واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اخلاق و آداب



اخلاق و آداب اخلاق و آداب


:::::: اختلاف اور اخلاق :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-08-09, 01:05 AM   #1
:::::: اختلاف اور اخلاق :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 16-08-09, 01:05 AM

::::::: اختلاف اور اخلاق :::::::
خلاف اور اختلاف معروف الفاظ ہیں اور غالباً ان کے مفاہیم بھی معروف ہیں ، لغوی طور پر اختلاف کا اصل مادہ """ خَلَفَ """ ہے ، اس کو لغت میں یوں بیان کیا جاتا ہے :::
خَلَفَ ، یَخلِفُ ، خِلاف ٌ ، مُخلاف ٌ ، اور ،
باب """ اِفتَعلَ "" سے ، اَختَلفَ ، یَختلفُ ، اِختلافٌ ، مُختَلِفٌ ، ہے
مفہوم کے اعتبار سے دونوں کا ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں کہ ::: """ الخِلاف ھو ضد الاتفاق و ھو ان یذھبَ احدُھُما اِلیٰ ما یُخلاف الآخر ::: خلاف ، اتفاق کی ضد ہے اور وہ یہ ہے کہ دو (اشخاص یا جاندار اور ذی عقل چیزوں )میں سے ایک اُس طرف جائے جو دُوسرے کے خلاف ہو """
پس خلاف اور اختلاف میں لغوی طور پر کوئی اختلاف نہیں اور اسی طرح اصطلاحی استعمال میں بھی کوئی خِلاف نہیں ،
اس کے ہم معنی الفاظ میں """ فرق ، اور ، افتراق """ ، """ نزعٌ ، اور ، اِنتَزاعٌ """ ہیں ،
اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کے کلام پاک میں ان تینوں کے مذکورہ بالا مفاہیم کے مطابق استعمال کی مثالیں میسر ہیں جو اس بات کی تائید ہیں کہ اصطلاحی طور پر بھی اِن کے مفاہیم میں کوئی فرق نہیں ،
اور یہ بھی بہت واضح ہوتا ہے کہ اختلاف ، تفرقہ ، تنازع ، اللہ کو ناپسند ہیں اور اللہ کی ناراضگی کے اسباب میں سے ہیں ، اور دُنیا اور آخرت کی ذلت اور عذاب کے اسباب میں سے ہیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے ((((( كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتَابَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النَّاسِ فِيمَا اختَلَفُوا فِيهِ وَمَا اختَلَفَ فِيهِ إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعدِ مَا جَاءتهُمُ البَيِّنَاتُ بَغياً بَينَهُم فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اختَلَفُوا فِيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ وَاللّهُ يَهدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّستَقِيمٍ ::: پہلے سب ہی لوگ ایک اُمت تھےتو اللہ نے نبی بھیجے ، خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے اور اُن کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ، حق کے ساتھ ، تا کہ وہ نبی اُس کے بارے میں (اس کتاب کے ذریعے ) فیصلے کریں جِس میں لوگوں کا اختلاف ہے ، اور اُس (جو کچھ ) اُنہیں دیا گیا اُس میں انہوں نے اس وقت اختلاف کیا جب کہ ان کے پاس واضح روشن دلائل آ چکے ، انہوں نے(یہ اِختلاف ) آپس میں بغاوت کرتے ہوئے کیا ، تو اللہ نے اِیمان لانے والوں کو اپنی اجازت سے حق میں سے اُس کے بارے میں ہدایت فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا ، اور اللہ جسے چاہے اِستقامت والے راستے کی ہدایت دیتا ہے ))))) سورت البقرة /آیت ۲۱۳ ،
اللہ پاک کے اس مذکورہ بالا فرمان میں """ اِختلاف """ کی مذمت بہت واضح ہے ، یہ صرف ایک موقع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی مذمت اور بھی کئی دفعہ فرمائی ، مثلاً :::
((((( وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ العِلمُ بَغياً بَينَهُم وَلَولَا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَّبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَينَهُم وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الكِتَابَ مِن بَعدِهِم لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِيبٍ ::: اور وہ (سابقہ اُمتیں )اُن کے پاس عِلم آنے کے بعد ہی ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور اگر اللہ کی طرف سے ایک (حساب ، اور جزا و سزا کے لیے )مقررہ وقت کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو فیصلہ ہو جاتا ، اور بے شک جنہیں اِن (اختلاف کرنے فرقوں میں بٹ جانے والوں) کے بعد کتاب کی وراثت ملی وہ بھی اُس کے بارے میں شک کا شکار ہیں )))))) سورت الشُوریٰ /آیت 14،
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ آیت مبارکہ میں """ لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِيبٍ """" میں مذکور """ مِّنهُ """ میں سے """ ہُ""" سے مراد مُحمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) ہیں ، بہر حال اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو سابقہ لوگوں امتوں کو دی گئی اور جس کا ذکر کیا گیا ، یا رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارکہ لی جائے ، بہر صورت اختلاف کو ایک مذموم عمل کے طور پر ذکر کیا گیا ،
اس نا پسندیدہ کام کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیےجائز نہ رکھتے ہوئے حُکم فرمایا ((((( وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُوا ::: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور الگ الگ مت ہو ))))) سورت آل عمران / آیت103
اور اس مذموم عمل یعنی اِختلاف اور گرو ہ بندی کی بہت وضاحت کے ساتھ مذمت فرماتے ہوئے ، اُس سے منع فرماتے ہوئے اور اس کا خوفناک نتیجہ بتاتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((( وَلاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواوَاختَلَفُوا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ البَيِّنَاتُ وَأُولَـئِكَ لَهُم عَذَابٌ عَظِيمٌ ::: اور تُم لوگ اُن کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اُن کے پاس روشن نشانیاں آ جانے کے بعد (بھی)گروہوں میں بَٹ گئے اور اختلاف کیا اور وہی ہیں جِن کے لیے بڑا عذاب ہے ))))) سورت آل عمران/آیت105،
اللہ سبُحانہ و تعالیٰ نے ہمیں مزید یہ بھی بتایا کہ اختلاف اور گروہ بندی کا عذاب صرف آخرت میں ہی نہ ہو گا بلکہ دُنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا سبب ہو گا ، پس فرمایا ((((( وَأَطِيعُوا اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفشَلُوا وَتَذهَبَ رِيحُكُم وَاصبِرُوا إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ :::اور اللہ کی تابع فرمانی کرو اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) کی تابع فرمانی کرو اور تنازع مت کرو ورنہ تُم لوگ ناکام ہو جاؤ گے اور تُم لوگوں کی ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ))))) سورت الأنفال / آیت46،
اختلاف ، تنازع اور گروہ بندی کے منفی نتائج کے باوجود کئی اور ایسے ہی منفی نتائج والوں کاموں کی طرح اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنی مکمل بے عیب حکمت سے مقرر فرمایا کہ سابقہ امتوں کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ مذموم عمل پایا جائے گا ، اور اس کی خبر بھی فرمائی ، ((((( وَلَو شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُختَلِفِينَ O إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذَلِكَ خَلَقَهُم وَ تَمَّت كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَملأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجمَعِينَ:::اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سارے ہی لوگوں کو ایک ہی اُمت بنا دیتا (لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا ) اور وہ ابھی تک مُختلف ہیں O سوائے اُن کے جِس پر آپ کے رب نے رحمت کی (اور اختلاف سے محفوظ رکھا )اور اللہ نے لوگوں کو اسی لیے ہی بنایا اور اللہ آپ کے رب کا فرمان پورا ہو(کر رہے )گا(کہ)میں ضرور جہنم کو انسانوں اور جِنّات سے بھروں گا ))))) سورت هود/آیات 118 ، 119،
