واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات



اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔


لکھنے کا جواز ۔۔۔!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-05-10, 11:49 AM   #1
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,347
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لکھنے کا جواز ۔۔۔!!

لکھنے کا جواز ۔۔۔!!

السلام علیکم !
۔۔۔۔۔۔ شاہنواز فاروقی ۔۔۔۔۔۔

ہر کام کا ایک ”جواز“ اور اس جوازکے کچھ ”اسرار“ ہوتے ہیں۔ لکھنا بھی ایک کام ہے۔ اس کا بھی ایک ”جواز“ ہے اور اس جواز کے بھی کچھ ”اسرار“ہیں۔ لیکن لکھنے کا جواز کیا ہی؟ اس کے اسرار کیا ہیں؟ ان سوالات کا جواب مزید تین سوالات ہیں۔
کیوں لکھا جائے؟ کیا لکھا جائے؟ اور کیسے لکھا جائے؟
یہ تین سوالات لکھنے کا جواز بھی ہیں اور اس کے اسرار یعنی My Steries بھی۔ لکھنے والا لکھنے کی طرف آتا ہے تو اس کے ذہن میں پہلا سوال یہ آتا ہے کہ کیوں لکھا جائے؟ آخر لکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لیکن لکھنے کے سلسلے میں صرف کیوں کا جواب تلاش کرنا کافی نہیں۔ خالی صفحہ لکھنے والے کو ڈراتا ہے۔ اسے خوف زدہ کرتا ہے۔ اس سے سوال کرتا ہے۔
”کیا لکھو گے؟“ چنانچہ لکھنے والے کو کیا لکھو گے کا بھی جواب تلاش کرنا پڑتا ہے۔ لیکن کیا لکھو گے کا جواب بھی کافی نہیں۔ اس لیے کہ آدمی اگر یہ بھی طے کر لے کہ اسے کیا لکھنا ہے تو بھی اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ جو کچھ لکھنا طے پایا ہے اسے لکھا کیسے جائے گا؟
یہاں سوال یہ ہے کہ آخر ان سوالات کا جواب کیا ہے؟
رلکے جرمن زبان کا عظیم شاعر ہے۔ اسے ایک بار ایک نوجوان نے اپنی شاعری کا مسودہ بھیجا اور اس سے کہا کہ وہ اس کی شاعری کے بارے میں رائے دے اور یہ بتائے کہ اسے شاعری کرنی بھی چاہیے یا نہیں۔
رلکے نے اس نوجوان کو خط لکھا اور کہا کہ تم مجھ سے کیوں پوچھتے ہو کہ تمہیں شاعری کرنی چاہیے یا نہیں یہ سوال تو تمہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ اور تمہیں اپنے آپ سے جو بنیادی سوال پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اگر تم شاعری نہیں کرو گے تو کیا مر جاﺅ گے یا اگر اس سوال کے ردعمل میں تمہارا جواب یہ ہو کہ تم شاعری کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے تو پھر تمہیں یقیناً شاعری کرنی چاہیے۔ لیکن اگر تمہارا جواب یہ ہو کہ شاعری تمہارے لیے زندگی کی ہم معنی نہیں ہے اور تم شاعری کیے بغیر زندہ رہ سکتے ہو تو پھر تمہیں شاعری ترک کر کے کوئی معتدل کام کرنا چاہیے۔
یہاں سوال یہ ہے کہ رلکے کی اس بات کا مفہوم کیا ہے؟
رلکے کی اس بات کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ لکھنے والے کے پاس ایسا تجربہ یا تجربات ہونے چاہئیں جو اس کی ذات میں اندر تک اتر گئے ہوں۔ جو اس کے دل کی دھڑکن بن گئے ہوں۔ جو اس کے خون کے ساتھ بہنے لگے ہوں۔ لکھنے والے کے پاس جب ایسے تجربات ہوں گے تو لکھنے والا خود نہیں لکھے گا یہ تجربات اس سے لکھوائیں گے۔
اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر نے اپنے ایک شعر میں یہی بات کہی ہے۔ میر نے کہا ہے

ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
دردوغم اتنے کیے جمع تو دیوان کیا

مطلب یہ کہ تم جس چیز کو شاعری سمجھ رہے ہو وہ شاعری تھوڑی ہے۔ دردوغم کا بیان ہے۔ ان کا اظہار ہے۔ ان کی حکایت ہے۔ لیکن یہ صرف میر تقی میر کا معاملہ نہیں۔اقبال کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری کو بار بار خیال آتا ہے کہ اقبال امت مسلمہ کی محبت اور اس کے غم میں اتنے ڈوبے ہوئے تھے کہ امت مسلمہ کی فکر ان کو آرام سے سونے بھی نہیں دیتی ہو گی اور وہ راتوں کو بستر سے اٹھ کر سوچتے ہوں گے کہ امت مسلمہ کا مستقبل کیا ہونے والا ہے۔ اقبال کی شاعری میں مستقبل ہی سے نہیں ماضی سے بھی ایسا گہرا تعلق ملتا ہے کہ اقبال کی شاعری امت کا ماضی اقبال کا حال بن گیا ہے۔ اس محبت اور وارفتگی کے بغیر وہ شاعری وجود میں نہیں آسکتی تھی جسے اقبال کا کلام کہا جاتا ہے۔
لیکن یہ تو کیوں لکھا جائے کے سوال کا جواب ہوا۔کیسے لکھا جائے کے بارے میں اردو کے سب سے بڑے افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی نے ایک عجیب بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک وقت وہ تھا جب میں صبح سے شام تک لکھنے کے موضوع تلاش کرتا رہتا تھا اور پھر ایک وقت وہ آیا جب مجھے ہر گلی کے موڑ پر ایک افسانہ پڑا مل جاتا تھا۔
لیکن بیدی کی اس بات کے معنی کیا ہیں؟
بیدی کے فکر و فن کے تناظر میں اس سوال پر غور کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ بیدی نے اس بات کے ذریعے لکھنے کے سلسلہ میں مشاہدے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ لکھنے کے لیے تجربہ اور تعلق بنیادی شرط ہے۔ لیکن لکھنے کے لیے صرف تجربہ کافی نہیں۔ لکھنے کے لیے گہرے مشاہدے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات خود وضاحت کی محتاج ہے۔
دراصل زندگی اور کائنات کی فطرت میں ایک ”حیا“ ہے۔ وہ اجنبی پر اپنا آپ ظاہر نہیں کرتی۔ اسکے رازوں سے آگاہ ہونے کے لیے اس کے ساتھ وقت گزارنا پڑتا ہے۔ اس کے اور اپنے درمیان موجود اجنبیت دور کرنی پڑتی ہے۔ تب زندگی اور فطرت انسان کو اپنے رازوں میں شریک کرتی ہے۔ بیدی کے یہاں مشاہدے کی اہمیت اور اس کی گہرائی کا یہی مفہوم ہے۔
اس مرحلے کے بعد لکھنے والے کو کبھی فکر میں نہیں گھلنا پڑتا کہ کیا لکھا جائے۔ زندگی، فطرت، اس کا ماحول اور سب سے بڑھ کر اس کا باطن اسے خود بتا دیتا ہے کہ اسے کیا لکھنا چاہیے۔
زیر بحث مسئلے کے تیسرے سوال کا جواب اردو کے ممتاز افسانہ نگار غلام عباس نے اپنے ایک انٹرویو میں دیا ہے۔
ان سے جب یہ پوچھاگیا کہ افسانہ کیسے لکھا جاتا ہے تو انہوں نے کہا جو شخص خط لکھ سکتا ہے وہ افسانہ بھی لکھ سکتا ہے۔
اس بات کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ لکھنے کی صلاحیت بنیادی طور پر ماجرا بیان کرنے کی صلاحیت ہے۔
اس بات کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ لکھنے والے کے پاس ایک ”اسلوب“ بھی ہونا چاہیے۔
اسلوب کی اہمیت یہ ہے کہ کہنے والوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ Style is the man یعنی آدمی اپنے اسلوب ہی سے پہچانا جاتا ہے جیسا اسلوب ہوتا ہے آدمی بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔
غور کیا جائے تو یہاں بات مکمل ہو جاتی ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں لکھنے کے لیے ایک اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔اس چیز کو عرف عام میں مطالعہ کہا جاتا ہے۔
مطالعے کی ضرورت اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ لکھنے والے کے ذاتی تجربات اس کے لیے کبھی کافی نہیں ہوتے۔ لکھنے والا کتنا ہی مشاہدہ کر لے اس کا مشاہدہ محدود ہی رہتا ہے۔ لکھنے والے کا ذاتی اسلوب بھی دوسرے لکھنے والوں کے اسالیب سے آگہی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ ان تینوں چیزوں کو ہمارے لیے ایک جگہ جمع کر دیتا ہے۔
مطالعہ کے ذریعے ہم دوسرے کے تجربات میں شریک ہوتے ہیں۔ ان کے مشاہدات سے استفادہ کرکے اور ان کے اسالیب کا فہم پیدا کرتے ہیں۔

( مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس مضمون کو کہاں پوسٹ کروں ۔۔ انتظامیہ جہاں بہتر سمجھے اسے موو کر دیں )
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-05-10), نورالدین (11-05-10), خرم شہزاد خرم (10-05-10), عبداللہ آدم (10-05-10), عبداللہ حیدر (11-05-10)
پرانا 10-05-10, 12:16 PM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,011
کمائي: 99,831
شکریہ: 23,953
4,976 مراسلہ میں 14,684 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی شیرنگ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-05-10, 02:13 PM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,324
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ بہت پیارا اور بہت اچھا مضمون ارسال کیا ہے آپ کی طرف سے اس طرح کی شئیرنگ کا انتظار رہے گا
(آپ نے ٹھیک جگہ پوسٹ کیا ہے )
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
color, فن, کلام, پوسٹ, مکمل, میر تقی میر, محبت, آدمی, انتظامیہ, انسان, اجنبی, تلاش, ترک, جواب, حال, خون, زندگی, شام, شاعری, شخص, شعر, صفحہ, صلاحیت, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger