|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,887
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::: اجلا تن ::: ::: بشریٰ رحمن::: بہادر کے تھانے کے اندر ايس، ايچ او کي ميز کے اوپر ايک برہنہ لاش پڑي ہوئي تھي، لاش کي مس مرايس ناف کے اوپر تاش کے پتے پھيلے ہوئے تھے، کچھ سفاک ہاتھ اپني بازي ميں مگن تھے تھانے کے گيٹ پر حسب معمول چوبدار پہرہ دے رہا تھا، گاؤں کي گليوں کے کتے بھونک بھونک کر تھک گئے تھے، البتہ گاؤں کے بوڑھے چوکيدار کي آواز تھوڑي تھوڑي دير بعد اندھيرے کي چادر کو چير کر اس طرح ابھرتي جيسے کسي نے اس کے نرخرے پر خنجر رکھا ہوا ہو، اور وہ خبر دار چوکيدار کي بجائے ايک لمبي کراہ بلند کرتا ہے۔ رات کے اس پہر ميں بلائيں بھي اترنا بند ہوجاتي ہيں، سمے کے جوگي گيان کے جنگلوں کا رخ کرتے ہيں، مگر اندر کھيل جاري تھا، جب کوئي بازي جيت ليتا، نئے سرے سے بازي شروع ہوجاتي، ہر نئي بازي کے ساتھ نئي بوتل کھلتي اور ہر نئي بوتل کےبعد لاش کو جھنجھورا جاتا، گو لاش کے ہونٹ بند تھے، مگر تھوڑي دير کے بعد کمرے ميں سسکياں سي پھيل جاتيں، پتہ نہيں کسي طرح کھليتے ہوئے کوئي ہاتھ الٹا پڑا کہ لاش ذرا سا کسمائي۔۔۔اور ايک ہلکا سا ارتعاش اس کے دائيں پپوٹے ميں پيدا ہوا، جيسے زبردستي آنکھ کھول کر وہ اپني کھيتي کے اجڑنے کا منظر ديکھنا چاہتي ہو۔۔۔اسے ايسا لگا جيسے دائيں طرف سفيد پوش کي ايک فوج کھڑي ہے، لاش نے گھبرا کر باياں پپوٹا کھولا، اس طرف بھي سفيد پوش۔۔۔۔لا تعداد۔۔ دھند کي چادر کے اندر اس کے ذہن نے ايک قلا بازي کھائي، وہ فوج کے آنے سےپہلے تسخير ہوچکي تھي اور تسخير ہونے سے پہلے پامال ہو چکي تھي، دنيا کے سکندروں کا عجيب دستور ہے، علاقے فتح کرتے ہيں، جي بھر کے پامال کرتے ہيں، پھر انہيں روند کر آگے نکل جاتے ہيں، مفتوحہ علاقوں ميں کوئي قيام نہيں کرتا۔۔۔۔ شايد مفتوحہ علاقوں ميں نا تمام آرزؤں کي بد دعائيں آسيب کي طرف پھيلي ہوئي ہيں۔ لاش نے زبردستي ديکھنے کي سعي کي اس کي ناف پر حکم کا پتہ پڑا تھا، حکم کے يکے کو الانگتي پھانگتي وہ بہت دور نکل گئي، بہادر کے گاؤں کے بيچوں بيچ ايک گوري گوري نہر بہتي تھي اور نہر کے کنارے کنارے جب سورج دنيا پر لال رنگ چھڑک رہا تھا، وہ سر پر پاني سے بھرا مٹکا اٹھائے يوں چل رہي تھي جيسے اس نے پورے سورج کا تھال اٹھا رکھا ہو۔ وہ صابو تھي، اور اس پورا نام صابرہ سلطانہ تھا، صابو ابھي سترہ سال کي ہوئي تھي اس کا باپ عرصہ دراز سے ٹھپو کا کام کرتا تھا، ٹھپے جانتے ہوکيا ہوتے ہيں؟ بہادر کے گاؤں کي عورتيں دوپٹے، پلنگ پوش، ميز پوش، اور تکيہ پوش کاڑھ کر گزار اوقات کرتي تھيں، پھول بوٹے کاڑھنے سے پہلے وہ اللہ بچايا سے تھپے لگوانے آتي تھي، اللہ بچايا اپنے آگے ايک انتہائي قديم چوکي رکھے بيٹھا رہتا تھا۔ اس چوکي کے اوپر سالہا سال سے اتنے ٹھپے لگ چکے تھے کہ اب اسکي اپني کوئي رنگت نہ رہي تھي، اس پر بجھا ہوا سفيد کپڑا تجريدي آرٹ کا نمونہ لگتا تھا، جب کوئي تک چڑھي عورعت آتي کہتي۔ ديکھو بابا ميرا بو چھن بالکل سفيد ہے اس چوکي پر نہ ڈالو رنگ جائے گا تو بابا کہتا۔۔۔۔ کمے اس چوکي کا رنگ تو اب اتنا پکا ہوچکا ہے کہ يہ اپنا رنگ چھوڑ بھي نہيں سکتي، بابا اللہ بچايا کے ہاتھ ٹھپے لگا لگا کر نيلے کچ ہوچکے تھے، جب صابوں چھوٹي تھي، باب کے آگے روٹي والي چنگير رکھ کر کہتي۔ بابا ہاتھ مل مل کر دھو ليتا تمہارے پيٹ ميں سارا نيل چلا جائے گا۔ بابا ہنسنے لگتا اس حساب سے تو ميں اب تک پورا دريائے نيل پي چکا ہوں۔ يہ دريائے نيل کيا ہوتا ہے بابا۔ تھا کبھي کبھي وہاں کنواريوں کي قربانياں چڑھائي جاتي تھي۔ کيوں بابا۔۔۔۔کيوں۔ جھليے چپ ہوجا۔۔۔۔بابا روٹی توڑنے لگتا۔۔۔۔اتنے سوال کا جواب۔۔ اس گندمي شام ميں پاني سے بھرا مٹکا اٹھائے وہ يوں چل رہي تھي جيسے کہ لہروں کے ساتھ خوش خرامي کي شرط بد رکھي ہو، سورج کي الوداعي شعاعين ميں اس کے تعشہ ہوئے بدن پر اس زاوئيے پڑ رہي تھيں کہ سب چاند تارے نماياں ہورہے تھے، ململ کي ہري کرتي پر گا گر گا تھوڑا تھوڑا چھلکا چھلکا پاني بھي گرا تھا اور گندمي چہرے کي ملامتوں ميں نئي جواني کا کنوارا خمارا ہر نقش کو جادوئي بنا رہا تھا۔اچانک سيد مريد شاہ حسين کا نوجوان بيٹا اپني سرخ رنگ کي پجيروں ميں سڑک پر نمودار ہوا، مراد حسين شاہ پہلي بار گائوں ميں آيا تھا، يہ گائوں پر کھوں سے ان کي جاگير تھا، يہيں پلا بڑا تھا، پچھے سال قانون کي تعليم حاصل کرکے شہر سےآيا تھا، آتے جاتے ہوئے اس نے کھيتوں کي اوٹ ميں کچي کلياں اور ادھ کھلے غنچے توڑے تھے، يوں بھي ديہات کي غريب لڑکي کي جواني کا چراغ صرف اتني دير تک لودے سکتا ہے، جب تک کسي وڈيرے نور نظر کي نظر اس پر نہيں پڑجاتي، کبھي کبھي تو اس نے شگفتہ گل کو خوشبو خود اس کے نتھنوں تک نہيں پہنچ پاتي کہ کوئي خوشہ چين بکھيرے کر رکھ ديتا ہے۔ اس لئے مراد حسين شاہ کو يقين تھا کہ اس کے ابرو کے ادني اشارے پر سرور پر کيف سے بھري کچھ دن ہوئے اطلاع آئي کہ ڈاکڑوں نے گلے کا کينسر بتايا ہے ان کے دو آپريشن ہونے تھے اور انہوں نے مراد شاہ کو امريکہ بلوايا تھا، يوں مراد شاہ کو اپنے من چاہے صوبے ادھورے چھوڑ کر امريکا جانا پڑگيا، تين مہينے بعد جب وہ امريکہ سے لوٹا اس کي ہمراہ بڑے شاہ صاحب کي ميت تھي۔ ظاہر ہے سد مريد حسين شاہ کي فوتيدگي سے سياست کي دنيا ميں ايک بڑا خلا پيدا ہوگيا تھا، جس کو پر کرنے کيلئے ان کي خانداني سيت ان کے نو عمر بيٹے کو دے دي گئي، اگر چہ مراد شاہ چھبيس سال پورے ہونے ميں ابھي کچھ ماہ باقي تھے، تاہم چند مہينے سياسي خانگي اثر و رسوخ کے باعث کاغذات جمع کروانے تک پورے ہوچکے تھے۔ مراد شاہ پہلي بار اليکشن لڑرہا تھا، گائوں ميں جشن کا سماں تھا، جب باقاعدہ اليکشن کمپين اور چاکنگ شروع ہوئي تو لوگ يہ ديکھ کر حيران ہوئے کہ مراد شاہ کے مقابلے ميں نوجوان کھڑا ہوا ہے اور وہ غفورے ماشکي کا بيٹا تھا، يہ لڑکا بچپن سے بڑا ہونہار تھا گائوں کے اسکول سے ميٹرک پاس کرکے ضلع بھر ميں اول رہا تھا، اور پھر يہ وظيفہ لے کر شہر پڑھنے چلا گيا تھا، پچھلے سال ايم، ايس سي کرکے آيا تھا، کئي بار عرضي لے کر بڑے شاہ صاحب کے پاس نوکري کيلئے گيا تھا، ايک بار اس نے مراد شاہ کو راستہ روک کر التجا کي تھي، کہ اپنے بابا سے کہہ کر نوکري دلواديں، دوسري صبح جب مراد شاہ نے اپنے والد سے سفارش کي تو انہوں نے فرمايا جان بابا، ان کمي کمين لوگوں کو اگر ہم سرکاري ملازمتوں کے اعلي عہدے بانٹتے لگيں گے تو گائوں ميں ہماري سياست نہيں چلے گئي، نالي کا کيڑا پڑھ جانے سے تخت کا وارث نہيں بن سکتا۔ آج وہي نالي کا کيڑا مراد شاہ کے مد مقابل کھڑا تھا، اور مخالف کے لوگ اس پر خوب پيسہ لگا رہے تھے، ڈھول ڈھمکے باجے گاجے کے ساتھ اس کا چيختا چنگھاڑتا ٹرک گلي گلي نعرے لگاتا پھررہا تھا۔ ہمارا رہبر ظہور اختر ہمارا چارہ گر ظہور اختر ہمارا دلبر ظہور اختر ہمارا افسر ظہور اختر ظہور اختر۔۔۔۔زندہ باد۔۔۔۔شاہاں دي ٹکر۔۔۔۔۔زندہ باد۔ يہ بات تو خير ہر چوٹے بڑے پر واضع تھي کہ گائوں ميں شاہوں کي سيٹ کوئي نہيں جيت سکتا، لوگ ان سے نفرت کرنے کے باوجود انہيں ووٹ دينے پر مجبور تھے، البتہ اس بات سے سارے گائوں کا حوصلہ بلند ہوا تھا، کہ سب جانتے ہوئے ماشکيوں کے چھوکرے نے شاہوں کے مقابلے ميں کھڑے ہو کر جي دار کا ثبوت ديا تھا۔ يہ اس روش کي بات ہے جس روش گائوں ميں پولنگ ہورہي تھي، جابجا خيمے لگے تھے، اور ريکارڈنگ کي آوازيں آرہي تھي، مراد شاہ اپنے درباريوں اور حواريوں کے ہمراہ تھوڑي تھوڑي دير بعد پولنگ اسٹيشنيوں پر رونمائي کيلئے نکلتا، ايک پولنگ اسٹيشن کے شاميانے کےاندر صراحي دار سريے والي صابو ظہور اختر کے سامنے کھڑي اپنے دوپٹے سے اس کے ماتھے کا پسينہ پونچھ رہي تھي، اور وہ اس کے گھر سے لائي ہوئي روٹي جلدي کھا رہا تھا۔ بجلي کي ايک لہر سي اٹھي مراد شاہ کے جسم وجاں ميں سوئے ہوئے زہريلے جذبے جگاگئي۔ اس وقت مراد شاہ نے بخشو کو پکارا۔ بخشو اپنا منہ چھوٹے سائيں کے کان قريب لے گيا اور سر گوشي ميں بولا۔ صابو اب ظہور اختر کي منگ ہے سائيں۔اچھا۔۔۔ مراد شاہ نے آنکھو ميں آيا ہوا لہو دل ميں اتار ليا۔ حلف اٹھانے کے بعد جب پہلي بار مراد شاہ گائوں ميں واد ہوا تو پہلے موڑ پر علاقے کے ڈپٹي کمشنر نائب تحصيل دار، پنواري اور تھانے کے ايس ايچ او نے اس کا شاندار استقبال کيا، سارے گائوں ميں شور مچ گيا، مبارکيں دينے والوں کا تانتا بندھ گيا، ڈھول پرتھاپ پڑنے لگي، بستياں خيرات تقيسم کرنے لگيں۔ ليکن ڈيرے پر کچھ اور بھي اہتمام تھا مے بھي اور مجرا بھي تھا، محفل رنگ پر تھي مراد شاہ لڑکھڑا تا ہوا اور بخشو کو ايک طرف لے گيا اور بولا آج رات کا جشن اس کے بغير مکمل نہيں ہوسکتا۔ چھوٹے سائيں بخشو کا رنگ اڑ گيا حکم کريں تو سارے گائوں کي لڑکياں حاضر کردو مگر صابو نہيں کيوں اوے ميں نے تجھے اس کي خاطر اتنا پيسا ديا، اگر اس زمين نگل گئي تو زمين کے اندر سے نکال کر لا۔ اللہ واسطے اسکو بخش ديں جي آج رات اس کي ظہور سے شادي ہورہي ہے سارا گائوں اس کے گھر ميں جمع ہے اور بارات آنے والي ہے آپ پٹاخے سن رہے ہيں نا۔ يہ نہيں ہوسکتا۔۔۔۔مراد شاہ کي آنکھوں ميں اسکے دل کا خون اتر آيا، اس مال زادي اور اسکے يار کو ميں ضرور مزہ چکھائوں گا۔ مراد شاہ نے محفل ميں بيٹھے ہوئے ايس ايچ او کو اٹھايا اس کے کام ميں کچھ کہا اور پھر کلاشنکوف بردار حواري اس کے ساتھ کردئيے۔ جس وقت نقاب پوش ڈاکوئوں نے حملہ کيا ظہور دولہا بنا کھڑا تھا، اور بہنيں اس کي گھڑي گھڑي دلي پھر رہي تھيں، بندوق کي آوازيں ميں آتش بازي کي آواز بجھ گئي سہاگ کے گيت گاتےہوےے باجوں کے گلے رندھ گئے، ظہور کي چوڑي چھاتي پر ايک برسٹ لگا سہرے سميت زمين پر گر گيا۔ صابو نے سنا تو ننگے پائو باہر دوڑي۔۔۔۔ باہر دو نقاب پوش کھڑے تھے حنا اور ابٹن کي گھٹھڑي کو اٹھايا، اور حنا ميں لئے، عروسي جوڑے ميں بے ہوش پڑي صابو کو جب ہوش يا تو اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑائي ايک مراد شاہ تھا اور تين وردي پوش تھے گھبرا کر کھڑي ہوگئي۔ تجھے معلوم ہے ظہور نے ہمارے آدمي قتل کئيے ہيں اب اسے پھانسي ہوگي۔ نہيں شاہ سائيں نہيں کلف لگي صابو بے ساختہ اس طرح جھکي کہ چھوٹے سائيں کے قدموں ميں اس کا سر تھا۔ ميرے ظہور کو بچالوں جوکہو گے وہ کرونگي، نوکري کرونگي، برتن مانجھونگي، ميرے ظہور کو چھوڑ دو اللہ کے واسطے اس کي شکل دکھاديں، وہ کہاں ہے اس کو گولي تو نہيں لگي۔ ٹھيک ہے اسے چھوڑ دينگے پر تجھے اس کي قيمت ادا کرني ہوگي اور تو جانتي ہے وہ قيمت کيا ہے۔ صابو نے سر اٹھايا چھوٹے شاہ کو ديکھا پھر ان تينوں کو ديکھا اور سر جھکاليا۔ جائو بھي ظہور کو آزاد کردو، مراد شاہ نے ايس ايچ ايو کي طرف ديکھ کر آنکھ ماري۔ مرادشاہ کے ساتھ ان تينوں نے بھي قيمت وصول کي ، ار بار بار کي۔۔۔۔ان ظالموں نے کيا نہيں کيا اس کے ساتھ مگر اس کے لبو سے سي تک نہيں نکلي مراد شاہ اپني وحشت کے ہاتھوں خود ہي تھک گيا تو جھلا کر بولا۔ اس حرام زادي کو وہاں ميز پر لٹا دو اس کے بدن پر ہم تاش کھيليں گے، صابوں کے وجودي تابوت ميں شايد آخري کيل تھي اور شايد آخري بار کسمائي تھي اور شايد اس کے پپوٹے نے آخري بار بلے تھے، اور وہ ان سفيد پوشوں کو اپنے ارد گرد ديکھ کر کچھ کہنا چاہتي تھي۔ کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھولا اور بخشو اس طرح تھر تھراتا ہوا اندر داخل ہوا جيسے قبر سے نکل کر آيا ہو، اس نے نظريں زمين پر گاڑي ہوتي تھيں۔ دونوں ہاتھ باندھ کر بولا چھوٹے سائيں فجر کي آذان ہونے والي ہے۔ مراد شاہ اس غرور سے کھڑا ہوا کہ اس نے دونوں ہاتھوں سے ميز کو الٹا ديا برہنہ لاش فرش پر اوندھي گر گئي۔ سر اس کا کيا کريں۔ يکا يک ايس ايچ او کي فرض شناسي جاگ گئي۔ کيا کرنا ہے، مراد شاہ نے کانچ کي کمر پر پاؤں رکھ اور اسے لانگ گيا۔ تھانے کے پچھواڑے ميں گڑھا کھود کر اسے بھي اس ميں ڈال دو ظہور کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔ Last edited by ابو کاشان; 14-01-08 at 04:27 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابو کاشان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (11-04-08), منتظمین (14-01-08) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,595
شکریہ: 9,805
7,522 مراسلہ میں 22,592 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی پر اثر تحریر ہے۔۔ لیکن مصنفہ نے کچھ غلطیاں کی ہیں۔
والسلام |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,887
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,595
شکریہ: 9,805
7,522 مراسلہ میں 22,592 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,887
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن یہ تو "اب" کی نسل کا حال ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتے۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے خود اپنی نسل کو تباہ کیا ہے۔ میں ایک کوئز پروگرام دیکھ رہا تھا اس میں پانچویں جماعت کے بچے بنیادی معلومات کے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر تھے۔ ہم بہن بھائی پانچویں جماعت سے بہت پہلے ہی نونہال۔ بچوں کا رسالہ، آنکھ مچولی، جنگ میں بچوں کی دنیا پڑھنے لگے تھے اور وافرمقدار میں معلومات رکھتے تھے۔پھر نیلام گھر بھی معلومات میں اضافے کا اچھا ذریعہ تھا۔ معلوماتی مقابلوں میں 10 میں سے 9 یا 8 سوالات کے جوابات ہم کو معلوم ہوتے تھے۔ اب تو مطالعے کا فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں کوتو رہنے دیں ہم بڑے خود اپنے آپ کو دیکھیں۔ برا نہ مانیئے گا اس فورم پر ہی املا کی اتنے غلطیاں دیکھنے میں آتی ہیں کہ بس۔ Typing Mistake اور مسلسل ایک ہی لفظ کوغلط لکھنے میں کافی فرق ہے۔ کسے کیا کہا جائے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پھر بھی لوگ باگ لکھ تو رہے ہیں نا۔ نہ لکھیں تو ہم کیا کر لیں گے؟ بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ خیر ہے تو سچ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,595
شکریہ: 9,805
7,522 مراسلہ میں 22,592 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپ بالکل ٹھیک کہ رہے ہیں فورمز پر املاء کی کافی ساری غلطیاں ہیں کچھ تو اس وجہ سے ہیں کہ لکھنے والے سستی کرتے ہیں اور کچھ اس بنا پر بھی ہیں کہ صیح لفظ کا پتہ نہیں۔
لیکن یہ اپ جیسے ہنرمندوں کا کام ہے کہ املاء کی ان غلطیوں کی نشاندھی کی جائے تاکہ ان کے اعادہ سے پرہیز کیا جا سکے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,887
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں خود یہاں سیکھنے کے لیئے آتا ہوں۔ آپ سے اور فوٹو بھائی سے کچھ بات چیت ہو جاتی ہے۔ پھر ناراضگی کا بھی خطرہ رہتا ہے کوئی خفا نہ ہو جائے۔ خیر دیکھتے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر بہت معیاری شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فورمز, فرض, پھول, لوگ, نفرت, مکمل, مسجد, معلوم, اللہ, بچپن, تحریر, جواب, حکم, حنا, خون, خوش, خبر, دستور, راستہ, سال, شہر, شور, شام, غرور, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|