واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات



اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔


’جب عینی نے مجھے ڈانٹ لگائی۔۔۔‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-08-07, 10:21 AM   #1
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,618
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ’جب عینی نے مجھے ڈانٹ لگائی۔۔۔‘

’جب عینی نے مجھے ڈانٹ لگائی۔۔۔‘

اردو ناول کے ’واحد‘ ماسٹر پیس کی مصنفہ کےگزر جانے کی خبر سنتے ہی، پہلا کام یہ کیا کہ دہلی میں اپنے ایک عزیز دوست اور ہم عصر صحافی کو فون کیا کی کہ بھئی تمہیں یاد ہے ہم نے قرۃالعین حیدر کے ساتھ ایک طویل انٹرویو کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے ’آگ کے دریا‘ سے اقتباس بھی پڑھے تھے؟ جواب ملا کہ جب آفس اور وہ میگزین بند ہوئے تو ایک ڈائریکٹر صاحب ساری ٹیپس، کسیٹ وغیرہ اپنے ساتھ لےگئے اورگھر شفٹ کرنے کے چکر میں وہ کہیں گر کر کھوگئیں۔ دلی والوں کا جواب نہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے قرۃالعین حیدر کے ساتھ اپنا پہلا اور آخری انٹرویو سن دو ہزار میں کیا تھا۔ جولائی کی ایک چیختی دو پہر کو جمنا پار دلی کے مضافاتی علاقے نوئیڈا کے قریب ایک کالونی میں ان کے چھوٹے سے فلیٹ میں پہنچے۔ عینی آپا اکیلی رہتی تھیں، ایک نو عمر لڑکی تھی وہاں، معاون تھی شاید، اور ایک کاتب نظر آنے والا شخص بھی تھا۔ فیملی نہیں تھی۔

فون پر ان سے میری بات پہلے ہی ہو چکی تھی، اور غالباً ملٹی میڈیا، شیڈیا زیادہ نہ سمجھ آنے کے باعث سر سے اتارنے کے لئے آمادہ بھی ہوگئیں تھیں۔ ورنہ عینی نے انٹرویو دینا کب کا ترک کر دیا تھا، واقفوں نے بتایا۔

"اچھا تو پہلے اپنے بارے میں بتاؤ، کون ہو، کیوں کر رہے ہو یہ، کیا پڑھا ہے؟" اردو ادب کی ’عظیم ترین‘ ناول نگار کی طرف سے سوالات کی بوچھاڑ سے میں گھبرا سا گیا۔ اور پھر عینی کا مُوڈ بھی کچھ خراب سا تھا۔

"جی میں۔۔ جی میں۔۔"

اچھا یہ بتاؤ میری کون سی کتاب پڑھی ہے، سچ سچ بتانا؟

مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ مس حیدر کو ان لوگوں پر خاص غصہ آتا ہے جو منہ اٹھا کر چلے جاتے ہیں اس طرح کے "بے ہودہ" سوال پوچھتے ہیں کی "’آگ۔۔۔‘ کی انسپریشن کہاں سے ملی" اور ہاں ان حضرات سے جھلا جاتی ہیں جو ان کے ایک اور شاہکار ’آخرِ شب کے ہم سفر‘ کو ’آخری‘ کر دیتے ہیں۔ میرے ذہن پر خاصا دباؤ تھا، اگر جلدی میں آخری کہہ دیا تو۔

بس پھر کیا تھا، میں نے ان کی دو ہی کتابیں پڑھی تھیں: "آگ کا دریا اور آخری۔۔۔" منہ سے نکل گیا۔

عینی آپا کو زکام تھا، بھنا کر بولیں، بھئی نہیں پڑھی نا۔ آخری شب! کیا کرتے ہیں یہ نئے لڑکے لڑکیاں۔۔۔

’نہیں، میں نے پڑھی ہیں، واقعی۔۔۔

ارے چھوڑو۔۔ انہوں نے ڈانٹ لگائی۔

بہر حال، سرخ کان لئے، شرمندہ گردن جھکائے میں بیٹھا رہا، ڈھیٹوں کی طرح۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کسی طرح معنی خیز خاموش لمحوں کے سہارے، دھکے کھاتے سے چل پڑی۔ اپنی بات کو شاید مؤدبانہ وزن بخشنے کی خاطر میں نے کہا جی میں دہلی میں مقیم بڑے مصنفوں سے انٹرویو کر رہا ہوں، اس سے قبل امرِتا پریتم سے مل کر آیا ہوں۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے ان کے بارے میں؟

ارے ہاں۔ امرتا۔۔۔ اسے نے وارث شاہ اچھی لکھی، ہممم۔۔۔

کچھ روز قبل جنوبی دہلی کے ایک پوش علاقے حوض خاص میں امرتا پریتم سے ان کے عمدہ گھر میں ملا تھا، جہاں وہ مصور امروز کے ساتھ عرصے رہ رہی تھیں۔ گفتگو کے دورن انہوں نے ٹرپل فائیو کے لمبے کش لگا کر بہت ساری باتیں کی تھیں، اور ’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘ اپنی مدھر آواز میں ریکارڈ کرائی۔ آنکھیں بھر آئیں۔ امرتا بھی نہیں رہیں۔

خیر، قرۃالعین حیدر نے انٹرویو کے دوران زیادہ باتیں نہیں کی۔ بہت زیادہ مرعوب انٹرویور برا انٹرویور ہوتا ہے۔ انہوں نے لندن کے دنوں کے بارے کچھ ادھر ادھر کی باتیں کیں (مجھے پوری طرح یاد بھی نہیں) پھر ’آگ کا دریا‘ کے بارے میں (اردو میں ناول لکھتا کون تھا!) ۔۔۔

تاہم جب کتاب سے اقتباس پڑھنے کا لمحہ آیا تو عینی آپا ایک دم الرٹہوگئیں۔آنکھوں میں وہ منفرد چمک آگئی۔ میں نے آگ کے دریا سے انگلینڈ والے چند صفحے کھولے۔ لیکن انہوں نے کہا پہلے مجھے دکھاؤ کیا کروگے تم؟ میں نے ریکارڈر آن کیا، وہ ایک آدھ منٹ بولیں، ’چلو اب مجھے سناؤ ذرا، زکام ہے نہ مجھے! شوں شوں کرتی رہی ہوں پورا دن۔ میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا، ٹیپ ریوائنڈ کیا اور انہیں سنایا۔ مجھے یک لخت اردو ادب کی تاریخ کی ایک عظیم شمع کے قرب میں ہونے پر بے حد مسرت ہوئی۔

انہوں نے کہا میری آواز ٹھیک نہیں آئی اس میں، دوبارہ کرتے ہیں۔ پھر وہ باتھ روم گئیں۔ واپس آکر حیدر نے جذب ہوکر ’آگ۔۔۔‘ سے چند صفحے پڑھے، جہاں لندن کے پِکڈلی سرکس کا ذکر ہے۔ میں پورا وقت ان کی کرسی کے قریب، نیچے فرش پر بیٹھا رہا۔ آپا آخر ِکار مہربان ہوگئیں تھی۔

تم کچھ پیوگے؟ ارے کولا لے آؤ بھئی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں دہلی میں چند دوستوں کے ہمراہ ایک نئی قسم کی ’ملٹی میڈیا‘ میگزین چلا رہا تھا۔ قرۃالعین حیدر، امرتا پریتم، خوشونت سنگھ جیسے لکھاریوں سے طویل انٹرویو کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ مجھے ذرا سی بے ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اس وقت اُن ٹیپس کو ادارتی ملکیت سے قطع نظر اپنے پاس رکھ لینا چاہئیے تھا۔)
چاچا کمال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
لڑکی, لندن, لمحوں, نظر, اردو, ترک, جواب, حضرات, خبر, دوست, شخص, عزیز, صحافی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عینک والا جن زارا بچوں کا پاک نیٹ 0 14-02-11 06:10 PM
عینی گواہ سیپ قہقہے ہی قہقے 0 28-01-11 10:29 PM
ترجمہ کرنے والی عینک عدنان دانی عمومی سائنس 3 03-01-11 09:58 AM
عمرو عیّار اور ملاء عمر اداس ساحل عمومی بحث 12 18-09-10 10:23 PM
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی راجہ اکرام عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 3 29-11-09 11:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:20 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger