واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اخلاق و آداب



اخلاق و آداب اخلاق و آداب


اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 25-10-09, 11:21 PM   #1
اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
گوندل گوندل آف لائن ہے 25-10-09, 11:21 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

[SIZE="7"]رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااُسوہ حسنہ[/SIZE]
لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لےکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ،ہر دور اور ہر زمانے میں انسانوں کی ہدایت اور راہ نمائی کے لیے اپنے انبیا اور رسول مبعوث فرمائے ہیں۔ہدایت و راہ نمائی کے اس سلسلے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کی حیثیت ،اور امت مسلمہ کو آخری امت کی حیثیت عطا کی ہے۔چونکہ اس کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجانا تھا اس لیے اللہ نے جہاں قرآن مجید کو آخری کتاب کے طور پر نازل کیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے وہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ حسنہ کو محفوظ کرنے کا اہتمام بھی کردیا ہے۔ قرآن پاک مسلمانوں کا دستور حیات ، قانون اور آئین ہے،لیکن اس کی توضیح و تشریح سنت و سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ قرآن اصول کی کتاب ہے جس میں احکام و مسائل کی تفصیلات نہیں ہیں۔ مثلاً قرآن مجیدمیں جابجا نماز پڑھنے کا تاکیدی حکم ہے۔ مگر اس کی ترتیب وکیفیت ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سےمعلوم ہوتی ہے۔ ایسے ہی شریعت کے تمام احکام و مسائل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمقرآن کے مبلغ بھی ہیں اور معلم بھی، اور منصب رسالت کے ان دونوں پہلوؤں کا ذکر قرآن کی متعدد آیات میں ہوا ہے۔ آپ نے قرآن کی تعلیم اپنے احکام و اقوال سے بھی فرمائی اور فعل و عمل سے بھی ۔عملی تعلیم کی مثال نماز، روزہ اور حج وغیرہ ہیں،جن کے بارے میں قرآن مجید میں ان کا اجمالی احکام ملتے ہیں۔ اور قولی تعلیم کی مثال رمضان کی راتوں کے بارے میں اللہ تعالٰی کے اس فرمان کی وضاحت ہے کہ “اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے تمہارے لئے سفید دھاگا سیاہ دھاگےسے۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس آیت کی وضاحت ہمیں صحیح بخاری ،کتاب التفسیر کی حدیث سے معلوم ہوتی ہے کہ سیاہ دھاگے سے مراد رات کی سیاہی اور سفید دھاگے سے مراد صبح کی سپیدی ہے۔چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک کو سمجھنے کے لئے سیرت کا جاننا ایک ناگریز ضرورت ہے۔
چونکہ اللہ تعالٰی نے آپ کی سیرت کو تمام انسانوں کے لئے نمونہ عمل بنایا ہے۔ لٰہذا اس کو وہ جامعیت عطا فرمائی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام گوشے اس مبارک سیرت میں سمٹ کر اکٹھا ہو گئے ہیں۔دنیا کے کسی بھی انسان کی سیرت اتنی جامع اور مکمل نہیں ہے،جتنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔ کرہ ارض کا ہر فرد آپ کی سیرت سے ہدایت حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ بادشاہ ہو یا حکمراں ہو، سیاستداں ہو یا فوجی کمانڈر ہو، حاکم ہو یا افسر ہو، طالب علم ہو یا معلم ہو، تجارت پیشہ ہو یا بکریاں چَرانے والا ہو، یا پھر شوہر، عزیز رشتہ دار اور دوست کی حیثیت سے ہو۔
مسلمانوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ حسنہ کی اسی اہمیت اور جامعیت کے پیش نظر اللہ تعالٰی نے آپ کی سیرت کی حفاظت کا ایسا انتظام فرمایا کہ آپ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ آئینے کی طرح ہمارے سامنے موجود ہے۔ آپ کے شب و روز کی ایک ایک ساعت کی تفصیل ہمارے سامنے بالکل روشن اور واضح ہے۔ دوسری طرف عام انسان تو کجا اگر قرآن شہادت نہ ہو تو اکثر انبیائے کرام کا تاریخی وجود بھی ثابت کرنا مشکل ہے۔ چند کو چھوڑ کر ایک لاکھ بیس ہزار انبیائے کرام کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں ہیں، جبکہ سیرت رسول کے صدقے میں صحابہ کرام اور اہل عرب میں سے ہزاروں افراد کے نام اور ان کی زندگی کے بے شمار گوشے قیامت تک کے لئے محفوظ ہو گئے ہیں۔ دورحاضر میں کمپیوٹر سائنس اور ذرائع ابلاغ کی غیر معلومی ترقی کے باوجود بھی کسی بڑے سے بڑے سیاسی لیڈر، فوجی قائد یا سماجی رہنما کی سوانح اس قدر مفصل اور منظم طور پر مرتب نہیں کی جا سکتی جیسے کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں اچھے اخلاق کا درس دیتی ہے۔ برائیوں سے روکتی ہے، نیکیوں کی رغبت دلاتی ہے، ایمان کو مستحکم بناتی ہے، یقین کو پختگی عطا کرتی ہے، صبر و استقامت کی تعلیم دیتی ہے، شکر و رضا کا پیغام دیتی ہےاور دین و دنیا کی صلاح و فلاح کا راستہ بتاتی ہے۔
اُسوہ کا مفہوم
"اسوہ" عربی زبان کا لفظ ہے اوریہ" اِسوہ" (الف کے نیچے زیرکے ساتھ اور "اُسوہ"(پیش کے ساتھ(، دونوں طرح سے موجودہے ۔ اسوہ اس حالت کا نام ہے جس میں انسان کسی کی پیروی کرے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
لقد کان لکم فی رَسولِ اللّٰہِ اُسوۃ حسنۃ لِمن کان یرجوا اللہَ والیوم الاخِرَ وذَکَرَ اللّٰہَ کثیرا۔(الاحزاب۳۳:۲۱)
"یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود)ہے،ہر اس شخص کے لیے جواللہ اورروز آخرت کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ کو یاد کرتا ہے۔"
یہ پیروی اوراقتداءاچھائی یا برائی دونوں حالتوں میں ہوسکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداءکو حسنہ سے مقید فرمایا ہے اور تاکید کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور افعال ہی انسانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں ۔ اور اس نمونے کی پیروی اور اتباع اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت پر یقین کی دلیل ہے ۔ اگر کسی دل میں جذبہ اتباع نہیں تو اس کا نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت پر ۔ انسان کی نجات کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ خدا کو مانے اور خدا کی کتاب کے قانون پر عمل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ نمونے کو اختیار کرے ۔اصول اور قانون کا بیان قرآن کی ذمہ داری ہے اوراس قانون کی تشریح اور تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے ۔
اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید میں بیان کردہ تمام اصول و ضوابط کو اپنی حیات طیبہ میں عملی صورت میں اپنی ذات پر بھی لاگو کیا اور اپنے صحابہ کرام کی زندگیوں کا حصہ بنا دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ایک سادہ ،قابل عمل اورایسی سیرت ہے جو تمام انسانوں کے لئے قابل تقلید اور نمونہ عمل ہے۔اللہ تعالٰیٰ نے قرآن مجید میں بار بار تاکید کی ہے :
وما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا ۔ ( الحشر : 7 )
" رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ ۔"
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کا حکم دیں اس کی پابندی واجب ہے اور جس چیز سے روکیں اس کا کرنا حرام ہے ۔ یہ امر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اللہ نے تمام انبیا کی اطاعت کو ان کی امت کے لیے فرض قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:
وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللّٰہ۔ ( النساء۴ : ۶۴ )
" ہم نے رسول بھیجا ہی اس لیے ہے کہ لوگ اس کی اطاعت کریں ۔"
اس آیت میں اللہ نے رسول کو مبعوث کرنے کا مقصدہی اس کی اطاعت قرار دیا ہے ۔ اگر کوئی اطاعت نہیں کرتا توگویا وہ رسالت کے مقصدہی سے انکا ر کرتا ہے۔
اسی طرح اس بات کا اعلان بھی اللہ نے کر دیا کہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اطاعت اور آپ کے احکام کی پیروی نہیں کرتے وہ مومن نہیں ہیں۔ ارشاد ہے:
فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ۔ ( النساء۴ : 65 )
" خدا کی قسم یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ لوگ آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مانیں ۔ پھر آپ کے فیصلوں کو دلی رضا مندی سے بے چوں و چرا قبول کریں ۔"
اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت کو اتھارٹی اور سند کی حیثیت سے بیان کیا ہے کہ وہ دنیوی حیثیت سے حاکم اور امیر ہیں اور اپنے روحانی منصب کے لحاظ سے پیغمبر ہیں ۔ جوشخص آپ کی ان دونوں حیثیتوں سے کیے گئے فیصلوں کا انکار کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے ۔سورہ احزاب میں ارشاد ہے:
وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ وَرَسُولُہ امرا ان یکون لھم الخِیَرَۃُ من امرھم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلٰلا مبینا۔( الاحزاب۳۳ : 36 )
" اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے بعد کسی مومن مرد اور عورت کو اپنے کسی امر میں اپنا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔جو بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی تمام مسلمانوں کے لیے اللہ کے حکم کی رو سےلازمی ہے۔ آپ کی سیرت اور اسوہ حسنہ کو جانے بغیر یہ فریضہ ادا نہیں ہو سکتا۔سے آگاہی کے بغیر آپ کی پیروی ممکن نہیں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امتیازی حیثیت کو اللہ تعالیٰ نے مزید وضاحت سے بیان کیا ہے کہ نہ تو آپ کی شخصیت کوئی عام شخصیت ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کوئی عام اور سرسری احکام ہیں کہ جن کی عدم پیروی کے باوجود انسان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ ارشاد ہے:
لا تجعلوا دعاءالرسول بینکم کدعاءبعضِکم بعضا قدیعلم اللہ الذین یتسَلَٓلُونَ منکم لو ِاذًا فلیحذرِ الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ او یصیبھم عذاب الیم ۔( النور۲۴ : 63 )
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور پکار کو تم اپنی باہمی دعوت و پکار کی طرح مت سمجھو، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دوسروں کی آڑ میں حیلوں اور بہانوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے بچنا چاہتے ہیں ۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہئیے کہ کہیں کسی آزمائش یا دردناک عذاب میں نہ مبتلا ہو جائیں ۔"

اس آیت سے بھی واضح ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ وہ عذاب الیم کے مستحق ہیں ۔ صرف قرآن ہی مسلمانوں کے لیےضابطہ حیات اور ماخذ قانون نہیں ہے، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ بھی قرآن کی طرح ضابطہ حیات اور ماخذ قانون ہے ۔ یہ دونوں ایمان کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ ان میں سےکسی ایک کا انکار پورے اسلام کے انکارکے مترادف ہے ۔قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس منصب و مقام کو پوری طرح وضاحت سے ذکر کیا ہے :

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم ولعلھم یتفکرون۔ ( النحل۱۶ : 44 )
" اور ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس چیز کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے اور تا کہ لوگ خود بھی غوروفکر کریں ۔ "
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری صرف ذکر( قرآن )کو پیش کرنا ہی نہیں ہے ۔ بلکہ اپنے عمل اور اپنی راہنمائی میں ایک پوری مسلم سوسائٹی کی تشکیل کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے ۔ منکرین حدیث کا یہ کہنا غلط ہے کہ ہم قرآن کو اپنی مرضی سے عربی لغت کی روشنی میں سمجھیں گے ۔ قرآن کی تشریح و توضیح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض منصبی ہے ۔ آپ کی تشریح کے بغیر قرآن نہیں سمجھا جا سکتا ۔ جبرائیل جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی پڑھنے کی کوشش کرتے ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ" لا تعجل بہ" جلدی نہ کرو ۔ اس کو یاد کرانا،اس کی حفاظت اور پھر اس کا بیان اور وضاحت بھی ہماری ذمہ داری ہے :" ثم ان علینا بیانہ" ۔ یہ آیت اس بات کی قطعی دلیل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ یعنی سنت و حدیث کے بغیر قرآن مجید کو سمجھا نہیں جا سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں اپنی اطاعت اور تسلیم و فرمانبرداری کا حکم دیا ہے وہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر بھی زور دیا ہے۔ اللہ نے آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ارشاد فرمایا:
من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔ ( النساء : 80 )
"جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ۔"
اسی طرح ارشاد فرمایا:
فاقیموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ واطیعوا اللہ ورسولہ واللہ خبیر بما تعملون۔ ( المجادلہ : 13 )
” نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ۔"
مذکورہ بالا آیات سے یہ حقیقت واضح ہے کہ کتاب و سنت دونوں اہل ایمان کے لیے مکمل ضابطہ حیات ، دستور زندگی ہیں ان دونوں کے مجموعے کا نام اسلام ہے۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبا ن سے اس طرح کہلوایا:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم ( آل عمران : 31 )
" اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا تمہاری غلطیاں معاف کر دے گا اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ "
اس آیت مبارکہ میں اس بات کو واضح کر دیا گیا ہےکہ اللہ تعالیٰ کی محبت صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس سے مختلف خیالات اور نظریات کواللہ نے باطل قرار دیا ہے ۔ مشرکین مکہ کا دعویٰ تھا کہ ہمیں خدا کی محبت حاصل ہے ۔ کیونکہ ہمیں بیت اللہ کی تعمیر اور حجاج کرام کی خدمت و ضیافت کا شرف حاصل ہے ۔ خانہ خدا کے ہمسایہ ہیں ۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا خیال کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں ہم کو یہ شرف حاصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں واضح فرما دیا ہے کہ دعویٰ محبت صرف اس کا درست ہے جو میرے نبیﷺ کی پیروی کرے گا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
"من احب سنتی فقد احبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ ۔ ( جامع ترمذی ،باب العلم )
" جو میری پیروی کرے گا اور میری سنت سے محبت کرے گا اس نے مجھ سے محبت کی جو اس طریق سے محبت کرے گا وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا ۔ "
اللہ تعالی نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم بھی ارشاد فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی وحی کی روشنی میں بیان فرماتے ہیں ۔ اپنی طرف سے امور دین میں کچھ نہیں کرتے ۔ قرآن مجید میں ہے :
وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی ( النجم۵۳ : 4۔3 )
"(اللہ کے رسول)اپنی خواہش سے کچھ بیان نہیں کرتے جو کچھ بیان کرتے ہیں وحی کے ذریعے بیان کرتے ہیں جو ان پر کی جاتی ہے۔"

اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چند مثالیں
اخلاق فاضلہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے سے جو ہدایات دیں آپ نے سب سے پہلے خود ان پرعمل کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :
کان خلقہ القرآن۔
" یعنی قرآن ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تھا ۔"
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے صرف الفاظ ہی لوگوں کو نہیں سنائے ، بلکہ خود اس کا عملی نمونہ پیش کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا قرآن میں حکم دیاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدرجہ اولیٰ اس پر عمل کیا ۔ جن اخلاقی صفات کواللہ نے فضیلت قرار دیا ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ان سے متصف تھی اور جن رذائل اخلاق کو ناپسندیدہ ٹھہرایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر ان سے پاک تھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے کچھ پہلو بیان کیے ہیں :
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا ۔ کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا ۔ جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا ۔ اپنی ذات کے سوا کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی گئی، الا یہ کہ کسی نے اللہ کی حرمتوں کو توڑا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب دو کاموں میں سے ایک کام کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسان تر کام کو پسند کرتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اس سےدور رہتے تھے ۔"
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میری کسی بات پر اف تک نہ کی ۔ کبھی میرے کام پر یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کیوں کیا اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ یہ کیوں نہ کیا ۔" ( بخاری ، مسلم ، مشکوٰۃ ص : 518 )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند اخلاق کی شہادت قرآن مجید نے اس طرح دی ہے:
ن والقلم وما یسطرون۔ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون۔ وان لک لاجرا غیر ممنون۔ وانک لعلیٰ خلق عظیم۔ ( القلم۶۸ : 1۔4 )
" قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو ۔ اور یقینا تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو ۔ "
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالی دینے والے ،سخت گو اورلعنت کرنے والے نہ تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں سے کسی پر غصہ بھی آتا صرف اتنا فرماتے اس کو کیا ہو گیا ۔ اس کی پیشانی میں خاک لگے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ فرد کامل ہیں جن میں اللہ نے وہ تمام اوصاف پیدا کئے ہیں جو انسانی زندگی کے لئے مکمل لائحہ عمل بن سکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں اپنے کردار ، فاضلانہ وشیریں اخلاق اور کریمانہ عادات کے سبب سب سے ممتاز تھے ۔ مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بامروت ، سب سے زیادہ خوش اخلاق ، سب سے زیادہ معزز ہمسائے ، سب سے بڑھ کر دور اندیش ، سب سے زیادہ راست گو ، سب سے زیادہ نرم پہلو ، سب سے زیادہ پاک نفس ، سب سے زیادہ خیر اندیش ، سب سے زیادہ کریم ، سب سے زیادہ نیک ، سب سے بڑھ کر پابند عہد اور سب سے بڑے امانتدار تھے ۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب ہی امین رکھ دیا تھا ۔ اور ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ رضی اللہ عنہ کی صداقت و دیانتداری کو دیکھ کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی تھی ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثالی قائد
کسی قوم ،ادارے یا مملکت کی قیادت ایک ایسا حساس منصب ہے جس کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت اور آمادگی ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ جو لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں وہ اپنی لیاقت سے اس منصب کو چار چاند لگا دیتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں سے بے شمار لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور جو لوگ اس کی اہلیت نہیں رکھتے وہ اپنی حماقتوں سے اپنے ساتھیوںمیں بد دلی پیدا کرتے ہیں اوراپنے نصب العین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم تاریخ عالم میں مثالی قائد کے منصب پر فائز دیکھتے ہیں۔دنیا میں جتنے بھی قائدین گزرے ہیں ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے اونچا مقام حاصل ہے۔آپ کی قائد انہ صلاحیتوں کا اعتراف نہ صرف اپنوں نے بلکہ بیگانوں نے بھی کیا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت میں، بحیثیت قائد اور لیڈر ،ہمارے لئے کیا نمونہ موجود ہے۔
نرم خوئی
قیادت کے لئے ایک بہت ضروری صفت نرم خو ہونا ہے۔قائد اگر سخت مزاج ہو تو وہ بہت زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر نہیں چل سکتا۔یہ وہ صفت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ قرآن میں اس طرح کرتاہے:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ۔ (آل عمران۳: ۱۵۹)
"اے پیغمبر! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے ہو، ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے، ان کے قصور معاف کر دو اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔
قبولیت عامہ
قیادت کا منصب اس بات کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ قائد لوگوں کے درمیان مقبول اور ہر دل عزیز ہو۔قائد کا کام عوام کو اپنے گرد جمع کرنا اور ان کو ایک خاص مقصد کے حصول کے لئے سرگرم رکھنا ہوتا ہے۔جب تک لوگ اس کے چاہنے والے اور اس سے محبت کرنے والے نہیں ہوں گے وہ ان سے کام نہیں لے سکے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جو شخص ایک بار آپ سے ملاقات کر لیتا اور آپ کو دیکھ لیتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔لوگ آپ کے ایک اشارے پر اپنی جان دینے کے لئے آمادہ رہتے تھے۔غزوہ بدر کے موقع پر جو گفتگو ہوئی اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اورہر دلعزیزی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ نے کہا:”اے اللہ کےرسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ بار بار دریافت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہم لوگوں سے کچھ چاہتے ہیں۔ اگر آپ ہم لوگوں سے ہماری رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو ہم یہی کہیں گے کہ آپ اگر حکم دیں گے تو ہم سمندر میں کود جائیں گے۔ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ آپ کو خدا کا رسول مانتے ہیں۔ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ آپ جو چیز ہمارے سامنے لائے ہیں وہ حق ہے۔ اس پر ہم آپ کو قول دے چکے ہیں اور آپ کی فرماں برداری اور اطاعت پر مستحکم وعدہ کر چکے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کا رسول کفار کے مقابلے کو جائے اور ہم گھر میں بیٹھے رہیں۔“ ان کی تقریر ختم ہوتے ہی قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں:یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔آپ جہاں چاہیں ہمیں لے چلیں۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے۔ آپ ہمیں میدان جنگ میں ثابت قدم پائیں گے۔ ان شاءاللہ ہمارا ایک بھی شخص پیچھے نہ ہٹے گا۔ہم جنگ کرنے کے لئے بڑے مضبوط اور مقابلے میں کامل ہیں۔ امید ہے کہ اللہ ہماری جانب سے آپ کو ایسے کارنامے دکھائے گا جن سے آپ مطمئن ہو جائیں گے۔آپ جو کہیں گے ہم وہی کریں گے۔ہمیں آپ کبھی کسی سے پیچھے نہ پائیں گے۔
تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ دنیا میں جو بھی قائد پیدا ہوا ہے، اس کی مقبولیت ایک خاص مدت تک اور ایک خاص گروہ کے نزدیک تو رہی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں کمی آتی چلی گئی یہاں تک کہ لوگ اسے بھول گئے۔مگر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی وہ خورشید جہاں تاب ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال گزرجانے کے بعد بھی آپ کی مقبولیت میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوئی ہے۔مقبولیت کایہ بے مثال نمونہ ہمیں کہیں اور نہیں نظر آتا ہے۔
اعلیٰ اخلاقی اقدار
ایک قائد کے اندر اعلیٰ اخلاقی اقدار کا پایا جانا انتہائی ضروری ہے۔ اگرقائد کے اندر کردار اور اخلاق کی بلندی نہ ہو تو وہ لوگوں کے لئے ایک بہترین نمونہ نہیں بن سکے گا۔جو لوگ اس صفت سے عاری ہوتے ہیں وہ قائد تو بن جاتے ہیں اور ان کے پیچھے چلنے والے ایک خاص مقصہ، ضرورت یا مجبوری کے تحت ان کی کی تعریف و توصیف بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں قائد کے لئے کوئی عقیدت نہیں ہوتی۔اس پہلو سے آپ کی شخصیت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بچپن ہی سے نہایت اعلیٰ کردار کے حامل تھے۔بچپن ہی سےآپ میں شرم و حیا کی کیفیت اس درجہ تھی کہ ایک بار کعبہ کی ایک دیوار مرمت ہو رہی تھی۔بڑے ، بوڑھے اور بچے سب کام میں لگے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بچوں کے ساتھ پتھر اٹھا اٹھاکر لا رہے تھے ۔ اس وقت آپ کی عمر صرف دس سال تھی۔پتھر ڈھوتے ڈھوتے جب کاندھے چھلنے لگے توسب لڑکوں نے اپنے اپنے تہبند کھول کر کاندھوں پر رکھ لئے ۔آپ کے چچا جان نے آ پ کا تہبند کھول کر کندھے پر رکھنا چاہا تو آپ شرم سے بے ہوش ہر کر گر پڑے۔
بچپن اور نوجوانی کی عمر سیرو تفریح کی دلدادہ ہوتی ہے۔ مکہ میں دستور تھا کہ رات کے وقت قصے کہانیوں اور ناچ گانوں کی محفلیں جما کرتی تھیں۔ لوگ بڑے شوق سے شریک ہوتے تھے۔پیارے نبی کے ساتھی آپ سے بھی ان محفلوں میں شریک ہونے کے لئے برابر کہا کرتے، لیکن آپ ٹال دیا کرتے تھے۔ ایک بار جب انہوں نے مجبور کردیاتوآپ ان کے ساتھ ہو لئے۔راستہ میں آپ کی پھوپھی کا مکان تھا۔ وہ آپ سے بہت محبت کرتی تھیں۔انہوں نے جوآپ کو دیکھا تو بلا لیا، باتیں کرنے لگیں۔باتوں باتوں میں آپ وہیں لیٹ کر سو گئے اوراس محفل میں شرکت سے بچ گئے۔
آپﷺ فرماتے تھے کہ :انمابعثت لا تمم مکارم الاخلاق :"بے شک مجھے اس لئے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کر دوں۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا میں اخلاقیات کا تصور تو موجود تھا لیکن ان اخلاقی اقدارکو کسی نے عملی صورت میں نہیں دیکھا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان کارنامہ ہے کہ آپ نے نہ صرف اخلاقیات کے اصول و مبادی سمجھائے ۔بلکہ ان کو عملی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔
حکمت و دانائی
حکمت و دانائی ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر قیادت کا کام کیا ہی نہیں جا سکتا ہے۔ قرآن پاک کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف یہ کہ حکمت کی اعلیٰ صفات رکھتے تھے، بلکہ آپ اس کی تعلیم دینے پر مامور کئے گئے تھے۔ آپ کی بعثت کا ایک مقصد انسانوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دینا تھا۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:
ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم اٰیٰتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتٰب والحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلٰل مبین۔
(الجمعۃ ۶۲: ۲ )
"وہی ہے جس نے امیوںکے اندرایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا، جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی حکمت و دانائی کے واقعات سے پر ہے۔مکہ کی زندگی کانٹوں بھری شاہراہ تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت اور پالیسی کا نتیجہ تھا کہ قریش کی تمام تر کوششوں کے باوجود آپ نے کبھی تصادم کی نوبت نہ آنے دی۔ہر ایسی کا رروائی سے گریز کیا جس سے آپ کے نصب العین اور ہدف کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔دوسری طرف اپنے ساتھیوں کے جذبات کو بھی اپنے قابو میں رکھا اور انھیں بد دل نہیں ہونے دیا۔ان کی امیدوں اور توقعات کی مشعل برابر جلتی رہی۔
رحمۃ للعالمین
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔ آپ کی رحمت کےیہ خزانے بلا تخصیص جنس ومذہب و ملت ،تمام انسانوں اور حیوانات و جمادات کے لیےتھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
وَمَا اَرسلنٰکَ إِلَّا رَحمۃٌ لِلعَالَمِین (الانبیا ۱۰۷ )
اور ہم نے آپ کو سب جہانوں کے لیے صِرف رحمت بنا کر بھیجاہے ۔" "
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اِنسانوں کے لیے ہی رحمت نہیں تھے ، بلکہ ساری مخلوق کے لیے رحمت تھے۔اہل ایمان کے لیے آپ کی رحمت خصوصی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
لَقَد جَاء کُم رَسُولٌ مِّن أَنفُسِکُم عَزِیزٌ عَلَیہِ مَا عَنِتُّم حَرِیصٌ عَلَیکُم بِالمُؤمِنِینَ رَؤُوفٌ رَّحِیمٌ ۔ ( التوبہ :١٢٨ )
"تُم لوگوں کے پاس تُم میں سے ہی رسول تشریف لائے ہیں جِن کو تمہارے نُقصان والی بات بوجھل لگتی ہے اور جو تُمہارے فائدے کے خواہش مند رہتے ہیں اِیمان والوں کے ساتھ بہت شفیق اور مہربانی کرنے والے ہیں۔"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہما )کو چوم رہے تھے ، اقرع بن حابس(رضی اللہ عنہُ )نے یہ منظر دیکھا تو عرض کیا :" اے رسول اللہ میرے دس بیٹے ہیں لیکن میں نے اُن میں سے کبھی کسی کو نہیں چوما ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھ کرفرمایا: مَن لَا یَرحَمُ لَا یُرحَمُ:"جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔"(بخاری، کتاب الاداب)
مکہ والوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں پربے پناہ ظلم کیے تھے،لیکن جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی معافی کا عام اعلان فرما تے ہوئے اِرشاد فرمایا : تُم لوگوں پر آج کوئی گرفت نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اِنسانوں کے لیے رحمت تھے
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے اور طائف والوں نے اُن کی دعوت کے جواب میں پتھراو کِیا ، یہاں تک آپ کے جوتے خون سےبھر گئے ۔اس دُکھ اور تکلیف کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے ان کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔(صحیح بخاری،کتاب الایمان۔(
آپ ﷺ جانوروں کے لیے بھی رحمت تھے
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہُ فرمانے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے تشریف لے گئے ۔اِس دوران ہم نے ایک حُمرہ (چڑیا جیسا ایک چھوٹا پرندہ) دیکھی جِس کے ساتھ اُس کے دو بچے بھی تھے ۔ہم نے وہ بچے لے لیے ، وہ حُمرہ آئی اور اِدھر اُدھر اُڑنے لگی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور اُس حُمرہ کو دیکھ کر فرمایاا :::کِس نے اِس کو اِس کے بچوں کی وجہ سے خوف زدہ کر رکھا ہے ؟ اِس کے بچے اِس کی طرف واپس پلٹاؤ۔
ابو یعلیٰ شداد بن او س سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے ہر چیز پر احسان کو فرض قرار دیا ہے۔پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔اور چاہیے کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبح کے جانور کو راحت پہنچائے۔(صحیح مسلم)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمادات کے لیے بھی رحمت تھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درخت کے تنے کے ساتھ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔جب آپ کے لیے منبر تیار کیا گیا اورآپ نے اُس تنے کو چھوڑ دِیا تو اُس تنے میں سے سسکیوں کی آواز آنے لگی جو بڑہتی گئی اور لوگوں نے اُس میں سے بیل کے خرخرے جیسی آواز سُنی، یہاں تک مسجد اُس کی پر سوز آواز سے گونج اُٹھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور اُس تنے پر اپنا ہاتھ مُبارک رکھا تو وہ خاموش ہو گیا ۔صحابہ کا کہنا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس تنے کے ساتھ ایسا شفقت کا معاملہ نہ فرماتے تو وہ قیامت تک آپ کے فراق میں سسکتا رہتا۔(سنن ابن ماجہ)
حضور بطور معلم اور مربی
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری تعلیم و تربیت اور تزکیہ بھی قرار دی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس ذمہ داری کو نہایت توجہ اور خلوص سے ادا فرماتے تھے۔آپ عورتوں، بچوں ،بوڑھوں اور نوجوانوں کی تعلیم وتربیت بڑی شفقت اور توجہ سے فرما تے تھے۔اس معاملے میں اپنی مجلس میں بڑوں اور چھوٹوں میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے۔آپ نہایت حکمت اور محبت سے تعلیم دیتے تھے۔آپ کے طریقہ تعلیم کی مثال اس سے پہلے دنیا کے کسی لیڈر اور مصلح میں نہیں ملتی۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر فرمایا: اللَّھُم فَقَھُہُ فِی الدِین و علِّمہ ُ التأویل:" اے اللہ اِسےدین کی فقہ(سمجھ بوجھ عطا فرما۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آدمی کی ذہنی سطح کے مطابق اور اس کے حالات کی مناسبت سے گفتگو فرماتے تھے۔اپنی محفل میں چھوٹے بچوں کو توجہ اور پیار دیتے تھے۔
عُمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ میں چھوٹا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود مُبارک میں تھا اور (کھانے کے دوران ) میرا ہاتھ تھالی (پلیٹ)میں ادِھر اُدھر چل رہا تھا (یعنی میں اِدھر اُدھر سے چُن یا لے رہا تھا )تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بچے( پہلے)اللہ کا نام لو اور اپنے دائیں ہاتھ سےکھاؤاور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھاؤ۔اُس وقت سے اب تک میرے کھانے کا طریقہ وہی ہے (جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سِکھایا) (بخاری ،کتاب الاطعمہ)
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُ کا فرمان ہے کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُن کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھ ہوا تھا کہ آپ نے فرمایا:اے بچے میں تُمہیں کچھ باتیں سِکھا رہا ہوں ( اِنہیں یاد رکھنا ) اللہ (کے حقوق )کی حفاظت کرو وہ تُماری حفاظت کرے گا ، اللہ (کے حقوق )کی حفاظت کرو تُم اُسے اپنے پاس پاؤ گے ، اور اگر سوال کرو تو صِرف اللہ سے سوال کرو ، اور اگر مدد مانگو تو صِرف اللہ سے مدد مانگو ، اور جان لو کہ اگر سب کے سب مل کر تُمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچائیں سکتے، سِوائے اُس کے جو اللہ نے تُمہارے لیے لکھ دِیا ہے ، اور اگر سب کے سب مل کر تُمہیں کوئی نُقصان پُہنچانا چاہیں تو نہیں پُہنچا سکتے سِوائے اُس کے جو اللہ نے تُمہارے لیے لِکھ دِیا ہے ، (اور جان لو کہ ) قلمیں اُٹھا لی گئی ہیں اور لکھے ہوئے اوراق خُشک ہو چکے ہیں۔(ترمذی)
سربراہ خاندان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی بھی سادگی،بے تکلفی، تواضع اور انکساری کا بہترین نمونہ تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ ،رشتہ داروں اور دیگر احباب سے نہایت توجہ اور محبت سے پیش آتے اور ان کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ گھر میں کیا کرتے تھے تو انھوں نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اِنسانوں میں سے ایک اِنسان تھے۔ اپنے گھر میں اُس طرح کام کیا کرتے تھے جِس طرح تُم لوگ کرتے ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوتا مُرمت فرماتے ، اپنا کپڑا سیتے ، اپنے برتن میں پانی بھرتے۔ اپنے کپڑوں کی صفائی کرتے اور اپنی بکری کا دُودھ نکالتے اور اپنے کام خود کرتےتھے۔ (ترمذی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے ساتھ بہت خوش اخلاقی اور محبت سے پیش آتے، تاکہ ان کے دل خوش ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو محبت سے مختصر نام کے ساتھ پکارتے اور فرمایا کرتے:یاعائش ھٰذا جبریل یقرئک السلام:" اے عائش!یہ جبرائیل آئے ہیں اور تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت اور ان کی محبت کو ہمیشہ خیر اور مُحبت سے یاد فرمایا کرتے ۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم جہادِ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنھا کے لیے خود چادر تانے رہے تاکہ آپ پردے میں رہ سکیں۔اسی طرح جب آپ سواری پر سوار ہونے لگیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنا گھٹنا مبارک آگے کیا تاکہ وہ اس کا سہارا لے کر اونٹ پر بیٹھ سکیں۔یہ عمل بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے تواضع اور انکسار کو بڑی وضاحت کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔، باوجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامیاب اور فاتح قائد اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول تھے ، لیکن اس کے باوجود تواضع اور انکسار سے کام لیتے تاکہ اُن کی اُمت کو یہ علم ہو جائے کہ اپنی بیگمات کے ساتھ محبت اور عزت والا روّیہ اختیار کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اورعظمت میں کوئی فرق نہیں آتا تو کسی اور کی عِزت میں بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔آپ اپنی تمام ازواج کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھتے تھے اور کسی بیوی کو دوسری پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ان کے درمیان عدل اور مساوات قائم رکھتے تھے۔
حضرت عائشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور توجہ کے بارے میں فرماتی ہیں کہمیں حیض کی حالت میں (بھی) کچھ پیتی اور (پینے کے بعد ) وہ برتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی تو آپ اپنا مُنہُ مُبارک (برتن پر ) اُس جگہ رکھتے جہاں (پیتے ہوئے ) میں نے مُنہ رکھا ہوتا اور میں حیض کی حالت میں گوشت کھاتے ہوئے ( گوشت کے بڑے ٹُکڑے پر سے دانتوں کے ساتھ ) کھینچ کر گوشت کا نوالہ اُتارتی اور پھر رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا مُنہُ مُبارک (گوشت پر ) اُس جگہ رکھتے جہاں (نوالہ توڑتے ہوئے ) میں نے مُنہ رکھا ہوتا۔(مسلم ،کتاب الحیض)
آپصلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں کے لیے بہترین باپ تھے اور اُن کو خوش اورمطمئن فرمانے کی پوری کوشش کرتے تھے۔جب کبھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس تشریف لاتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازراہ محبت ان کے استقبال کےلیے اٹھ کھڑے ہوتے ، اُن کا ہاتھ تھامتے اور اُن کے ماتھے پہ بوسہ دیتے اور اُنہیں اپنے بیٹھنے کی جگہ پر ساتھ بٹھاتے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِستقبال کے لیے کھڑی ہوتیں اور آپ کا ہاتھ مبارک تھامتیں ،اس پربوسہ دیتیں اور اپنے بیٹھنے کی جگہ میں آپ کو بٹھاتیں۔(سنن ابو داؤد)۵۲۱۷
اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرایک نبی اور رسول ہونے کی وجہ سے ، بحیثیت حکمران و قائد اور سپہ سالار بہت زیادہ ذِمّہ داریاں تھیں لیکن ان تمام تر ذِمّہ داریوں کے باوجود جہاں آپ ایک کامیاب حکمران ، قائد اور سپہ سالار تھے ، وہیں ایک بہترین والد بھی تھے اور ان تمام تر ذِمّہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کے احوال کی خبر رکھتے ،اُن کے مسائل اور ضروریات کو حل فرمانے کے لیے خود اُن کے پاس تشریف لے جایا کرتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلما پنے نواسوں حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے بھی انتہائی محبت سے پیش آتے ۔ ان کے ساتھ اپنے گھر میں کھیلتے اور اُن کو خوش کرنے کےلیے اپنی زُبان مُبارک اپنے مُنہ مُبارک سے باہر نکالتے۔ وہ دونوں بھاگے بھاگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور آپ کی زُبان مُبارک پکڑنا چاہتے تو آپ اپنی زبان مُبارک واپس مُنہ میں داخل فرما لیتے اور اپنے دانتوں کو سختی سے بند کر لیتے۔ اس پر وہ دونوں ہنسنے لگتے ۔
عبادت و ریاضت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے ۔ اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن ہی سے بری محفلوں اور مناہی منکرات کے کاموں سے بچائے رکھا ۔ آپ نبوت سے پہلے ہی معاشرے کی خرابیوں اور برائیوں سے کنارہ کش ہو کر غار حرا میں تشریف لے جاتے تھے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرتے اور اس کی قدرتوں اور تخلیق پر غور فرماتے۔ پھر جب اللہ نے نبوت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے زیادہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو گئے ۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کو تہجد کی نماز میں ) اس قدر قیام فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک متورم ہوجاتے ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کہا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : افلا اکون عبدا شکورا ،کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔(بخاری،کتاب الصلوۃ)
شجاعت و بہادری
آپ صلی اللہ علیہ وسلم شجاعت ، بہادری اور دلیری میں بھی سب سے منفرد تھے ۔ نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جبکہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پاؤں اکھڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ برقرار رہے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے ہی بڑھتے گئے ۔آپصلی اللہ علیہ وسلم کے پائے ثبات میں ذرا برابرلغزش نہ آئی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی دشمن کے قریب نہ ہوتا ۔(الرحیق المختوم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک رات مدینہ میں کسی خطرے کی افواہ پھیلی۔ لوگ جمع ہو کرحالات جاننے کے لیے نکلے تو راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے ہوئے ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پہلے ہی خطرے کے مقام کا جائزہ لے چکے تھے ۔آپ نے فرمایا، ڈرو نہیں ، ڈرو نہیں۔
بہترین منتظم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہترین منتظم تھے۔آپ کے مدینہ آنے سے،صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن قبائل اوس اور خزرج کےدرمیان لڑائی جھگڑا ختم ہوا اور ان میں اتحاد اور بھائی چارہ پیدا ہو گیا۔ اس کے علاوہ یہاں کچھ یہودیوں کے قبائل بھی تھے جو ہمیشہ فساد کا باعث بنے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آنے کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ 'میثاق مدینہ' نے مدینہ میں امن کی فضا پیدا کر دی۔میثاق مدینہ کو بجا طور پر تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ 730 الفاظ پر مشتمل ایک جامع دستور ہے جو ریاست مدینہ کا آئین تھا۔ 622ء میں ہونے والے اس معاہدے کی 53دفعات تھیں۔ یہ معاہدہ اور تحریری دستور مدینہ کے قبائل (بشمول یہود و نصاریٰ) کے درمیان جنگ نہ کرنے کا عہد تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں مسلمانوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تدبر اور حسن انتظام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بحیثیت سپہ سالار
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہترین سپہ سالار تھے۔آپ نے اپنی زندگی میں اٹھائیس جنگوں میں حصہ لیا۔جن کو غزوہ کہتے ہیں اور جن میں آپ شریک نہیں تھے انہیں سریہ کہا جاتا ہے۔ اہم غزوات یا سریات درج ذیل ہیں:
غزوہ بدر
رمضان 2ھ (17 مارچ 624ء) کو بدر کے مقامات پر مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان غزوہ بدر ہوا۔مسلمانوں کی تعداد 313 جبکہ کفار مکہ کی تعداد 1300 تھی۔ مسلمانوں کو جنگ میں فتح ہوئی۔ 70 مشرکینِ مکہ مارے گئے جن میں سے 36 حضرت علی علیہ السلام کی تلوار سے ھلاک ہوئے۔ مشرکین 70 جنگی قیدیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مسلمان شہداء کی تعداد 14 تھی۔ جنگ میں فتح کے بعد مسلمان مدینہ میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھرے۔
غزوہ احد
شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں ابوسفیان نے 3000 کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیامسلمانوں نے احد کے مقام پر یہ جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔اس وجہ سے اسے غزوہ احد کہا جاتا ہے۔ آپ نے مسلمانوں کے ایک گروہ کو ایک ٹیلے پر مقرر فرمایا تھا اور یہ ہدایت دی تھی کہ جنگ کا جو بھی فیصلہ ہو وہ اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ ابتدا میں مسلمانوں نے کفار کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ٹیلے پر موجود لوگوں نے بھی یہ سوچتے ہوئے کہ فتح ہو گئی ہے ۔مالِ غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ خالد بن ولیدنے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے،مسلمانوں کی بے خبری کا فائدہ اٹھایا اور پچھلی طرف سے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اچانک تھا۔ مسلمانوں کو اس سے کافی نقصان ہوا۔
غزوہ خندق (احزاب)
شوال۔ ذی القعدہ 5ھ (مارچ 627ء) میں مشرکینِ مکہ نے تمام عرب سے جنگ جو جمع کرکے مسلمانوں سے جنگ کا ارادہ کیا۔ مگر مسلمانوں نے حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ مشرکینِ مکہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ چنانچہ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے کئی افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ بعض روایات کے مطابق ایک آندھی نے مشرکین کے خیمے اکھاڑ پھینکے۔
غزوہ بنی قریظہ
ذی القعدہ ۔ ذی الحجہ 5ھ (اپریل 627ء) کو یہ جنگ ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔
غزوہ بنی مصطلق
شعبان 6ھ (دسمبر 627ء۔ جنوری 628ء) میں یہ جنگ بنی مصطلق کے ساتھ ہوئی۔ مسلمان فتح یاب ہوئے۔
غزوہ خیبر
محرم 7ھ (مئی 628ء) میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یہ جنگ ہوئی ،جس میں مسلمان فتح یاب ہوئے۔
جنگِ موتہ
جمادی الاول 8ھ (اگست ۔ ستمبر 629ء) کو موتہ کے مقام پر یہ جنگ ہوئی۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شریک نہیں ہوئے تھے اس لیے اسے غزوہ نہیں کہتے۔
فتح مکہ
رمضان 8ھ (جنوری 630ء) میں مسلمانوں نے مکہ فتح کیا۔ جنگ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی ۔کیونکہ مسلمانوں کی ہیبت سے مشرکینِ مکہ ڈر گئے تھے۔ اس کے بعد مکہ کی اکثریت مسلمان ہو گئی تھی۔
غزوہ حنین
شوال 8ھ (جنوری ۔ فروری 630ء) میں یہ جنگ ہوئی۔ پہلے مسلمانوں کو شکست ہو رہی تھی مگر بعد میں وہ فتح میں بدل گئی۔
تبوک
رجب 9ھ (اکتوبر 630ء) میں یہ افواہ پھیلنے کے بعد کہ بازنطینیوں نے ایک عظیم فوج تیار کر کے شام کے محاذ پر رکھی ہے اور کسی بھی وقت حملہ کیا جا سکتا ہے، مسلمان ایک عظیم فوج تیار کر کے شام کی طرف تبوک کے مقام پر چلے گئے۔ وہاں کوئی دشمن فوج نہ پائی اس لیے جنگ نہ ہو سکی ۔

 
گوندل's Avatar
گوندل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 488
شکریہ: 287
386 مراسلہ میں 1,216 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1028
Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, قرآن, نماز, مکہ, ماں, مجید, مسجد, مشعل, ایمان, اسوہ رسول, بچوں, تعلیم, حدیث, خدا, دوست, دریافت, روزہ, رمضان, راستہ, سیرت طیبہ, سائنس, عورت, عبادت, غار, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جادو صرف علی پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 34 04-08-13 12:37 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام سعود ناصر اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام کا ثواب عادل سہیل عقیدہ رسالت 18 22-05-10 09:32 AM
تکمیل اِیمان کی شرط ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 3 15-05-10 09:55 AM
مدینہء منورہ شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم sahj متفرقات 2 12-02-10 12:45 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:45 AM

cpanel hosting 

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2014,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger