واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات



اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔


تحائف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-09-07, 10:45 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,323
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تحائف

تحائف

تحائف

پھولوں اور تحفوں کی دنیا بھی بڑی عجیب و غریب ہے۔ اس کو اگر Microscopically دیکھیں ‌تو اس کے نہایت عجیب و غریب معانی نکلتے ہیں۔ میرے ہی ہم عمر میرے ایک دوست بیمار تھے اور ہماری عمر کے لوگوں کو بیماری لگنا تو عام سی بات ہے۔ ہم اپنے اس دوست کی عیادت کے لیے ہسپتال میں گۓ تو وہاں ہمارے ایک اور دوست ان کے لیے پھولوں کا تحفہ لے کر آۓ ہوۓ تھے۔ ہمارے ہاں‌ پھول دینے اور لینے کا بڑا رواج ہو گیا ہے۔ جب وہ پھول دینے والے دوست وہاں سے چلے گۓ تو میرے زیرٍ علاج دوست یوسف کہنے لگے کہ یار یہ پھول بہت اچھی چیز ہیں۔ بڑے خوبصورت لگتے ہیں لیکن اشفاق تو ہمارے اس دوست کو تو کچھ نہ کہنا لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ بجاۓ پھول میرے سرہانے رکھنے کے کچھ دیر میرے پاس بیٹھتا۔ اپنے دونوں ہاتھوں میں میرا ہاتھ لیتا۔ مجھے اس بات کی بڑی آرزو اور طلب ہے کہ میرے دوست عزیز میرے قریب آ کر مجھے وہ لمس عطا کریں جس کی مجھے بڑی ضرورت ہے۔ وہ کہنے لگا کہ میں‌ پھولوں کا تحفہ برا نہیں سمجھتا لیکن پھول کے مقابلے میں قریب آنا زیادہ اچھا تھا۔

میں نے اسے بتایا کہ ولایت میں بھی پھول دینے کا بڑا رواج ہے۔ روم کی یونیورسٹی میں ہمارے پروفیسر اونگاریتی کہا کرتے تھے کہ میں کسی ایسے ملک میں نہیں رہنا چاہتا جہاں پھول بٍکتے ہوں۔ پھولوں کو بٍکنا نہیں چاہیے۔ خواتین و حضرات بات تو یہ بھی سوچنے والی ہے کہ پھول اور انسان کے درمیان ایک محبت کا رشتہ ہے۔ وہ رشتہ اُجاگر ہونا چاہیے تاکہ ہم پھولوں کو جنسٍ خریدار بناکر پیش کریں۔ میں نے یوسف سے کہا کہ یہ تو تحفے کی بات ہے اور تحفے کو ہر حال میں قبول کیا جانا چاہیے۔

ہمارے نبی محمد صلی اللہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب آپ کسی کے پاس جائیں تو کوئی تحفہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا ضرور لے کر جائیں۔ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ تحفے اور تحفے دینے کی بھی کئی اقسام ہیں اور بعض اوقات تحفہ عطا کرنے والا اسے ایسے عطا کرتا ہے کہ آپ کو یا وصول کرنے والے کو احساس تک نہیں ہوتا کہ مجھے کچھ عطا کیا جا رہا ہے یہ دے رہا ہے اور تحفے کے بڑے روپ ہوتے ہیں۔ بعض روپ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھ نہیں آتے لیکن تحفہ ان تک پہنچ جاتا ہے جسے عطا کیا جا رہا ہو لیکن شعوری محور پر اس کا علم نہیں ہوتا۔ جسم اس تحفے سے واقف نہیں ہوتا لیکن روح بہت حد تک واقف ہوتی ہے اور اس سے بہت حد تک فائدہ بھی اٹھاتی ہے۔ روح کو توانائی اور تقویت بخشنے کے لیے ضروری ہے کہ تحفوں کے بارے میں ضرور سوچا جاۓ اور وہ تحفے ایسے ہوں جن کو روح بھی قبول کرے اور جسم بھی۔ ایسے تحفے جاری رہنے چاہئیں۔ مجھے وہ وقت یاد آرہا ہے جب میں‌سمن آباد میں ‌رہتا تھا اور میرا پہلا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ اس کی عمر کوئی چھ ماہ ہوگی جب کا یہ واقعہ ہے۔ چیکوسلواکیہ کی ایک فلم "Previous Summer" تھی۔ میں‌نے اس کے بارے میں ‌بہت کچھ پڑھ رکھا تھا اور وہ فلم دیکھنے کی مجھے بڑی آرزو تھی۔ میں اوربانو قدسیہ دونوں ہی وہ فلم دیکھنا چاہتے تھے۔ اس وقت اس علاقے میں کوئی بس بھی نہیں چلتی تھی۔ گھر کے قریب میرے ایک خالو جو ایک کواپریٹو بینک میں تھے وہ رہتے تھے۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ ہمیں فلم دیکھنے جانا ہے اور اگر آپ ہمارے ہاں Baby Sitting کر لیں۔۔۔۔ تو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں، بسم اللہ۔ میں نے کہا کہ جی وہ ہمارا بچہ خیر زیادہ روتا تو نہیں ہے اور اس کی ماں اس کے لیے فیڈر وغیرہ بنا کر دے جاۓ گی۔ وہ میرے رشتے کے خالو اپنی بیوی سے اس وقت کہنے لگے کہ “چل بھئی حمیدہ ادھر چلیں“ جب وہ گھر آۓ تو میں نے انہیں گھر کی چیزوں کی بابت بتایا۔ لیکن وہ کہنے لگے کہ آپ لوگ بے فکر اور پرسکون ہو کر آسانی کے ساتھ جاؤ اور مزے اڑاؤ۔ وہ فلم ہماری توقع کے مطابق بڑی عجیب و غریب فلم تھی۔ اس فلم میں تین بڈھے تھے۔ ایک برکھا والی Summer تھی جس میں وہ بڑی محبت سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔ ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور انہیں سمجھ نہیں آتی کہ عشق میں کیسے مبتلا ہوا جاۓ۔

ہم واپس آۓ تو گھر میں ہمارے خالو اور خالہ بیٹھے ہوۓ تھے۔ میں ‌نے ان کا شکریہ ادا کیا لیکن وہ کہنے لگے نہیں نہیں ہم تو فارغ ہی تھے پھر بھی کبھی ضرورت پڑے تو کہہ دینا۔ میں ‌نے شرارتاً ان سے کہا کہ جی گو برا تو لگتا ہے لیکن Baby Sitting کی ایک فیس ہوتی ہے۔

وہ کہنے لگے ہاں ہوتی تو ہے۔ وہ کہنے لگے کہ آج کل وہ فیس کتنی ہے۔ میں‌نے کہا جی دس روپے ہے۔ ہم دونوں کی۔ خالو نے پوچھا۔ میں‌ نے کہا کہ نہیں خالو آپ کے دس روپے الگ اور خالہ کے دس روپے الگ۔

وہ کہنے لگے کہ ہمیں یہاں دو گھنٹے لگ گۓ اور اس طرح چالیس روپے بن گۓ۔ پھر انہوں نے بغلی جیب میں‌ہاتھ ڈالا اور چالیس روپے نکال کر ہم کو دے دیۓ اور کہنے لگے کہ اتفاق سے میرے پاس پچاس ہیں دس میں رکھ لیتا ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو Baby Sitting کے معنی نہیں‌آتے۔

وہ کہنے لگے کہ آتے ہیں۔ لیکن ان کو واقعی اس کے معانی نہیں آتے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ اگر بزرگ گھر میں Baby Sitting کریں تو انہیں اپنے پاس سے روپے دینا پڑیں گے۔ انہوں نے بجاۓ لینے کے چالیس روپے ہمیں دے دۓ اور ہم نے وہ رکھ لیے۔ میری بیوی کہنے لگی کہ جلدی دیکھو کہ کیا کوئی اور اچھی فلم آرہی ہے کہ نہیں کیونکہ آئندہ خالو اور خالہ کو پھر بلائیں گے۔

خواتین و حضرات! اتنا وقت گزر گیا ہے اور ہم Baby Sitting کے پیسے لے چکے ہیں تو مجھے اب خیال آتا ہے کہ ہم یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے خالو پینڈو ہیں اور انہیں اس لفظ کے شاید معانی بھی نہیں آتے لیکن حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ انہیں اس لفظ کے معانی بالکل ٹھیک آتے تھے اور اچھی طرح سے آتے تھے لیکن انہوں نے ہماری خوشنودی کے لیے، ہمارے ہاں‌آنے کے لیے اور ہمارے سر پر ہاتھ رکھنے کے لیے پیسوں کی صورت میں‌تحفہ عطا کیا تھا۔ایسے تحفے آپ کی زندگی میں بھی آتے رہتے ہیں۔ اس کے لیے صرف الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ آپ کی زندگی کی بڑھوتری میں روحانی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مجھے اور آپ کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ تحفہ کس شکل میں دیا جاۓ کہ وہ لینے اور دینے والے کی روحانی و نفسیاتی نشونما میں فائدہ پہنچاۓ۔ اس کا فائدہ محض جسمانی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کسی کو لحاف تحفے میں دے دیں۔

پچھلے سال گرمیوں‌ میں میری بھتیجی کی شادی تھی۔ میں ان کے گھر کے صحن میں کھڑا ایک شامیانہ لگوا رہا تھا کہ اس میں لڑکیاں وغیرہ مہندی کی رسم کر لیں۔ میرے ساتھ میرے کچھ عزیز بھی تھے۔ وہاں ‌پر ایک عجیب سا آدمی آگیا جو ہمارے محلے کا نہیں تھا اور میں نے اسے پہلے کبھی دیکھا نہیں تھا۔ اس نے خاکی رنگ کی شرٹ اور خاکی ہی پتلون پہنی ہوئی تھی۔ وہ آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ “جی یہاں کوئی شادی ہورہی ہے؟“

میں نے کہا کہ “ جی ہاں شادی ہو رہی ہے۔“ وہ کہنے لگا کہ “کس کی؟“ میں نے کہا کہ “میرے بھتیجی کی۔“ وہ کہنے لگا کہ “جی کیا نام ہے اس کا؟“ میں‌ نے کہا “اس کا نام عظمٰی ہے۔“ وہ پھر کہنے لگا کہ “شادی کب ہے جی؟“ (وہ مجھ سے بچوں کی طرح ایک ایک سوال پوچھ رہا تھا“)

میں نے کہا کہ “پرسوں بارات آۓ گی۔“ اتنی دیر میں ایک نوجوان آگیا جس کو میں پہچانتا تھا۔ اس نے آتے ہی اس شخص سے کہا کہ آئیں‌آئیں چلیں۔ جلدی کریں۔ وہ نوجوان اس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے لے گیا۔ میں تھوڑا سا پریشان ہوا اور حیران بھی ہوا لیکن پھرمیرے ذہن سے بات نکل گئی۔ اگلی صبح وہی نوجوان جو اس شخص کو لے کر گیا تھا وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ جی انہوں نے آپ سے کچھ ایسا تونہیں کہا جو آپ کو ناگوار گزرا ہو۔ میں نے کہا کہ نہیں وہ تو مجھ سے شادی کے بارے میں‌ پوچھ رہے تھے۔

وہ نوجوان کہنے لگا کہ یہ میرے ماموں ہیں۔ یہ دماغی طور پر ذرا ماؤف ہیں۔ میں‌اور میری والدہ اس لیے گھبراۓ تھے کہ انہوں نے کچھ ایسی باتیں‌نہ کہہ دی ہوں جو آپ کو ناگوار گزری ہوں۔ خواتین و حضرات اس نوجوان کے ماموں کا دماغی توازن تو ضرور بگڑا تھا لیکن اس پر ایک طرح کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔ جب مہندی کی رسم ہو چکی اور لڑکیاں ناچ گانا کر کے فارغ ہو گئیں تو اس وقت وہ صاحب پھر آگۓ اور بڑے کھسیانے اور شرمندہ سے تھے۔ میں نے کہا کہ آئیے آئیے تشریف لائیے۔ میں تو آپ کا انتظار کر تا رہا ہوں۔ وہ اب دونوں ہاتھ پیچھے رکھ کر جھوم جھوم کر باتیں ‌کر رہے تھے۔ میں نے انہیں بیٹھنے کا کہا لیکن انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں‌نے چاۓ کا پوچھا تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے اپنا ایک ہاتھ فوراً آگے کر دیا۔ ان کے ہاتھ میں عام سے خاکی لفافے میں مروڑی دے کر رکھی ہوئی کوئی چیز تھی۔ وہ کہنے لگا کہ میں بچی کے لیے یہ تحفہ لایا ہوں۔ میں نے کہا کہ بہت مہربانی اور ان سے تحفہ لے لیا اور وہ جیسے آۓ تھے ویسے ہی شرمندگی کے عالم میں چلے گۓ۔ مجھے اس بات کا بڑا افسوس ہوا کہ میں انہیں بٹھا بھی نہیں سکا۔

خواتین و حضرات! اس لفافے میں ایک چینی کا جگ تھا۔ وہ جگ عام سائز سے ذرا بڑا تھا۔ میں نے اپنی بھتیجی سے کہا کہ تمہارے لیے یہ تحفہ ہے۔ تمہیں دوسرے ملنے والے تحفے واقعی بڑے قیمتی ہیں اور ان کی پیکنگ بھی بڑی خوبصورت ہے لیکن اس تحفے کو بڑی محبت اور اعتماد کے ساتھ رکھنا یہ ایک بہت بڑے آدمی کا تحفہ ہے۔ وہ ہنس دی اور کہنے لگی چچا یہ تو فضول سا ایک جگ ہے۔ میں اسے تحفے کی آئٹم میں کہاں رکھوں گی۔

خواتین و‌ حضرات! وہ شخص جو جگ لے کر آۓ تھے وہ جگ تھا جس میں انہیں دودھ دیا جاتا تھا۔ اس کے پاس اس جگ کے سوا دینے کو اور کچھ نہ تھا۔ جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے اپنی بھتیجی سے کہا کہ یہ سارے تحفوں میں سے قیمتی تحفہ ہے اور جس آدمی نے دیا ہے تم اور میں دونوں مل کر اس کے دل کی گہرائیوں کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ وہ جگ اس شخص کا سب سے قیمتی سرمایہ تھا۔ میں گزشتہ سال جب کینیڈا گیا (اب میری وہ بھتیجی وہاں‌ہے) تو اس نے لکڑی کی ایک خوبصورت الماری میں اپنے تحفے رکھے ہوۓ ہیں۔ اس نے اپنے دوسرے قیمتی تحفوں کے درمیان لکڑی کا ایک چوکور پیڈسٹل بنا کر اس پر وہ جگ رکھا ہوا ہے اور اسے دوسرے تحفوں سے اونچا رکھا ہوا ہے۔ مجھے وہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ وہ کہنے لگی کہ چچا جوں جوں وقت گزرتا ہے میں اس کو دیکھتی ہوں تو میری اس سے ایک طرح کی Relatedness پیدا ہو گئی ہے۔ وہ کہنے لگی کہ جب بھی کوئی مشکل پڑے تو اس جگ کو دیکھنے سے مشکل دور ہوجاتی ہے۔

خواتین و حضرات! ایسی باتیں جنہیں ہم ضعیف الاعتقادی کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی باتیں ماننے سے آپ کی پختگی پر اچھا اثر نہیں‌ پڑتا۔ لیکن میں اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں‌ کہ ایسے جگ کے ذریعے اور ایسے تحفے کے ذریعے جس کو آپ دیگر پیک کۓ ہوۓ تحفوں کی طرح وصول نہیں کرتے۔ اس تحفے کی قیمت زیادہ یوں ہوتی ہے کہ جب آپ اس کے ذریعے کچھ Communicate کرنا چاہیں تو آپ کو وہ سب کچھ نصیب ہوجاتا ہے جس کی کمی محسوس کی جا رہی ہوتی ہے۔ یہ طاقت تحفوں کی ہے اور اس کو عطا کرنے والوں‌کی ہے جو ہمیں میسر آتی ہے۔ ان سب چیزوں سے مل کر انسان کا پیٹرن بنتا ہے اکیلا انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا چاہے وہ کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے۔اس لیے اللہ ہمیشہ انسانوں کو جماعت کے رُخ سے پکارتا ہے اور جماعت کے رُخ سے ہی حوالہ دیتا ہے۔ جب آدمی اکائی میں‌ ہو تو اس کے لیے زندگی بسر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے تحفوں کی استقامت اور اس کی معنوی طاقت کا سہارا پکڑنے کی شدت سے ضرورت ہے۔ چاہے کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز ہی کیوں نہ ہو دکھاوے اور لالچ سے ہٹ کر تحفہ میں دی جانی چاہیے۔ چاہے گڑ کی ایک ڈھیلی ہی سوغات کے طور پر ہی کیوں ‌نہ دی جاۓ لیکن یہ رشتے تحفے اور باتیں ہماری زندگی سے نکلتی جا رہی ہیں اور ہم اس سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہمیں اس کے قریب ہونے کی ضرورت ہے۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ

پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-09-07, 10:55 AM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,166
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: تحائف

بہت خوب فوٹو ٹیک بھائی
بہت عمدہ شئیرنگ ہے
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فوٹو, ٹیک, ماں, محبت, آج, آدمی, اللہ, انسان, بچوں, حال, حضرات, خواتین, دیکھو, دوست, دل, روتا, رشتے, زندگی, سال, شخص, علاج, عالم, عزیز, عشق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger