| احمد فراز احمد فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,783
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب لوگ لئے سنگ ملامت نکل آئے
کس شہر میں ہم اہل محبت نکل آئے اب دل کی تمنا ھے تو اے کاش یہی ہو آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے ہر گھر کا دیا گل نہ کرو تم کہ نجانے کس بام سے خورشید قیامت نکل آئے جو در پے پندار ھیں ان قتل گہوں سے جاں دے کے بھی سمجھو کہ سلامت نکل آئے اے ہم نفسو کچھ تو کہو عہد ستم کی اک حرف سے ممکن ھے حکایت نکل آئے یارو مجھے مصلوب کرو تم کہ مرے بعد شاید کہ تمہارا قدو قامت نکل آئے |
|
|
|