| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,845
کمائي: 277,965
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج شام کچھ اپنی ہی ترنگ میں تھی۔ میں بھی دل میں حرارت محسوس کر رہا تھا۔ ابا آئے اور اپنی پراڈو کی چابی ہمارے ہاتھ میں رکھ دی۔ ہم گم صم ابا کو دیکھنے لگے کے کیا ہم سدھر گئے ہیں یا ابا کا مزاج بگڑ گیا ہے جو ہمیں اپنے ہاتھوں سے اپنی گاڑی کی چابی دے رہے ہیں۔ ابھی اسی سوچ میں گم تھے کے حکم صادر ہوا کے تمہاری اماں کی سہیلی کی بیٹی میریٹ ہوٹل میں ٹھری ہوئی ہے۔ اسے جاکر لے آئو۔ ہم نے بے دلی سے منہ بناتا، مگر دفعتا" ہمارے دل میں ایک بجلی سی کوندی۔ سہیلی کی بیٹی۔ حیسن اور جوان بھی ہوگی۔ ہم بولے جبھی تو ہمارے دل میں کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔ اب کیا تھا ، بس گھس گئے اپنے ڈرسنگ روم میں، جو کبھی بیڈ روم، کبھی ڈائننگ ، اور کبھی لونگ روم کے طور پہ ہم مختلف معاملات میں استعمال کرے رہتے ہیں۔
کیا کریز تھی شرٹ کی اور ایٹرنٹی کی دلپسند خوشبو، سارا عالم مہکا دیا ہم نے۔ سیڑھیوں سے سلپ ہوکر اترے تو ہماری سگی بہن، یعنی بہن نمر ایک نے ہمارا استقبال کے طور پر تفتیشی نگاہوں سے معائنہ کیا۔ ہم سے پوچھا کے کیا بات ہے آج پوری بتیسی باہر کو جھانکی کیوں مار رہی ہے۔ دل میں خد کو کوسا کے کیوں اسکے سامنہ ہوا۔ پر ابھی ٹائم نہیں تھا، اس پہلے اسکو دھکا مارتا اس نے ہمیں ٹنگڑی دے دی۔ بری طرح گرے۔ پر بدلہ ابھی نہیں۔ ابھی تو بس جانا تھا۔ گاڑی گیٹ سے نکلالی۔ اسپیڈ ساٹھ کلومیٹر کے حساب سے تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں رفتار کا کانٹا ساٹھ کو ٹاٹا کرتا ہوا اسٌی کے ہندسے کو چھونے لگا۔ ہمارے سامنے ایک فوکس ویگن آگئی۔ بار بار کے ہارن کے باوجود وہ ہمیں اپنی پچھواڑی دکھا کر منہ چڑاتی رہی، ہم نے داہنا شیشہ دیکھا، پھر بایاں شیشہ اور آخر میں بیک مرر، اسکے بعد وانٹیڈ کی انجلینا جولی کی طرح ایک خطرناک کٹ مارا، اور اس بدنما فوکسی کو سائیڈ دیتے ہوئے نکل گئے۔ ایک گاڑی، پھر دوسری گاڑی، دوراہے، چوراہے، اور سگنلز۔ ایک کے بعد ایک تیزی سے ہم سے پیچھے جاتے دیکھائی دے رہے تھے۔ یہ آخری سگنل تھا جو سرخ ہوچکا تھا، مگر ہم اسے توڑنا اپنا اخلاقی فرض جانا اور بغیر کسی کی پرواہ کئے زناٹے کے ساتھ سگنل کو سرخ سلام کرتے ہوئے گزر گئے۔ میریٹ کے گیٹ کے باہر کسی کو نشانی کے طور پی نیلے لباس میں اپنا منتظر پایا۔ ہم نے سوچا گاڑی سے اتر کہ استقبال کریں۔ اب دھڑکتے دل اور لرزتے قدموں کے ساتھ ہم گاڑی سے اترے۔ آج شائد ہمیں اپنا سچا پیار ملنے والا تھا۔ دل میں امنگیں عجیب انداز میں قلابازیں کھانے لگیں۔ جیسے ہی ہماری نظریں اور چہرے آمنے سامنے ہوئے و بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محترمہ اچھی خاصی عورت تھیں، چالیس کے پیٹے میں ہونگی۔ میں سناتے میں آگیا اور سوچنے لگا کے بیٹی اتنی بڑی ہے تو اماں کی سہیلی کی عمر کیا ہوگی۔ ہماری اماں اب اتنی بھی بوسیدہ نہیں ہوئیں۔ کمری عمری کی شادی تھی انکی۔ اور ہماری معلومات کے مطابق ابھی اپنی سہیلی کی بیٹی کی ہم عمر ہی ہونگی۔ آنٹی آپ سبرین ہیں۔ ہم نے پوچھا تو ادھر ادھر دیکھنے کی ایکٹنگ کی اور بولی آنٹی کسے کہا۔ بڑے شرارتی ہو۔ جی کہہ کے رہ گئے ہم۔ بادلنخواستہ انکو آگے کی سیٹ آفر کی تو محترمہ بولیں کے اچھا نہیں لگا کے آپکے ساتھ بیٹھوں، میں پیچھے ہی ٹھیک ہوں۔ ہم حیرت اور بیزاری کی کیفیت میں انہیں دیکھتے رہے اور دل ہی دل مین سوچا کے کتنا خیال ہے انہیں اپنی بالی عمر کا۔ چلو اچھا ہی تھا کے ہم انکو اپنے ساتھ بٹھاتے۔ گاڑی اپنی پچھلی رفتار سے کہیں تیز تھی۔ سامنے زندگی کو کوئی مقصد نظر نہیں آرہا تھا۔ بس ایک ہی دھن تھی کے انکو گھر پھنک دوں۔سارے راستے بڑی بی نے اوراد کا ورد کرکے ہمارے اوسان خطا کرنے کی کوشش میں صرف کیا۔ گھر پہنچے تو بہن کو ہنستے پایا۔ اب ہمیں اسکی جانے سے پہلے والی خوشی کی وجہ سمجھ آرہی تھی۔ ہم نے غصے میں اسکے بالوں کی چھوٹی کھول دی اور انہیں الجھا دیا۔ کمرے جاکر پرفیوم کی شیشی توڑنے کی کوشش کی مگر ابھی اس میں کچھ پرفیوم باقی تھا۔ اسی لئے ارادہ ترک کردیا۔ یہ ابا نے بھی ہمیں سے خوب انتقام لیا ہماری نالائقی کا۔ پتا نہیں کیا کیا سوچا اب تھک ہار کر آپکے سامنے بیٹھا ہوں۔ گھر میں بہنیں بہت ہیں اللہ کے فضل سے۔ چائے فورا" آگئی۔ ہم ٹھٹک گئے کے ہماری ذخم پہ نمک پاشی کے بجائے گل پاشی۔ اس سے پہلے کچھ اور سوچتے ، ہاتھ چائے کے کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ آوچ چ چ چ چ۔ ساری چائے ٹانگوں اور کارپیٹ پہ گر چکی تھی۔ ہم نے محسوس کیا تھا کے جب ہماری تیرہویں نمبر کی بہن چائے لائی تھی تو اس نے کپ کودستانے سے پکڑا ہوا تھا۔ یہ چھوکریاں بھی چڑیلوں کی خالائیں ہیں۔ کپ کو ہماری تواضح کے خاطر مائیکرو ویو میں اچھا خاصا گرم کرکے لائیں تھیں۔ انگھوٹا اور اس سے ملحقہ انگلیاں سرخ انگارہ ہوگئیں تھیں۔ جانوروں کی طرح میں ان سب کی تلاش میں نکل گیا۔ سترویں نمبر کی بہن کو پسہری کے نیچے پایا تو پتا چلا کے سب چھت پہ چھپی ہوئی ہیں۔ ہماری زخم پہ جلن ہونے لگی تو خیال کیا کے جلدی سے نمک لگا لیا جائے تاکہ چھالے بننے سے بچت ہوجائے۔ پر ہم بھی انکے بھائی ہیں، کرارا جواب دینگے۔ شکریہ زارا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, کوشش, کلومیٹر, ٹانگوں, مائیکرو, آج, اللہ, انداز, بھائی, تلاش, ترک, جواب, حکم, دل, رفتار, زندگی, شام, شادی, عورت, عمری, عمرو, عالم, عجیب, غصے, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری | ڈاکٹرنور | گپ شپ | 35 | 01-01-11 11:05 AM |
| ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال | جاویداسد | خبریں | 1 | 20-12-10 06:51 PM |
| ::: محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 23-12-07 11:01 PM |
| نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) | چاچا کمال | خبریں | 0 | 04-12-07 11:50 AM |
| نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 04-12-07 09:12 AM |