| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,845
کمائي: 277,965
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
اس شعر کا بہت چرچاہوااوریہ تاثردیا گیا کہ وطنِ عزیزمیں “انقلاب“ کی آڑ میں جتنی غیرجمہوری کاروائیاں ہوتی رہیں، ان سب میں میرا کچھ نہ کچھ ہاتھ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ 26 اکتوبر1954ء کوجب گورنرجنرل نے سب پہلے اسمبلیاں توڑ کرآمریت کا ڈول ڈالا، اس وقت پنجاب کی صوبائی حکومت کے ماتحت لاہورمیں ڈائریکٹرآف انڈسٹریزکے طور پر متعین تھا۔ اس واقعہ کے سات آٹھ روز بعد مجھے اچانک گورنرجنرل کا سیکرٹری مقررکردیا گیا۔ اسکی وجہ مجھے سب تک معلوم نہیں۔ اس وقت تک ملک غلام محمد سے میری نہ کوئی ذاتی شناسائی تھی نہ کوئی رابطہ تھا۔ اکتوبر1958ء میں جب سکندرمرزا اورکمانڈرانچیف ایوب خان کا مارشل لاء نافذ ہوا، اس وقت 20 ستمبر سے میں جناح ہسپتال کراچی میں عارضہ قلب کے علاج کیلئے داخل تھا۔ اکتوبرکے شروع میں ہسپتال سے گھرآگیا۔ ڈاکٹروں کا حکم تھا کہ مزید دو ہفتے دفتر نہ جاوں اورگھرپرہی مکمل آرام کروں۔ مارشل لاء لگنے کی خبر مجھے پہلی بارکرنل مجید ملک نے رات کے بارہ بجے گھرپرٹیلیفون کرکے سُنائی۔ وہ ان دنوں مرکزمیں پرنشپل اِنفارمیشن آفیسر تھے۔ دوسرے مارشل لاء کی سازش جنرل محمد یحییٰ اورانکے ایک مخصوص ٹولے تک محدود تھی۔ پورے دس روز میں اِسلام آباد کے مرکزی سیکرٹریٹ میں بے کار اِسلام آباد میں مکھیاں مارتا رہا۔ چند دنوں بعد اس دھاندلی پرہلکا سا احتجاج کر کے میں بیوی بچوں سمیت بیرونِ ملک چلا گیا اورملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ تیسرے مارشل لاء کے وقت میں اِسلام آبد میں گوشہ نشینی کی زندگی لا لُطف اُٹھا رہا تھا۔ اقتدارمیں آنے کے پینتیس روزبعد مجھے اچانک جنرل ضیاء الحق کی خدمت میں حاضرہونے کا حکم ملا۔ رمضان شریف کے دن تھے۔ تراویح کے بعد رات تقریباً 12 بجے میں آرمی ہاوس پہنچا۔ اس وقت جنرل صاحب اپنے ڈرائنگ روم میں مولانا ظفرالحق انصاری کے ساتھ مصروف گفتگوتھے۔ اس سے فارغ ہوکروہ میری طرف متوجہ ہوئے۔ جنرل صاحب بڑی شفقت سے پیش آئے اورفرمایا، “ملک کے اس نازک مرحلے میں ہمیں تجربہ کار کارکنوں کی ضرورت ہے۔ میری خواہش ہے کہ کل سے تم وزارتِ تعلیم کا کام سنبھالو“۔ یہ سن کر میرے پاوں تلے زمین نکل گئی۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا، “جناب! اب مجھ میں کام کرنے کی سکت باقی نہیں رہی، کچھ تو ضعیف العمری کا تقاصا ہے، کچھ ریٹائرڈ زندگی نے آرام پسندی کی عادت بڑھا دی ہے، اسکے علاوہ میں کچھ عرصے کیلئے لندن جا کر اپنے دوست ابنِ انشاء کی عیادت کرنا چاہتا ہوں“۔ جنرل صاحب مسکراتے رہے اورفرمایا، “کوئی بات نہیں ضرورجاو۔ وزارتِ تعلیم کے سیکرٹری محمد اجمل چندروزمیں یونیسکو کی کسی تعلیمی کانفرنس کیلئے جینواجا رہے ہیں، مین تمہیں انکے ساتھ ایک ڈیلیگیٹ کی حیثیت سے بھیج رہا ہوں۔ وہاں سے لندن بھی ہو آنا۔ واپسی پر پھربات ہو گی“۔ میں نے اس وقفہ کوغنیمت جانا اورڈاکٹراجمل کیساتھ پہلے جینوا اورپھرلندن چلا گیا۔ ہم کچھ روز ابنِ انشاء کے پاس ٹھہرکرواپس اسلام آباد آگئے۔ میں اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ یر ٹال مٹول پیچان کر اب وزارتِ تعلیم میں کام کرنے کی بات آئی گئی ہو گی لیکن میری کئی عزیزوں اور دوستوں نے جو فوج میں ملازم تھے، مطلع کیا کہ جی ایچ کیو کے افسروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق نے میرا نام لیکر بتاہا کہ اُنہوں نے شعبہ تعلیم کیلئے مجھے منتخب کر رکھا ہے۔ اسکے علاوہ کویت سے میرے ایک دیرینہ دوست کا مُبارکباد کا خط آیاکہ مشرق وسطیٰ کے دورے پر کسی مقام پر پاکستانیوں کے ایک مجمع میں تقریرکرتے ہوئے جنرل صاحب نے پھریہی بات دہرائی۔ مجھے تشویش تو ضرورلاحق ہوئی لیکن کان لپیٹ کراِسلام آباد میں بیٹھا رہا۔ اس دوران چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹراورصدرِ مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کو اپنی مرضی کے دو نورتن مل گئے تھے۔ میں انکا تہہ دل سے شُکرگُزارہوں کہ اُنہوں نے اس موضوع پر پھرکوئی بات نہ چھیڑی اورنہ کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا۔ اگرخدانخواستہ میں لالچ میں آکریہ پیشکش قبول کر لیتا تومجھے یقین ہے ہے نوے روز کے مارشل لاء کو ساڑھے آٹھ سال (یا گیارہ سال) تک کا طول دینے کاسہرا بھی اسک خاکسارکے سر باندھا جاتا۔ صردایوب کے زمانے میں جب اُنہوں نے جگہ جگہ عام جلسوں میں سوال جواب کا سلسلہ شروع کیاتو میرے دوست سید محمدجعفری نے اپنے مخصوص اورمنفردرنگ میں یہ پھبتی اُڑائی، یہ سوال و جـــواب کیا کہنا صدر عالــی جـناب کیا کہنا کیا سیکھایاہے کیا پڑھایاہے قُدرت اللہ شہـاب کیا کہنا سید محمد جعفری بڑے بلند پایا اورہر دلعزیزشاعر تھے۔ ان کے نام کی وجہ سے یہ اشعاربہت سے حلقوں میں زبان زدِ خاص و عام ہو گئے۔ اس شہرت نے یہ ظلم ڈھایا کہ ہر کوئی سمجھنے لگا کہ صدرایوب میرے اشارے پر ناچتے ہیں اورانکا ہر فیصلہ میرے مشوروں کا مرہون منت ہے۔ جاری ہے۔۔۔ والسلام
زارا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کراچی, لندن, مکمل, مجید, معلوم, معذرت, اللہ, احتجاج, اسلام, بچوں, تعلیم, جواب, حکم, خوش, خان, خبر, دوست, رمضان, رات, زندگی, سوال جواب, سال, شعر, علاج, صوبائی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دوسری سوچ اور دوسرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | عبداللہ آدم | گپ شپ | 23 | 01-03-11 11:14 PM |
| بجلی کو ختم کرنے کے لیئے تمام وسئل کو برؤے کار لایا جائے گا۔ | naeemuddin | خبریں | 5 | 15-12-09 07:23 PM |
| سالگرہ کا دوسرا کارڈ | یاسر عمران مرزا | سالگراہیں | 1 | 24-10-09 12:06 AM |
| ایک دوسرے کو سلام کرنا | میاں شاہد | اسلام اور معاشرہ | 5 | 10-07-08 04:49 PM |
| صدر بُش کا ناکام دورۂ مشرقِ وسطیٰ | میاں شاہد | عمومی بحث | 2 | 21-05-08 04:08 PM |