| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,565
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
کہیں کچھ پڑھتے ہوئے ایک بہت اچھا سبق نظر سے گزرا، آپ سب کی خدمت میں پیش ہے۔ پرانے یونیورسٹی کے دوستوں کا ایک گروپ جو کہ بہت ہی اچھے عہدوں پر فائز تھے ایک دوسرے سے اکثر ملتا رہتا تھا۔ ایک دن تمام دوستوں نے پروگرام بنایا کہ اپنے ایک پرانے استاد سے ملاقات کی جائے۔ طے شدہ دن کو سارے دوست ملکر اپنے استاد کے گھر پہنچ گئے۔ استاد اپنے قابل شاگردوں کو دوبارہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ پرانی یادوں کا دور چل نکلا اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا جہاں کے موضوعات پر بات چیت شروع ہو گئ۔ باتیں اہستہ آہستہ زندگی اور حالات کی طرف شکایات کی منتقل ہو گئ۔ ہر لڑکا اپنی زندگی سے شاکی تھا اور اپنے حالات پر ناخوش۔ اسی دوران استاد صاحب اُٹھ کر ان تمام کیلیئے چائے لینے چلے گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے اور اس میں ایک تھرماس اور کچھ رنگ برنگے کپ پڑے تھے۔ کچھ اچھے نئے، اور کچھ پرانے اور گھسے ہوئے۔ آتے ہی انہوں نے سب سے کہا کہ بھائ میں آپ لوگوں کی خود خاطر نہیں کر سکتا، براہِ مہربانی خود اپنی چائے کپ میں ڈال کر لے لیں۔ ہر لڑکا اُٹھا اور جا کر ایک ایک کپ میں چائے لے لی۔ چائے نے باتوں کے دور کو اور طویل کر دیا اور پھر زندگی کی شکایات کو بھی۔ ان کی شکایات کے جواب میں استاد نے کہنا شروع کیا "تم سب نے یہ دیکھا ہو گا کہ نئے کپ سب سے پہلے ختم ہو گئے، اور پیچھے صرف پرانے اور گھِسے ہوئے کپ ہی رہ گئے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ انسان اپنے لیئے سب سے اچھی اور عمدہ چیز چاہتا ہے۔ یہی زندگی میں خرابیوں اور انسانی رویوں میں خرابی کا باعث ہے، انہی باتوں سے انسان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے"۔ کپ چائے کی قدر میں کوئی اضافہ نہیں کرتے، بلکہ وہ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو کہ ہم پی رہے ہوتے ہیں، یا ایک طرح سے چائے کی ڈریسنگ کرتے ہیں۔ تم سب کو کیا چاہیئے تھا، چائے نا، مگر تم سب نے چائے کے بجائے بہترین اور عمدہ کپ کو پسند کیا، اس کے بعد تم دوسروں کے کپ کو بھی دیکھتے رہے۔ اب اگر ہم ایسے دیکھیں کہ چائے زندگی ہے۔ پیسہ، پوزیشن، نوکری اور معاشرہ سب کپس ہیں۔ یہ سب آلات ہیں جو کہ زندگی کی شکل بناتے ہیں اور ان میں ہی زندگی ہے، زندگی تو وہی ہے صرف ہمارے دیکھنے کے پیمانے مختلف ہو گئے ہیں۔ ہم ان سب چیزوں سے زندگی کے ذائقے کو پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کپ کو زیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے ہم زندگی کی چائے سے بھر پور لطف نہیں اٹھا رہے ہیں، بلکہ ہم اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے کپ دیکھ دیکھ کر جل کڑھ کر اپنی زندگی کو بھی ضائع کر رہے ہیں اور اپنے اس وقت کو بھی جس میں ہم ایک بھر پور گرم چائے یعنی زندگی سے لطف و اندوز ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی سی ہے نہ کہ یہ پیمانے، یہ تو ہم نے خود ہی بنائے ہیں۔ میرے پیارو، زندگی سے لطف اٹھاؤ، نہ کہ کپ سے۔ ہمیشہ خوش رہنے والے انسان کے پاس شاید سب سے اچھی چیزیں نہ ہوں، مگر جو کچھ بھی اس کے پاس ہے، اس کا بہترین استعمال کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ یادرکھیں ! سادہ رہیں، سب سے محبت کریں، دوسروں کی فکر کریں اور نرمی سے بات کریں، باقی سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیں۔ سب سے امیر وہ نہیں کہ جس کے پاس بے انتہا دولت ہے بلکہ وہ ہے کہ جس کی ضروریات کم ہیں۔
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|