واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات



اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔


ایسا بھی ھوتا ھے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-05-09, 05:26 PM   #1
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایسا بھی ھوتا ھے

ایسا بھی ھوتا ھے

یار محبت کیا ھوتی ھے؟ منور نے مجھے کجھ اس انداز سے پوچھا کہ جیسے مجھے اس سوال کا جواب آتا ھو اور میں فورا بتا دوں گا۔ وہ میرے ساتھ ھاسٹل میں رھتا تھا اور حسن اتفاق سے میرا روم میٹ تھا،عجیب پہلوان ذھن کا آدمی تھا، پیٹ بھر کر کھانا اور جی بھر کر سونا، میری اور اسکی اکثر لڑائی رات کو ٹیبل لیمپ جلانے پر ھوتی تھی اسے سونے کے لئے گاؤں جیسا اندھرا چاھئے تھا اور مجھے پڑھنے کے لئے روشنی، وہ پولیٹکل سائنس پڑھتا تھا اور میں لٹریچر، اسے پڑھائی سے زیادہ دلچسبی نہ تھی اسکا تعلق تو ایک بہت بڑے جاگیردار گھرانے سے تھا وہ تو بس ڈگری لینےآیا تھا اسے تو سیاست کرنی تھی اسکا باپ بھی ایم۔ پی۔ اے تھا۔ میری سمجھ سے باھر تھا کہ اس کے ذھن میں یہ سوال کیوں پیدا ھوا؟ میں نے کہا محبت کیا ھوتی ھے یہ اس وقت پتہ چلتا ھے جب محبت کرو، کہنے لگا تو پھر بتاؤ محبت کیسے کرتے ھیں، میں نے کہا محبت اپنا راستہ خود بنا لیتی ھے، آنکھوں سے، دل سے، ھوا سے، ان کہے لفظوں سے، اس نے میری بات کاٹ کر کہا تو پھر یہ راستہ بن گیا ھے یار، اسکے چہرے پر عجیب اطمینان اور فخر تھا جیسے اس نے کوئی انمول چیز حاصل کر لی ھو۔ میں نے اسے میر تقی میر کا ایک شعر سنایا

ھم طور عشق سے تو واقف نہیں ھیں میر
سینے میں جیسے دل کو مسلا کرے کوئی

واہ واہ واہ کیا شعر ھے ذرا پھر سناؤ وہ وفور مسرت سے پاگل ھو رھا تھا جیسے یہ شعر اس کے واردات قلبی کی صحیح عکاسی کر رھا تھا۔ میں حیران تھا کہ اسے تو شعروں سے نفرت تھی یہ ایک دن میں کیا قیامت آگئی کہ اسے شعر مزہ دینے لگے وہ شعر پڑھے جا رھا تھا اور اپنی ھی دھن میں چارپائی پر لیٹا کچھ سوچ بھی رھا تھا۔ ایک ھی دن میں محبت نے اسے کتنا تبدیل کر دیا تھا، وہ سوچ بھی رھا تھا شعروں پر داد بھی دے رھا تھا اور راستے بھی بنا رھا تھا کیا یہ تبدیلی نہیں تھی؟ ‏محبت انسان کو تبدیل کر دیتی ھے، بادشاھوں کو فقیر بنا دیتی ھے اور فقیروں کو بادشاہ، بادشاہ وہ ھوتا ھے جس کے پاس کوئی اختیار ھو، طاقت ھو اور محبت دنیا میں بہت بڑی طاقت ھے، محبت نصب العین دیتی ھے اور نصب العین نہ جھکنے، نہ بکنے، نہ ٹلنے کا فن ۔

وہ منور جو میرے ساتھ کمرے میں رھنے پر نالان تھا اور کالج انتظامیہ سے علیحدہ کمرہ حاصل کرنے کے لئے باپ کا اثر و رسوخ استعمال کر رھا تھا تاکہ ھاسٹل لائف سے کلی طور پر لطف اندوز ھوسکے آج وہ میرے ساتھ رھنے پر بضد تھا، میں تو عام انسان تھا ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والا اور وہ جاگیردار جہاں عام انسان کی کوئی قدروقیمت نہیں ھوتی، جہاں تو انکا اپنا قانون چلتا ھے، جہاں انکے منہ سے نکلنے والا ھر لفظ تعمیل چاھتا ھے، غیر مشروط تعمیل، عجیب ھے یہ محبت بھی جس نے آقا ور غلام کا یہ فرق مٹا دیا کسی نے ٹھیک کہا ھے محبت ایک تبدیلی کا نام ھے جو انسان کے اندر سے شروع ھوتی ھے اور ارد گرد کی ھر چیز کو لپیٹ میں لے لیتی ھے، منور کی محبت نے مجھے بھی لپیٹ میں لے لیا۔

میں ھر ھفتے کی شام گھر آیا کرتا تھا اور پھر اتوار کی شام کو واپسی ھوتی تھی لیکن اس دفعہ مجھے منور نے روک لیا میں نے وجہ پوچھی تو بولا "یار ایک کتاب پڑھنی ھے" میں نے کہا کونسی بولا " راجہ گدھ" ارے یہ تو ناول ھے جس میں بانو قدسیہ نے محبت اور حلال حرام پر بحث کی ھے، کہنے لگا بس مجھے سمجھا دے اس نے فورا کتاب کھولی جس پر مارکر سے کئی صفحوں پر نشان لگے ھوئے تھے اور ایسے لگتا تھا جیسے وہ کتاب پڑھ چکا ھے اور جہاں جہاں سے سمجھ نہیں آئی پوچھنا چا ھتا ھے۔ ‏میں نے کہا دیکھو منور علم ایک وسیع سمندر ھے مجھے توخود ھر چیز کی سمجھ نہیں ھے۔۔۔۔کہنے لگا چلو جتنا تمہیں پتہ ھے اتنا تو بتاؤ، میں حیران تھا کہ اس میں جاننے کا اتنا شدید رجحان کہاں سے ٹپک پڑا، خیر اس رات ھم دیر تک حلال، حرام اور روحانیت پر بحث کرتے رھے۔ صبح کوئی دس بجے دروازے پر ناک ھوئی منور کا باپ بمعہ اپنے باڈی گارڈز کے میرے سامنے کھڑا تھا میں نے منور کو جگایا جو راجہ گدھ کی ادھ کھلی کتاب پر سر رکھے سو رھا تھا، اسکے باپ میں وہی روایتی جاگیردارانہ رعب، شان و شوکت اور غرور تھا اس نے مجھے کوئی اھمیت نہ دی اور بیٹے سے پوچھنے لگا کہ وہ علیحدہ کمرے میں کیوں نہیں شفٹ ھوتا؟ "نہیں بابا میں یہیں ٹھیک ھوں یہ میرا دوست ھے سدید" جاگیردار نے بے حسی سے میری طرف دیکھا اور بیٹے سے مخاطب ھوا " نہیں منور تمیں علیحدہ کمرے میں رھنا ھوگا تو میرا شیر ھے اور میں اپنے شیر پتر کو اسطرح نہیں چھوڑ سکتا" پھر اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ منور کا سامان اٹھا کر اسکے کمرے میں شفٹ کر دو اور یوں چند منٹوں بعد منور مجھ سے جدا ھو گیا۔
مجھے منور میں بہت سی تبدیلیاں نظر آ رھی تھیں اور میں اس سے بہت کچھ پوچھنا چاھتا تھا مگر ناجانے میرے اندر کیا خوف تھا کہ وہ جب بھی سامنے آتا میں کچھ رک سا جاتا اور مجھے ہوں لگتا کہ اگر میں نے اس سے زیادہ سوال کئے تو یہ شائد اچھا نہ ھوگا مجھے اس وقت کا انتظار کرنا چا ہیئےکہ جب وہ خود مجھے سب کچھ بتا دے۔ دو دن تک وہ میرے پاس نہ آیا تیسرے دن مجھ سے نہ رہا گیا اور میں خود اس سے ملنے چلا گیا وہ پھر کوئی کتاب پڑھ رھا تھا اور شیو بڑھی ھوئی تھی مجھے دیکھ کر بولا مجھے معاف کر دینا جو میرے بابا نے کیا اچھا نہیں کیا۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔ آج پھر اس نے مجھے ایک سوال سے حیران کردیا اور مشکل یہ تھی کہ آج مجھے جواب بالکل نہیں آتا تھا " یار اللہ مومن کے قلب سے کیسے بولتا ھے" میں نے کہا تمہیں کس نے بتایا کہ اللہ قلب سے بولتا ھے کہنے لگا قرآن پاک نے، میں نے کہا اس کا جواب تو پھر کوئی عالم دین ھی دے سکتا ھے، کہنے لگا ھو آیا ھوں تین مولویوں کے پاس کچھ پلے نہیں پڑا، میں نے محسوس کیا کہ گذشتہ دو تین ھفتوں میں اسکی علمی استعداد میں کافی بہتری آچکی تھی اور اب وہ ایک پہلوان منور باقی نہیں رھا تھا، میں نے بات جاری رکھتے ھوئے کہا کہ اس سوال کا جواب تو مجھے بھی چائیے اگر کہیں سے پتہ چلے تو مجھے بھی بتانا۔ اس نے حامی بھری اور میں واپس کمرے میں آگیا جہاں میرا نیا روم میٹ آچکا تھا۔

کوئی دو تین دن بعد دوپہر ۳ بجے کے قریب منور میرے پاس آیا وہ بڑی جلدی میں تھا اور بولا اگر سوال کا جواب چاہئے تو چلو میرے ساتھ اور جلدی کرو ھم لیٹ ھو رھے ھیں اس نے مجھے کپڑے بھی نہ بدلنے دیے اور ھم دونوں عجیب خستہ حال حلیے میں دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد شہر سے باھر ایک پرانے قبرستان میں وارد ھوئے راستے سے اس نے کچھ پھل وغیرہ خریدا، شام کے قریب مجھے قبرستان سے خوف آ رھا تھا، ھم قبروں کے درمیان کچھے راستے سے گزر رھے تھے، قبروں کے کتبوں، پرندوں کی آوازوں اور مردوں کی خاموشی نے عجیب خوف طاری کر دیا تھا، میں اس سے بار بار پوچھ رہا تھا کہ تم کہاں جا رھے ھو " خاموشی سے میرے پیچھے چلتے رھو ورنہ واپس لوٹ جاؤ" میں اس کے جواب سے اور زیادہ پریشان ھوگیا۔ آخر ھم ایک کٹیا میں پہنچے جہاں ایک ننگ دھڑنگ باریش بزرگ ھیبت ناک آنکھوں سے ھماری طرف دیکھ رھے تھے، جسم کیا تھا ہدیوں کا ڈھانچہ تھا بوڑھے نے حرام نما بوسیدہ کپڑے سے اپنا جسم ڈھانپہ ھوا تھا، منور نے پھل نذر کیا اس نے دور پڑی ایک انیٹ پر رکھنے کا اشارہ کیا، میرے جسم میں خوف سے عجیب کپکپی تھی اور میں وھاں سے بھاگ جانا چاھتا تھا،مجھے تووہ کوئی مردوں پر تجربے کرنے والا جادو گر لگ رھا تھا، وہ بوڑھا کٹیا سے باھر نکلا اور اس نے اپنے لئے رات کا کھانا بنانا شروع کر دیا، اس نے اینٹوں کے نیچھے لکڑیاں جلائیں، اور ایک گندی بوسیدہ ھانڈی میں سبزی کاٹ کر ڈالنی شروع کردی، تھوڑا پانی ڈالا اور چٹکی بھر نمک، دوسرے چولہے پر اس نے آٹا گھول کر توے پر ڈالا اور تین کچی پکی روٹیاں بنائیں، پھر اس نے ھمیں کھانا کھانے کی دعوت دی جسے میں کھانے سے قاصر تھا، اس نے مجھ سے سوال کیا کیوں مزہ نہیں آتا؟ میں خاموش رھا وہ بولا تم میرا کھانا نہیں کھا سکتے میں تمہارا نہیں کھا سکتا، تمہیں اسکا مزہ نہیں آتا مجھے اس کا مزہ نہیں آتا اپنا پھل واپس لے جاؤ، ناجانے منور کے دل میں کیا آئی اس نے وہ بد مزہ پکوان کھانا شروع کر دیا۔ پھر بوڑھا منور کی طرف دیکھ کر بولا جو سوال تم پوچھنا جاھتے ھو اس سے پہلے اس بات کا اچھی طرح ادراک کر لو کہ جواب جاننے کے بعد تم دنیا کے قابل نہیں رھو گے یا پھر یہ دنیا تمہارے قابل نہیں رھے گی، میرے تو پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، میں ترک دنیا کے کسی بھی تصور کے خلاف تھا اور مجھے تو اس سارے ماحول سے وحشت ھونے لگی تھی میں وھاں سے اٹھا اور دحشت میں قبروں کو پھلانگتا ھوا واپس بھاگ پڑا، میں جلد از جلد ھاسٹل واپس پہنچنا چاھتا تھا مجھے تو یوں محسوس ھو رہا تھا کہ موت میرے سر پر کھڑی ھے اور مجھے اپنی جان بچانی ھے، مجھے منور کا بھی کوئی خیال نہ رہا، آخرکار میں دس بجےکے قریب تھکا ھارا ھاسٹل واپس پہنچ گیا۔ لیکن دل میں سکون نہیں تھا بار بار ذھن میں وہ منظر گھوم جاتا تھا، میں نے خوف میں وضو کیا اور نماز پڑھنا شروع کر دی۔

چار دن گزر گئے منور سے کوئی ملاقات نہ ھوئی پانچویں دن میں ڈرا ڈرا اس کے کمرے کی طرف گیا لیکن تالا دیکھ کر واپس آگیا میں نے سوچا کہیں باھر گیا ھوگا شام تک آجائے گا لیکن بار بار تالا دیکھ کر مجھے تشویش ھونے لگی، سات دن بعد کالج انتظامیہ کی طرف سے ایک اطلاع نامہ آیا کہ "منور نامی ایک طالب علم ھاسٹل سے لاپتہ ھوگیا ھے اگر کسی کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات ھو تو کالج انتطامیہ سے رابطہ کرے" میں نے خواہ مخواہ کسی مصیبت میں پھنسنے سے بچننے کے لئے خاموشی اختیار کی، کچھ دنوں بعد جاگیردار کے کاریندے پولیس کے ساتھ میرے کمرے میں آئے اور منور کے بارے میں تفتیش کرنے لگے میں نے کچھ نہ بتایا اور شدید ذھنی دباؤ کا شکار رھا، چند روز بعد میں نے ایک گمنام خط ٹائپ کر کے کالج انتظامیہ کو لکھا جس میں تمام حقائق سے باالوسطہ کالج انتظامیہ کو آگاہ کر دیا۔

دن گزرتے رھے کچھ دن تو منور کی یاد ستاتی رھی مگر پھر "دنیا نے تری یاد سے بیگانہ کر دیا" والا معاملہ ھوگیا۔ میں نے منور کو اپنے طور پر بہیت تلاش کیا اور بوڑھے بابے کی جھونپڑی تو اب سرے سے قبرستان میں موجود ھی نہ تھی، زندگی آگے بڑھتی رھی، ایم اے کا امتحان پاس کیا اور کسب معاش کے گول چکر میں گم سم گم سم چلتا رھا، پھر اچانک ناجانے کیوں اللہ نے دل میں قرآن پڑھنے کا شوق ڈال دیا اور نماز جو غیر مسلسل تھی مسلسل ھونے لگی اور عجیب وغریب سوال دل میں پیدا ھونے لگے دنیا سے دل اچاٹ سا ھونے لگا، اقبال کی شاعری نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا اور ایک شعر تو جیسے میرے دل میں اٹک کر رہ گیا

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ھزاروں سجدے تڑپ رھے ہیں مری جبین نیاز میں

مجھے یہ تو اقبال دانوں نے بتا دیا کہ حقیقت منتظر سے مراد اللہ ھے اور لباس مجاز سے مراد دنیا کا مجازی، جسمانی اور فانی لباس ہے لیکن مجھے یہ سمجھ نہ آسکی کہ وہ اللہ دنیا کے مجازی لباس میں کیسے نظر آ سکتا ھے، وہ تو نور ھے اور انسان خاک، یہ خاک اور نور کا آمنا سامنا کیسے ھوسکتا ھے، میں نے اس سوال کا جواب جاننے کی بڑی کوشش کی لیکن بات نہ بنی۔
مجھے میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ سوال کا جواب جاننا چاہتے ھو تو چاند کی پہلی جمعرات کو حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزار پر چلے جاؤ اور شب بیداری کرو اور صبح فجر پڑھ کر واپس آنا اللہ کرم کرے گا۔ میں نے سوچا چلو ایسا بھی کر دیکھتے ہیں، جب میں وھاں پہنجا تو پنڈال حاضرین سے بھرا ھوا تھا، اور عقیدت مند سر ہلا ہلا کر ذکرو عبادت میں مشغول تھے، ایک طرف قوالی ھو رھی تھی، کہیں لنگر تقسیم ھورھا تھا، مجھے ان ساری باتوں سے کوئی سروکار نہیں تھا میں نے وضو کرکے نماز پڑھی اور دل میں سوچنے لگا یہاں آنا تو بے سود نکلا ، بہرکیف رات تو گزارنی تھی میں وھیں پڑا رھا رات کے آخری پہر مجھے نیند آگئی اور اور میں ناجانے کس حال میں کس وقت سو گیا۔ جب مجھے کسی نے اٹھایا تو میری حیرت کی انتہا نہ رھی اور میں آنکھیں مل مل کر دیکھنے لگا منور میرے پاس بیٹھا تھا، بولا سوال کا جواب جاننا چاھتے ھو سوچ لو جواب آج بھی وھی ھے پھر اس نے قبرستان والے بزرگ کے لفظ دھرا دیے" اچھی طرح سوچ لو جواب جاننے کے بعد تم دنیا کے قابل نہیں رھو گے یا پھر یہ دنیا تمہارے قابل نہیں رھے گی" بس ایک فقرے کا منور نے اور اضافہ کیا " تم اس دن بھی بھاگ گئے تھے آج بھی بھاگ جاؤ گے"
سد ید مسعو د آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, کالج, پولیس, پاک, پاگل, قرآن, نفرت, نیند, نماز, نظر, میر تقی میر, موت, محبت, آج, انتظامیہ, امتحان, تلاش, دیکھو, دوست, راستہ, سیاست, سائنس, شاعری, عبادت, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے The Great شعر و شاعری 2 04-12-09 04:20 PM
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے The Great شعر و شاعری 6 28-09-09 02:11 AM
رمضان اور عید کے چاند کا مسلہ ھی کیوں ھوتا ھے ؟ Haya 786 اسلام اور عصر حاضر 25 19-07-09 12:28 PM
ایسا کیوں ھوتا ھے Haya 786 میری ڈائری 12 08-11-08 07:48 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger