| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
دروازے کو کھٹکھٹانے کی آواز سن کر سودائی اپنے خیالات سے چونک کر دیکھتا ہے، اور بھاگ کر دروازہ کھول لیتا ہے۔ سامنے مرزا کھڑا ہوتا ہے۔
” السلام علیکم، یار اتنا وقت لگا دیا، میں کب سے دروازے پر کھڑا ہوں۔“ مرزا تھوڑی ناراضگی سے بولتا ہے۔ سودائی اس کی بات کو سنی ان سنی کرتا ہوا، اس کو اپنے ساتھ لے کر کمرے میں جاتا ہے۔ مرزا بھی اس کے پیچھے پیچھے چل کر جاتا ہے۔ کمرے میں بیٹھ کر باتیں شروع کرتے ہیں۔ باتوں باتوں میں مرزا پوچھتا ہے، ” یار سودائی، میرے قرض کا کیا ہوا؟ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔“ سودائی پہلے تو اسے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن مرزا کا چہرہ دیکھ کر اسے اندازہ ہوجاتا ہے، کہ آج تو مرزا قرض کی وصولی کا مصمم ارادہ کرکے آیا ہے۔ تھوڑی دیر خاموش رہ کر کہتا ہے، ” ارے یار فکر مت کرو، میں نے ایک حل سوچا ہے۔“ مرزا جو تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہے، ایک دم سیدھا ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔ ”واقعی؟ مجھے پتا تھا، تم واقعی میرے اچھے دوست ہو۔ تو پھر کیا سوچا ہے میری رقم واپس کرنے کے بارے میں؟“ ” بتاتا ہوں، پہلے تمھارے لئے گڑ کا شربت بنالوں، بہت گرم موسم ہے۔ شربت پی کر دماغ ٹھنڈا کرلو، پھر بات کرتے ہیں۔“ یہ کہہ کر سودائی شربت بنانے لگ جاتا ہے۔ گڑ ڈالنے کے بعد ایک لیموں کو نچوڑ کر اس کا رس شربت میں ڈالتا ہے۔ اتنے میں مرزا پھر کہنے لگتا ہے، ”ارے بتاؤ بھی یار، کیوں اتنے مخمصے میں رکھنا چاہتے ہو مجھے؟“ ” ٹھیک ہے تو سنو۔ میں یہ جو شربت میں لیموں کا رس ڈال رہا ہوں، اس کے ساتھ لیموں کا بیج بھی اس شربت میں شامل ہورہا ہے۔ میں اس بیج کو نکال کر سنبھال کر رکھ لیتا ہوں۔ کل اپنے کھیت میں جاکر اسے بو لوںگا۔ کچھ ہی دنوں میں لیموں کا پودا بن جائے گا، اور مسلسل نگہداشت سے ایک دو سال میں اس پر لیموں لگنا شروع ہوجائیں گے۔ میں لیموں لے کر بازار جاؤں گا، اور بیچ کر تمہارے پیسے چکادوں گا۔“ سودائی اپنی بات ختم کرکے داد طلب نگاہوں سے مرزا کی طرف دیکھتا ہے۔ مرزا کو یہ تجویز کچھ اچھی نہیں لگی، اس کا اثر اس کے چہرے پر ظاہر ہوگیا تھا۔ سودائی نے مرزا کی ناراضگی بھانپ لی، اس لئے شربت پلاتے ہوئے کہنے لگا، ”کیوں میری تجویز اچھی نہیں لگی؟“ ”تجویز اچھی ہے، لیکن بہت وقت لگے گا یار۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔“ مرزا نے بے دلی سے کہا۔ سودائی کچھ دیر خاموش رہتا ہے۔ پھر مرزا کی طرف دیکھتے ہوئے خوشی بھرے لہجے میں کہتا ہے، ”ٹھیک ہے۔ میں نے ایک اور راہ نکالنے کا سوچا ہے۔ میں ایسا کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ مرزا اس کی بات کاٹ کر کہتا ہے،” اچھا؟ وہ کیا؟“ ”ارے یار بات تو پوری کرلینے دو۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ پہاڑی کے دامن میں میری کچھ زمین ہے۔ وہاں پر فصل تو کاشت کرنے سے رہے، البتہ بہت ساری خاردار جھاڑیاں جمع کرکے اپنے کھیت کے اردگرد رکھ لیتا ہوں۔ پہاڑی کے آس پاس بہت سارے گڈرئیے اپنی بھیڑیں چَرانے آتے ہیں۔ جب بھیڑیں وہاں سے گزریں گی، تو جھاڑیوں سے لگ کر تھوڑا تھوڑا اون جھاڑیوں میں رہ جائے گا۔ میں وہاں سے اون جمع کرکے گھر لے کر آیا کروں گا۔ جب اون جمع ہوجائے گا تو میں اس سے شال بنالوں گا۔ وہ شال لے کر بازار میں بیچ کر تمہارا قرض چکادوں گا۔ کیسا رہا میرا یہ منصوبہ؟“ سودائی اس بار امید بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ مرزا کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی، ”ارے واہ، نقدی دیکھ کر کیسی باچھیں کھل گئیں تمہاری!“ یہ سن کر مرزا ہنستے ہوئے کہنے لگتا ہے، ”رہنے دو یار۔ مجھے نہیں چاہیئے پیسے۔“ کچھ دیر تک خاموش رہنے کے بعد مرزا سودائی سے پوچھتا ہے، ” یار یہ تو بتاؤ، تم نے کبھی نوکری یا کاروبار بھی کیا ہے؟“ ”ہاں، ایک جگہ نوکری کی تھی۔“ سودائی نے کہا۔ ”اچھا؟ میں تو سمجھ رہا تھا، کہ تم بہت نکمے ہو، لیکن تم نے کام بھی کیا ہے۔ بتاؤ تو، کیا نوکری تھی؟ویسے تمہیں کس خوبی کی بنیاد پر نوکری ملی؟“ مرزا مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔ ”ارے رہنے دو یار! پھر کبھی سہی۔ نوکری اس بات پر ملی تھی کہ میں چونکہ ہر وقت کچھ نہ کچھ اوٹ پٹانگ سوچتا رہتا ہوں، اس وجہ سے مجھے رات کو نیند نہیں آتی، تو میں چوکیداری کے لئے موزوں تھا۔“ سودائی اس بات کو آگے بڑھانے کے موڈ میں نہیں تھا۔ ”کیوں رہنے دوں؟ بتاؤ نا، کام کیا تھا، تنخواہ کتنی تھی۔۔۔۔۔۔۔“ ”ٹھیک ہے، تم پیچھا نہیں چھوڑ رہے تو سنو۔ یہ بہت پرانی بات ہے۔ مجھے اس وقت نوکری کرنے کا شوق ہوا تھا۔ اس شوق میں دہلی کے ایک تاجر کے ساتھ بطور معاون کام شروع کیا۔ وہ دہلی سے افغانستان سامان لے کرجاتا تھا۔ وہاں پر سامان بیچنے کے بعد کچھ گھوڑے خرید کر واپس دہلی آتا تھا۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ سفر کے دوران سامان کا خیال رکھوں، تا کہ چور اچکے یا راہزن لوٹ کر نہ لے جائیں۔“ سودائی بات کر رہا تھا کہ مرزا نے بات کاٹ کر کہا، ”تو تمہارے پاس ہتھیار بھی ہوتا تھا، یا خالی ہاتھ حفاظت کرنے پر مامور تھے؟“ ”بندوق تھی میرے پاس، جس کو میں کمر سے لٹکا کر رکھتا تھا۔ خیر، دہلی سے کابل جاتے ہوئے راستے میں رات گزارنے کے لئے رکے۔ ویران اور سنسان علاقہ تھا، مالک نے مجھ سے کہا، دیکھو سودائی، یہ علاقہ تھوڑا خطرناک ہے، تم سونا مت۔ میں کچھ دیر آرام کرلوں تو پھر اٹھ کر سامان کی چوکیداری کرلوں گا، تب تک تم جاگتے رہنا۔ میں نے کہا، جناب بے فکر ہوکر سو جائیں۔ مجھے ویسے بھی نیند نہیں آتی۔ کیونکہ میں رات بھر سوچتا رہتا ہوں۔ وہ یہ سن کر ہنس کر کہنے لگے، اچھی بات ہے، لیکن جاگتے رہنا۔ بہرحال میں نے ان کو یقین دلایا، اور وہ میری بات پر یقین کرکے سوگئے۔ کچھ دیر بعد ان کی آنکھ کھلی۔ میری طرف دیکھ کر کہنے لگے، سودائی، کیا سوچ رہے ہو؟ میں نے کہا، یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ کانٹوں کے سرے اتنے تیز کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگا، اور کہا، اچھی سوچ ہے۔ لیکن جاگتے رہنا۔ یہ کہہ کر وہ کروٹ بدل کر سوگئے۔ آدھی رات گزرنے کے بعد پھر ان کی آنکھ کھل گئی۔ مجھے جاگتے دیکھ کر کہنے لگے، سودائی کیا سوچ رہے ہو؟ میں نے کہا، یہ سوچ رہا ہوں، یہ بکری کی مینگنیاں گول گول کیوں ہوتی ہیں؟ یہ سن کر وہ بے اختیار ہنسنے لگے۔ کہا، بہت اچھی سوچ ہے، لیکن جاگتے رہنا۔ مجھے یہ ہدایات دے کر وہ پھر سو گئے۔ رات کے آخری پہر ان کی آنکھ کھلی۔ حسبِ عادت مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے، سودائی، کیا سوچ رہے ہو؟ میں نے کہا، یہ سوچ رہا ہوں، کہ سامان تو چور لے گئے، اب گھوڑے آپ لے کر جائیں گے کہ میں؟