| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
1
سکول کا اصلی ہوا ماسٹر منگل سنگھ ہی تھے۔اردو پڑھانے میں انہیں خاص ملکہ حاصل تھا اردو کا'' سبق وہ ٹھیٹھ پنجابی زبان میں دیا کرتے تھے اور اشعار کی تشریح کرنے کا اپنا ہی نرالا انداز تھا انکا۔ایک بار غالب کا شعر آیا سادگی و پُرکاری ،بے خودی و ہوشیاری حُسن کو تغافل میں جرات نے آزمایا اس شعر کو انہوں نے ہمیں یوں سمجھایا ''سادگی تے اسدے نال پرکاری .بے خودی تے اسدے نال نال ہشیاری۔حسن نوں تغافل دے وچ جرات آزما پایا؟ شاعر کہندا اے اُس نے حسن توں تغافل دے وچ جرات آزما پایا۔لئو اینی جئی گل سی غالب شعر بناندا بناندا مرگیا میں شعر سمجھاندے سمجھانے مرجانا اے تہاڈے کوڑھ مغزاں دے پلے ککھ نہیں پینا ۔اگے چلو'' شہاب نامہ سے اقتباس باب-''راج کرے گا خالصہ باقی رہے نا کو''
__________________
''اک مِٹی دے باوے تے پا چُنی
سانہوں یار دے ہون دا مان لبھا'' |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے saraah کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (26-10-11), skjatala (01-05-11), یاسر عمران مرزا (30-04-11), ننھا بچہ (30-04-11), منتظمین (30-04-11), مرزا عامر (02-05-11), آبی ٹوکول (30-04-11), حیدر (30-04-11), رضی (30-04-11), عبداللہ آدم (30-04-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس نمبر 2 --------------------- ''اسکے برعکس شیخ محمد عبداللہ سیاست کے کباڑ خانے میں بے پیندے کا لوٹا تھے ،جب انہوں نے ینگ مسلم ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے اپنی اڑان شروع کی اس وقت وہ ایک سکول میں سائئنس ٹیچر تھے،چہرے پر بڑی خوشنما داڑھی تھی اور گلے میں لحن ِداودی کا نور بھرا تھا انکی قرات اور نعت خوانی ہزاروں لاکھوں کے مجمع کو مسحور رکھتی تھی لیکن پھر مسٹر گوپال سوامی آئنگر کشمیر کا وزیراعظم بن کر آیا۔کہنے کو یہ آئی سی ایس کا دفتر تھا لیکن درپردہ وہ انڈین نیشنل کانگرس کے مندر کا پجاری تھا ۔اس نے اپنے جال کچھ ایسی چابکدستی سے بچھائےکہ شیخ صاحب سدھائے ہوئی بٹیر کی مانند بڑی آسانی سے دام میں اگئےدیکھتے ہی دیکھتے انکی زہنی معاشی اور جسمانی کایا کلپ ہوگئی ۔امیر اکدل اور حضرت بل کے جلسوں میں نعتیں پڑھ کر لاکھوں کو رلانے والے شیخ جی اب نئے نئے اپ ٹو ڈیٹ سوٹ پہن کر ''بندے ماترم'' کا ترانہ الاپتے بمبئی کے ''تاج'' اور کلکتہ کے ''گرینڈ'' ہوٹل کی ہائی سوسائٹی میں چہچہانے لگے ۔ریزیڈنسی روڈ جموں پر انجمن اسلامیہ کے غریبانہ دفتر سے اٹھ کر انکی نشست و برخاست برلا ہاوس دہلی انند بھون الہ باد اور واردھا جیسے مقامات میں منتقل ہوگئی۔مسلم کانفرنس سے ناطہ توڑ کر شیخ ساحب نے نیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی تو پہلئ استرے سے اپنی خوبصورت داڑھی کا صفایا کیا اور پھر اس قضیہ کشمیر کی خشتِ اول بھی رکھ دی جو آج تک پاکستان اور بھارت کے درمیاں ایک خطرناک ناسور کی طرح رِس رِس کر بہ رہا ہے ''
باب------مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ چائے ـــــــــــــــــ Last edited by saraah; 01-05-11 at 11:37 PM. |
|
|
|
| saraah کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (01-05-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس نمبر 3 -باب ---چندراوتی ' 'پرنس آف ویلز کالج جموں میں تو خیر کسی نا کسی طرح اندھوں میں کانا راجہ بن بیٹھا تھا لیکن گورنمنٹ کالج لاہور میں آکر ساری شیخی کرکری ہوگئی اور یہاں میں کسی شمار میں نا قطار میں تھا ۔نا تو مجھ میں سنابری ''snobbery'' کی اہلیت تھی نا ہی زبان گھما گھما کر ہونٹ سکیڑ سکیڑ کر حلق توڑ مڑوڑ کر اینگلو انڈین لہجے میں انگریزی بولنا میرے بس کا روگ تھا
انگریز تو خیر اپہنے مادری لہجے میں انگریزی بولنے پہ مجبور ہے لیکن جاپانی جرمن اطالوی فرانسیسی روسی اور چینی بھی اس زبان میں گفتگو کرتے ہیں تو اپنے فطری لہجے کو انگلستانی لہجے میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتے ،غلامی کے دور کے احساس کمتری نے یہ وراثت صرف ہمیں عطا کی ہے،اگر ہم اپنے نیچرل لہجے میں انگریزی زبان بول لیں تو اسے بڑا مضحکہ خیز لطیفہ سمجھ لیا جاتا ہے اپنی اس کوتاہی کے احساس میں دب کر میں اپنے خول میں گھس گیا اور ریشم کے کیڑے کی طرح سمٹ سمٹا کر اپنا ایک الگ کوکون بنا لیا یہاں پر میری ملاقات چندراوتی سے ہوگئی'' Last edited by saraah; 01-05-11 at 11:36 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے saraah کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (02-05-11), عبداللہ آدم (01-05-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس 4 ''انٹرویو بورڈ کے تین ممبر تھے سر گورڈن ایرے،سر عبدالحمن اور ڈاکٹر سر رادھا کرشنن،موخر الزکر ہی وہ زات تھے جنہوں نے بعد میں ''سر'' کاٹ کر کانگرس کی بھینٹ چڑھا دیا اور پہلے بھارت کے نائب صدر پھر صدر بنے،شری رادھا کرشنن بڑے بلند پایہ عالم اور بین الاقوامی شہرت کے فلسفی تھے لیکن انٹرویو کے دوران میرے ایک غلطی سے انکے اندر کا برہمن باہر نکل کے بیٹھ گیا اور اس نے مجھے بڑے آڑے ہاتھوں لیا باب -آئی سی ایس میں داخلہ بات یوں چلی کہ آئی سی ایس کے ایک فارم میں ایک کالم تھا جس میں امیدوار کو اپنی دلچسپیوں اور مشاغل کا زکر کرنا پڑتا تھا میں نے ایک ہابی یہ بھی درج کی تھی کہ مجھے مزاہبِ عالم کے تقابلی مطالعے کا شوق ہے ڈاکٹر رادھا کشن نے چھوٹتے ہی مُجھ سے سوال کیا کہ تم نے مذاہب عالم کا مطالعہ اسلامی آنکھ سے کیا ہے یا انسانی آنکھ سے ؟ اس سوال کا سیدھا سادہ جواب دینے کی بجائے میں نے جوش تبلیغ میں ایک چھوٹی سی تقریر جھاڑ دی کہ جو لوگ اسلامی آنکھ اور انسانی آنکھ میں فرق روا رکھتے ہیں وہ دراصل بڑی شدید گمراہی میں مبتلا ہیں ڈاکٹر رادھا کرشنن کے چہرے کا ردعمل صاف بتا رہا تھا کہ انہوں نے مجھے متعصب مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال کر آئی سی ایس کے لیے نا موزوں قرار دے دیا ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے saraah کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (02-05-11), عبداللہ آدم (02-05-11) |
![]() |
| Tags |
| کرے, کرتے, پنجابی, یوں, نوں, نامہ, ملکہ, اُس, انداز, اشعار, اصلی, باقی, بار, توں, حاصل, خودی, خاص, راج, زبان, سنگھ, سبق, شہاب, شاعر, شعر, غالب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|