|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
میری انکھوں میں یہ انسوں کے قطرے دیکھ لو تم
مجھے محسوس اس چاہت پہ ندامت سی ہوئی یو بھلا پھیرتے ہیں انکھ اپنے، اپنوں سے تمہارے بھولنے پہ ہم کو بھی حیرت سی ہوئی محبتوں میں وفاؤں کے تذکرے تھے سنے اپنے خلوص کے انجام پہ حسرت سی ہوئی تمہارا پیار ہی سنبھالے ہوئے تھا ہم کو یہ جو چوٹھا ہمیں گرنے کی اجازت سی ہوئی میرے خلوص مخبت کو دیکھ کر سب نے نگاہیں پھیر لی گویا یہ رقابت سی ہوئی ان کی انکھوں میں جو تصویر کسی اور کی ہے نجانے کیوں مجھے اج ان سے کراہت سی ہوئی میرے خلوص کی قیمت نہ چکا پاؤگے تم تیری گلیوں میں محبت کی بھی قیمت سی ہوئی اس محبت میں بھی رو رو کے خدا سے مانگا یہ محبت نہ ہوئی گویا عبادت سی ہوئی۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| مشال خان کا شکریہ ادا کیا گیا | samia (06-01-11) |
![]() |
| Tags |
| گلیوں, گرنے, پہ, پیار, قیمت, قطرے, لو, چکا, چاہت, ندامت, محسوس, اپنوں, انکھوں, انجام, اجازت, بھلا, تصویر, حیرت, حسرت, خلوص, خدا, دیکھ, رو, رقابت, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|