“ اتنا سننا تھا کہ مرزا پر ہنسی کا دورہ پڑگیا۔ ہنستے ہوئے پوچھنے لگا، ”اچھا، تو چور سامان لے کر گئے؟ لیکن تم تو جاگ رہے تھے؟“ ”بس یار، رات کے آخری پہر میں آنکھ لگ گئی تھی۔ چور بھی اسی وقت اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔“ سودائی اس کی ہنسی کو نظرانداز کرتے ہوئے بولا۔ ”اچھا، انہوں نے کیا کہا، ظاہر ہے چوری ہوگئی، اس بیچارے کا تو بہت نقصان ہوگیا۔“ ”اس نے کیا کرنا تھا۔ نوکری سے فارغ کردیا۔“ سودائی سر کجھاتے ہوئے کہنے لگا۔ ”یار، یہ تو بہت برا ہوا۔“ مرزا نے تعزیت کے انداز میں کہا۔ ----------------------------------------------------------------- پشتو ادب کی کہانی مرزا اور سودائی سے ماخوذ۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (01-04-10), محمدمبشرعلی (26-09-10), مرزا عامر (22-07-10), ام طلحہ (06-04-10), ابو عمار (02-04-10), خرم شہزاد خرم (05-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10), عدنان دانی (05-04-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بہت پہلے پشتو کی کہانی مرزا اور سودائی پڑھی تھی۔ پوری کہانی تو یاد نہیں، لیکن اس کا کچھ خاکہ میرے ذہن میں تھا۔ اسی کو یہاں پر پیش کیا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,357
کمائي: 171,591
شکریہ: 9,804
7,522 مراسلہ میں 22,592 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 12
کمائي: 480
شکریہ: 49
11 مراسلہ میں 25 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب ہارون بھائی۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے وقاص احمد ضیاء کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,039
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبردست ہارون بھائی
امید ہے کہ پشتو ادب کا انتخاب اردو زبان میں ہمیں یہاں پڑھنے کو ملتا رہے گا |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,039
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھیا آپ پڑھ تو سکتے ہیں نا
ہم تو اس نعمت سے محروم ہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (04-04-10), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,039
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (04-04-10), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,347
کمائي: 154,196
شکریہ: 4,887
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہارون بھائی بہت اچھی اور کہانی ہے
آپ نے بہت مخنت کی ہے اسے اردو میں ترجمہ کرنے کی۔ شکریہ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,347
کمائي: 154,196
شکریہ: 4,887
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہارون بھائی بہت اچھی اور کہانی ہے
آپ نے بہت مخنت کی ہے اسے اردو میں ترجمہ کرنے کی۔ شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (05-04-10), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,324
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب جناب کیا بات ہے مزہ آیا پڑھ کر
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, کہانی, کیسا, کوشش, کس, گھر, ٹیک, پہلے, وقت, نیند, نوکری, چور, آج, بے, حل, دیکھو, دوست, سفر, سنی, سال, شروع, طلب, علاقہ, عادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 13-08-09 11:01 PM |