| احمد فراز احمد فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,783
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے آغاز سے انجام کا سفر جانا ھے
سب کو دو چار قدم چل کے ٹھہر جانا ھے غم وہ صحرائے تمنا کہ بگولے کی طرح جس کو منزل نہ ملی اس کو بکھر جانا ھے تیری نظروں میں مرے درد کی قیمت کیا تھی میرے دامن نے تو آنسو کو گہر جانا ھے اب کے بچھڑے تو نہ پہچان سکیں گے چہرے میری چاہت ترے پندار کو مر جانا ھے جانے والے کو نہ روکو کہ بھرم رہ جائے تم پکارو بھی تو کب اس نے ٹھہر جانا ھے تیز سورج میں چلے آتے ھیں مری جانب دوستوں نے مجھے صحرا کا شجر جانا ھے زندگی کو بھی ترے در سے بھکاری کی طرح ایک پل کے لئے رکنا ھے گزر جانا ھے اپنی افسردہ مزاجی کا برا ہو کہ فراز واقعہ کوئی بھی ہو آنکھ کو بھر جانا ھے |
|
|
|
| The Great کا شکریہ ادا کیا گیا | Miss Khan (29-11-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,194
کمائي: 23,325
شکریہ: 3,756
1,312 مراسلہ میں 2,999 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ اور یہ اشعار تو بہترین
اب کے بچھڑے تو نہ پہچان سکیں گے چہرے میری چاہت ترے پندار کو مر جانا ھے جانے والے کو نہ روکو کہ بھرم رہ جائے تم پکارو بھی تو کب اس نے ٹھہر جانا ھے |
|
|
|