| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,618
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج میری سالگرہ ہے۔
پورے ۵۷ برس کا ہو گیا ہوں میں۔ میرے سامنے میز پر ایک بہت بڑا کیک ہے۔ اتنا بڑا کیک کہ اس پر پوری ۵۷ موم بتیاں موجود ہیں۔ ہر موم بتی کے سرے پر ایک ننھا سا شعلہ بھڑک رہا ہے۔ اس بات کا منتظر کہ کب میں پھونک مار کر اسے بجھاتا ہوں۔ لیکن میں ایسا کروں گا نہیں۔ کیونکہ سالگرہ صرف موم بتیاں بجھانے سے مکمل نہیں ہوتی۔ حاضرین کو تالیاں بھی بجانا ہوتی ہیں۔ مگر ان ۵۷ موم بتیوں کے بجھ جانے پر کوئی بھی تالیاں نہیں بجائے گا۔ کیونکہ یہاں میرے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں ہے۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ میں اس بھری دنیا میں اکیلا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ خدا نے مجھے کئی بیٹوں سے نوازا ہے۔ یہ کیک مجھے میرے بیٹوں ہی نے تو بھجوایا ہے۔ ان کے لئے میں اتنا قابلِ احترام ہوں کہ وہ سب سے پہلے میرا نام لیتے ہیں۔ میرا مفاد ہمیشہ اپنے سامنے رکھتے ہیں۔ لیکن بھول جاتے ہیں۔ یہ میرے بیٹوں کی سب سے بڑی خامی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا ایک باپ بھی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا باپ اکیلا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی حرکتیں مجھے تکلیف پہنچاتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ نا خلف ہیں۔ بس اُن کی آپس میں نہیں بنتی۔ میرا وہ بے حد احترام کرتے ہیں۔ جب کبھی آتے ہیں تو میری بڑی خدمت کرتے ہیں۔ کوئی پَیر دباتا ہے تو کوئی کندھے۔ کچھ تو جوشِ فرزندی میں آ کر میرا گلا بھی دبا بیٹھتے ہیں۔ شرارتی کہیں کے! لیکن گستاخی کبھی نہیں کرتے۔ ہر بات میرے فائدے کی کرتے ہیں۔ میرے لئے اُن کے لہجے میں ہمیشہ خلوص ہوتا ہے۔ بس لڑتے ہیں تو آپس میں۔ بڑا والا کہتا ہے کہ وہ میرا زیادہ خیال رکھ سکتا ہے۔ یہی دعوٰی دوسرے بھی کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ سب سے زیادہ خدمت کا اعزاز کسی دوسرے بھائی کے حصے میں نہ آئے۔ پاگل ہیں سارے۔ میرے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ وہ میری خدمت مکمل طور پر نہیں کر پاتے تو نہ سہی، خدمت کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں۔ مجھے میرا نفع نقصان سمجھاتے ہیں۔ میرے کچھ بھائیوں کا جھگڑا میرے ایک دوست سے ہو گیا تھا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ بات کیا تھی۔ میرا وہ دوست نہایت زور آور آدمی ہے، چڑھ دوڑا میرے بھائیوں پر۔ اس موقع پر میرے بیٹوں ہی نے مجھے سمجھایا۔ حالات کی اونچ نیچ بتائی۔ اپنے سگے چچاؤں کی بجائے میرے دوست کی حمایت کی۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اگر میرے بیٹے نہ ہوتے تو میں کدھر ہوتا؟! برسوں پہے جب میں جوان تھا، تب بھی میرے بیٹوں نے مجھے جذباتی ہونے سے بچایا تھا۔ اس وقت وہ چھوٹے تھے، مگر اتنے ہی سمجھدار تھے جتنے آج۔ میرے ایک بازو میں کینسر ہو گیا تھا۔ میں نے علاج کروانا چاہا مگر میرے ایک بیٹے نے مجھے سمجھایا۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ طویل علاج کروانے سے بہتر ہے، بازو کا کینسر زدہ حصہ کاٹ ڈالا جائے۔ مجھے تکلیف تو بہت ہوئی لیکن میرے بیٹے کی یہی مرضی تھی۔ چنانچہ اپنا بازو کٹوا ڈالا۔ جب میرے بیٹے بہت چھوٹے تھے تب آپس میں بہت محبت سے رہتے تھے۔ ایک دفعہ میرا میرے پڑوسی سے جھگڑا ہو گیا۔ نوبت مار کٹائی تک آ گئی۔ اس وقت میرے بیٹے میری ڈھال بن گئے تھے۔ کہاں کہاں سے نہیں بچایا اُنہوں نے مجھے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ اتنا غصہ اور ایک دوسرے کے خلاف اتنی نفرت کہاں سے پائی انہوں نے؟ میرے کچھ بیٹے ایسے بھی ہیں جو بہت کم گو ہیں۔ بولتے نہیں، صرف سنتے ہیں۔ اپنے بھائیوں کے جھگڑوں پر کُڑھتے ہیں۔ اپنے چچاؤں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ میرے پاس رہ کر میری خدمت بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اُن کو اُن کے بھائی کچھ کرنے نہیں دیتے۔ وہ میرے تھکے ہوئے وجود کو سہارا دینے کے لئے بڑھتے ہیں تو انہیں ان کے بھائی روکتے ہیں۔ وجہ وہی ہے، زیادہ سے زیادہ خدمت کی سعادت خود حاصل کرنے کی خواہش، ورنہ محبت تو مجھ سے میرے سارے بیٹے کرتے ہیں۔ کبھی کبھار میرے کم گو بیٹوں کو میرا دوست روک لیتا ہے۔ وہ بھی میری دوستی میں خود غرضی کی حد تک بڑھا ہوا ہے! اور میرے پوتے۔ میرے بیٹوں کے بیٹے۔ میں اُن کی معصوم آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے ویسی ہی چمک نظر آتی ہے جو کبھی میرے بیٹوں کی آنکھوں میں تھی۔ وہی چمک جو میرے بیٹوں کی آنکھوں میں اس وقت لہرا رہی تھی جب میرا میرے پڑوسی سے جھگڑا ہوا تھا۔ یہ ننھے مُنّے سے معصوم چہرے جب بھی میرے پاس آتے ہیں تو مجھے اپنی توتلی زبان میں ڈھیر ساری کہانیاں سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو میری بہت خدمت کریں گے۔ صرف پَیر اور کندھے دبائیں گے، گلا نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اکٹھے رہیں گے اور اپنے باپوں کی طرح لڑیں گے بھی نہیں۔ نجانے کیوں ان کی باتیں سن کر میری آنکھیں بھر آتی ہیں۔ کاش میں اپنے بیٹوں کو بتا سکتا کہ مجھے یہ کِنگ سائز کیک نہیں چاہئیے۔ مجھے ان ۵۷ موم بتیوں کی روشنی بھی نہیں چاہئیے۔ مجھے صرف ان کی محبت کی تلاش ہے۔ ان کے اتحاد کی تلاش ہے۔ جب میرا دوست اور اس کے ساتھی مجھے دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتے ہیں، تو جواباً ان کی آنکھوں میں جھانک کر مسکرانے کے لئے جس اعتماد کی ضرورت ہے، مجھے اس کی تلاش ہے۔ یہ کیک تو میرے بیٹے چند دنوں میں کھا ہی جائیں گے، مجھے اس وقت کی تلاش ہے جب وہ ایک ہی دستر خوان کے گرد جمع ہو کر، مل بیٹھ کر کھانا بھی کھایا کریں گے۔ مجھے اپنی اس سالگرہ کی تلاش ہے جب میرے بیٹے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آئیں گے اور ایک ساتھ مجھے وِش کریں گے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح اِس وقت میرے پوتے میرے پاس آ رہے ہیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر، کھلکھلاتے ہوئے، ہنستے ہوئے۔ کیونکہ آج میری سالگرہ ہے۔ سورس الٹرا سیدھا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| birthday, پاگل, نفرت, نظر, مکمل, موقع, موم, محبت, آج, آدمی, اللہ, بھائی, تلاش, خلاف, خدا, دوست, سالگرہ, علاج, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| Birthday Wish For Zara | Riz Ali | سالگراہیں | 29 | 01-03-11 09:47 AM |
| Today is your birthday | شاہ جی 90 | Chit Chat | 3 | 19-10-09 01:06 PM |
| Google 10th Birthday گوگل دس سال کا ہوگیا | Real_Light | Search Engines | 2 | 01-02-09 03:59 PM |
| Birthday SmS Collection | قیصرجی | ایس ایم ایس | 0 | 08-03-08 04:59 AM |
| Happy Birthday to Malik Arif | محمدعدنان | سالگراہیں | 8 | 16-08-07 09:33 AM |