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مُسلمانوں میں اختلاف ختم ہو جائے ، یہ رہے گاخواہ بہت ہی معمولی رہے ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں رہے ، پس یہ ختم نہ ہوسکنے والی چیز ہے ، لیکن یہ ضرور کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کچھ زیادہ محنت بھی درکار نہیں کہ اختلاف کی صورت میں اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کے حقوق اور احترام کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی جائے اور نہ اپنے دِل میں ان کے لیے کوئی بُغض رکھا جائے ، یہاں تک کہ کسی کے بارے میں بالکل واضح طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ معاذ اللہ وہ حق جانتے ہوئے باطل پر عمل پیرا ہے ،
ایسا قطعاً نا مُمکن نہیں کہ ہم اپنے اختلاف کی بنا پر وجود میں آنے والی تفریق کو صرف اُس موضوع ، اُس بات ، اُس کام کے اندر تک محدود رکھیں جس میں وہ ہوا ہے ، اور اُس اختلاف کے بارے میں بات چیت کریں ، ایک دوسرے کے دلائل سنیں ، مانیں یا رد کریں ، اور ایک دوسرے سے اسلامی بھائی چارہ بھی قائم رکھیں ،

بے شک ہم سب کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک ہر کام میں ہر لحاظ سے بہترین نمونہ ہے ، اور معاملہ صرف نمونہ ہونے کا ہی نہیں بلکہ اُن کی اتباع فرض ہے اور ان کی عطا کردہ ہدایت اور ترغیب پر عمل کرنے سے بڑھ کر درستگی اور خیر والا کام اور کوئی نہیں ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( خَيرُ الناس قَرنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ::: سب سے زیادہ خیر والے لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر جو ان کے بعد ہیں ، پھر جو اُن کے بعد ہیں ))))) صحیح البُخاری /حدیث 3451 /کتاب فضائل الصحابہ /باب اول ، صحیح مُسلم/حدیث ۲۵۳۳/کتاب فضائل الصحابہ /باب ۲۵،
آیے دیکھتے ہیں کہ تمام تر لوگوں میں سے زیادہ خیر والے لوگ جو اُن تین زمانوں میں تھے ، اُن لوگوں کا ایک دووسرے سے اختلاف ہونے کی صورت میں کیا رویہ رہتا تھا ،
أمیر المؤمنین عُمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما ، کےبارےمیں معروف ہے کہ وہ تقریباً ایک سو مسائل میں ایک دوسرے کے خِلاف تھے ، یعنی ان میں تنازع تھا ، لیکن اس کے باوجود ابن مسعود رضی اللہ عنہُ أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ کی یاد میں رو پڑتے اور اُن کےبارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ """"" إِنَّ عُمَرَ رضي اللَّهُ عنه كان لِلإِسلامِ حِصنًا و حصيناً يَدخُلُونَ في الإِسلامِ وَلا يَخرُجُونَ فلما أُصِيبَ عُمَرُ انثَلَمَ الحِصنُ ::: عُمر رضی اللہ عنہُ اسلام کے لیے ایک قلعہ تھے کہ لوگ اِسلام میں داخل ہوتے تھے جس میں لوگ داخل ہو کر نکلتے نہ تھے جب عُمر (رضی اللہ عنہ ُ ) فوت ہو گئے تو یہ قلعہ میں دڑار پڑ گئی """ اور امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہُ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کو دوسرے شہروں میں دینی معاملات کے لیے اُستاد بنا کر بھیجتے اور اُن کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ """"" کنیفٌ ملیء عِلماً ::: ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ) فقہ سے بھرا ہوا برتن ہیں """"""( کنیف ، مترادف وعاء اور وعا کسی بھی ایسی چیز کو کہتے ہی جو کسی دوسری چیز کو اپنے اندر چھپا سکے )،
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہُ میں بھی اسی طرح دادا کی وراثت سے متعلق کئی مسائل میں اختلاف تھا ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ """ کیا زید اللہ کا خوف نہیں کرتے کہ پوتے کو دادا کا وارث بتاتا ہے اور دادا کو پوتے کا نہیں """ لیکن وہ اختلاف بھی صرف مسائل کی حد تک ہی تھا اوروہ ایک دوسرےکااحترام اس طرح کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ سوار ہونے لگے تو ) ابن عباس رضی اللہ عنہما زید رضی اللہ عنہ ُ کی سواری کی رکاب تھام لی تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا """ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اس کی رکاب چھوڑ دیجیے """ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ ہمیں اِسی طرح اپنے عُلماء کی عِزت کرنا سکھایا گیا ہے """" اور جب زید رضی اللہ عنہ ُ فوت ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ اس طرح عِلم ختم ہوتا ہے ، آج بہت زیادہ عِلم چلا گیا """"
یونس الصدفی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ """ میں نے (اِمام) شافعی سے بڑھ کر عقل مند کوئی نہیں دیکھا ، ایک دِن میں نے اُن کے ساتھ کسی مسئلہ پر مناظرہ کیا اور ہم الگ الگ ہو گئے ، اُس کے بعد جب شافعی مجھے ملے تو انہوں نے میرا ہاتھ تھام کر کہا """ عیسیٰ کے باپ کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم بھائی بھائی رہیں خواہ کسی مسئلہ میں ہمارا اتفاق نہ ہی ہو """"
امام الشافعی رحمۃُ اللہ علیہ ابو عیسیٰ الصدفی سےپوچھا ہوا یہ سوال ہم سب کو ایک دوسرے سے پوچھنا چاہیے ، اور پھر ایک دوسرے کے حقوق جانتےاورسمجھتےہوئےاورانہی ں ادا کرتے ہوئے ، اپنے اختلاف کو اپنے اخلاق کا اتلاف نہ بننے دیں ، اور کسی مسلمان کے عزت پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہیں کہ اس پر کفر و شرک کے فتوے صادر کرتے ہوئے اس کو اسلام سے خارج قرار دیں ، اور اس کی حق تلفی سے بچے رہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ ہمت دے کہ ہم اختلافات کو بد اخلاقی اور اسلامی بھائی چارے کا قاتل نہ بننے دیں ، اختلافی مسائل اور معاملات کو اسلامی بھائی چارے کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے سلجھانے کی کوشش کریں نہ کہ بد اخلاقی کر کے مزید بگاڑ پیدا کریں ، چھوٹی چھوٹی دڑاڑیں بھرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن جب اُنہیں بھرنے کی بجائے کِھینچا جانے لگے تو وہ بڑی بڑی خلیجیں بن جاتی ہیں جنہیں بھرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے ، اور ہم مسلمانوں پر ٹوٹنے والی بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک مُصیبت بداخلاقی،ذاتی پسند نا پسند ، شخصیت پرستی پر مبنی اختلاف بھی ہے جو مسلمانوں کے درمیان ایسی ہی خلیجیں پیدا کرتا ہے ،
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
===============================================
مصادر و مراجع :::کتاب اللہ ، صحیح البخاری ، صحیح مُسلم ، المعجم الکبیر للاِمام سلیمان الطبرانی ، مُصنف عبدالرازاق ، الطبقات الکُبریٰ للاِمام محمدابن سعد ، تذکرۃ الحُفاظ، اور ، سیر أعلام النُبلاء للاِمام محمد الذھبی ، صفۃ الصفوۃ للاِمام عبدالرحمٰن ، المعرفۃ و التاریخ للاِمام ابو یوسف یعقوب الفسوی۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 550
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (30-05-10), shafresha (10-05-10), sjk (19-11-10), فیصل ناصر (17-11-10), منتظمین (16-08-09), محمد عاصم (16-05-10), ارشد کمبوہ (15-11-10), ضِرار Derar (09-05-10), عبداللہ حیدر (16-08-09)
پرانا 16-08-09, 10:00 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,357
کمائي: 171,586
شکریہ: 9,804
7,522 مراسلہ میں 22,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-05-10), عبداللہ آدم (30-05-10)
