کو دیکھا تو ہم سے مخاطب ہو کرپوچھا:کیا آپ لوگ ان طالبان مجاہدین کے کھانے میں بھی گوشت شامل کرتے ہوجوسرزمینِ وطن کی حفاظت کے لیے پہاڑوں میں مورچہ زن ہیں؟ یہ کہا اوریخنی پینے سے انکار کردیا۔یہ بتانے کا مطلب یہ ہے کہ ملا عمر ایک عام افغان کی طرح بودوباش رکھتے اورخورد نوش کرتے ہیں اور ان کا طرز زندگی نہایت ہی سادہ ہے۔ مجھے امیرالمومنین ملا عمر سے ملاقات کے متعدد مواقع ملے،ان کے دل کی بات معلوم کرنا آسان نہ تھا،لیکن جب میں نے امریکی انتظامیہ سے طالبان کے مذاکرات کی بات کی تو انہوں نے کہا،ہم لڑائی نہیں چاہتے لیکن مذاکرات سے پہلے امریکا کو افغانستان سے نکلنا ہو گا۔میں نے محسوس کیااگر امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش آئی تو طالبان بڑے دل کے لوگ ہیں وہ انکار نہیں کریں گے۔دریں اثنا طالبان کے سربراہ ملا عمر نے امریکہ یا صدر حامد کرزئی سے کسی قسم کے مذاکرات دیگر شرائط کے علاوہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے مکمل ہونے تک شروع کرنے کے امکان سے انکار کیا ہے۔
ہمیں قندھار میں مقامی طالبان نے یہ بھی بتایا کہ ملا عمر کی ملاقات کے لیے غیر ملکی وفود آتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ ان کے لیے بیش قیمت تحائف لاتے ہیں۔ یہ تمام تحفے وہ بنک ملی افغانستان جو افغانستان کا قومی بنک ہے ،کے توشہ خانے میں جمع کرادیتے ہیں۔توشہ خانے پر ہمیں اپنے ملک کا توشہ خانہ یاد آیا۔پاکستان میںحکام کے لیے غیر مکی تحائف کا قانون یہ ہے کہ پاکستان کا حکمران چاہے صدر ہو یا وزیر اعظم، عام وزیرہو یا کوئی بیورو کریٹ،اگر وہ کسی سرکاری دورے پر کسی غیر ملک جائے گا اورمیزبان حکومت اسے کوئی تحفہ پیش کرے گی تو واپسی پر وہ اسے سٹیٹ بنک کے توشہ خانے میں جمع کرائے گا۔ اگر اس کا دل اس تحفے پر آگیا ہو اور وہ اسے لینا چاہتا ہو تو حکومت اس کی مارکیٹ ویلیو کاتعین کرے گی اور اس کی قیمت کی ایک چوتھائی رقم وہ سرکاری خزاے میں اپنی جیب سے جمع کرائے گا،اس کے بعد وہ اس کا مالک بن سکتا ہے ،بصورت دیگر وہ تحفہ نیلام کیا جائے گا اور اس سے وصول ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جائے گی۔ خدا لگتی کہیے اس ملک میں کتنے ایسے حکمران ہوں گے جنہوں نے اس قانون پر عمل کیااور کبھی توشہ خانے کا رخ کیاہوگا۔ یار لوگ تو اس قسم کے تحائف کو حلوائی کی دکان اور دادا جی کی فاتحہ تصور کرتے ہیں۔قائد اعظم پاکستان کے واحدایسے سربراہ مملکت تھے جو ملک کو لوٹنے کے بجائے ملک پر اپنا کچھ لٹایا۔سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ صحیح معنوں میں بڑے ہوتے ہیں ان میںاچھی صفات مشترک ہوتی ہیں وہ منافق اورریا کار نہیں ہوتے ‘ غریب پرور اور ایمان دار ہوتے ہیں۔
جلال آباد کی ناکامی
جلال آباد کی ناکامی کاذمہ دار میں کچھ حالات کو اور اپنے آپ کو گردانتا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ذمے دار تھا اور اس سلسلے میں بعض جرنیلوں کا نام بھی لیا جاتا ہے۔یہ سب غلط اوربے بنیادہے۔یہ مارچ 1990ءکی بات ہے،ایک ایک بات میرے حافظے میں محفوط ہے۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ جب ہماری حالت بہتر ہو گئی اور ہم جلال آباد کے قریب پہنچ گئے لیکن ابھی تک اس قابل نہیں تھے کہ جلال آباد ہوائی اڈے پر روسی طیاروں کی آمد و رفت پر اثر انداز ہو سکیں کیوں کہ ہم ابھی ہوائی اڈے سے تقریباً 16 کلو میٹر دور تھے۔اس مرحلے پر میں نے فیصلہ کیا کہ اگر یہ پوسٹ ہم حاصل کر لیں تو ہم ہوائی اڈے کے آپریشنل سسٹم کے قریب ہو جائیں گے اور ہمارا محاصرہ مضبوط ہو جائے گا۔اُدھرعین اسی زمانے میں اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے راولپنڈی کے مدینة الحجاج میں ایک اجلاس ہو رہا تھا کہ افغانستان میں اگلا صدر کون بنے گا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ابھی کمانڈروں کو پاکستان بلایا جائے،اس لیے کہ اس وقت روس نکل رہاتھا۔میرے خیال میں ابھی تمام کمانڈروں کو اپنے اپنے فرنٹ پر رہنا اور وہاں دباﺅ برقرار رکھنا چاہیے ورنہ روسی سنبھل جائیں گے اور بڑی تباہی ہو گی۔ تاہم فیصلے اوپر کی سطح پر ہو رہے تھے، سارے کمانڈر میٹنگ کے لیے بلا لیے گئے۔ اس موقعے پر میں نے ہائی کمان سے درخواست کی کہ مجھے جلال آباد کے مقامی کمانڈر دے دیں، جب بھی ضرورت ہو گی میں چھ گھنٹے کے نوٹس پر ان کو اسلام آباد پہنچا دوں گا۔اس طرح اس حملے کا منصوبہ بنا اور وہ پوسٹ ہم نے لے لی۔ تاہم اس حملے میں حزب اسلامی کے دونوں دھڑے شریک نہ ہوئے،یعنی دو بڑی پارٹیاں پیچھے رہیں، جن سے ہم بڑے کام کی توقع رکھ رہے تھے ۔ باقی چھوٹی پارٹیاں جو ایک سائیڈ پر تھیں انھوں نے وہ پوسٹ حاصل کر لی اور ساتھ ہی ثمر خیل پہاڑی پر بھی قبضہ کر لیا۔ صرف یہی نہیں کیا بلکہ نیچے اتر کر ڈویژنل ہیڈکوارٹر پر بھی قبضہ کر لیا اور وہاں ایک بریگیڈ فوج نے چار بریگیڈیروں سمیت ہتھیار ڈال دیے۔ میں خود حیران ہو گیا کہ یہ کیا ہو گیا کہ دو تین سو لوگوں نے ان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ میں وہاں گیا، میرے پاس وہاں کی تصاویر ہیں میں اس بریگیڈیر سے مل رہا ہوں اور پیچھے سارا بریگیڈ کھڑا ہے اور اوپر بم باری بھی ہو رہی ہے۔ میں نے اپنے مجاہدین سے کہا کہ اپنے قبضے کو مضبوط بناﺅ،ان کو کنٹرول کرو ،اسے آپ برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ ان روسی فوجیوں کو ہم نے آزاد علاقے میں بھیج دیا اور پیچھے پیغام بھیجا کہ اتنے لوگوں کے کھانے پینے کا انتظام کریں اور اس بات کافیصلہ کریں کہ اس فوج کو جنگی قیدی بنانا ہے یاآزاد کرنا ہے،جو بھی کرنا ہے اس کا فیصلہ ہائی کمان نے کرنا ہے ہم تولڑائی میں شامل ہیں۔اس کے بعد وہی نقصان ہوا جس کا مجھے خدشہ تھا۔ حزب اسلامی کے دو نوںدھڑے (حکمت یار گروپ اور مولوی یونس خالص گروپ)جن سے ہم اس علاقے میں کام توقع کر رہے تھے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ ایک تنظیم شمال کی طرف تھی اور دوسری جنوب کی طرف۔ بد قسمتی سے ان دونوں کی کوشش یہ تھی کہ وہ ایسے وقت کارروائی کریں جب دوسرے نہ ہوں وہ اکیلے ہی قبضہ کر لیں ،تاکہ کوئی دوسرا اس میں شراکت دار نہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری آگے بڑھنے والی فورس تو رک گئی کیوں کہ وہ تھوڑی سی تھی اور دشمن کو جب صورت حال کا ادراک ہوا تو اس نے اس پر کاﺅنٹر اٹیک شروع کر دیا۔ اس موقعے پرہمارے بڑے بڑے کمانڈر مارے گئے۔جلد ہی ہماری حالت یہ ہو گئی کہ ہمیں یہ فکر بڑ گئی کہ روسی ہمیں ہماری پہلی پوزیشن سے بھی پیچھے نہ دھکیل دیں ۔ ہم سے کچھ علاقہ تو انہوں نے واپس لے لیاتھا،اب یہ ڈر تھا کہیں ہم سے طورخم بھی نہ چھین لیں۔اس موقعے پر ہم نے اسامہ بن لادن کو بلایا، جلال الدین حقانی کو بلایا اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے انہیں کام پرلگا دیا۔ اس کے بعد تو روسی اتنے دلیر ہو گئے کہ جب پیچھے رہنے والی دو پارٹیوں نے موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو انھیں اتنی مار پڑی کہ وہ اس قابل ہی نہ رہے کہ آگے بڑھنے کے بارے میں سوچ بھی سکیں۔اس میں امریکی دباﺅ بھی بڑا فیکٹر تھا ۔امریکی کہہ رہے تھے کہ آپ نے افغانستان میں مجددی صاحب کی حکومت بنا لی ہے تو اب افغانستان میں کوئی ایسی جگہ حاصل کریں جسے وہ اپنا دارلحکومت بنا سکیں۔ یہ بہت ہی ظالمانہ قسم کی پابندی تھی کہ جب روس وہاں موجود تھا، اس کی طاقت ور ائر فورس موجود تھی تو ان رہنماﺅں کو وہاں لابٹھانا کوئی عقل مندی نہیں تھی۔ تاہم پاکستان نے منظور کر لیا کہ خوست یا جلال آباد میں سے کوئی ایک شہر حاصل کر لیا جائے۔ پھرجب انھوں نے دیکھا کہ جلال آباد میں ایک بریگیڈ فوج ہتھیار ڈال چکی ہے اور ڈیو ہیڈ کوارٹر بھی مفتوٍح ہو گیا ہے تو اب کام آسان ہو گیا ہے،لہٰذا قرعہ فال جلال آباد کے نام کا نکلا ۔ یہی وزیر اعظم بے نظیر صاحبہ چاہتی تھیں اوریہی ڈی جی آئی ایس آئی چاہتے تھے کہ افغانستان کی نئی حکومت کے پاس افغانستان میں کوئی ہیڈکوارٹر ہونا چاہیے۔
افغان خانہ جنگی اور افغان مجاہدین
مجھ سے اکثرمجاہدین کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر اکٹھے ہوئے، جہاد کیا اور پھر جب روس افغانستان سے نکل گیا توآپس ہی میں لڑ پڑے۔ ہر آدمی وار لارڈ بن گیا اور اپنی اپنی چودھراہٹ چلانے لگا،اس کی وجوہ کیا تھیں؟دراصل امریکا کی نیت پہلے سے ہی خراب تھی۔روس شکست کھا کر گیا،امریکا نے الو سیدھا کر لیا،اس کے بعد وہ دوستم جیسے کافر کو پیسہ دے کر اسے مجاہدین سے لڑا رہا تھا اور ملک میں خانہ جنگی کرا رہا تھا تو مجاہدین اس سے مقابلہ نہ کرتے تو کیا کرتے۔دوسرے کئی محرکات بھی تھے ،افغان قوم کی تاریخ میں علاقائی اور لسانی جھگڑے موجود رہے ہیں۔تاہم اس صورت حال کا بہت احتیاط سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اقتدار کی ہوس نے جہاد کے زمانے میں قربانیاں دینے والوں کو بھی ان کے مرتبے سے گرا دیاتھا،لیکن زیادہ ترقائدین اسلام اور ملک کی وحدت کے بارے میں مخلص تھے ۔وہ یہ کوشش کرتے رہے کہ اقتدار ان کے ہاتھ آ جائے تاکہ وہ یہاں ایک صحیح اسلامی حکومت قائم کر کے افغان قوم کو مصائب اور مشکلات سے نکال سکیں۔وہ اسلام سے مخلص تھے ،لیکن ان کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ تھا۔اسی بے اعتمادی کی وجہ سے حکمت یار اور احمد شاہ مسعود میں خونی جنگیں ہوئیں جن سے ان کی قوت کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔
طالبان کے بارے میں نہایت جھوٹا پرپیگنڈا کیا گیا ہے اور آج بھی کیا جا رہا ہے،میں نے ان کو بہت مخلص پایا ہے ،مگر ان کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈا بہت ہواہے۔اس پرپیگنڈے نے اچھے اچھے ذہن مسموم کر رکھے ہیں۔ہمارے بہت سے لیڈر بھی ”طالبان ظالمان“ کہ کر خوش ہوتے ہیں۔ان کواپنے ایمان کا خیال رکھنا چاہیے اور احتیاط سے بات کرنی چاہیے۔ ہمارے اوپر ڈرون حملے ہو رہے ہیں اور اس میں ہماری حکومت بھی شامل ہے۔ کراچی کے راستے امریکی اور اتحادی افواج کے لیے لاکھوں ٹن اسلحہ ہماری سڑکوں پر گزر کرافغانستان گیا، ہماری حکومت اس کی حفاظت کررہی ہے۔ سینکڑوں لوگوں کو طالبان ہونے کے جرم میں سابقہ حکومت کے دور میں امریکا کے حوالے کیا گیا، طالبان کے سفیر کو ٹھڈے مار کر امریکا کے پاﺅں میں ڈالا گیا ،کیایہ انسانیت تھی؟ جب اتنا ظلم ہوتا ہے تو پھر وہ لوگ اس کا جواب دیتے ہیں۔ یہ سارا کچھ ہم نے افغان طالبان کے ساتھ کیا،افغانستان کے ساتھ سرحد پر ہماری تقریباً ایک لاکھ فوج تعینات رہی ہے، آج تک ملا عمر کے طالبان نے ان فوجیوں پر کوئی ایک حملہ نہیں کیا، ہمارے خلاف تو ہمارے اپنے قبائلی عوام لڑ رہے ہیں۔ طالبان نے پاکستان سے زخم کھا کر بھی اف نہیں کہا۔بلکہ صبر اور برداشت کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔ملا عمر نے پرویز مشرف کو ایک خط لکھا،میرے پاس اس کی کاپی موجود ہے۔ملا عمر نے کہا:” پاکستان میرا دوسرا گھر ہے لیکن اب یہ پاکستان نہیں،”مجبورستان“ بن چکاہے۔چونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ مجبور ہیں اس لیے ہم آپ کے خلاف کوئی لڑائی نہیں لڑیں گے۔“ طالبان اور ملا عمر نے اپنے الفاظ کی لاج رکھی ہے ،انہوں نے آج تک پاکستان کو نقصان نہیں پہنچایا،باوجود اس کے کہ ہم طالبان کے خلاف ان کے دشمن اور ایک غیر ملک کے ساتھ پورا تعاون کر رہے ہیں۔البتہ قبائلی گروپوں کی بات دوسری ہے۔یہ موقع پرست ہوتے ہیں، وہ کسی بھی موقعے سے فائدہ اٹھا کرمعاملے کو الجھا دیتے ہیں،اس لیے ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ قبائلیوں کا ایک اپنا طریقہ کار ہے ۔وہ ماضی میں بھی ایسا کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔
(جاری ہے)
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-09-11), نبیل خان (01-11-11), اویسی (07-09-11), حسن قادری (29-08-11), رضی (29-08-11), شمشاد احمد (29-08-11)
پرانا 29-08-11, 07:46 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کرنل امام کی داستانَ شوق ابھی جاری ہے،تاہم پانچویں قسط کے لیے کچھ دن انتظا رکرنا ہو گا
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (29-08-11), نبیل خان (01-11-11), اویسی (07-09-11), شمشاد احمد (29-08-11)
پرانا 29-08-11, 07:50 AM   #7
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,439
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بیت بہت شکریہ بھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں انتظار رہے گا
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-11-11), اویسی (29-08-11), شمشاد احمد (29-08-11)
پرانا 29-08-11, 01:42 PM   #8
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,129
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بیشک طالبان ایسے ھی تھے انکی عظمتوں کو سلام
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-11-11), اویسی (07-09-11), سیفی خان (30-08-11), شمشاد احمد (29-08-11)
پرانا 29-08-11, 05:00 PM   #9
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,669
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
کرنل امام کی داستانَ شوق ابھی جاری ہے،تاہم پانچویں قسط کے لیے کچھ دن انتظا رکرنا ہو گا
ايك بہترين اور مفصل تحرير شيئر كرنے پر بہت بہت شكريہ۔

اگلي قسط كا انتظار رہے گا۔۔۔۔ جب تك ساتھي اس سے ايمان تازہ كريں۔






__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 29-08-11 at 05:07 PM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-11-11), اویسی (07-09-11), رضی (29-08-11)
پرانا 29-08-11, 05:14 PM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,669
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
اویسی (07-09-11), رضی (29-08-11)
پرانا 29-08-11, 09:39 PM   #11
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,533
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک بہترین مضمون ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (07-09-11)
پرانا 29-08-11, 10:41 PM   #12
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,214
شکریہ: 15,075
4,224 مراسلہ میں 12,877 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہترین تحریر ہے۔ اس حوالے سے بریگیڈئیر یوسف کی کتاب شکستِ روس بھی مطالعے کے لائق ہے۔ بہت پہلے پڑھی تھی۔

میں نے بہت کوشش کی لیکن کہیں آن لائن اس کا لنک نہیں ملا۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
اویسی (07-09-11), رضی (30-08-11)
پرانا 30-08-11, 05:21 AM   #13
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,669
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جي ہاں شكست روس ايك بہترين كتاب ہے۔۔ اور لہو گرما ديتي ہے ليكن آج كے دور ميں اسے دوبارہ پڑھنے كي ضرورت ہے۔۔۔كرنل امام كي طرح نہ جانے كتنے ہمارے شير جواں سپاہي ہيں جن كي عظيم قربانيوں كا علم اللہ كي ذات جانتي ہے۔۔۔ يقينا يہ سب اللہ كے ہاں سرخ رو ہيں۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (30-08-11), اویسی (07-09-11), رضی (30-08-11)
پرانا 02-09-11, 04:58 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 346
کمائي: 6,553
شکریہ: 577
180 مراسلہ میں 317 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاد افغانستان کی کہانی کرنل امام کی زبانی پی ڈی ایف فارمیٹ میں مکمل اقساط
Jehad-E-Afghanistan By Kernal Imam.pdf

Last edited by ہادی; 01-11-11 at 12:47 PM.
ہادی آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ہادی کا شکریہ ادا کیا
اویسی (07-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 16-09-11, 09:59 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افغانستان کی کہانی،کرنل امام کی زبانی5 روایت: کرنل امام
تحریر:عبدالہادی احمد

کرنل امام کی فوجی زندگی کا آغاز ہی بہت شاندار تھا۔وہ نوجوان افسر کے طور پربھی اپنا پورا وقت اپنی تربیت کے لیے وقف کیے رہے،ان کے پاس عیش وعشرت کے لیے کوئی وقت نہ تھا۔انہوں نے سپاہیانہ کیریر اس لیے اختیار نہیں کیا تھا کہ اچھی تنخواہ ملے گی یا بنگلے اور پلاٹ ملیں گے،وہ اس سوچ سے بہت بلند تھے۔ وہ مجاہد بننے آئے تھے اور شروع ہی سے بہت جفا کش تھے ۔اپنے اس مزاج کی وجہ سے ہی انہوں نے کمانڈو بننے کا فیصلہ کیا،دسمبر 1970 میںSSG کے لیے ٹیسٹ دیا۔کمانڈو کیریر اپنانے کے آرزومند سینکڑوں امیدواروں میں صرف24 افسر منتخب ہوئے،سلطان امیر تارڑ کا نام سر فہرست تھا۔1971ءمیں اصل کمانڈو ٹریننگ کا آغاز ہوا تو سلطان امیر کے ٹرینی ساتھیوں نے ان کا اصل روپ دیکھا۔ان کے ایک ہم کورس اور افغان ڈیسک کے سابق انچارج بریگیڈیر یعسوب علی ڈوگر کہتے ہیں:” یہ افوجِ پاکستان کی فوجی تربیت کا مشکل ترین کورس ہے۔ہم پہاڑوں، میدانوں اور وادیوں میں بھاری بوجھ کے ساتھ بھوکے پیاسے مسلسل سفر کرتے رہتے تھے۔سلطان امیر ہمارے ساتھ طویل ترین فاصلوں تک بھاری بوجھ کے ساتھ بے تکان اور رکے بغیر چلتا رہتا اور جب ہم میں سے کسی کو کمزور ہوتے دیکھتا تو اس کا بوجھ بھی اٹھا لیتا ،حالانکہ وہ خود بھی بری طرح تھکا ہواہوتا تھا۔اکثر ہم لوگ آپس میں بات کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہم اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ،لیکن وہ کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لاتا تھا۔اکثر ہم راتوں کوپچیس تیس کلو میٹر سفر کے بعد جب تھک کر گرنے کے قریب ہوتے تو ہم دیکھتے سلطان امیر ہم سے پہلے وہاں پہنچ کر ہمارے لیے ایک مناسب ہائیڈ آﺅٹ تلاش کر چکا ہے،آگ جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرلی ہیں اور اب ہم سب کے لیے کھانا پکانے میں مصروف ہے۔اس دوران اس کی بہترین قائدانہ صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں۔کورس کے اختتام سے چند روز پہلے سلطان امیرنے سوئمنگ کے مقابلے میں حصہ لیااورمنگلا جھیل کو اس کے سب سے چوڑے مقام پر عبور کیا۔اس نے جھیل کوآر پارد ومرتبہ عبور کیا اورآتے جاتے چھ میل کا فاصلہ دو گھنٹے پینتالیس منٹ میں طے کیا جو آج بھی ایک ریکارڈ ہے ۔“
1971ءکی جنگ میں کرنل امام نے بھر پور حصہ لیا۔ بھارتی فوج کے مورچوں کے عقب میں ایک ناممکن آپریشن ان کے سپرد کیا گیاتھا۔صحرا میں راستہ کھو جانے اور بھوک پیاس کے باوجودوہ طویل سفر کر کے اپنی یونٹ کے تمام کمانڈوز کو بحفاظت واپس لانے میں کامیاب ہوئے۔ پیرا شوٹ کے سو کامیاب ترین جمپ مکمل کرنے کے بعدانہوں نے سنہرا نشان جیتا۔امریکا گئے توگوریلا جنگ کے مخصوص شعبے میں مہارت حاصل کی ،لیکن ان کی زندگی کااصل آغا ز افغان جہاد میں ایک پرو فیشنل انسٹرکٹر کے طور پر مجاہدین کو عسکری تربیت دینے سے ہوا ۔انہوں نے افغان جہاد میں پاک فوج کے ایک تنخواہ دار افسر اور ایک ٹریننگ انسٹر کڑ کے طور پر پر جو کام شروع کیا ،اسے اپنے اخلاص،ایثار کیشی اور کمٹ منٹ سے لازوال کر دیا۔ان کے ماتحت اور سینیئر ان سے یکساں محبت کرتے تھے۔افغان ڈیسک کے ایک سربراہ جنرل افضل جنجوعہ نے ایک بار کہا"مجھے ہمیشہ کرنل امام کی سیکورٹی کے بارے میں تشویش رہتی ہے کیوں کہ ان کے دوست تو بے شمار ہیں،دشمن بھی کم نہیں۔" کرنل امام کی زندگی کی کتاب کایہ حیرت انگیز باب ہے کہ مجاہدین کو ٹریننگ دیتے دیتے وہ جہادی معرکوں میں عملاً شریک ہونے لگے،بلکہ بہت سی جنگوں میں بڑے جہادی لیڈروں کی کمان بھی ان کے ہاتھ میں رہی۔ افغان رہنماﺅں پران کے اثر ونفوذ کا کیا عالم تھااس کے بارے میں ان کے ایک سینیر افسر اور دوست بریگیڈیر یعسوب علی ڈوگرکہتے ہیں کہ پشاورکے معاہدے کے موقعے پر افغان لیڈروں کے اختلافات شدت اختیار کرگئے اور یہ معاہدہ معرض خطر میں پڑ گیاتھا،تو کرنل امام کی مساعی بروئے کار آئیں۔۔بریگیڈیر یعسوب علی لکھتے ہیں:
Prince Turki Al Faisal Head of Saudi intelligence was also there to pressurize the Afghan leaders. However it was handful of people including Imam who utilized their friendship, influence, charm or arms twisting abilities to force the Afghan leaders to come out with an accord. (سعودی انٹیلی جنس کے سر براہ شہزادہ ترکی الفیصل نے بھی افغان رہنماﺅں پر دباﺅڈالنے کی ناکام کوشش کی،تاہم کرنل امام سمیت مٹھی بھرلوگوں کی دوستیاں،اثرات اورذاتی تعلقات تھے جو بروئے کار آئے۔یہی لوگ افغان قائدین سے معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوئے)کرنل امام اپنے بے پناہ خلوص،محنت اور عسکری قابلیت کے اظہار سے اس مقام تک پہنچے،ان کی بے مثال کمٹ منٹ نے ہی انہیں کرنل امام کا غیر فانی نام اور کردار بخشا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گزشتہ سے پیوستہ:
آرمی چیف جنرل کیانی صاحب نے حال ہی میں مصدقہ اعداد وشمار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً چالیس لاکھ افغان مہاجرین اس وقت بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ان میں مہاجرین بھی ہیں،سابق مجاہدین بھی ہیں اور طالبان بھی ۔ جس طرح ہر افغان مہاجر کومجاہد نہیں کہا جا سکتا اسی طرح ہر داڑھی والا افغان جنگ جو طالبان نہیں ہوتا۔ افغانستان کے اندر بھی چند ہزار چنے ہوئے لوگ ہی طالبان ہیں ۔وہ لوگ جو مدرسوں میں پڑھے اور دینی علم حاصل کیا اور پھر جہاد کیاصرف وہی طالبان مجاہدین کہلانے کے مستحق ہیں۔اس لیے کہ طالبان ہونے کے لےے کوالی فکیشن اور معیار درکار ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح آرمی میںسٹاف کالج میں کامیابی پانے والے کے نام کے ساتھ PSCیعنی"Passed Staff College"لگ جاتا ہے،یعنی یہ وہ شخص ہے جس نے سٹاف کالج پاس کر لیا ہے۔اسی طرح طالبان بننے کے لیے مدرسے میں داخل ہونا پڑتا ہے۔تاہم کروڑوں افغان شہریوں میں لاکھ دو لاکھ لوگوں نے دینی مدارس کی تعلیم حاصل کی ہو گی ،ان کو عام اصطلاح کے مطابق طالبان کہا جائے گا لیکن وہ سب کے سب وہ طالبان نہیں جنہوں نے امریکا کے خلاف جہاد شروع کررکھا ہے اور جن کو پاکستان کے وزیر داخلہ صاحب' ظالمان' کہ کر خوش ہوتے ہیں۔

افغان طالبان سے TTP tتک
افغانستان میں اسلامی اصولوں کے مطابق جہاد کرنے والے طالبان زیادہ سے زیادہ بیس ہزار ہو سکتے ہیں۔ ان کی درست تعداد بتانا اس لیے ممکن نہیں کہ وہ گوریلا جنگ کرتے ہیں، دن کو مدرسے میں پڑھتے یا پڑھاتے اوررات کو گن اٹھا کر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔تاہم طالبان کے بارے میں یہ بات ان کے دشمن بھی جانتے ہیں کہ وہ آپس میں متحدہیں،اپنے قائد کو عشق کی حد تک چاہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جان دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ طالبان میں سبھی لوگ ملا نہیں ہوتے۔ کسی طالب کوسات سے دس برس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملّا کا اعزاز حاصل ہو تا ہے۔اس طرح طالبان اس گروہ کا ایک عمومی لقب ہے ،یعنی ہر شخص جو دینی مدرسے کا پڑھا ہوا ہے یا پڑھ رہا ہے طالبان میں شمار ہوتا ہے ۔تعلیم مکمل ہوتے ہی وہ طالب نہیں رہتا ملا بن جاتا ہے اور جوملا ہے وہ مسجد اور مدرسے میں طالبان کا استادہے اور میدان جہاد میں ان کا لیڈر اور کمانڈر ہے۔ طالبان ہر کسی کو ملا نہیں کہتے ان کے ہاںملا کا مقام بہت بلند ہوتا ہے۔وہ کبھی ان کے قابل احترام استاد،کبھی چنے ہوئے کمانڈر اور کہیں بڑے لیڈر اور شوریٰ کے ارکان ہوتے ہیں۔یہاں میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں پاکستانی طالبان ایک جعلی اورFake نام ہے۔ان میں دینی علم سے واقف یت رکھنے والے بہت ہی کم،بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان میںملا تو شاذ و نادر ہی کوئی ہوتا ہے ۔افغان طالبان کو پاکستانی طالبان کی طرح سمجھنا بہت زیادتی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان یا TTPنے امریکا کے بجائے پاکستان کے خلاف جنگ کو ہی مشن بنا رکھا ہے۔انہوں نے یہ نام افغان طالبان کی نقل کرتے ہوئے اپنایا ہے جواپنے ملک کو ایک غاصب اور جارح عالمی طاقت امریکا سے آزادی دلانے کے لیے لڑ رہے ہیں،لہٰذا وہ توآزادی کے سچے مجاہد ہیں؛جب کہ پاکستانی طالبان پر کسی نے غلامی مسلط نہیں کی،وہ تو آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں،کم از کم ان کاپاکستان کی فوج کو دشمن سمجھنا تو ہر گز درست نہیں۔ افغانستان کے طالبان بہترین جہاد کرتے ہیں،ان کے پاس طاقت بھی ہے ،لیکن وہ پاکستان کو دشمن نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں پاکستانی مسلمانوں کی قیادت بزدل ہےاس لیے دشمن سے ملی ہوئی ہے ،لیکن پاکستان ان کا دشمن نہیں،پاکستانی عوام اور فوج ان کے دشمن نہیں۔ پاکستان کے عوام دل سے طالبان کے حامی ہیں ،اسی لیے طالبان پاک فوج کے خلاف جنگ کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ملا عمر نے مشرف کو خط میں یہی بات لکھی تھی کہ اگرچہ پاکستان اب مجبورستان بن چکا ہے ،لیکن ہم پھر بھی پاکستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں، اس لیے اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔افغانستان میں نیٹو کی ظالم اور جارح فوجوںسے نبرد آزما مجاہدین جب دیکھتے ہیں کہ ان کے ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک پاکستان کی سڑکیں،وسائل اور مسلمانوں کی فوج ان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، تو ان کے دل جلتے ہیں۔افغانستان میں لاکھوں ٹن اسلحہ پاکستان کی مدد سے پہنچ رہا ہے۔قدرتی بات ہے انہیں پاکستان پر غصہ بھی آتا ہے،مگر وہ پھر بھی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچاتے ۔ٹی ٹی پی کے موجودہ نوجوان لیڈر بھی میرے دیکھے بھالے ہیں۔ روس کے خلاف جنگ کے زمانے میں ہم پہاڑوں پرسینکڑوںمیل پیدل مسافت طے کر کے افغانستان جایا کرتے تھے۔راستے میں ان قبائلی سرداروں اور ملکوں سے ملا قات ہوتی رہتی تھی۔میں کئی بار وزیرستان سے گزرا ہوں۔موجودہ ٹی ٹی پی میں جو لوگ پیش پیش ہیں ان کے بزرگوں سے بھی ملتا رہا ہوں،ان کی مہمانی نوازی سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔آتے جاتے سستانے کے لیے رکتا اور کبھی تو ان کے ہاں دن اور راتیں بھی گزارتا تھا۔ان میں آپ کو کم ہی کوئی ملانظر آئے گا یا طالبان ملیں گے۔یہ بیت اللہ محسود تب دس بارہ برس کا لڑکا ہوا کرتا تھا۔دوسر ے لیڈر بھی اس زمانے میں کم سن تھے۔یہ بہت اچھے جنگ جو لوگ تھے ،لیکن نہ تو یہ طالبان ہیں نہ ان کے مقاصد وہ ہیں جو افغان طالبان کے ہیں۔صرف پگڑیا ں طالبان جیسی باندھتے ہیں،ان کی ثقافت اوررہن سہن میں بھی مشابہت ہے،مگر ان میں طالبان کے برعکس وہی بدلہ کلچر رائج ہے جس کا ذکر کر چکا ہوں۔میرا تجربہ کہتا ہے کہ بعض قبائلی گروپ بڑے موقع پرست بھی ہوتے ہیں،یہ کسی بھی موقعے سے فائدہ اٹھا کرمعاملات کو الجھا دیتے ہیں۔تاہم پاکستانی طالبان میں کچھ مخلص لوگ بھی ہیں،جو افغان طالبان سے انسپائرہو کر طالبان بنے ہیں۔یہ بڑے عرصے سے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف افغان طالبان کی مدد بھی کرتے آئے ہیں،انہیں اپنے ہاں پناہ بھی دیتے ہیں۔مولانا جلال الدین حقانی اور بعض دوسرے افغان لیڈر ان کے مہمان بھی ہی اور یہ ان کی جانی ومالی امداد بھی کرتے ہیں۔لیکن تحریک طالبان پاکستان کو ایک ہی تنظیم سمجھنا اور اس کے مختلف گروپوں کو ہم خیال قرار دینا حقائق سے بے خبری ہے۔TTP لاتعداد گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اور بعض گروہوں کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے ۔بعض ایسے ہیں کہ جومخلص ہیں مگر نادان ہیں وہ ان جانے میں ایسے کام کر جاتے ہیں جن سے جہاد کی بدنامی ہوتی ہے جو دشمن کا اصل مقصد ہے۔
بلاشبہ قبائلی علاقے میں بھی عوام پر ظلم ہو رہا ہے، ڈرون حملوں میں ان کے پیارے مارے جارہے ہیں، ،ان کا غم وغصہ بھی بجاہےمگر جب وہ مشتعل ہو کرنکلتے اور دھماکے کرتے ہیں تو یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ اس کا فائدہ ان کے دشمن کو ہوتا ہے۔لاہور کے بازار میں ڈھماکے سے واشنگٹن میں بیٹھے امریکی صدر کو کیا فرق پڑے گا،بلکہ اسلام آباد کے پریزیدنٹ ہائس میں مقیم زرداری کی صحت پر کیا ثر پڑے گا۔حقیقت یہ ہے پاکستان کی سرحدوں کے اندر بدامنی پیدا کر نے واالوں کی اکثریت ان کی ہے جن کواس خدمت کا معاوضہ ملتا ہے۔ یہ نام نہاد پاکستانی طالبان عملاً امریکا کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔دراصل ان میں چور اور ڈاکو بھی شامل ہو گئے ہیں اور دوسرے ملکوں کے ایجنٹ بھی مل گئے ہیں۔خاص طور پر امریکا کے ہاتھ میں کھیلنے والے لوگوں کی خاصی بڑی تعداد وہاں موجود ہے جو کسی نظریے کے لیے نہیں، محض ڈالر کمانے کے لیے طالبان کا حلیہ بنائے ہوئے ہے۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ،سب کو پتہ ہے کہ یہ امریکی سی آئی اے،بھارتی را اور اسرائیلی موساد کا جائنٹ وینچر ہے۔اس کے پیچھے امریکا کا یہ پلان کام کر رہا ہے کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کر دیا جائے۔تاکہ پاکستان کو اس کے نظریے سے کاٹ کر مکمل طور پرامریکی مفادات کا محافظ ملک بنا دیا جائے،اس کے جوہری پروگرام پر آسانی سے قبضہ کیا جا سکے اور پاکستان کو افغانستان کے معاملات سے لاتعلق کیا جا سکے۔یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہماری حکومت اس پورے پلان سے بے خبر اور لا تعلق بنی ہوئی ہے یا جان بوجھ کر امریکا کی مدد گار بنی ہوئی ہے۔ہماری حکمان بڑی سعادت مندی سے اور خاموشی سے امریکا کی ہر بات مان رہے ہیں۔پاکستان نے تیس برس تک افغانستان کے لیے جو قربانیاں دیں،اس کی وجہ سے ان کے درمیان اخوت کا جو رشتہ قائم ہو گیا تھااور پاکستان کی مغربی سرحدجس طرح محفوظ ہو گئی تھی،امریکااس محبت اور اخوت کو بھی ختم کرنا چاہتا تھا۔ وہ پاکستان کا یہ مقام ہندوستان کو دینا چاہتا ہے، لیکن یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ ٹھیک ہے جب تک کرزئی جیسے امریکی ایجنٹ کابل میں بیٹھے ہیں پاکستان کے خلاف نعرے بلند ہوںگے ،لیکن امریکا کے جانے کے بعداس کے ایجنٹ بھی دفع ہو جائیں گے اور پاکستان کوان شاءاللہ اس کا چھنا ہوا مقام پھر مل جائے گا۔
( جاری ہے)
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (18-09-11)
جواب

Tags
فروخت, فرض, کارنامے, کراچی, پاکستانی, پسند, وزیر, قرآن, نماز, موت, ایمان, امریکہ, اجنبی, احتجاج, اسلامی عقیدہ, بادشاہت, تعلیم, جیل, جرم, دوست, طالبان, عورت, عبادت, صحابہ, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
پاکستان فرانس میں سیکورٹی،تجارت اوراقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط ذوالفقار علی خبریں 0 06-05-11 11:40 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:48 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger