| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,347
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم !
۔۔۔۔۔۔ شاہنواز فاروقی ۔۔۔۔۔۔ ہر کام کا ایک ”جواز“ اور اس جوازکے کچھ ”اسرار“ ہوتے ہیں۔ لکھنا بھی ایک کام ہے۔ اس کا بھی ایک ”جواز“ ہے اور اس جواز کے بھی کچھ ”اسرار“ہیں۔ لیکن لکھنے کا جواز کیا ہی؟ اس کے اسرار کیا ہیں؟ ان سوالات کا جواب مزید تین سوالات ہیں۔ کیوں لکھا جائے؟ کیا لکھا جائے؟ اور کیسے لکھا جائے؟ یہ تین سوالات لکھنے کا جواز بھی ہیں اور اس کے اسرار یعنی My Steries بھی۔ لکھنے والا لکھنے کی طرف آتا ہے تو اس کے ذہن میں پہلا سوال یہ آتا ہے کہ کیوں لکھا جائے؟ آخر لکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لیکن لکھنے کے سلسلے میں صرف کیوں کا جواب تلاش کرنا کافی نہیں۔ خالی صفحہ لکھنے والے کو ڈراتا ہے۔ اسے خوف زدہ کرتا ہے۔ اس سے سوال کرتا ہے۔ ”کیا لکھو گے؟“ چنانچہ لکھنے والے کو کیا لکھو گے کا بھی جواب تلاش کرنا پڑتا ہے۔ لیکن کیا لکھو گے کا جواب بھی کافی نہیں۔ اس لیے کہ آدمی اگر یہ بھی طے کر لے کہ اسے کیا لکھنا ہے تو بھی اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ جو کچھ لکھنا طے پایا ہے اسے لکھا کیسے جائے گا؟ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر ان سوالات کا جواب کیا ہے؟ رلکے جرمن زبان کا عظیم شاعر ہے۔ اسے ایک بار ایک نوجوان نے اپنی شاعری کا مسودہ بھیجا اور اس سے کہا کہ وہ اس کی شاعری کے بارے میں رائے دے اور یہ بتائے کہ اسے شاعری کرنی بھی چاہیے یا نہیں۔ رلکے نے اس نوجوان کو خط لکھا اور کہا کہ تم مجھ سے کیوں پوچھتے ہو کہ تمہیں شاعری کرنی چاہیے یا نہیں یہ سوال تو تمہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ اور تمہیں اپنے آپ سے جو بنیادی سوال پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اگر تم شاعری نہیں کرو گے تو کیا مر جاﺅ گے یا اگر اس سوال کے ردعمل میں تمہارا جواب یہ ہو کہ تم شاعری کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے تو پھر تمہیں یقیناً شاعری کرنی چاہیے۔ لیکن اگر تمہارا جواب یہ ہو کہ شاعری تمہارے لیے زندگی کی ہم معنی نہیں ہے اور تم شاعری کیے بغیر زندہ رہ سکتے ہو تو پھر تمہیں شاعری ترک کر کے کوئی معتدل کام کرنا چاہیے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ رلکے کی اس بات کا مفہوم کیا ہے؟ رلکے کی اس بات کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ لکھنے والے کے پاس ایسا تجربہ یا تجربات ہونے چاہئیں جو اس کی ذات میں اندر تک اتر گئے ہوں۔ جو اس کے دل کی دھڑکن بن گئے ہوں۔ جو اس کے خون کے ساتھ بہنے لگے ہوں۔ لکھنے والے کے پاس جب ایسے تجربات ہوں گے تو لکھنے والا خود نہیں لکھے گا یہ تجربات اس سے لکھوائیں گے۔ اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر نے اپنے ایک شعر میں یہی بات کہی ہے۔ میر نے کہا ہے ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے دردوغم اتنے کیے جمع تو دیوان کیا مطلب یہ کہ تم جس چیز کو شاعری سمجھ رہے ہو وہ شاعری تھوڑی ہے۔ دردوغم کا بیان ہے۔ ان کا اظہار ہے۔ ان کی حکایت ہے۔ لیکن یہ صرف میر تقی میر کا معاملہ نہیں۔اقبال کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری کو بار بار خیال آتا ہے کہ اقبال امت مسلمہ کی محبت اور اس کے غم میں اتنے ڈوبے ہوئے تھے کہ امت مسلمہ کی فکر ان کو آرام سے سونے بھی نہیں دیتی ہو گی اور وہ راتوں کو بستر سے اٹھ کر سوچتے ہوں گے کہ امت مسلمہ کا مستقبل کیا ہونے والا ہے۔ اقبال کی شاعری میں مستقبل ہی سے نہیں ماضی سے بھی ایسا گہرا تعلق ملتا ہے کہ اقبال کی شاعری امت کا ماضی اقبال کا حال بن گیا ہے۔ اس محبت اور وارفتگی کے بغیر وہ شاعری وجود میں نہیں آسکتی تھی جسے اقبال کا کلام کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ تو کیوں لکھا جائے کے سوال کا جواب ہوا۔کیسے لکھا جائے کے بارے میں اردو کے سب سے بڑے افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی نے ایک عجیب بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک وقت وہ تھا جب میں صبح سے شام تک لکھنے کے موضوع تلاش کرتا رہتا تھا اور پھر ایک وقت وہ آیا جب مجھے ہر گلی کے موڑ پر ایک افسانہ پڑا مل جاتا تھا۔ لیکن بیدی کی اس بات کے معنی کیا ہیں؟ بیدی کے فکر و فن کے تناظر میں اس سوال پر غور کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ بیدی نے اس بات کے ذریعے لکھنے کے سلسلہ میں مشاہدے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ لکھنے کے لیے تجربہ اور تعلق بنیادی شرط ہے۔ لیکن لکھنے کے لیے صرف تجربہ کافی نہیں۔ لکھنے کے لیے گہرے مشاہدے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات خود وضاحت کی محتاج ہے۔ دراصل زندگی اور کائنات کی فطرت میں ایک ”حیا“ ہے۔ وہ اجنبی پر اپنا آپ ظاہر نہیں کرتی۔ اسکے رازوں سے آگاہ ہونے کے لیے اس کے ساتھ وقت گزارنا پڑتا ہے۔ اس کے اور اپنے درمیان موجود اجنبیت دور کرنی پڑتی ہے۔ تب زندگی اور فطرت انسان کو اپنے رازوں میں شریک کرتی ہے۔ بیدی کے یہاں مشاہدے کی اہمیت اور اس کی گہرائی کا یہی مفہوم ہے۔ اس مرحلے کے بعد لکھنے والے کو کبھی فکر میں نہیں گھلنا پڑتا کہ کیا لکھا جائے۔ زندگی، فطرت، اس کا ماحول اور سب سے بڑھ کر اس کا باطن اسے خود بتا دیتا ہے کہ اسے کیا لکھنا چاہیے۔ زیر بحث مسئلے کے تیسرے سوال کا جواب اردو کے ممتاز افسانہ نگار غلام عباس نے اپنے ایک انٹرویو میں دیا ہے۔ ان سے جب یہ پوچھاگیا کہ افسانہ کیسے لکھا جاتا ہے تو انہوں نے کہا جو شخص خط لکھ سکتا ہے وہ افسانہ بھی لکھ سکتا ہے۔ اس بات کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ لکھنے کی صلاحیت بنیادی طور پر ماجرا بیان کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس بات کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ لکھنے والے کے پاس ایک ”اسلوب“ بھی ہونا چاہیے۔ اسلوب کی اہمیت یہ ہے کہ کہنے والوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ Style is the man یعنی آدمی اپنے اسلوب ہی سے پہچانا جاتا ہے جیسا اسلوب ہوتا ہے آدمی بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو یہاں بات مکمل ہو جاتی ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں لکھنے کے لیے ایک اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔اس چیز کو عرف عام میں مطالعہ کہا جاتا ہے۔ مطالعے کی ضرورت اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ لکھنے والے کے ذاتی تجربات اس کے لیے کبھی کافی نہیں ہوتے۔ لکھنے والا کتنا ہی مشاہدہ کر لے اس کا مشاہدہ محدود ہی رہتا ہے۔ لکھنے والے کا ذاتی اسلوب بھی دوسرے لکھنے والوں کے اسالیب سے آگہی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ ان تینوں چیزوں کو ہمارے لیے ایک جگہ جمع کر دیتا ہے۔ مطالعہ کے ذریعے ہم دوسرے کے تجربات میں شریک ہوتے ہیں۔ ان کے مشاہدات سے استفادہ کرکے اور ان کے اسالیب کا فہم پیدا کرتے ہیں۔ ( مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس مضمون کو کہاں پوسٹ کروں ۔۔ انتظامیہ جہاں بہتر سمجھے اسے موو کر دیں )
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (10-05-10), نورالدین (11-05-10), خرم شہزاد خرم (10-05-10), عبداللہ آدم (10-05-10), عبداللہ حیدر (11-05-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اچھی شیرنگ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,324
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ بہت پیارا اور بہت اچھا مضمون ارسال کیا ہے آپ کی طرف سے اس طرح کی شئیرنگ کا انتظار رہے گا
(آپ نے ٹھیک جگہ پوسٹ کیا ہے )
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (11-05-10) |
![]() |
| Tags |
| color, فن, کلام, پوسٹ, مکمل, میر تقی میر, محبت, آدمی, انتظامیہ, انسان, اجنبی, تلاش, ترک, جواب, حال, خون, زندگی, شام, شاعری, شخص, شعر, صفحہ, صلاحیت, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|