پرانا 16-08-09, 11:42 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,840
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، منتظمین بھائی ، میری گذارش ہے کہ اس موضوع کی اہمیت کے مطابق اس کو کچھ زیادہ دِن تک سرورق پر لگا رہنے دیا جائے ، اللہ تعالیٰ اس میں ہر قاری کے لیے خیر عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (30-05-10), shafresha (10-05-10), ارشد کمبوہ (15-11-10), ضِرار Derar (09-05-10)
پرانا 09-05-10, 09:48 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
پڑھنا شروع کیا
آدھی سے زیادہ عقل عربی دانی کے چکر میں لگ گئی
باقی پھر پڑھون گا
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-05-10), ارشد کمبوہ (15-11-10), طلحہ (10-05-10)
پرانا 10-05-10, 12:56 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,840
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
پڑھنا شروع کیا
آدھی سے زیادہ عقل عربی دانی کے چکر میں لگ گئی
باقی پھر پڑھون گا
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
آپ عربی دانی کو زحمت مت دیجیے اور اردو دان پر گذارہ کیجیے ضِرار بھائی ، اللہ نے چاہا تو عربی دانی بھی رواں کر دے گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (30-05-10), shafresha (10-05-10), محمد عاصم (16-05-10), ارشد کمبوہ (15-11-10), ضِرار Derar (10-05-10)
پرانا 10-05-10, 01:20 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,142
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ضرار نے ٹھیک ہی تو کہا ہے۔ عام آدمی کو عربی کی سمجھ ہی نہیں‌آتی تو پھر علمیت جھاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (10-05-10)
پرانا 10-05-10, 01:32 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,840
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
ضرار نے ٹھیک ہی تو کہا ہے۔ عام آدمی کو عربی کی سمجھ ہی نہیں‌آتی تو پھر علمیت جھاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
طلحہ بھائی نفع مند علم ایسی چیز نہیں جسے کوٕئی ٹھیک عقل والا جھاڑ دینا چاہے ،
بسا اوقات موضوع اس چیز کا متقاضی ہوتا ہے کہ اس کی انتہإئی ابتداء سے بات کا آغاز کیا جائے ، یوں بھی اگر بات دِین کے کسی معاملے سے متعلق ہو تو بہت ہی واضح ہونا چاہیے اور اگر عقیدے سے متعلق ہو تو ایک ایک پہلو پر نظر رکھتے ہوئے ایسی بات ہی ان شاء اللہ فإئدہ مند ہوتی ہے جو ہر قسم کے سامع اور قاری کے لیے ضرروی معلومات مہیا کر سکے باذن اللہ ،و السلام علیکم ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (30-05-10), shafresha (10-05-10), محمد عاصم (16-05-10), ارشد کمبوہ (15-11-10), ضِرار Derar (10-05-10), طلحہ (10-05-10), عبداللہ حیدر (10-05-10)
پرانا 10-05-10, 07:49 AM   #8
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,659
کمائي: 254,711
شکریہ: 53,102
7,703 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
ضرار نے ٹھیک ہی تو کہا ہے۔ عام آدمی کو عربی کی سمجھ ہی نہیں‌آتی تو پھر علمیت جھاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
السلام علیکم،
مجھے نہیں‌لگتا کہ یہ الفاظ آپ نے کہے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اس فورم پر عربی سے واقفیت رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں‌اور اس قسم کی اصطلاحات والے مضامین کمم از کم میری دلچسپ کا باعث تو ہوتے ہی ہیں!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (30-05-10), محمد عاصم (16-05-10), ارشد کمبوہ (15-11-10), ضِرار Derar (10-05-10), عادل سہیل (10-05-10), عبداللہ آدم (30-05-10), عبداللہ حیدر (10-05-10)
پرانا 10-05-10, 09:06 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
ضرار نے ٹھیک ہی تو کہا ہے۔ عام آدمی کو عربی کی سمجھ ہی نہیں‌آتی تو پھر علمیت جھاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
السلام علیکم
حمایتی بیان دینے پر شکریہ طلحہ صاحب
عام آدمی جب تک کوئی خاص چیز نہیں سیکھتا عام آدمیوں کی لین میں ہی جامڈ رہتا ہے
جناب آپ بھی میری طرح سیکھنے کی کوشش کیا کرو
ہو سکتا ہے خاص آدمی بن جاو
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (30-05-10), ارشد کمبوہ (15-11-10), طلحہ (30-05-10), عبداللہ حیدر (10-05-10)
پرانا 30-05-10, 02:41 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,142
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
حمایتی بیان دینے پر شکریہ طلحہ صاحب
عام آدمی جب تک کوئی خاص چیز نہیں سیکھتا عام آدمیوں کی لین میں ہی جامڈ رہتا ہے
جناب آپ بھی میری طرح سیکھنے کی کوشش کیا کرو
ہو سکتا ہے خاص آدمی بن جاو
ضرار بھائی، کسی تھریڈ میں دیکھا ہے کہ آپ عربی سیکھنے سے بھاگ رہے ہیں۔ کہیں جامڈ تو نہیں ہو گئے؟
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-05-10, 04:42 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,503
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ الخیر۔۔۔اوپر بھی اختلاف اور اخلاق نمایاں ھے۔۔بہتر ھوتا اگر اس موضوع پر گفتگو کی جاتی۔۔اور اسےسمجھا جائےنہ کہ زبان پر اختلافات شروع کر دئیے پڑھنے والے کا دیھان بھی انہیں لاحاصل بحث میں لگ جائے۔۔اللہ ھمیں صحیع سمجھنے کی توفیق دے آمین۔۔
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-05-10, 09:09 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Cool

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
ضرار بھائی، کسی تھریڈ میں دیکھا ہے کہ آپ عربی سیکھنے سے بھاگ رہے ہیں۔ کہیں جامڈ تو نہیں ہو گئے؟
یار ایک تو آپ لوگ ٍفٹا فٹ پکڑ لیتے ہو
وہ تو میں ذرا عادل صاحب سے مخولیاں کرتا ہوں
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-06-10, 12:33 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,840
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
یار ایک تو آپ لوگ ٍفٹا فٹ پکڑ لیتے ہو
وہ تو میں ذرا عادل صاحب سے مخولیاں کرتا ہوں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ضِرار بھائی ،
آپ بے شک میرے ساتھ مخولیاں کیجیے
لیکن دینی علوم اور دینی معاملات کو ان مخولیوں کی اٹھکیلیوں سے دور ہی رکھیے ،
جزاک اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (08-06-10)
پرانا 08-06-10, 08:33 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ضِرار بھائی ،
آپ بے شک میرے ساتھ مخولیاں کیجیے
لیکن دینی علوم اور دینی معاملات کو ان مخولیوں کی اٹھکیلیوں سے دور ہی رکھیے ،
جزاک اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔
السلام علیکم
بہت شکریہ
عادل صاھب
توبہ توبہ کرو جناب
میرے کو کیا پڑی ہے دین سے مخولیان کرنے کی
اگر ایسی کوئی بات لگے تو آپ سمجھا دیا کرو
مولویون نے ہی تو سمجھانا ہوتا ہے
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-11-10, 06:07 PM   #15
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,780
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
اللہ عادل سہیل بھائی اور تمام سمجھنے والے قارئین کو جزا دے۔
(آمین)
ارشد کمبوہ آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فرض, گذارش, پاک, پسندیدہ, لوگ, مکمل, موقع, مسائل, آج, اللہ, امیر, اردو, اسلامی, بہترین, بھائی, حال, حدیث, عیسیٰ, عقل, عمران, عزت, صبر, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger