واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات



اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔


زند گی-واصف علی واصف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-04-11, 12:01 PM   #1
Junior Member
اجنبی
 
khanamjan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 16
کمائي: 603
شکریہ: 0
13 مراسلہ میں 28 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default زند گی-واصف علی واصف

زند گی-واصف علی واصف

یہی کچھ ہے سا قی متا عِ فقیر

انسان کی زند گی خواہ کتنی ہی آزاد اور لا تعلق ہو ‘ پا بند اورمتعلق رہتی ہے ۔انسان دوڑتا ہے ‘ لیکن فاصلوں کی حدود میں۔ انسان اُڑتا ہے اور خلا کی پہنا ئیو ں کے اند ر وہ ارض و سما وات کے اند ر ہی رہتا ہے ۔ انسان جب کسی طا قت کو نہیں مانتا ‘ وہ اُس وقت بھی اپنے انکار کی طا قت کے ما تحت ہو تا ہے ۔ انسا ن کو خو شیا ں تما م تر مسر تیں ‘ کسی نہ کسی غم کی زد میں ہو تی ہیں ۔ ہر غم خو شی بن کر آتا ہے اور ہر خو شی غم بن کر رخصت ہو جاتی ہے۔ بس خوشیوں نے رخصت ضرور ہو نا ہے ۔ پیا ری پیا ری ‘ اپنی بیٹیوں کی طرح _____ کیا کیاِ جا ئے !
انسان شب و روز کے حصار ہی میں جکڑا ہوا سا ہے ۔ وہ صدیو ں سے اس جا ل کو تو ڑنا چاہتا ہے ۔ زما ن و مکا ں تو ڑ کر نکل جانا چا ہتا ہے ۔ نکل کر کہا جا ئے گا _____ ہم د ینا سے بھاگ سکتے ہیں ‘ لیکن اپنے آپ سے کو ن بھا گ سکتا ہے ۔ انسان اپنے پنجے میں ہے ۔ وہ خو د گریز بھی ‘ خو د پر ست و خو د مست بھی ہے ‘ خو د گر و خو د سر بھی ہے ‘ خود بین و خو د کلا م ہے ‘ خود نگر ہے اور سب سے بڑ ی با ت یہ کہ خود شکن ہے ۔
انسان شا ید سمجھتا نہیں کہ وہ اپنی صفا ت ‘ حیا ت ‘اپنی عا دات ‘ لذات‘ شہوات و حیو انا ت ‘ عبا دات واعتقا دات کا مر قع ہے ۔ اُس پر گر دشِ زما ن و مکا ں کے علا وہ بھی کئی گر دشیں گزر جا تی ہیں ۔ اُس پر روز گا رِ زما نہ کے علا وہ بھی کئی زما نے آتے ہیں _____ موسمِ بہار کے علا وہ بھی کئی بہار یں آتی ہیں ۔ اُس کے اپنے اندر کبھی پھو ل کھلتے ہیں ‘ کبھی ببو ل مسکرا تے ہیں ۔ اس کے سا تھ ساتھ روشنی تیر گی کے ادوارسفر کر تے ہیں _____ اُس کا شعور ‘ آزادی کا شعور ‘ اُ س کا اپنا نہیں _____ وہ اپنے ما ضی سے کٹ نہیں سکتا ‘اپنے مستقبل سے ہٹ نہیں سکتا _____ اُس کا حا فظہ ‘اُس کا تخیل ‘ اُسے آزادی کا شعور عطا کر کے اُسے پا بند کر دیتے ہیں۔
انسان اپنے آپ پر غو ر کر تا ہے ۔ اُسے اپنے اند ر ایک جہا ں نظر آتاہے۔وہ اپنی بینا ئی کو دیکھتا ہے ۔ لطف اندوز ہو تا ہے نظاروں سے _____ لیکن وہ یہ نہیں سو چتا کہ بینا ئی دینے والی طا قت نے ہی نظارے پیدا کیے ہیں _____ اب یہی آزاد نگا ہ انہی نظارو ں کی پا بند ہو کر رہ جا تی ہے۔ انسان وہ چیز نہیں دیکھ سکتا جو نہیں ہے ۔ وہی منا ظر جو صدیو ں سے دیکھے جا تے رہے ہیں ‘ وہی سیا رے و ستا رے ‘وہی شمس و قمر ‘ وہی مشر ق و مغر ب اور وہی کو ہ صحرا ‘ قلزم و دریا ‘ وہی با دل ‘ وہی فضا ئیں ‘وہی ہو ائیں ‘ وہی مو سم ‘وہی پرا نے غم اور پرا نی خوشیا ں _____
نیا ا نسان‘ نئی بینا ئی اور نئے عزائم کے سا تھ پُرا نے منا ظر دیکھتا ہے ۔ اُس کے سا منے جوجلو ہ مو جو د ہے ‘ وہ اُس سے پہلے بھی مو جو د ہے اور اُس کے بعد بھی مو جو د رہے گا ۔ آزاد اور جدید انسان نے بڑ ی پا بند ی سے پرا نے نظا رے ہی دیکھنے ہیں ۔ نگا ہ کی آزادی اپنے اند ر ایک حد تک آزاد ہے ۔ دیکھنے والا ایک حد کے بعد نہیں دیکھ سکتا ۔ یہ حد کبھی فا صلو ں کی شکل میں ہے‘ کبھی عمر کے حساب سے ہے ۔ آج کی بینا ئی شاید کل ‘ آج ہی کی طر ح نہ آسکے ۔ جہا ں گلا ب کھلتے تھے ‘ وہا ں اُن آنکھو ں میں مو تیا کھلے گا ۔ آج کا لطف شا ید آئند ہ نہ مل سکے _____ آج کا احساس شا ید آج تک ہی ہو _____ محفل کی گر میا ں تنہا ئیو ں میں یخ ہو جا تی ہیں ۔
آج کی حقیقت کل کا افسا نہ ہو گی ۔ انسان آزاد ہے کہ جو چہر ہ چاہے پسند کر لے لیکن اُس نے صرف ایک ہی چہر ے سے محبت کر نا ہے اور یہا ں آزادی ‘آزاد نہیں رہتی ۔
انسان کے سامنے پھیلی ہو ئی کا ئنا ت اُس کو بہت ہی وسیع نظر آتی ہے او ر اُس کا ئنا ت کے اند ر اُسے اپنے لیے امکانا ت لا محدود نظر آتے ہیں _____ امکا نا ت لا محدود ہی رہتے ہیں اور فیصلے بڑے مختصر اورمحدود _____ شا دی سے پہلے شادی کے امکانا ت لا محدود _____ لیکن فیصلے کے لمحے میں یہ سا رے لامحدود امکا نا ت ایک مختصر اور محدود فیصلے میں ختم سے ہو جا تے ہیں۔انسان سمجھتا نہیں ہے ۔
زند گی کی وسیع شا ہر اہیں آہستہ آہستہ چھو ٹی چھو ٹی سڑ کو ں میں تبد یل ہو جا تی ہیں اور یہ سڑکیں نہ جانے کیسے بند گلیوں میں بدل جا تی ہیں اور امکا نا ت کا طلسم ٹو ٹ جا تا ہے اور پھر وہی انسان سمندِ طاغوت سے گر تا ہو ا زمین پر آرہتا ہے ۔وہ سو چتا ہے کہ یہ سب کیا تھا _____ کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا ‘لیکن بس یہی کچھ ہو ا۔ اگر یہی کچھ تھا ‘ تو یہی کچھ ہی کیو ں نہ تھا _____ وہ سب کچھ کیا تھا ‘جو اب نہیں ہے۔
اپنی قو ت پر گھمنڈ کر نے والا اپنے عجز پر شر مند ہ تو ہو تا ہے‘لیکن اپنی شر مند گی پر مزید عا جز ہو تا ہے ۔ اُس کی قوت اپنے اند ر ہی دم تو ڑ جا تی ہے _____ قواء تو مضمحل ہو ہی جا تے ہیں ۔ عنا صر میں اعتدال تو غا لبؔ کو بھی نہ ملا _____ کسی کو نہیں _____ سب کے ساتھ ایسے ہو تا آیا ہے۔ اپنے آپ میں مگن رہنے والا ‘ خوش با ش ‘ بے فکر نو جو ان ایک دن ادا س ہو جا تا ہے _____ اُس سے کو ئی غلطی سر زد نہیں ہو تی _____ صر ف اُس کا کو ئی بہت ہی قر یبی عز یز فو ت ہو گیا ۔ وہ سو چتاہے‘ عجیب با ت ہے ۔ مر نے والا رخصت کے وقت عجیب تحفہ دے گیا۔ غم دے گیا ‘ خوشی لے گیا ۔ اب یہ غم امانت ہے ۔ ما نگے بغیر ملتی ہے ۔ ہماری آزادی کے چار تنکو ں پر یہ بر قِ آسما نی نا زل ضر ور ہو تی ہے _____ ایسے کیو ں ہو تا ہے ۔ بس یہی تو بے بسی ہے کہ وجو ہا ت و نتا ئج سے با خبر انسان بھی اِس سے بے خبر رہتا ہے کہ آخر آنے والے جاتے کیوں ہیں اور اگر جا نا ہی ہے ‘ تو آنا کیو ں ہے ۔ !
انسان کا علم ‘ جد ید علم بھی آج کے اخبار کی طر ح کی خبر یں دیتا ہے ۔ انسان جسے تا زہ سمجھ رہا ہے ‘ وہ کہنہ ہے _____ یہ جو اں سو رج بہت ہی بو ڑھا ہے _____ یہ ماہتا بی چہر ہ صر ف دور سے دیکھنے والا ہے ۔ یہ حسین و جمیل و جسیم ستا رے ‘ بس اپنی نظر کا دھو کا ہے _____ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آگہی بھی فر یبِ آگہی سے زیادہ نہیں_____ انسا ن ایک خاص وقت میں مقر ر شد ہ لمحے میں پیدا ہو تا ہے اور پھر ایک اور مقر ر شدہ لمحے میں رخصت ہو جا تا ہے ۔ ان دو نقطو ں کے درمیا ن آزادی کا سفر ہے ۔ امکا نا ت اور حا صل کا سفر ہے _____ ساٹھ سا ل کی طویل عمر میں بیس سال نیند کی نذر ہو جا تے ہیں ۔ مجبو ری ہے _____ بچپن اور بڑھاپا اور بیماری کے ایا م نکا ل دئیے جا ئیں تو انسان کے پاس اپنا کیا رہتا ہے ۔ اس پر مستز اد یہ کہ آدھی زند گی بیچ کر با قی کی زند گی کو پا لنا ہے ۔ دفتر و ں کی نذر ہو نے والی زند گی بِک چکی ہے _____ انسان کے پاس اپنے لیے چند سا ل رہ جاتے ہیں۔ اسی مختصر عر صے میں انسان نے سب کچھ کر نا ہے۔بس کچھ نہیں کر سکتا ۔ وہ دیکھتا ہے کہ سفر ختم ہو چلا ہے اور دامنِ مراد خالی ہے ۔ وہ پھردیکھتا ہے ۔ اسے محسو س ہو تا ہے کہ یہ سب کچھ اُس کااپنا نہیں تھا ۔ وہ خود بھی اپنا نہیں تھا ۔ اسے بھیجنے والے نے اِسے اسی کا م کو بھیجا کہ جا ؤ اور پھر آجا ؤ _____ وہ اپنے خالی دامن میں رضا کے پھو ل بھر تا ہے اور پھر پکا ر اُٹھتا ہے
؂
ا سی سے فقیر ی میں ہو ں میں امیر

حضرت واصف علی واصف
khanamjan آف لائن ہے   Reply With Quote
khanamjan کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 18-04-11, 12:09 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,845
کمائي: 277,965
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,125 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

بجا فرمایا کہ اپنی قو ت پر گھمنڈ کر نے والا اپنے عجز پر شر مند ہ تو ہو تا ہے‘لیکن اپنی شر مند گی پر مزید عا جز ہو تا ہے۔

اس تحریرکو منتخب کرکے شیئر کرنے کا شُکریہ
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, پسند, وقت, واصف علی واصف،pindsultani, نیند, نظر, محبت, آج, آزاد, آزادی, امیر, بے, بچپن, حا, خبر, دل, سال, شادی, علی, علم, عجیب, عزائم, غلطی, غم, صحرا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger