واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




آشیانہ ازخواجہ احمد عباس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-02-11, 02:49 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,972
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,126 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آشیانہ ازخواجہ احمد عباس

آشیانہ ازخواجہ احمد عباس

رندھير بمبئي کے فلمي شہر ميں ہيروں بننے کيلئے آيا تھا، وہ اپنا سارا وقت نمبئي کے نگاخانون ميں گزارتا تھا، اس نے ضمير کا گلا گھوٹ کر پروڈيوسر کي خوشامد کي تھي اپني روح کو ذبح کرکے ڈارئيکڑوں کے آگے دست پھيلايا تھا، کہ زندگي کو ايک شاہراہ مل جائے وہ بہت اچھا ايکڑ تھا، ليکن کسي نے اسے موقع نہيں ديا، لوگوں نے اس سے وعدے کئيے اور اپنے وعدے وفا نے کئے، کسي نے کہا اسکا قد چھوٹا ہے، کسي نے کہا اس کي ناک لمبي ہے، يہ سب چھوٹ تھا، يہ سب بہانے تھے، وہ گوہر لال کے گنجے سر سر اچھا تھا، وہ الياس کے ساہوکاري جسم سے بہتر تھا، وہ مدھوک کھور کے چوبي چہرے سے خوبصورت تھا، ليکن بزدل لوگ جن ميں سے ہر ايک احساس کمتري کا شکار تھا، ايک نئے آدمي کو موقع نہ دينا چاہتے تھے رندھيرا ايکڑ نہ بن سکا، کسي نے اس کو کہا تم مکالمے لکھ سکتے ہو، زندھير نے کہا ميں ڈرامے لکھتا ہوں، اب کبھي کوئي اسے ايک گيت لکھنےکو ديديا ہے، کبھي وہ فلم کے مکالمے کھلنے ميں مدد کرتا ہے، ليکن کوئي اس سے يہ نہيں پوچھتا کہ تم کيا کرنا چاہتے ہو رندھير نے اٹھارہ برس کي عمر ميں گھر چھوڑا تھا، اس نے اسٹيج کي خال چھاني تھي، ريڈيوں پر ٹھوکر کھائي تھي، ليکن کسي نے اس کے خواب کو نہيں پہچانا تھا، انسان کي صيح قدر کب پہچاني جاتي ہے، وہ سوچتا ہے، يہ کب ہوگا، کيسے ہوگا، اسے اپنے تکميل کا موقعہ ملے گا، يہ رات ختم ہوگي کب افق پر صبح کي سرخي نمودار ہوگي، ليکن رندھير اب بھي نا اميد نہيں تھا، ابھي نظرون کو افق پر وہ ستارہ جشن ہے، جس کے سہارے وہ اب تک جيتا رہا ہے، ليکن ان ٹھوکرون نے ان پے در پے اداسيوں نے پست خيال کر ديا تھا، اب وہ لوگوں کو خوش کرنا چاہتا تھا، وہ ايک مسخرہ بن گيا ہے، شروع شروع ميں لوگوں کو اس سے لطف آتا تھا، رندھير ايسي حرکات کرتا تھا، جن سے خواہ مخواہ ہسني آئے، رندھير شرابي کا پاٹ ادا کرتا تھا، رندھير نے چالي چپلن کي نقل کرہا تھا، رندھير بس ميں بيٹھي ہوئي کسي لڑکي سے اپنے ناکام معاشقے کا مزاحيہ انداز ميں ذکر کرہا ہے اور ہاہاہاہاہي ہي ہي لوگ خوش ہوتے تھے اور کسي کو اس تماشے کے عقب ميں اس ٹيجڈي کي جھلک نظر نہ آئي تھي ليکن اب لوگوں نے اس کے تماشے سے بھي محظوظ ہونا چھوڑ ديا ہے، رندھير کا جوکرون والا رويہ ان کے عصاب پر سوانے ہونے لگتا ہے۔
شارادا گھوش رندھير کيلے ايک محبوبہ ہے، ايک ماں ايک سرپرست ہے، شاردا گھوش کي بوتل سے شراب پيتا ہے، جب گھر نہيں آتا ہے تو ڈرائنگ روم ميں اس کے صوفے پر سو جاتا ہے، ٹيليفون پر پيغام وصول کرتا ہے، اور شاردا گھوش کي ميز پر کھانا کھاتا ہے، کبھي اس ميں اسے ايک فخر محسوس ہوتا ہے، کبھي ذلت، تحقير شرمساري ، ليکن وہ شارو گھوش کے آنچل کو چھوڑ نہيں سکتا، اسے شاردا گھوش سے عشق ہے اسے شاردا گوش سے اميد ہے شاردا نے اسے مايوسي کے عميق تاريک غار ميں گرنے سے بچاليا ہے، شاردا کي سفارش سے اس نے کسي فلم ميں ايک گيت لکھا تھا، اس گيت کا کل اسے معاوضہ ملا تھا، وہ روپيہ کل ہي شراب خانے ميں ختم ہوگيا تھا، گھر آتے وقت اس کي جيب ميں ايک روپيہ چار آنے تھے، روپيہ اس نے صبح ہري کو دے ديا، اسے معلوم تھا کہ چار آنے ميں وہ دن بھر گزارہ نہيں کرسکے گا، اپنے دل کے اندر اسے خود قصور وار ہونے کا احساس تھا، روپيہ اس نے ہري کو دے ديا، وہ خود کسي اور سے مانگ لے گا، مہندر سے مانگنا بيکار ہے، اس نے سوچا اسے غصہ آرہا ہے اس کے پاس۔
ہوئے بھي تو نہيں دے گا، مہندر کے پاس پيسے نہيں تھے، ہوتےبھي تو وہ اس وقت رندھير کو نہيں ديتا، اس کا جي چاہ رہا تھا کہ رندھير کو جي بھر کر گالياں دے اس سے پہلے بھي وہ رندھير کو اثر گالياں دے چکا تھا، ليکن رندھير نے ہميشہ ہنس کر ٹال ديا تھا، يہ ہنسي ہنسي نہ تھي، مہندر کو احساس ہوتا تھا، جب احساس عزت مرجاتا ہے، اور خودداري مٹ جاتي ہے، ضمير مردہ ہو جاتا ہے، تو اس کے مدفن سے يہ ہنسي پھوٹتي ہے، يہ ہنسي نہيں ہوتي، موت ہوتي ہے، اس ہنسي کو ديکھ کر مہندر ہميشہ خاموش ہوجاتا تھا، آج بھي وہ خاموش ہو کر رہ گيا تھا، ليکن خلاف معمول آج بھي ايک غصہ اس کے دل ميں کھولتا رہا، اگر رندھير آج روپے ضائع نہ کرتا تو آج وہ پريتي سے مل سکتا تھا، وہ کل نہيں آئي تھي، مکمکن ہے آج آئے، شايد وہ آج آئے گي اور اس کے پاس پھر روپيہ نہيں ہے، روپيہ اور کہيں سے نہيں مل سکتا، چيٹر جي خود کو ايک وقت کھانا کھاتا ہے، اس سے منگنا بيجا ہے، سردار شاہد دے سکتا ہے مگر وہ سردار مانگنا نہيں چاہتا، اسے سردار سے نفرت ہے گورمکھ کے متعلق اس کے دل ميں ايک ناپسنديدگي کا جذبہ جڑ پکڑ گيا ہے کئي بار اس نے اس جذبے کے زير تحت اس نے گورمکھ کيساتي زيادتي بھي کي تھي، اپني ان زيادتيوں پر وہ بعد ميں شرمندہ بھي ہوا تھا ليکن گورمکھ سے نفرت اسي طر ح موجود تھي، مگر وہ گورمکھ کا ممنون ہونا نہ چاہتا تھا، ليکن اور کوئي ذريعہ نہيں ہے، اس نے سوچا اس سے مانگ کر ديکھوں شايد ديے دے، مگر جب جذبات کے ساتھ اسے مانگ رہا ہوں يہ کمينہ پن ہوگا، اس خيال آيا ليکن خود کو کمينے کے سپرد کرديا، اس کے پاس دوسروں کو عياشي کرانے کيلئے فالتو روپيہ نہيں ہے، اس نے سوچا تھا اور کہہ ديا تھا روپے کي ضرورت ہوتي ہے تو مجھ سے مانگتے ہيں، اس نے دفتر جاتے ہوئے زينے پر اسے اترتے ہوئے سوچا جيسے ہميشہ ميرے اور احسان ہي کرتے رہے ہيں گورمکھ لوگوں کي مہر بانيوں کو بھول کر ان کي زيادتيوں کو ياد رکھتا ہے، اسے لوگوں کي مہرباني اور ہمدردي سے نفرت ہے اور ان کي نامہر بانياں اس کے دل ميں نقش ہوجاتي ہے، اس اچھي طرح ياد ہے کہ پچھلے دنوں جب وہ خسرہ ميں مبتلا تھا تو کوئي اس کے پاس نہ آتا تھا، کسي نے اس سے يہ تک نہ پوچھا تھا تم اٹھ کر پاني پي سکتے ہو يا نہيں، خود مہندر نے جو انسانيت چلاتا تھا اس کے ماتے پر ہاتھ رکھ کر يہ نہ پوچھا تھا کہ بخار کتنا ہے، اسے مہندر سے نفرت ہے، اسے يہ بھي معلوم ہے کہ مہندر کو اس سے نفرت ہے اور اسے قرض دينے سے انکار کرکے گورمکھ دفتر چلا آيا تھا، يہ محض اس کے دل ميں ايک بہانہ تھا، دراصل وہ کسي کي مدد کرنا نہيں چاہتا، حسد نے اس کے تمام جذبات کو مغلوب کرليا ہے۔
وہ خوش نہيں اور دوسروں کو خوش ديکھ کر جل اٹھتا ہے، وہ کسي کي خوشي حاصل کرنے ميں مدد نہيں کرسکتا، وہ اب تک اپني کوشش ميں ناکام رہا اور انہيں چاہتا کہ کوئي دوسرا کامياب ہو، گورمکھ لاہور سے ناکام ہو کر بمبئي آيا، لاہور سے بي اے پاس کرنے کے بعد اس نے کوشش کي تھي کہ کوئي اچھي نوکري مل جائے زندگي ميں الشان تمانئيں نہ تھيں، بس ايک خوبصورت ساگھر ہو، ايک خوبصورت سي بيوي اور اطمينان ہو،ليکن لاہور ميں اسے يہ سب نہ مل سکا، دو سال کي کوشش کرنے کے بعد اسے محسوس ہوا تھا کہ لاہور ميں اچھي نوکرياں زمندار فراتے کو ملتي ہيں، گورمکھ نے کئي سال کوشش کي تھي ليکن ہميشح ناکامي نے اس کے چہرے پر طمانچے مارے تھے، لاہور سے مايوس ہوکر بمبئي والوں کو ملتي ہيں، گورمکھ بمبئي والا نہ تھا وہ پنجاب ميں زميندار تھا، بمبيئي کا باشندہ نہ تھا، اسے غصہ آتا تھا کہ بمبئي اور پنجاب کي بيہودہ تميز کيوں ہے، زميندر اور بے گھر کي غير منصفانہ تفريق کيوں ہے، وہ کہاں جائے وہ کيا کرے؟
شکست کھا کر وہ يہاں ايک آرڈينس ڈپو ميں نوکر ہوگيا تھا، يہاں وہ صبح آٹھ بجے گھر سے جاتا ہے اور شام چھ بجے واپس آتا ہے، اور تين روپے اسے معاوضہ ملتا ہے، وہ خوبصورت مکان جواس نے اپنے سپنے ميں بنايا تھا مگر گيا، وہ حيسن لڑکي جو اس کے خوابوں ميں ئي تھي مرگئي ہے اور گورمکھ سب کا دشن ہوگيا ہے، شام کو دفتر سے آنے پر وہ صرف کھانا کھانے تک کيلئے ہوٹل ميں جاتا اور پھر واپس آجاتا ہے، اس کي زندگي صرف ڈپو اور آشيانے ميں بٹ گي ہے، آشيانے کے دوستوں کو تعجب ہوتا ہے کہ گورمکھ زندہ کس طرح ہرتا ہے، اس نے سنيما کا شوق ہے نہ سير کا ، اسے کسي چيز سے دلچسپي نہيں رہي ہے وہ تو گھر ميں اکيلا بستر پر ليٹا رہتا ہے يا ڈپو ميں کام کرتا ہے، گورمکھ نے خود کو تفريح سے انتقاما عليحدہ کر ليا ہے، جو شے اسے مکمل طور پر نہيں ملتي ہے، اس کے ايک حصے سے فائدہ نہ اٹھا کر اپنے اوپر تکليف انديل کر وہ دنيا سے انتقام ليتا ہے، آشيانے کے دوست اس کي خود غرضي سے تنگ ہيں کہ وہ کسي کے کام نہيں آتا ہے، جب وہ آساني سے مدد کرسکتا ہے تب بھي نہيں کرتا، آشيانے سے اسے نفرت کرتا ہے، اس لئے وہ اور سب کو ناپسند ہے گورمکھ کے پاس بھي اب صرف نفرت رہ گئي ہے اور تلخي وہ بھي سب سے جلتا ہے اور مہندر کو قرض دينے سے انکار کرکے چلا آيا تھا، اس سے اميد ہي يہ تھي، وہ کيوں مہندر نے سوچا پھر اسے جھيجھلاہٹ ہوئي کہ يہ جانتے ہوئے بھي کہ وہ نہيں ديگا، اس نے گورمکھ سے کيوں مانگا تھا وہ کيوں اتنا گرگيا تھا، کہ اپنے دل ميں دوستي کے کسي جذبے کو محسوس کئے بغير اس نے گورمکھ سے۔
فائدہ اٹھانا چاہا تھا، يہ خيال گورمکھ کے انکار کرنےکے بعد اس چبھ رہا تھا، پہلے اس نے اس اسے ايک طرف ہٹا ديا تھا، ليکن اب وہ اس کيلئے ندامت محسوس کرہا تھا، اچانک اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کے جذبات پر ايک اور کي ملمع ہے اور اس کے نيچے وہ کمنہ ہے اور اسے خود غصہ آرہا تھا، يہ بات اسکے ضمير ميں کھٹک رہي تھي، اس نے خو کو تسلي دي کہ ابھي ضمير مردہ نہيں ہوا ہے اتنے عرصے سے واہ اسے بچاتا رہا ہے، ليکن آخر يہ ضمير مردہ ہوجائيگا اور يہ قدرت بات ہوگي وہ حسب معول سوچنے لگا، خيالات کے مطابق ڈھال ليتا ہے ، کہ کمينہ پن، ذلت اور نائيٹ بنادي طور پر انسان کي فطرت ميں نہيں ہيں، اور حالات سنور جائيں تو انسان کي فطرت ان سے مبرا ہوجائے گي، وہ يہ سوچتا رہا اور اپنے قصور کا احساس اس کے ذہن سے دور ہوتا گيا، يہ نظام بدل جائے تو ابھي انسان کيلئے اميد ہے، انسان پھر ايماندار، نيک اور امن پسند ہوسکتا ہے، دنيا پر ہرآن لرزتا ہوا يہ جنگ کا خطرہ ہوسکتا ہے طوائفيں پھر عورتيں بن سکتي ہيں اور پريتي۔۔۔۔۔۔؟
ليکن ابھي يہ نظام يونہي ہے ابھي پريتي کي محبت سکوں سے خريدي جائے گي اسے پريتي سے محبت ہے چاہے وہ سکوں کے ہي ذريعے کيوں نہ ہو اور اسے اپنانا چاہتا ہے اور وہ پريتي کو اپنا نہيں سکتا، شايد وہ شام کو نہيں جاسکتا، وہ شام کو نہيں جاسکتا، اب شام گزر چکي تھي کمرے ميں روشني کم ہو رہي تھي، اندھيرا بڑھ رہا تھا، آشيانے کے دوست باہر گئے ہوئے تھے، مہندر کو ايک رہائي کا احساس ہورہا تھا، اس شکست کي حالت ميں اس ميں ہمت نہ تھي کہ ان نشتروں کو برداشت کرسکے آج اس کا جي چاہ رہا تھا کہ آشيانے کو چھوڑ کر چلا جائے، بمبئي کو چھوڑ دے، يہ خيال نيا نہ تھا، پہلے بھي کئي بار رہا آيا تھا، ناکام ہوکر گئي مرتبہ دل ميں فرار کا جذبہ پيدا ہوا تھا، ناکام ہو کر گئي مرتبہ دل ميں فرار کا جذبہ پيدا ہوتا تھا، ہميشہ سے وہ اس ايک بزدلانہ قسم کي جذباتيات پر محمول کرکے مسکراديا تھا، ليکن آج وہ مسکراہٹ ناپيد تھي، آج وہ اس جگہ کو چھوڑنا چاہاتا تھا اور دراصل يہاں سے جانانہ چاہتا تھا، ايک زير نفسي ضد نے اسے بيزار کرديا تھا، وہ نيم تاريک کمرے ميں بستر پر نيم دراز پڑا رہا، مجھے تم سے عشق ہے، ممکن يہ سچ ہو، مگر وہ خالي جيب اس کے پاس نہيں جاسکتا تھا شايد اس حالت ميں وہ پريتي کي نظر ميں ايک بھکاري بن جائ ايک عاشق نہ رہے، وہ بيٹھا رہا اور وقت گزرتا گيا، پھر کسي نے دروازہ کھولا چيڑ جي اندر آگيا، ابھي کيسے آئے مہندر نے مسکراکر پوچھا، چيڑ جي اس کے ہاتھ ميں دس دس روپے کے دو نوٹ گھمادئيے، يہ کيا ہے؟ مہندر سمجھ نہ سکا چيڑ جي ايک وقت کھانا کھاتا تھا، تمہيں روپے کي ضروررت ہے نا۔
مگر يہ تمہارے پاس روپے تھے؟ نہيں ميں نے اپني انگھوٹھي گروي کردي ہے، چيٹر جي نے مسکرر کر کہا، اس کي مسکراہٹ ميں غم کي وہ پہلي لے کر تھي، جو دير تک مہندر کے دل پر کھينچتي رہي، وہ انگوٹھي ميں اپنے پاس نہيں رکھ سکتا تھا، مجھے ہوٹل والے کا بل ديتا تھا، وہ دونوں نوٹ اب تک مہندر کے ہاتھ ميں لز رہے تھے، اچانک مہندر کو محسوس ہوا کہ يہ نوٹ دو موتي ہيں، دو آنسو ہيں، خون کے دو قطرے ہيں اس نے نوٹ واپس چيٹر جي کے ہاتھ ميں دے ديے، اس نے چاہا کہ چيٹر جي کو سينے سے لگائے مگر ايک عجيب سے حجاب کا احساس کرکے وہ يہ کرنہ سکا، اس نے صرف چيٹر کے کندھے پر ہاتھ رکھ دئيے تھے، مجھئ ان کي ضرورت نہيں، اس نے مکسرانے کي کوشش ميں کہا، انہيں تم اپنے پاس رکھوں تمہيں ضرورت ہوگي، اور چيٹر جي کو چھوڑ کر وہ بالکني ميں جا کھڑا ہوا، اب تک وہ چيٹر جي پر صرف رحم کرتا رہا تھا، آج اس کيلئے مہندر کے دل ميں آنسوئوں سے ڈھلي ہوئي محبت پيدا ہو گئي، وہ جانتا ہے کہ چيٹر جي ہميشہ زندگي کے درد ميں شريک رہا ہے،اس نے خود خوشي کبھي نہيں ديکھي، کبھي راحت نہ اٹھائي چيڑ جي جواس کے بھائي نے فوٹو گرافي کا کام سکھايا تھا، بنگلا کے ايک چھوٹے سے قصبے ميں اسکي دکان تھي، چيٹر جي اس قصبے کي دکان پر کام نہ کرنا چاہتا تھا، وہ زندگي ميں عزت آرام اور خوشي چاہتا تھا، بمبئي کے ايکنگار خانے ميں وہ کئي سال کا سيکھتا رہا اور سکي نے اسے کام نہيں سکھايا، وہ بنگالي تھا، يہاں تجراتي بنگاليوں سے نفرت کرتے تھے، مراہٹي گجراتيوں سے نفرت کرتے تھے، پنجابيوں سے نفرت کرتے تھے، يہ نفرت کي دنيا تھي، يہاں انساني محبت نابود تھي چيٹرجي ليابارٹري کي باليٹياں منجھوني يہ جاتي تھيں، اس سے قيلوں کي طرح کام ليا جاتا تھا، اور کوئي کچھ نہ بتاتا تھا، ليکن چيٹر جي نے ايک کتے کي طرح صبر سے کام ليا ايک جونک کي طرح غلاظت سے چمٹا رہا، ليکن اب کام سيکھنے کے بعد بھي اسے کوئي نہيں ديتا، کوئي اس کے کپڑے ديکھ کر بوھئيں چڑھا ليتا کوئي اسے بنگالي ہونےکي وجہ سے پاس نہيں آنے ديتا، چيٹر جي نے ٹھوکريں سہنا سيکھ ليا ہے اور وہ ہر ذلت ہر توہيں ظلم برداشت کرليتا ہے، وہ ايک وقت کھانا کھاتا ہے اور ہر ہفتے اس کا وزن کم ہوجاتا ہے۔
ليکن اس کے باوجود اس کے دم ميں يہ حسن کيسے رہ گيا، مہندر سوچ کيسے اس نے اپنے دل ميں اس انسانيت کو بچاليا، اس کا يہ فعل ہر اس شے کا حامل تھا جو انسان ميں جوبصورت ہے، ليکن چيٹرجي کے روپے نہ لے سکتا تھا، وہ پريتي پر روپے صرف کرنا چاہتا تھا۔
روپوں کو پريتي پر صرف کرکے وہ ہميشہ خود کو مجرم سمجھتا رہے گا، يہ نہيں ہوگا اور اس کے پاس روپيہ نہيں ہے، وہ پريتي سے نہيں ملے گا، اور اس کے دل ميں پھر وہي غير محدود گہرا اندھيرا چھا جائے گا، بالکن ميں کھڑا ہوا اور وہ سوچتا رہا، باہر اندھيرا ہوا گيا تھا، اور بونديں پڑ رہي تھيں، ليمپ پوسٹ کي دھيمي روشني ميں گل بے رونق پڑي تھي اور بارش کي بونديں متواتر گليلي زمين پر پڑ رہي تھيں، کيچڑ کي چھينٹيں اڑاتي ہوئي مالک مکان کي کار گلي ميں داخل ہوئي اور آشيانے کے آگے رک گئي، آج ہفتے کي رات تھي، مالک مکان کار سے اترا پر اس نے عورت کو ہاتھ پکڑ کر نيچے اتارا يہ پريتي تھي۔۔۔۔ايک لمحے کيلئے مہندر کو يقين نہيں آيا، يہ عورت جو مالک مکان کا ہاتھ پکڑ کر کار سے اتري تھي؟ پھر اسےيقين آگيا، پريتي مالک مکان کے ساتھ اندر چلي گئي، مہندر بالکني ميں کھڑا رہا، کار سڑک پر کھڑي رہي، ايک پہيم تسلسل سے بارش کي بونديں نيلي کار پر پڑ رہي تھيں، جسيے آنسو برس رہے ہوں۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فوٹو, پوسٹ, وفا, نفرت, مکمل, موت, ممکن, ماں, محبت, معلوم, آج, انسان, جلتا, حسن, خون, خلاف, رات, سال, سردار, شہر, عزت, عشق, غم, غار, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:27 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger