| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پنجابی ادب کی پہچان اور شان برصغیر کے مشہور شاعر استاد دامن ۳ ستمبر ۱۹۱۱ کو لاھور میں پیدا ھوئے۔ بچپن سے مزحیہ اشعار کہتے تھے اور حافظ قرآن بھی تھے ۔ باپ ریلوے میں ملازم تھا اور پارٹ ٹائم کپڑے سیتا تھا جب کام زیادہ ھوتا تو سکول سے اٹھا کر کپڑے کی دوکان پر بیٹھا دیتا اور جب کام کم ھوجاتا واپس سکول داخل کروا دیتا اسطرح استاد دامن نے میٹرک پاس کیا اور دیال سنگھ کالج لاھور میں داخل ھوئے۔ آغاز شباب میں آزادی کے گیت گانے شروع کئے اور موچی دروازے کے ایک جلسے میں جسکی صدارت پنڈت جواھر لال نہرو کر رھے تھے استاد دامن کی ایک نظم نے لوگوں کے دلوں میں تہلکہ مچا دیا
دنیا ہن پرانی دے نظام بدلے جان گے اونٹ دی سواری دے مقام بدلے جان گے امیری تے غریبی دے نام بدلے جان گے آقا بدلے جان گے غلام بدلے جان گے آزادی ملنے کے بعد کے ہنگاموں میں استاد جی کی ذاتی لائبریری جلاؤ گھیراؤ کی نذر ھو گئی جس میں انکی قیمتی کتابوں کے مسودے بھی جل گئے اور انہوں نے مسودوں کو سنبھالنا ھی چھوڑ دیا اور اسطرح انکا بہت سا کلام ضائع ھوا۔ استاد جی کا سیاسی رنگ اور مزحیہ انداز اپنے مخصوص انداز میں پاکستان کے مسائل اور بے انصافی کی سچی عکاسی کرتا ھے۔ پاکستان دی عجب اے ونڈ ھوئی تھوڑا ایس پاسے تھوڑا اوس پاسے ایہناں جراحاں نے کی علاج کرنا مرہم ایس پاسے پھوڑا اوس پاسے اساں منزل مقصود تے پہنچنا کیہ ٹانگہ ایس پاسے گھوڑا اوس پاسے آزادی کے کچھ عرصہ بعد دلی میں ایک مشاعرہ ھوا جسکی صدارت اس وقت کے وزیراعظم انڈیا پنڈت جواھر لال نہرو کر رھے تھے استاد دامن کو وھاں بلایا گیا تھا اور انہیوں نے مشاعرے میں فی البدیہیہ نظم پڑھی۔ جاگن والیاں رج کے لٹیا اے سوئے تسی وی او سوئے اسیں وی آں لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے روئے تسی وی او روئے اسیں وی آں اس نظم کو سننے کے بعد نہرو رو پڑے اور انہوں نے استاد دامن کو ماھوار وظیفے کے ساتھ انڈیا رھنے کی دعوت دی اور نڈین نشنیلٹی دینے کا وعدہ کیا مگر استاد جی کی وطن سے محبت تھی کہ تاریخی جواب دیا " کہ نہیں سرکار رھوں گا لاھور میں چاھے جیل میں رھوں" استاد جی کو بہت سی زبانوں پہ مہارت حاصل تھی جن میں پنجابی، اردو، ہندی، سنسکرت،انگریزی،فارسی، بنگالی، اور روسی شامل ھیں آخری عمر میں پشتو سیکھ رھے تھے۔ وہ پنجابی کے حبیب جالب تھے اور بھٹو اور ضیاء دور میں اپنی بے باک نظموں کی وجہ سے جیل کاٹ چکے ھیں۔ کدی شملے جانا این کدی مری جانا ایں لاہی کھیس جانا ایں کھچی دری جانا ایں ایہہ کیہ کری جانا ایں ایہہ کیہ کری جانا ایں میرے ملک دے دو خدا لا الہ تے مارشل لاء اک رہندہ اے عرشاں اتے دوجا رہندا فرشاں اتے اوہدا ناں اے اللہ میاں ایہدا ناں اے جرنل ضیاء واہ بئی واہ جرنل ضیاء کون کہندا تینوں ایتھوں جا استاد جی نے ساری عمر ایک حجرے میں گزار دی اور تصوف کی بہت سی منازل طے کیں جب میں نویں کلاس میں پڑھتا تھا تو مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ھوا وہ ایک سادہ بان کی چارپائی پر بیٹھے تھے اور ارد گرد کتابوں کا ڈھیر تھا میں زمین پر دونوں زانوں انکے سامنے بیٹھ گیا،انہوں نے تصوف پر بہت خوبصورت باتیں کیں اور اشعار بھی سنائے انہوں نے کہا بیٹا زندگی میں ایک بات یاد رکھنا زندگی کی حفاظت موت کرتی ھے، دولت کی حفاظت سخاوت کرتی ھے، علم کی حفاظت درویشی کرتی ھے۔ اسی سال سن چوراسی میں ان کا انتقال ھوا اور تصوف و مستی کا ایک باب بند ھو گیا۔ مسجد مندر تیرے لئی اے باہر اندر تیرے لئی اے دل قلندر تیرے لئی اے سک اک اندر تیرے لئی اے میرے کول تے دل ای دل اے اوہدے وچ سما او یار گھنڈ مکھڑے تو لاہ او یار مک دی گل مکا او یار تحقیق و ترتیب سد ید مسعود Last edited by سد ید مسعو د; 17-04-09 at 07:36 PM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 247
کمائي: 5,375
شکریہ: 243
177 مراسلہ میں 390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
استاد جی کے تعارف کا بہت شکریہ !
بہت دلچسپ انداز لگا ہے انکا ۔ |
|
|
|
| ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا گیا | سد ید مسعو د (18-04-09) |
![]() |
| Tags |
| کالج, کتابوں, گانے, پہچان, پاکستان, وزیراعظم, قرآن, موت, محبت, مسائل, اللہ, استاد, اشعار, بچپن, تعارف, جیل, جواب, زندگی, سال, شاعری, علاج, صدارت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: | پاکستانی | خبریں | 2 | 23-02-12 06:09 PM |
| اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد | کنعان | دیس ہوئے پردیس | 4 | 12-12-09 11:55 PM |
| جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو | ابن جلال | خبریں | 0 | 11-10-08 11:03 PM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 08:45 PM |
| السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے | Zullu230 | تعارف | 9 | 21-07-07 10:59 PM |