|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,158
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,298 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
احمد فراز میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر سایہ غیر یا دست دشمن پڑا جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے طوق در گردن و پابجولاں گئے جیسے برطانوی راج میں گورکھے وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے مرگ بنگال کے بعد بولان میں شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے آج سرحد سے پنجاب و مہران تک تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے! کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں تم ملامت بنو گے شب تار کی کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے آج بھی پاسداری ہے دربار کی ایک آمر کی دستار کے واسطے سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہئیں اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-06-11), ھارون اعظم (14-06-11), منتظمین (15-06-11), روشنی (15-06-11), سام (15-06-11), سحر بٹ (02-07-11), عدنان دانی (15-06-11) |
|
|
#2 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,338
کمائي: 94,949
شکریہ: 52,390
11,117 مراسلہ میں 35,106 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ھارون بھائی نے درست کہا!!!!
ویسے حالات حاضرہ کو کئی سال ہوچکے ہیں!!! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,210
کمائي: 17,882
شکریہ: 2,314
908 مراسلہ میں 2,321 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی پرانی سےپرانی تحریرپڑھ لیں موجودہ حالات کی عکاس ہی معلوم ہوتی ہے۔ہمارےلیےتوجیسےاسمان نے قسم کھالی ہےکہ حالات کبھی نہیں سدھریں ۔گے
|
|
|
|
| سام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (15-06-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھاں ۔شاعروں پر بھی اس مٹّی کا قرض، فرض ھے۔ اسی لیے جب بھی وطن کے لیے لکھا تب ھی سکون پایا۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,357
کمائي: 171,585
شکریہ: 9,804
7,522 مراسلہ میں 22,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہاں جی اس سکون کی خاطر ہی تو فراز کو دیس نکالا ملا تھا کہ وطن کے لیے لکھتا ہے۔ یہ نظم کافی متنازعہ رہی ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, فن, فراز, گے, گئی, پہ, پھول, پیاروں, نفرت, نام, ملنے, منظر, الزام, انجام, بے, بنو, بدلتے, تاج, ثابت, حرف, خواب, خبر, رن, شہر, صف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|