| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,534
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اٹھارویں صدی میں جن انگریزوں کی سرفروشی نے ہندوستان کو برطانیہ کی نو آبادی بنایا ان میں رابرٹ کلائیو ”1725 -1774“کا نام سرفہرست ہے ۔1743 میں جب کہ اسککی عمر 18 سال تھی وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک کی حیثیت سے مدراس آیا۔ اس وقت اسکی تنخواہ صرف 5 پاؤنڈ تھی ۔ یہ رقم اس کے خرچ کے لیئے بہت ناکافی تھی چناچہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہتا اور مایوسانہ جھنجھلاہٹ کے تحت اپنے ساتھیوں اور افسروں سے لڑتا رہتا۔
اس کے بعد ایک حادثہ ھوا جس نے اسکی زندگی کے رخ کو بدل دیا۔ اس نے اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے ایک روز بھرا ھوا پستول لیا اور اپنے سر کے اوپر رکھ کر اس کی لبلبی دبا دی۔ مگر اسکو سخت حیرت ھوئی جب اس نے دیکھا کہ اسکا پستول نہیں چلا۔ اس نے پستول کھول کے دیکھا تو وہ گولیوں سے بھرا ھوا تھا۔ اپنے ارادے کی حد تک اپنے آپ کو ہلاک کر لینے کے باوجود بدستور زندہ حالت میں موجود تھا۔ یہ بڑا عجیب واقعہ تھا۔ رابرٹ کلائیو اس کو دیکھ کر چلا اٹھا: ” خدا نے تم کو یقیناً کسی اہم کام کے لیے محفوظ رکھا ہے“ اب اس نے کلر کی چھوڑ دی اور انگریزی فوج میں بھرتی ھو گیا - اس زمانہ میں انگریز اور فرانسیسی دونوں بیک وقت ہندوستان میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ اس سلسلے میں دونوں کے درمیاں جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں رابرٹ کلائیو نے غیر معمولی صلاحیت اور بہادری کا ثبوت دیا ۔ اس کے بعد اس نے ترقی کی اور انگریزی فوج میں کمانڈر انجیف کی حیثیت حاصل ھوگئی ۔ جس کلائیو نے مایوس ھوکر خود کو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر پستول چلا لیا تھا، اسی کو اس کے بعد یہ مقام ملا کہ برطانیہ کی تاریخ اسکو ہندوستان کے اولین فاتح کی حیثیت سے لکھا گیا۔ ہم میں سے ہر شخص کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ کسی شدید خطرہ میں پڑنے کے باوجود معجزاتی طور پر اس سے بچ جاتا ہے۔ تاہم بہت کم لوگ ہیں جو رابرٹ کلائیو کی طرح اس سے سبق سیکھتے ہیں۔ جو اس طرح کے واقعات میں قردت کا اشارہ پڑھ لیتے ہوں کہ ۔۔۔ ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، ابھی دنیا میں تم کو اپنے حصے کا کام کرنا باقیہ ہے۔ ہر آدمی کو دنیا میں کام کرنے کی ایک مدت اور مواقع دئیے گئے ہیں۔ یہ مدت اور مواقع اس سے اس وقت تک نہیں چھینے جا سکتے جب تک خدا کا لکھا پورا نہ ھوجائے۔ اگر رات کے بعد خدا آپ کے اور صبح طلوع کرے تو سمجھ لیجیئے کہ خدا کہ نزدیک ابھی آپ کے عمل کے کچھ دن باقی ہیں۔ اگر آپ حادثات کی اس دنیا میں اپنی زندگی کو بچانے میں کامیاب ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ خدا کے منصوبہ کے مطابق آپکو کچھ اور کرنا ہے جو ابھی آپ نے نہیں کیا۔ اقتباس: راز حیات از مولانا وحیدالدین خان
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہے۔, کوشش, کلرک, وقت, واقعات, قدم, لوگ, منصوبہ, آبادی, آدمی, ثبوت, حیات, خان, خدا, دنیا, رات, زندگی, زمانہ, سال, شخص, عجیب, صلاحیت, صبح, صدی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|