|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,347
کمائي: 154,196
شکریہ: 4,886
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا
اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے اس جشن میں میں بھی شامل ہوں نوحوں سے بھرا کشکول لیے
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شاعری ہے
شئیر کرنے کا شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا | بزم خیال (25-05-11), عدنان دانی (13-02-11) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,549
کمائي: 314,930
شکریہ: 25,207
16,380 مراسلہ میں 41,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا
اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (25-05-11) |
![]() |
| Tags |
| ہوتے, کس, پہ, پھول, یا, وفا, نام, آئی, آج, بھرے, بول, بے, بدل, بس, جاری, خون, خواب, خود, دیس, رقص, ساز, شاہی, ظالم, عیسیٰ, غم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|