واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات



اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔


The Month

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-07, 11:52 PM   #1
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,618
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default The Month

The Month

رمضان جب بھی آتا ہے، میرے حواس پر چھا جاتا ہے۔

میں نہیں جانتا کہ یہ کیوں ہوتا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ یہ مہینہ مجھے کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ کم از کم اِن ۲۹ یا ۳۰ دنوں میں مَیں کہیں کا نہیں رہتا، نہ گھر کا، نہ گھاٹ کا۔ خلیل جبران کی طرح میں بھی اپنی ذات میں آوارہ گردی کرتا پھرتا ہوں اور بھٹکتا رہتا ہوں۔ حیران ہوتا ہوں کہ یہ سب کچھ میرے اندر ہے۔ شرمندہ ہوتا ہوں کہ یہ سب کچھ میرے اندر ہے۔ اور پھر اِس حیرانی اور شرمندگی کے عالم میں سر جھکا کر پاؤں سے اپنی ذات کی زمین کریدتا رہتا ہوں۔ سوچتا رہتا ہوں۔ آپ ہی آپ بڑبڑاتا رہتا ہوں۔ پھر وہ ۲۹ یا ۳۰ دن گزر جاتے ہیں اور میں اپنے کندھے اُچکا کر باہر آجاتا ہوں۔ اپنے آپ سے باہر۔ اپنی خامیوں سے باہر۔ اپنی خوبیوں کے پاس۔

میں نہیں جانتا کہ گرمیوں میں رمضان کیسا ہوتا ہے۔ میرے لئے یہ تصور کرنا ہی بڑا مشکل ہے کہ رمضان کا مہینہ گرمیوں میں بھی آ سکتا ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ انسان سردی کے مارے کپکپائے بغیر نیند سے اٹھے اور ٹھٹھرے بغیر سحری کھائے۔ پھر مسجد جاتے ہوئے اُس کے منہ سے بھاپ نہ نکلے۔ مسجد کی پُر سکون گیلریوں میں جب تک ہیٹر نہ جلیں اور اُن کے سامنے کھڑے ہو کر وضو سے گیلے اعضاء سُکھائے نہ جائیں، تب تک شاید سجدہ کرنے کا بھی مزہ نہیں آتا۔ اور تراویح کا تو سارا لطف ہی سرد راتوں میں ہے۔

میری عادت ہے کہ سردیوں میں ہر صبح، جب مؤذن اپنی اپنی مساجد کے ساؤنڈ سسٹم آن کر کے اذان دیتے ہیں، تو میری آنکھ کُھل جاتی ہے۔ بستر میں کروٹیں بدلتے ہوئے، کمبل کی حرارت محسوس کرتے ہوئے اور “الصلٰوۃ خیر من النوم” کی صدائیں سنتے ہوئے جو سرور ملتا ہے، اُس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ پھر جب اذانوں کی آوازیں مدھم پڑتی ہیں تو میری آنکھیں بھی نیند کے خمار سے بوجھل ہو جاتی ہیں۔ کتنا بے بس ہوتا ہوں میں اُس وقت!

لیکن رمضان میں میری آنکھ کافی پہلے کُھلتی ہے۔ اُس وقت نہ تو مؤذن اذان دے رہے ہوتے ہیں اور نہ ہی میں بستر میں کروٹیں بدلتا ہوں۔ آخر دیسی گھی کے پراٹھے جو کھانے ہوتے ہیں۔ اور دودھ میں بھیگی جلیبیاں۔ اور گرما گرم آملیٹ۔ اور کتنی عجیب بات ہے کہ میں اُس وقت بے بس نہیں ہوتا!

پھر سحری کے بعد میرے قدم مسجد کی طرف اٹھتے ہیں۔ میں اُس کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں جس نے مجھے تخلیق کیا۔ جس نے مجھے جمے ہوئے خون سے تخلیق کیا۔ جس نے مجھے پڑھنے، لکھنے، بولنے اور سمجھنے کی طاقت دی۔ جس کے حکم سے دن اور رات بدلتے ہیں۔ مہینے آگے گزرتے ہیں۔ اور جس کے حکم سے رمضان آتا ہے۔ وہی رمضان جس کی آمد کے بعد میں اپنے حواس میں نہیں رہتا۔ میں اپنے حواس میں نہیں رہتا، تب ہی تو اپنی اوقات بھول جاتا ہوں۔ اور جب میں اپنی اوقات بھول جاتا ہوں تو اُس سے سب کچھ مانگتا ہوں۔ سب کچھ۔ الف سے لے کر یے تک۔ ایک ایک چیز۔ اُن ہزاروں خواہشات کا سوال کرتا ہوں جن میں سے ہر ایک پہ میرا دم نکلتا ہے۔ میں مانگتا ہوں اور وہ نوازتا ہے۔ اُن تمام نعمتوں سے بھی نوازتا ہے جن کا سوال میری زبان پر نہیں آتا، وہ دلوں کے حال بھی تو جانتا ہے نا۔

اور پھر وہ لمحات آتے ہیں جب میں بالکل فارغ ہوتا ہوں۔ وہ خطرناک لمحات جو مجھے میرے اندر لے جاتے ہیں۔ میں اپنی ذات کو کھنگالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوں۔ اپنی ہستی کے نجانے کن کن گوشوں میں قدم رکھتا ہوں اور جب نظر اٹھاتا ہوں تو ہر طرف وحشت کو دانت نکالے کھڑا پاتا ہوں۔ وہی وحشت جو کبھی میرے نفس کے انگ انگ میں سر پٹختی ہے۔ وہی وحشت جو کبھی اپنا ہی سامنا کر لینے پر مجھے گھر کا رہنے دیتی ہے، نہ گھاٹ کا۔ وہی وحشت جو مجھے اپنے مقابل پا کر ایک فلک شگاف قہقہہ لگاتی ہے اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا مجھے چیلنج کرتی ہے۔ “آگے بڑھو اور تسخیر کرو مجھے۔” وہ کہتی ہے اور میں فقط اسے دیکھتا رہتا ہوں۔ پھر ۳۰ دن گزر جاتے ہیں اور میں باہر آ جاتا ہوں۔ یہ جانے بغیر کہ شاید چند قدم دور ہی مجھے سراغ مل جاتا۔ اپنا سراغ۔ زندگی کا سراغ۔ وحشت کو شکستِ فاش دینے کا سراغ۔ اُس جواب کا سراغ، جو میں نے یومِ الست اپنے رب کو دیا تھا۔

میں نہیں جانتا کہ اِس رمضان میں کیا ہو گا اور کیا نہیں۔ لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اِس رمضان میں، مَیں اُس رحمت کو ضرور تلاش کروں گا جو میری تلاش میں پھرتی ہے۔ جو مجھے اپنی ذات کی وحشتوں پر کُڑھتے ہوئے دیکھتی ہے۔ جو دھیرے دھیرے مجھے اپنی طرف بلاتی ہے۔ جو ہر آنے والے کا مسکرا کر استقبال کرتی ہے۔ جو ہر ایک کی وحشت سے لڑتی ہے۔ جو ہر نفس کو معطر کرتی ہے۔ جو ہر پیشانی پر نور بن کر برستی ہے۔ اور جو ہر اُس دل میں داخل ہوتی ہے۔ جس کا در کُھلا ہوتا ہے۔

میں اپنے دل کا دروازہ کُھلا چھوڑ رہا ہوں، کہ رمضان آرہا ہے۔ اور اس کے آنے کے بعد میں اپنے حواس میں نہیں رہتا۔

سورس الٹرا سیدھا
چاچا کمال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
قدم, نیند, نظر, مسجد, انسان, تلاش, جواب, حکم, حال, خون, رمضان, زندگی, سحری, عالم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Phone n Net 199/Month Unlimited Real_Light کمپیوٹر کی باتیں 31 23-06-09 12:37 PM
ماہ مقدس رمضان المبارک کارڈز Month Raman Cards Real_Light ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 10 03-09-08 11:20 PM
The Month, again چاچا کمال عمومی بحث 0 05-12-07 11:36 PM
Ramadhan- The Best Month of the year Ashfaq Ahmed گپ شپ 0 11-09-07 04:36 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:22 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger