| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اردو زبان کی اہمیت اور اس کے مستقبل کے بارے میں اہم مضمون
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,657
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا مضمون ہے۔ بھائی کوشش کیا کریں کہ ایسے مضامین یونی کوڈ میں ٹائپ کر لیا کریں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (04-12-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
ام طلحہ سے صد فی صد متفق ہوں۔ بھائی تھوڑی سی تکلیف کرلیجئے۔ یونی کوڈ میں ٹائپ کیجئے تاکہ اس کے دیرپا فائیدہ ہوسکیں۔
والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | عدنان دانی (04-12-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,347
کمائي: 154,196
شکریہ: 4,886
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب گوندل بھائی
اگر یونی کوڈ میں لکھتے تو مزہ دوبالا ہوجاتا |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,324
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خامیانِ اُردو کی خدمت میں
---: دَعوتِ فِکر و عَمل:----- از: اَ الحاج حافظ منشی عبدالغفور ناظم مدرسہ انوارالقرآن نعمت پور، سہارنپور اردو ہندوستانی زبانوں مین سے ایک اہم زندہ و جاوید، دلکش و شیریں، خیرسگالی، اِتحادپسندی، رواداری، آشتی اور انسانیت سے عبارت بھائی چارہ کی زبان تو ہے ہی زبانوں کی تاجدار بھی ہے، بقول ماہر تعلیم و لسانیات اور عظیم اردوداں پرسفیسر گوپی چندرنارنگ” اردوزبانوں کا تاج محل ہے“ یہ کشادہ دل اور وسعت نظرزبان ہے، جس کا اعتراف سبھی لوگ کرتے ہیں، اس کا سب سے پہلا اخبار”جام جہاں نما“ 13 مارچ 1866ء میں کلکتہ سے شئع ہوا تھا، اردو کی پہلی یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ آندھراپردیش کی راجدھانی حیدر آباد میں 19/18/1817ء سالوں میں سے کسی بھی سال میں قائم ہوئی، آزادی سے قبل اردو ہر شعبئہ زندگی میں رائج تھی اور جنگ آزادی میں اس کا سب سے اہم اور نمایاں رول رہا ہے، آزادئ ہند کے ضمن میں اردو اور اردو شاعری نے جو خدمت کی ہے اس کی نظیر کوئی دوسری زبان پیش نہیں کر سکتی ” انقلاب زندہ باد“ جیسے تاریخ ساز جوش و ولولہ پیدا کرنے والے نعرے نغمے اور مثالی حب الوطنی کے ترانے ” ساے جہان سے اچھا ہندوستاں ہمارا“ جو ذہنوں میں گونجتے اور دلوں مین ہلچل پیدا کرتے تھے، اردو کی ہی دیں ہے، سیاسی اور تہزیبی طور پر اردو پورے ملک کے رابطے اور اتحادویکجہتی کی زبان ہے، یہ یہیں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی اور جوان ہوئی، لیکن اب حال اس بے چاری کا یہ ہے کہ اپنے گھر میں اجنبی اردو ہے آج اہلِ اردو کاش رکھ لیں اس کی لاج کی صحیح مصداق ہے، باہمی میل ملاپ کی مستحکم زنجیر و علامت ہے، یہ ہماری قومی ملکی مشترکہ گنگاجمنی تہذیب و تمدن کی ضامن ہے، اس کی جڑیں معاشرہ میں تہذیبی اخلاقیات اور ہندوستان کی عظیم جمہوری تاریخ میں پیوست ہیں، اردو کی معیاری اور ٹھوس تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سماج اور معاشرہ مین آج بھی پانا ایک مقام و وقار بنارہے ہیں اردو کا دائرہ کار ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے، عالمی زبانوں میں اس کا نمبر تیسرا ہے، شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ایسا ہو جہاں اردو لکھنے، پڑھنے، اور بولنے اور سمجھنے والے افراد موجود نہ ہوں؛ لیکن افسوس اس پر ہے کہ آج اردو کے بڑے بڑے محقق، ادباء، نقاد و مبصرین کے بچے اردو سے نہ صرف نا آشناہی نہیں بلکہ انہیں اردوسے کوئی سروکار بھی نہیں، یہ لوگ اپنے بچوں کو اردو میڈیم اسکولوں مین پڑھنا تو دور کی بات اردو سکھاتے تک نہیں، عام طور پر نئی نسل کا اردو سے بتدریچ لگاؤ کم تو ہوہی رہا ہے، بیگانہ بھی ہوتی جارہی ہے اور نابلدطبقہ برابر بڑھ رہا ہے، اردو کے تیئں عدم دلچسپی، بے حسی، بے توجہی کی انتہا ہورہی ہے، اگر ہم نے اپنے بچوں تک اردو کی وراثت نہ پہنچائی تو ہم موردِ الزام ٹھہریں گے، اہل اردو کو اردو سے والہانہ تعلق ہونا چاہئے، اردو کے مایہ ناز پروفیسر رشید احمد صدیقی نے اپنے مخصوص انداز میں لکھا ہے کہ مغلیہ حکومت نے ہندوستان کو تین چیزیں دیں: (1) اردو (2) غالب (3) اور تاج محل حال ہی مین جموں کے نامور اردو کے صاحب طرز ادب و پروفیسر آنند لہر صاحب نے وکلاء کے ایک خاص مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو دفتروں میں ہو نہ ہو لوگوں کے دلوں میں ضرور ہے،اردو ان تمام لوگوں کی زبان ہے، جو اسے بولتے، سمجھتے اور جانتے ہیں، اس لیے نئی نسل مین اردو پڑھنے پڑھانے کا رجحان پیدا کریں، تاکہ وہ اپنی ادبی وراثت سے واقف ہو سکیں، حقیقت تو یہ ہے کہ زبانوں مین اردو نہ صرف سب سے زیادہ چاشنی والی زبان ہے، بلکے سیکھنے میں بھی سب سے آسان ہے اردو میں جو کشش جازبیت، جامعیت اور اختصاریت پائی جاتی ہے وہ دوسری زبانوں میں ناپید ہے، آنجہانی پنڈت جواہرلال نہرو آزاد بھارت کے پہلے وزیراعظم اردو لکھتے پڑھتے بولتے تھے، ان کی مادری زبان اردو تھی موصوف کی تقریب شادی خانہ آبادی کا دعوت نامہ اردو میں مختصر اور انتہائی جامع شائع ہوا تھا، مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج اپنے ہی وطن میں اردو بے یارومددگارہے، یہ تو اپنی اندرونی طاقت اور حسن و کشش کے باعث ہنوززندہ و تابندہ ہے، حال میں بھی عوام و خواص کے ایک بڑے طبقہ کی زبان ہے، بقول عزیز برنی(ایڈیٹر روزنامہ راشٹر یہ سہارا اردو) آج وہی اردو جو 1947ء تک پورے ملک کی قومی اور رابطہ کی زبان رہی ہے، محض ایک ووٹ کی کمی کی وجہ سے قومی زبان بننے سے رہ گئی تھی گویا اب ظلمات کی صلیب پہ عیسیٰ بنی ہوئی زخموں سے چور میر کی اردو زبان ہے آج اس لیے اردو کی اہمیت و افادیت نیز ضرورت کے پیش نظر اس کے فروغ و بقا ترویج و اشاعت کی ذمہ داری آئینی اور اخلاقی نیز ملی اور سیاسی طور پر ہم سب اہل اردو پر عائد ہوتی ہے، ہمیں یہ زمہ داری اپنا فرض جان کر بڑی مستعدی، تندہی اور دلچسپی سے نبھانی چاہئے اردو کی ہمہ جہت ترقی اور بقا کے لیے تن من دھن سے کوشاں رہیں چونکہ آگے آنے والی نسلوں کی اردو تعلیم و ترویج کا انحصار ہماری حال کی کوششوں پرہے، مدارس عربیہ اردو کی فلاح و بہبود کے لیے بہت منظم اور مؤثر طرزو طریق پر کام کررہے ہیں، ہمارے یہ مدارس پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، سب ہی محب وطن اور اردو دوست ہیں اس کی ترقی اور بقا کے لیے شب و روز کوشان اور کواہان ہیں، اب نہ صرف اردو والے کم ہورہے ہیں؛ بلکہ اردو کا شوق اردو کا چلن اور اردو کا تحفظ اور تلفظ بھی کھوتے جا رہے ہیں، اسکولوں میں جو بحیثیت اردو ٹیچرس لگے ہوئے ہیں وہ بھی ناقص اردو جاننے کے سسب غالب کو گالب، ذوق کو جوق، غلطی کوگلتی، ضرورت کو جرورت، حالات حاضرہ کو ہالات ہاجرہ، عارف انصاری کو آرف انساری لکھتے، پڑھتے، بولتے ہیں، گل اور غل نبات اور بنات کے تلفظ و معنی اور موقع محل میں کوئی فق نہیں جانتے، اس لیے صحیح اردو کی ترویج و تعلیم کا جہاں تک تعلق ہے اس کے لیے ٹھوس اور گہری کاوشوں کی ضرورت ہے تاکہ اردو لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد مین اضاہ اور اس کا دائرہ عمل زیادہ سے زیادہ وسیع ہو، اس لیے حامیان اردو سے گزارش ہے کہ اردو کی بہر نوع تنظیم و ترقی نیز اصلاحات و اصطلاحات کے لیے حسب ذیل امورپر کمربستہ ہوکر عمل پیراہوں: 1۔ تجربہ ہے کہ بچوں کی علمی صلاحیتیں مادری زبان میں بسہولت ابھرتی ہیں چونکہ ہماری اور ہمارے بچوں کی مادری زبان اردو ہے، اس لیے اپنے بچوں کو بالخصوص ابتدای تعلیم مادری زبان اردو میں دیں اور دلائیں۔ 2۔ بچے اپنے گردوپیش اور گھرلوماحول سے بہت کچھ سیکھتے ہیں، ئی نسل کو اردو سے روشناس کرانے کے لیے اپن گھروں میں اردو کی تعلیم کا بہترین بندوبست کریں، گفتگو بھی صاف و شستہ ردو میں کی جائے اس طرح اردو کو گھروں کے اندر بھی جاری اور ساری رکھیں۔ 3۔ اردو اخبارات رسائل خرید کر پڑھیں، اردو کی کتابیں خرید کرنا شرین کت کی حوصلہ افزائی کریں، گھر کے تمام افراد میں اردو اخبارات، دینی رسائیل و جائد کے مطالعہ کا رجحان پیدا کریں۔ 4۔ کاروباری اداروں، کارخانوں، فیکٹریوں، ساریوں، رہائش گاہوں، دکانوں، مکانوں، بنگلوں، دفتروں نیز مارکیٹ اگر ذاتی ہوتو اس پر بھی نام وغیرہ کے سائن بورڈ و اشتہارات اور تختیاں وغیرہ اردو رسم الخط میں لکھوا کر لگائیں۔ 5۔ وزیٹنگ کارڈ، لیٹر پیڈ پر اپنا نام و مکمل پتہ اول اردو میں لکھوائیں، خط و کتابت ہیشہ اردو میں کریں، خطوط پر پتے پہلے اردو میں لکھیں، دستخط ہر جگہ اردو میں کریں۔ 6۔ شادی بیاں کی تقریبات، جلسہ و جلوس کے اشتہارات و اعلانات کے فولڈر پوسٹر اور دعوت نامے اردو میں چھپوائیں۔ 7۔ گھر اور دکان کے سامان کی فہرست آمدوخرچ کا حساب اردو میں لکھیں۔ 8۔ خامیانِ اردو جذبہ ایثار سے بستی بستی، محلہ محلہ اردو کے تعلیمی سینٹر قائم کرکے رضاکارانہ طور پر اردو پڑھائیں، اردو پڑھاؤ تحریک پُر امن طور پر چلائیں۔ 9۔ انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین و سرپرستان اردو کو ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھنے کا مطالبہ ذمہ دارانِ اسکول و کالج سے کریں ان اسکولوں میںپڑھنے والے بچے خود بھی ذوق و شوق سے اردو پڑھیں لکھیں سمجھیں اور فخر سے بولیں۔ 10۔ مردم شماری کے زمانہ میں مادر زبان کے خانے میں لفظ اردو اپنے سامنے پُر کروا کر بعد ہجانچ بھی کرلیں۔ 11۔ اپنے بچوں کا داخلہ ایسے اسکول میں کرائیں جہاں اردو کا مضمون بھی پڑھایا جاتاہو۔ 12۔ مرکزی اور ریاستی سرکاروں سے اردو کے آئینی حقوق کے دائرہ میں رہتے ہوئے محکمہ تعلیمات کے وزیروزراء، افسران و ذمہ داران سے مل کر اردو کی تعلیم و ترقی کے لیے اردو میڈیم اسکول کھولنے کی مانگ کریں اور قدیم اسکولوں میں مزید مار اردو استذہ پڑھانے پر بھی زور دیں جہاں اردو نہیں پڑھائی جاتی وہاں شعبہ اردو منظور ورائج کرائیں اردو کے اصحاب فکر و نظر کو اس بارے میں سعی بلیغ کرنی چاہئے تاکہ اردو کو شہرت عام اور بقائے و وام حاصل ہو اردو کی تنظمیم و ترقی اور بقا میں حائل تمام تردواریوں کو دور کرنے کرانے کی جدوجہد کریں تاکہ اردو کا چلن عام ہو کر اس کی عظمت رفتہ کی بازیابی ہو۔ 13۔ ہراردو داں اپنے حلقہ اثر میں ہر جاننے والے کو اردو پڑھنے کی طرف راغب کرے، نیز اپنے اندر بے لوث خدمات و جذبات کے ساتھ اردو کے لیے کام کرنے کی خواہش و تڑپ پیدا کرے سبھی طبقا کے افراد کو اردو پڑھنے ک ترغیب دیں۔ 14 ان تمام محکموں کے دفاتر میں جہاں اردو کے مترجم موجود ہیں درخواستیں اردو میں ہی دیں، اقلیتی فلاح و بہود کے دفاتر، اردو تنظیموں، اردو انمنوں، اردو اکاڈمیوں، اردو قومی کونسل برائے فغ اردو زبان دہلی، غالب اکیڈمی جیسے اداروں میں اردو زبان و اردو رسم الخط میں ہی لکھ کر اپنی عرضیاں پیش کریں۔ 15۔ اردو کو روزی روٹی سے زیادہ جذبات سے جوڑنا ضروری تو ہے ہی مفید سے مفید تر بھی ہے، اس لیے حامیاں اردو، اردو کے فروغ کی خاطر کوش تن من دھن سے کریں، توقع ہے کہ اردو کا ماضی جیسا شاندار وتابناک رہا ہے، انشاءاللہ مستقبل بھی ایسا ہی روشن ہو کر رہے گا۔ 14۔ ہمارا بیشتر مذہبی اور ثقافتی تہذیبی اور تمدنی تاریخی اور تدریسی سرمایہ اردو زبان میں ہے، اس لیے اردو کی نئی نسل تیار کرنا ہم سب کا ملی اور اخلاقی فریضہ بنتا ہے، آنے والی نسل اگر اردو سے ناواقف رہی تو چونکہ ہمارا تمام ترتہذیبی ثقافتی اور دینی سرمایہ ہماری تاریخ ہمارا تشخص و تمدن اردو زبان میں ہے گویا اردو ہمارا ملی، قومی اور مذہبی اثاثہ ہے، یہ سارے کام سارا اثاثہ ختم ہو کر رہ جائے گا، چنانچہ اردو ہمارے دین کی پہچان ہے،تہذیب و تمدن کی کان ہہے، صلح و شرافت کی جان ہے، کتنی لذیذ و شیریں یہ اردو زبان ہے، اس لیے ہم اپنے بچوں کو اردو سے آراستہ کرنا لازم جانیں۔ Last edited by خرم شہزاد خرم; 05-12-09 at 12:16 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-12-09), فاروق سرورخان (05-12-09), گوندل (04-12-09), منتظمین (05-12-09), ام طلحہ (07-12-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تمام دوستوں کا شکریہ۔ ان شا اللہ آئندہ میں ٹائپ کر لیا کروں گا۔ اس بار کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ اور ابن شبیر بھائی کا تو بہت بہت شکریہ۔آپ نے اتنی محنت سے اس کو ٹائپ کیا۔بھائی اس کا باقی حصہ بھی مکمل کرکے یکجا کردیں تو قارئین کے لیے بہت مفید ہوگا۔
__________________
عابد |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-12-09), ام طلحہ (07-12-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,781
کمائي: 41,143
شکریہ: 2,654
1,638 مراسلہ میں 3,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زخموں سے چور میر کی اردو زبان ہے آج
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-12-09), فاروق سرورخان (05-12-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,324
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ آپ کا جناب میں نے کوشش کر کے مکمل کر لی ہے اگر کہیں کوئی اردو یا املاء کی غلطی ہو تو نشاندہی کر دیں تاکہ اس کو درست کر دوں شکریہ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (05-12-09), گوندل (05-12-09) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,357
کمائي: 171,586
شکریہ: 9,804
7,522 مراسلہ میں 22,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں۔
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,657
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت شکریہ ابن شبیر!!!
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوں۔, ہے۔, کیجئے, کوڈ, کوشش, کریں۔, ٹائپ, یونی, لیا, چور, می, متفق, مستقبل, مضمون, مضامین, معاشرہ, اہمیت, ایسے, اردو, بھائی, تکلیف, تھوڑی, خوب, خدمت, زبان |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|