واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات



اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔


مہنگائی۔۔۔۔ مہنگائی ۔۔۔۔ مہنگائی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-11-11, 09:28 PM   #1
Member
اجنبی
 
marhaba's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: قطر
مراسلات: 90
کمائي: 3,153
شکریہ: 77
58 مراسلہ میں 207 بارشکریہ ادا کیا گیا
marhaba کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں marhaba کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default مہنگائی۔۔۔۔ مہنگائی ۔۔۔۔ مہنگائی

مہنگائی۔۔۔۔ مہنگائی ۔۔۔۔ مہنگائی

نوشین نقوی
مہنگائی نے خریداری کو امتحان بنا دیا ہے ایک وقت تھا جب خاندان کا ایک فرد کماتا اور باقی کھاتے تھے تب بھی گھروں میں سکون تھا اور آج جب خاندان کا ہر فرد کمانے میں لگا ہے تب بھی بنیادی ضروریات کا حصول ناممکن ہوتا جا رہا ہے

غربت اور مہنگائی نے ہر گھر کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جس کو دیکھیں وسائل میں اضافے کی جدوجہد میں مصروف ملتا ہے، خاص طور پر گزشتہ دس سال سے پاکستان دہشت گردی کے نام پر جس جنگ کا حصہ بناہے اس نے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے۔ اور لوگ انتہائی مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔ایک وقت تھا جب خاندان کا ایک فرد کماتا اور باقی کھاتے تھے تب بھی گھروں میں سکون تھا اور جب ہر خاندان کا ہر فرد کمانے میں لگا ہے تب بھی بنیادی ضروریات کا حصول ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ اسی بارے میں حال ہی ''اردو ٹائمز ''نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات کی اور ان کے مسائل سنے۔
جمال احمد دہاڑی کرتا ہے اس نے کہا''ا توار بازار میں میں چھابڑی لگاتا ہوں، آپ دیکھیں یہاں بازار میں کتنا رش ہے یہاں ہر اتوار کو اتنا ہی رش ہوتا ہے کہ گزرنا بھی مشکل ہوتا ہے، ہزاروں روپے کی خریداری کر کے لوگ اپنے گھروں میں جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہر کوئی ناخوش ہی جاتا ہے جس کو دیکھیں اسی کام پر لگا ہے کہ جس کو جتنا لوٹا جا سکتا ہے لوٹ لو، لوگ بہت سی شاپنگ کرتے ہیں مگر ہمارے جیسے لوگوں کے بھی بچے ہیںجن کو اسکول میں پڑھنا بھی نصیب نہیں ہے باجی اتنی مہنگائی ہے کہ صرف دو وقت کی روٹی بھی پوری ہو جائے تو بہت مشکل ہے اگر شہر میں کوئی دھماکہ ہو جائے تو لوگ کئی کئی دن ڈر کے مارے گھروں سے بھی نہیں نکلتے تو بالکل دیہاڑی نہیں لگتی۔''
محمد فیاض کا پورا خاندان آڑھت کے کاروبا رسے وابستہ ہے مہنگائی کے بارے میں اس کے خیالات ذرا مختلف ہیں''کوئی مہنگائی نہیں ہے جی!سب ٹھیک ہیں، ہم یہاں بیٹھ کے مہنگائی کے خلاف بولیں گے تو ہمیں اٹھا کے پھینک دیں گے جو رزق آ رہا ہے وہ بھی جائے گا، اور حق سچ کی بات یہ بھی ہے پورا ملک ہی آفتوں میں ڈوبا ہوا ہے کبھی زلزلہ آتا ہے تو کبھی سیلاب۔ ہم صرف گورنمنٹ کو روتے رہتے ہیں۔ آپ دیکھیں پہلے چار صوبوں سے پیاز آتا تھا جس سے لوگوں کی ضرورت پوری ہوتی تھی۔ اب سیلاب کی وجہ سے صرف پنجاب چاروں صوبو ں کی کمی پوری کرے گا تو مہنگائی نہیں ہو گی تو کیا ہو گا، یہی حال باقی سب چیزوں کا بھی ہے کوئی چیز سندھ میں نہیں ہے کوئی پنجاب میں نہیں ہے، بلوچستان سے تو آتا ہی کچھ نہیں ہے سارا مال افغانستان اسمگل ہو جاتا ہے، سرحد سے بھی کوئی چیز میسر نہیں آتی۔ پھر باجی ملک کا یہی حال ہونا ہے ناں۔ یہ بات جانے بغیر ہم بولنے لگتے
ہیں، پورے ملک کے حالات خراب ہیں تو یہ ہمارا امتحان ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا '' ۔
محسن علی اتوار کے دن بازار میں پورا دن سبزی کا اسٹال لگاتا ہے اس نے کہا''میں صبح کے وقت اسکول جاتا ہے اور شام کے وقت اپنی گلی میں دہی بھلے کی ریڑھی لگاتا ہوں جو میری امی اور باجی بنا کے دیتی ہیں جو میں بیچتا ہوں تو اچھی کمائی ہو جاتی ہے میرے ابو کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا، ہمارا گھر اپنا تھا اس لئے امی، باجی اور میں مل جل کے سب کر لیتے ہیں خدا کا شکر ہے اچھا گزارا ہو جاتا ہے۔ اتوار کو میں سبزی منڈی سے صبح صبح سبزی لاتا ہوں اور اتوار بازار میں بیچتا ہوں۔ مہنگائی تو بہت ہو رہی ہے لیکن گزارا تو کرنا ہے ناں۔''
بازار میں خریداری کی غرض سے آئی فاخرہ کہتی ہیں''خدا کی پناہ کسی بھی چیز کو صرف ہاتھ لگانا ہی مشکل ہو چکا ہے اب تو ترسی ہوئی نظروں سے دس چیزوں کو دیکھ کے کسی ایک کو ضرورتاً خریدتے ہیں۔ میرے بیٹے کی شادی ہے پہلے ہم جیسے مڈل کلاس کے لوگ اچھرہ بازار کو ہی سوچ لیتے تھے کہ خریداری کر سکتے تھے اب تو کسی چیز کو ہاتھ لگانا بھی دشوار ہو گیا ہے۔''
دوکاندار سلیم خان نے کہا ''باجی حالات بڑے خراب ہیں ہم پشاور سے کپڑا منگواتے ہیں، اب لوگ زیادہ خریدتے ہیں لیکن کم پیسوں میں خریدنا چاہتے ہیں۔ اب لوگ بہت بحث کرتے ہیں جو کوئی بھی یہاں باجی کپڑے خریدنے آتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مفت کی طرح کپڑا لے جائے لیکن ہمارا بھی خرچا بہت بڑھ گیا ہے۔ اب ہمیں کپڑے لانے میں بہت خرچا کرنا پڑتا ہے لیکن یہاں آنے والے صاف کہتے ہیں وہاں سے تم اسمگلنگ کا کپڑا لاتے ہو۔ بھلا اس سے کوئی کم خرچا ہوتا ہے مگر اب زبان پر کوئی اعتبار نہیں کرتا، چاہئے قسم کھا کے کہو لوگ اپنی مرضی کا ریٹ لگوانا چاہتے ہیں، ادھر ہمارے علاقوں میں امن کی صورتحال بہت ہی خراب ہے اس لئے ہر چیز بہت مہنگی ہو گئی ہے، ہمیں جتنی مہنگی چیز ملے گی ویسی ہی بیچیں گے لیکن کوئی نہیں مانتا۔''
مہنگائی تو ہے اور گزشتہ چند سالوں میں جیسے قیمتوںکو پر لگ گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی ہے کہ اگر خریداری میں کنٹرول کر لیا جائے تو شاید حا لات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں کیونکہ امپورٹڈ کاسمیٹکس، جوسسز، اور سگریٹ ایسی اشیا ہیں جن کو اگر ہم اپنی شاپنگ لسٹ سے نکال دیں تو بجٹ کنٹرول ہو جائے گا۔
اردوٹائمز
marhaba آف لائن ہے   Reply With Quote
marhaba کا شکریہ ادا کیا گیا
wajee (23-11-11)
جواب

Tags
پاکستان, لوگ, نظر, مفت, مسائل, آج, آدمی, امتحان, اردو, بچپن, حال, خلاف, خدا, دھماکہ, زلزلہ, زندگی, سال, شہر, شام, علی, صوبوں, صورتحال, صاف, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:18 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger