|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بشکریہ جیو اردو
احسان علی کیسی رنگیلی طبعیت تھی احسان علی کی، محلے میں کون تھا جو ان کی باتوں سے محفوظ نہ ہوتا تھا، اگر وہ محلے کی ڈیورہی میں جاپہنچے، جہاں بوڑھوں کی محفل لگی ہوتی تو کھانسی کے بجائے قہقہے گونجنے لگتے، چوگان میں بیٹھی عورتوں کے پاس سے گزرے تو دبی دبی کھی کھی کا شور بلند ہوتا محلے کے کنویں کے پاس جا کر کھڑے ہوتے تو لڑکوں کے کھیل میں نئی روح دور جاتی۔ جوان لڑکیاں انہیں دیکھ کر گھونگھٹ تلے آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکراتیں، اور پھر ایک طرف سے نکل جانے کی کوشش کرتیں، مٹیار عورتیں دیکھ پاتیں تو ان کے گالوں میں گھڑے پڑجاتے خواہ مخواہ جی چاہتا کہ کوئی بات کریں، بوڑھی عورتین قہقہ مار کر ہنس پڑتیں مثلا اس روز احسان علی کو چوگان میں کھڑا دیکھ کر ایک بولی، یہاں کھڑے ہو کر کسے تاڑ رہے ہو، احسان علی، یہ سامنے عورتوں کا جو جھرمٹ لگا ہے، نہ جانے کس محلے سے آئی ہیں، دوسری نے دور کھڑی عورتوں کی طرف اشارہ کیا، اے ہے اب تو اپنے حیمد کیلئے دیکھا کرو، بھابی کہنے لگی، اللہ رکھے جوان ہوگیا، اور تو کیا اپنے لئے دیکھ رہا ہوں، بھابھی احسان علی مسکرایا، اس بات پر ایک معنی خیز طنزیہ قہقہ بلند ہوا، احسان علی ہنس کر بولا دنیا کسی صورت میں راضی نہیں ہوتی ہے چاچی اپنے لئے دیکھو تو لوگ گھورتے ہیں، کسی کیلئے دیکھو تو طعنہ دیتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں، جواب دینے میں احسان علی کو کمال حاصل تھا، ایسا جواب دیتے کہ سن کر مزہ آجاتا، شادان نے یہ سن کر چاچی کو اشارہ کیا اور مصنوعی سنجیدگی سے کہنے لگی، چاہے اس عمر میں اوروں کیلئے دیکھنا ہی رہ جاتا ہے، احسان علی نے آہ بھری بولے کاش تم ہی سمجھتیں شاداں، اتنی عمر ہوچکی ہے چچا پر تمہیں سمجھ نہ آئی، شاداں مسکرائی ابھی دیکھنے کی حوس نہیں مٹی۔ اچھا شاداں ایمان سے کہنا سنجیدگی سے بولے کبھی تمہیں میلی آنکھ سے دیکھا ہے؟ بائیں چچا شاداں ہونٹ پر انگلی رکھ کر بیٹھ گئی، میں تو تمہاری بیٹی کی طرح ہوں، یہ بھی ٹھیک ہے وہ ہنسے جب جوانی ڈھل گئی تو چچا جی سلام کہتی ہوں، لیکن جب جوان تھی توبہ جی پاس نہ بھٹکتی تھی کبھی کیوں بھابھی جھوٹ کہتا ہوں میں؟ اس بات پر سب ہنس پڑے اور احسان علی وہاں سے سرک گئے، ان کے جانے کے بعد بھابھی نے کہا، تو بہ بہن شاداں نے مسکراتے ہوئے کہا ابکون سا حاجی بن گیا ہے، اب بھی تو عورت کو دیکھ کر منہ سے رال ٹپکٹتی ہے، لیکن شادان بھابھی نے کہا شاباش ہے اس کو کبھی محلے کی لڑکی کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھا، یہ تو میں مانتی ہوں شاداں نے ان جانے میں آہ بھری، یہ صفت بھی کسی کسی میں ہوتی ہے، چاچی نے کہا، جب محلے والیوں کی یہ بات احسان علی نے پہلی بار سن پائی بولے اتنا بھروسہ بھی نہ کرو مجھ پر۔ کیوں چاچی نےہنس کر کہا، یہ کیا جھوٹ ہے تمہاری یہ صفت واقعی خوب ہے تو منہ پر کہوں گی، احسان علی، لو چاچی یہ صفت نہ ہوتی ان میں تو ہمارے محلے میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے، شاداں بولی۔ احسان علی کھلکھلا کر ہنس پڑے بولے چاچی کہتے ہیں ایک دفعہ بلی کنویں میں گر گئی، باہر نکلنے کیلئےبہتر یہ ہاتھ پاﺅں مارے پھر بولی آج رات یہیں بسر کریں گے، یہ بلی کا واقعہ کیا ہے چاچی نے مسکراتے ہوئے پوچھا، ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا، شاداں بولی، بس تو چھوڑو اس بات کو، بھابھی نےکہا، احسان علی کی بات کریدنے سے نکلے گا کیا؟ احسان علی اس دوران میں ہنستے رہے اور پھر بولے چاچی یہ میری صفت نہیں یہ تو محلے والیوں کی خوبی ہے، بے چاری ایسی بنی ہیں کہ خواہ مخواہ ماں بہن کہنے کو جی چاہتا ہے، کیوں شاداں؟ ہائے اللہ سنا تم نے چاچی شاداں چلائی، سسمجھی بھی ہو اس کی بات بھابھی مسکرائی، سب سمجھتی ہوں، چچا اگر محلے میں کوئی ایسی ویسی ہوتی تو کیا واقعی ریجھی جاتے اس پر؟ تم اس کی بات سنو، بھابھی نے کہا، توبہ کیسی باتیں بناتا رہتا ہے، چاچی ہنسی، کسی محلے والی پر ریجھنے تو اک بار مزہ چکھا دیتی تمہیں چچا، شاداں آنکھیں چمکا کر بولی جوتا دکھا دیتی میاں کو، کیوں بھابھی، واہ احسان علی مسکرائے، شاداں جس نے جوتا دکھا دیا سمجھو بات پکی کردی، ہائے مرگئی، شاداں نے دونوں ہاتھوں سے سینہ تھام لیا، احسان علی تجھ پر خدا کی سنور، چاچی نے ہاتھ ہلایا، اور احسان علی ہنستے ہنستے آگے نکل گئے، ان کی عادت تھی کہ محفل پر اپنا رنگ جما کر چلے جایا کرتے، اگر چہ محلے والیاں اکیلے میں احسان علی کی گذشتہ زندگی پر ناک بھون چڑھایا کرتیں اور ان کی فطری کمزوری پر مذاق اڑاتیں، لیکن جب وہ سامنے آجتے تو نہ جانے کیوں ان کی آنکھوں میں چمک لہرا جاتی اور وہ خواہ مخواہ ہنس پڑتیں۔ کیسی رنگیلی طبعیت تھی احسان علی کی، محلے میں کون تھا جو ان کی باتوں سے محفوظ نہ ہوتا تھا، اگر وہ محلے کی ڈیورہی میں جاپہنچے، جہاں بوڑھوں کی محفل لگی ہوتی تو کھانسی کے بجائے قہقہے گونجنے لگتے، چوگان میں بیٹھی عورتوں کے پاس سے گزرے تو دبی دبی کھی کھی کا شور بلند ہوتا محلے کے کنویں کے پاس جا کر کھڑے ہوتے تو لڑکوں کے کھیل میں نئی روح دور جاتی۔ جوان لڑکیاں انہیں دیکھ کر گھونگھٹ تلے آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکراتیں، اور پھر ایک طرف سے نکل جانے کی کوشش کرتیں، مٹیار عورتیں دیکھ پاتیں تو ان کے گالوں میں گھڑے پڑجاتے خواہ مخواہ جی چاہتا کہ کوئی بات کریں، بوڑھی عورتین قہقہ مار کر ہنس پڑتیں مثلا اس روز احسان علی کو چوگان میں کھڑا دیکھ کر ایک بولی، یہاں کھڑے ہو کر کسے تاڑ رہے ہو، احسان علی، یہ سامنے عورتوں کا جو جھرمٹ لگا ہے، نہ جانے کس محلے سے آئی ہیں، دوسری نے دور کھڑی عورتوں کی طرف اشارہ کیا، اے ہے اب تو اپنے حیمد کیلئے دیکھا کرو، بھابی کہنے لگی، اللہ رکھے جوان ہوگیا، اور تو کیا اپنے لئے دیکھ رہا ہوں، بھابھی احسان علی مسکرایا، اس بات پر ایک معنی خیز طنزیہ قہقہ بلند ہوا، احسان علی ہنس کر بولا دنیا کسی صورت میں راضی نہیں ہوتی ہے چاچی اپنے لئے دیکھو تو لوگ گھورتے ہیں، کسی کیلئے دیکھو تو طعنہ دیتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں، جواب دینے میں احسان علی کو کمال حاصل تھا، ایسا جواب دیتے کہ سن کر مزہ آجاتا، شادان نے یہ سن کر چاچی کو اشارہ کیا اور مصنوعی سنجیدگی سے کہنے لگی، چاہے اس عمر میں اوروں کیلئے دیکھنا ہی رہ جاتا ہے، احسان علی نے آہ بھری بولے کاش تم ہی سمجھتیں شاداں، اتنی عمر ہوچکی ہے چچا پر تمہیں سمجھ نہ آئی، شاداں مسکرائی ابھی دیکھنے کی حوس نہیں مٹی۔ اچھا شاداں ایمان سے کہنا سنجیدگی سے بولے کبھی تمہیں میلی آنکھ سے دیکھا ہے؟ بائیں چچا شاداں ہونٹ پر انگلی رکھ کر بیٹھ گئی، میں تو تمہاری بیٹی کی طرح ہوں، یہ بھی ٹھیک ہے وہ ہنسے جب جوانی ڈھل گئی تو چچا جی سلام کہتی ہوں، لیکن جب جوان تھی توبہ جی پاس نہ بھٹکتی تھی کبھی کیوں بھابھی جھوٹ کہتا ہوں میں؟ اس بات پر سب ہنس پڑے اور احسان علی وہاں سے سرک گئے، ان کے جانے کے بعد بھابھی نے کہا، تو بہ بہن شاداں نے مسکراتے ہوئے کہا ابکون سا حاجی بن گیا ہے، اب بھی تو عورت کو دیکھ کر منہ سے رال ٹپکٹتی ہے، لیکن شادان بھابھی نے کہا شاباش ہے اس کو کبھی محلے کی لڑکی کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھا، یہ تو میں مانتی ہوں شاداں نے ان جانے میں آہ بھری، یہ صفت بھی کسی کسی میں ہوتی ہے، چاچی نے کہا، جب محلے والیوں کی یہ بات احسان علی نے پہلی بار سن پائی بولے اتنا بھروسہ بھی نہ کرو مجھ پر۔ کیوں چاچی نےہنس کر کہا، یہ کیا جھوٹ ہے تمہاری یہ صفت واقعی خوب ہے تو منہ پر کہوں گی، احسان علی، لو چاچی یہ صفت نہ ہوتی ان میں تو ہمارے محلے میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے، شاداں بولی۔ جواں مٹیاریں تو اب بھی پلا بجا کر نکلنے کی کوشش کرتیں، جب احسان علی جوان تھے، ان دونوں تو کسی عورت کا ان کے قریب سے گذرجانا بے حد مشکل تھا، خواہ مخواہ دل دکھ دکھ کرنے لگتا، ماتھے پر پسینہ آجاتا، دونوں ہاتھوں سے سینہ تھام لیتی، ہائے میں مرگئی، یہ تو اپنا احسان علی ہے، ان دنوں بوڑھی عورتیں مخدوش نگاہوں سے گھورتی تھیں، محلے کے مرد تو اب ابھی انہیں دیکھ کر تیوری چڑھالیتے البتہ جب وہ کوئی دلچپ بات کرتے تو وہ ہنسنے لگتے، اور یوں ہمکال ہوتے ہیسے اپنی فراحدلی کیوجہ سے ان کے گزشتہ گناہ معاف کردئیے ہوں، لیکن احسان علی کی غیر حاضری میں وہ اکثر کہا کرتے، بوڑھا ہوگیا ہے ، لیکن ابھی ہدایت نہیں ہدایت تو اللہ میاں کی طرف سے ہوتی ہے، جنہیں نہ ہو انہیں کبھی نہیں ہوتی، حرامکاری کی لت کبھی جاتی ہے بابا جی ہاں بھءیہ تو سچ ہے، دیکھ لو اتنی عمر ہوچکی ہے، باتوں میں کوئی فرق نہیں آیا، وہی چھیرڑ کافی لا ہولا ولا قوتھ، بات بھی سچی تھی اگر چہ احسان علی پچاس سے زیادہ ہوچکے تھے، لیکن وہی منڈی داڑھی متبسم آنکھیں اور چھیڑنے والی باتیں، ان کی روح ویسے ہی جوان تھی بچوں کو گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے دیکھتے تو وہیں کھرے ہو کر واہ واہ کرنےلگتے کھلاڑی کو داد دینے لگتے یا امپائر بن کر کھڑے ہو جاتے، کڑکے انہیں کھیل میں حصہ لینے پر مجبور کرتے، تالیاں بجاتے شور مچاتے چچا جی ہمارے آڑی بنیں گے، نہیں ہمارے ایک ہنگامہ بپا ہوجاتا تھا، کھڑکیوں سے محلے والیاں جھانکیں لگتین، لو دیکھ لو احسان علی گلی ڈنڈا کھیل رہے ہیں، چق کی اوت میں سے آواز آتی ہے، بھائی جی کیا پھر سے جوان ہونے کا ارادہ ہے؟ سبز جنگلے سے شاداں سر نکالتی، ابھی تو اللہ رکھے پہلی جوانی ختم نہیں ہوئی، شاہ نشین سے چاچی بولتی، توبہ شاداں تو بھی کس رخ سے چین لینے نہیں دیتی، شکر کر احسان کا دھیان کھیلوں سے ہٹا ہے، گلی ڈنڈا کھیلنے میں کیا عیب ہے، مسجد سے آتا جاتا کوئی محلے دار نہیں دیکھ کر ہنستا، کب تک اس لڑکیوں کے کھیل میں لگے رہے گے اب خدا کو بھی یاد کرو، احسان علی ہنس کر گنگناتے، وقت پیری گرگ ظالن میشور پرہیزگار، دوسرا آکر کہتا ہے، دنیاواری غلاظت سے اکتائے نہیں ابھی؟صوم صلوتھ کی پاکیزگی کو کیا جانو، احسان کہتے، بابا جی غلاظت کا احساس ہوتو پاکیزگی کی آرزو پیدا ہوتی ہے، تم میں احساس نہیں کیا، بابا جی پوچھتے ہیں اور وہ جواب دیتے ہیں، احساس تو ہے پر غلاظت بھی ہو، اس بات پر کوئی لاحول پڑھ دیتا اور وہ ہنستے، لو بھائی جی ابن تو شیطان بھی آگیا اور وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ احسان علی کے آنے سے پہلے محلہ کیسا ویران دکھائی دیتا تھا، اگرچہ موسم سرما میں دوپہر کے قریب محلے والیاں چوگان میں اکھٹی ہوکر ازار بند بناتی تھی، دوپہر کے قریب جب چوگان میں دھوپ آتی تو چوکیاں بجھ جاتیں مٹی کی ہنڈیاں رکھ دی جاتین، جن تیلوں کے مٹھے بھرے ہوتے، بارہ بجے کھانے پینے سے فارغ ہو کر عورتیں وہاں جمع ہوجاتیں، ایک بجے تک اچھا خاصا میلا لگ جاتا، عجیب آوازیں پیدا کرتے تتلیاں ٹکراتیں ازار بند بنتے ہوئے کسی کی بات چھڑ جاتی گلے ہوتے شکایتیں ہوتیں، ایک دم دوسرے پر آواز کسے جاتے مگر قہقہت کی آواز نہ ہوتی، ادھر ڈیوڑھی میں مسئلے مسائل بات گرم رہتی، شریعت کے احکام بار بار دہرائے جاتے، حدیثوں کے حوالے دئیے جاتے، اولیا کرام کی حکایات سنائی جاتیں ہنگامہ تو مگر اس میں مزاج کی شیرنی نام کونہ ہوتی، عورتوں کے مسلسل جھگڑوں اور مردوں کی خشک بخشوں کی وجہ سے وہ مسلسل شور محلہ اور بھی ویران کردیتا، پھر احسان علی پینش لے کے محلے میں آبے ان کے آنے کے بعد محلے کا رنگ بدل گیا، جب عورتیں ایک دوسرے کے گلے شکوے کرنے میں مصروف ہوتیں تو احشسان علی نکل آتے اور آتے ہی ایس بات کرتے کہ سبھی ہنس پٹرتیں، اور محفل کا رنگ ہی بدل جاتا طعنے اور تمسخر کی جگہ ہنسی مذاق شروع ہوجاتے، آپس میں جھگٹرتی عورتین ملکر احشان علی کے خلاف محاذ قایم کرلیتیں اور محلے کے چوگان میں قہقہے گونجتے لگتے محلے کے بزرگ خشک مسائل چھوڑ کر احسان علی کے چٹکلے سننے لگتے، بات بات پر لاحولا پڑھنے والے بڈھے لاحول پڑھنا بھول جاتے لیکن پھر بھی عادت سے مجبور ہر کر کوئی نہ کوئی لاحول پڑھ دیتا اس پر احسان علی کھلکھلکلا کر ہنس پٹرتے، بھائی جان کیا آپ کو بات بات پر لاحول پڑھنے کی ضرورت پٹرتی ہے ہم تو یہ جانتے ہیں کہ شیطان کا خطرہ لاحق نہ ہو لاحوال کا سہار لینے کی ضرورت نہیں پٹرتی، احسان علی کو لاحول سے چڑ تھی، ہاں تو واقعی احسان علی کے آنے پر محلے میں ایک نئی روح دوڑ گئی تھی۔ پھر ایک روز ایک انوکھا واقعہ ہوا، چوگان میں عورتیں حسب معمول جمع تھیں، نئی روشنی کے نوجوانوں کی بات چل رہی تھی شاداں نےدور سے احسان علی کو آتے دیکھ لیا، چاچی کو اشارہ کر کے باآواز بولی چچی خدا جھوٹ نہ بلائے آج کل تو چھوٹے چھوٹے لڑکے بھی چچا احسان علی بنے ہوئے ہیں راہ چلتی لڑکی کو تاڑتے ہیں، ہائے ہائے چاچی نے شاداں کا اشارہ سمجھنے بغیر کہا تم تو خواہ مخواہ اس بے چارے، شاداں نے پھر سے اشارہ دہرایا، جسے دیکھ کر چچی کا غصہ مسکراہٹ میں بدل گیا، آج کل کے مردوں کی کیا پوچھتی ہو چچی، شاداں نے پھر سے بات شروع کی بال کچھڑی ہوجاتے ہیں، پر عورتوں کو تاڑنے کی لت نہیں جاتی، ہاں شاداں چچی نے منہ بنا کر کہا، زمانہ ہی ایسا آیا ہے، اس کےبعد مجمے پر اس کے بعد مجمے پر خاموشی چھا گئی، احسان کی بات سننے کی منتظر تھی اگر چہ وہ سب یوں بیٹھ گئیں تھیں جیسے انہیں احسان علی کے آنے کی خبر نہ ہو۔ احسان علی آئے اور چپ چاپ ان کے پاس سے گزر گئے انہوں نے ان کو جاتے ہوئے دیکھا اور خیران ہوگئیں، اللہ خیر کرے آج احسان علی کو کیا ہوا ہے، چاچی زیر لب بولی، میں تو آپ حیران ہوں، شاداں ہاتھ ملنے لگی اے ہے احسان علی اور چپ چاپ پاس سے گزر جائے، میں کہتی ہوں ضرور کوئی بات ہے، بھابھی نے انگلی ہلاتے ہوئے کہا کہیں گھر سے لڑ کر تو نہیں آئے تھے شاداں نے پوچھا، لو چاچی نے ہونٹ پر انگلی رکھ کر کہا جس روز نواب بیوی سے لرا، اس روز تو اور بھی چمکا ہوا ہوتا ہے، کیوں بھابھی یاد ہے کل کیسے ہنس ہنس کر گھر کی لڑائی کی بات سنا رہا تھا، ہاں بھابھی مسکرائی جیسے لڑائی نہ ہوئی ہو تماشہ ہوا، اس کا کیا ہے چاچی بولیں، اس کیلئے تو ہر بات تماشہ ہے چاہے موت کی ہو یا بیاہ کی، ہائے چاچی کیسی اچھی طبعیت ہے احسان علی کی کبھی ماتھے پر تیوری نہیں دیکھی ایمان سے رنگیلا ہے رنگیلا، پر میں کہتی ہوں ضرور آج کوئی بات ہے، بھابھی ہونٹ پر ہاتھ رکھ کرسوچنے لگی، شاداں ازار بند لپیٹتے ہوئے بولی، چلو تو چل کر نواب بی بی سے پوچھیں، اے اہے دو جوڑے تو چڑھالینے دو بھابھی نے کہا، ہو نہ ہو دوجورے اتنا لوبھی کیا، اس نے اٹھ کر بھابھ کے ازار بند کو زبر دستی لپیٹ دیا، پہلے تو نواب سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہیں، پھر چاچی نے بات چھیڑی کہنے لگی، احسان علی کو کیا ہوا ہے آج؟ ابھی اچھے بھلے باہر گئے تھے، نواب بی بی بے جواب دیا، وہ تو ہم نے بھی دیکھا تھا اسے باہر جاتے ہوئے، بھابھی نے جواب دیا، میں نےتو بلکہ انہیں چیڑنے کی خاطر کچھ کہا بھی تھا، شاداں بولی، میں کہا چلو دو گھڑی کا مذاق ہی رہے گا، پر انہیں یوں چپ چاپ دیکھ کر میں تو حیران رہ گئی، کہیں میری بات کا برا تو نہ مان لیا، توبہ میں بات کیوں کی، انہوں نے نواب بی بی نے کہا، برا ماننے والا نہیں وہ، کسی فکر میں پڑا تھا جو یوں پاس سے گزر گیا، چاچی نے کہا، ہاں تو ٹھیک ہے، نواب بی بی نے کہا اپنے حیمد کا خط آیا ہے آج، لڑکے نے اپنی شادی کے بارے میں لکھا ہے، ہائیں میں مرگئی شاداں چلائی، آپ اپنی شادی کیلئے لکھا ہے کیا توبہ کیا زمانہ آیا ہے، اس میں حرج کیا ہے، چاچی بولی، اللہ رکھے جوان لڑکا ہے، آپ کماتا ہے ، لکھ دیا تو کون سی قیامت آگئی، میں جانوں احسان علی کو دیر نہیں کرنی چاہئے اس بات میں انہوں نے انہیں خیال ہوتا اس بات کا تو یہاں تک نوبت نہ آتی میں تو کب سے کہہ رہی تھی کہ لڑکے کو نامرد کردو لیکن ان کے اپنے چاﺅ بھی ختم ہوں، اتنی عمر ہوچکی ہے لیکن ابھی ہوس نہیں گئی۔۔۔نہ بہن چاچی بولیں مجھ سےتو آپ انہوں نے کئی بار کہا ہے چاچی چاچی جہاں لڑکا کہے گا اس کی شادی کردیں گے، اللہ اللہ خیر سے سلا آج کل یہ لڑکے کی مرضی بغیر نہیں ہوتے، بات بھی سچی ہے۔ یہ بات ہے نواب بی بی تو اب کیوں سر پیٹ کر باہر نکل گیا، لڑکے نے اپنی بیوی تلاش کرلی، تو۔۔۔۔۔اپنی بیوی تلاش کر لی ہے؟ شاداو? بولی، سچ بھابھی ران پر ہاتھ مار کر بولی، ہاں بھابھی نواب بی بی بولی، پہلے تو اس اسے اپنی مرضی کی بیوی تلاش کرنے کی پٹی پڑھاتے رہے اور اب اس نے اپنی بیوی کا چناﺅ کر لیا ہے تو میاں گرم ہو رہے ہیں، کون ہے وہ؟ چاچی نے پوچھا، مجھے کیا معلوم اسکول میں استانی ہے لڑکے نے فوٹو بھیجی ہے اس کی، ہم بھی دیکھیں شادان نے منت کی، نواب بی بی اٹھ بیٹھی اور میز کی دراز میں سے فوٹو لے آئی، ہائے چاچی یہ تومیم ہے میم شاداں خوشی سے پھولی نہ سمائی اے ہے، چاچی بولی، ایسی ہی تو ہوتی ہیں یہ اسکول والیاں، تو بہ کیسی بنی ٹھینی ہتھینی ہے، بھابھی ہنسی۔ کتنی خوبصورت ہے شاداں بولی، احسان علی کو ایسی خوبصوعرت بہو کہاں سے مل سکتی تھی، عین اس وقت احسان علی آگئے شادان کی بات سن کر وہ گھبراگئے، ٹھٹھک کر کھڑے پھر کمرے سے باہر جانے لگے لیکن شاداں کب چھوڑنے والی تھی انہیں، مبارک ہو چچا وہ بولی نئی بہو مبارک ہو، محلے کی لڑکیاں تو تمہیں پسند نہیں تھیں اللہ رکھے لڑکے نے یہ مشکل بھی آسان کردی، ایک ساعت کیلئے احسان علی کا منہ فق ہوگیا، لیکن جلدی وہ سنبھل کر غصے میں بولے، وہ تو ہے بے وقوف، بے وقوف اتنا بھی نہیں سمجھتا خوبصورت لڑکیان دیکھنے کیلئے ہوتی ہیں، بہانے کیلئے نہیں، بھلا دیکھو تو اس لڑکی کا اس گھر میں گزارا ہوسکتا ہے؟ کیوں اس کو کیا ہے، شاداں بولی دیکھو کتنی خوبصورت ہے، یہی تو مصیبت ہے، وہ سر کھجاتے ہوئے بولے۔ آپ جو ساری عمر خوبصورت لڑکیوں کے پیچھے پھرتے رہے ہو، احسان علی اب کیا لڑکے کا جی نہیں چاہتا، بھابھی بولی، پیچھے پیچھے پھرتا رہا ہوں نا، بیاہ کر تو نہیں لایا ہوں کسی کو، یہ دیکھ لو، یہ حمید کی ماں بیٹھی ہے، وہ جوش میں بولے ، دیکھ لو کیا ناک نقشہ ہے، کیوں نواب بی بی کو کیا ہے؟ چاچی ہنسی میں کب کہتا ہوں کہ کچھ ہے اگر کچھ ہوتا تو کیا میرے چولہے پر بیٹھ کر برتن مانجھتی رہتی؟ آخر حمید کا بھی تو جی چاہتا ہے کہ خوبصورت لڑکی ہو، اس میں حرج ہی کیا ہے،شاداں مسکرائی، میں کب کہتا ہوں کہ جی نہ چاہے لیکن چاہئیے یہ تیتریاں تو یارانہ لگانے کیلئے ہوتی ہیں، بیہانے کیلئے نہیں، ہائیں شاداں نے ناک پر انگلی رکھ لی، احسان علی تم نے تو حد کردی۔ کوئی محلے کی باہ لیتا پھر چاہے جہاں مرضی ہوتی یارانے لگاتا پھرتا ،احسان علی اپنی ہی دہن میں کہے گئے، توبہ میری احسان علی تم تو بات کہتے ہوئے کسی کا لحاظ نہیں کرتے، چاچی بولیں، لو اسے دیکھو ذرا، احسان علی پھر تصویر ان کے سامنے رکھ دی، یہ آنکھیں، راہ چلتے کو روکتی ہیں یا نہیں، توبہ آنکھیں بھر نہیں جاتا، اے ہے دیکھا کیوں نہیں جاتا بھلی اچھی تو ہے، شاداں مسکرائی، مرد کی آنکھ سے دیکھو تو معلوم ہونا، احسان علی ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے لگے، اپنی بہو کے بارے میں کہہ رہے ہو، چاچی ہنسی، بہو تو جب بے گی تب دیکھا جائے گا، چاچی ویسے بات کر رہا ہوں، آجر مجھے بھی تو اس گھر میں رہنا ہے، وہ مسکرائے ، اس بات پر تو نواب بی بی کی بھی ہنسی نکل گئی بولی، ان کی تو عادت ہی ایسی ہے، جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ ان کے جانے کے بعد احسان علی پھر اسی طرح گم سم ہوگئے حمید کی ماں نے کئی بار بات چھیڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے خیالات میں گم تھے، دفعتا وہ اٹھ بیٹھے، حمید کی ماں مجھے آپ جا کر اس سے ملنا چاہئیے ایسا نہ ہو کہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے، سوٹکیس میں دو جوڑے رکھ دے صبح کی پہلی گاڑی سے ہی چلا جاﺅں گا، حمید کے پاس پہنچ کر پہلے تو انہوں نے باتوں ہی باتوں میں اسے سمجھانے کی کوشش کی، چٹکلے سنائے، اپنے تجربہ اور مشاہدہ کو پیش کرنے کیلئے آپ بیتیاں بیاں کیں، لیکن حمید نے کس بات کا جواب نہ دیا تو وہ دلیلوں پر اتر آئے لیکن اس پر بھی حمید خاموش رہا تو انہوں نےاسے دھمکانا شروع کردیا، جلدی ہی دھمکیوں نے منتوں کی شکل اخیتار کرلی، اس پر حمید بولا، ابا جی میں مجبور ہوں میں نسرین سے بیاہ کرنے پر مجبور ہوں، اس وقت احسان علی کو باتیں کرتے ہوئے دیکھ ایسا معول ہوتا تھا، جیسے کوئی ڈوبتا سہارا لینے کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہا ہو، دفعتا وہ پھر کلا میں آگئے بولے، اچھا بے شک بیاہ لاﺅ اسے لیکن ہمار پاس کبھی نہ آئے گی کبھی نہیں، ہم اس سے کبھی نہیں ملیں گے، اس پر حمید اٹھ بیٹھا بولا، آپ کی مرضی لیکن اس لڑکی کو بیاہنے پر تم اس قدر مصر کیوں ہوں؟ انہوں نے پوچھا میں مجبور ہو ابا جی حمید نے کہا، ہماری شادی ہوچکی ہے، ہوچکی ہے؟ وہ دھڑام سے صوفے پر گر پڑے، یہ حقیقت ہے ، ہمید نے سنجیدگی سے کہا، اس بات کو ایک ہفتہ ہوچکا ہے، ایک ہفتہ انہوں نے پیشانی سے پسینہ پونچھا، یہ بات ہےتو پھر جھگڑا ہی کیا، وہ ہنس پڑے لیکن ان کی ہنسی بے حد کھیسانی تھی، حمیداٹھ بیٹھا اور ساتھ والے دروازے پر کھٹکھٹانے لگا، ایں احسان علی نے حیرانی سے اس طرف دیکھا تم تو کہتے تھے یہ کمرہ پڑوسیوں سے متعلق ہے اور کیا کہتا ہے ابا جی حمید مسکرایا اور پھر با آواز نسرین آجاﺅ، ابا تم سے ملنا چاہتے ہیں، وہ احسان علی کے پاﺅں تلے سے زمین سرک گئی، تو یہ بات ہے۔ نسرین بڑے پروقار انداز سے کمرے میں داخل ہوئی، سلام عرض کرتی ہوں، سریلی آواز کمرے میں گونجی دو ایک ساعت کیلئے وہ سامنے ٹنگی ہوئی تصوری کو گھورتے رہے، پھر دفعتا انہیں احساس ہوا کہ انہیں جواب میں کچھ کہنا چاہئیے، بیٹھے تشریف رکھئے، وہ گھبرا کر بولے، انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اسی صوفے کے دوسرے سرے پر بیٹھ گئی ہے، گھبرا کر اٹھ بیٹھے، اب کیا ہوسکتا ہے خیر کوئی بات نہیں جو ہونا تھا ہو چکا، فضول، ہاں بھئی، حمید سے مخاطب ہوئے، تم انہیں محلے میں لاﺅنا، تمہیں وہاں آنا ہی پڑے گا، تمہاری ماں تمہاری راہ دیکھتی رہی ہے، سچ کیا واقعی آپ چاہتے ہیں کہ ہم گھر آئیں؟ اور تو کیا مذاق کررہا ہوں، تمہیں چھٹی لیتی چاہئیے، ہاں چھٹی تو میں نے پہلے ہی لے رکھی تھی، حمید مسکرایا، تو پھر یہاں کیا کر رہے ہو، کیا حماقت ہے، انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی، کل ہی پہنچ جاﺅں وہاں، اچھا تو اب میں جاتا ہوں، نسرین کو ساتھ لانا، سمجھے؟ جس وقت حمید اور نسرین محلے میں داخل ہوئے وہ سب چوگان میں تھیں، نسرین نے کالا ریشمیں برقعہ اتار، ایک ساعت کیلے وہ جھجک گئیں، رسمی سلام ہوئے، دعائیں دی گئیں، سر پر ہاتھ پھیرے گئے، جب دلہن اپنے گھر چلی گئی تو نکتہ چینی ہونے لگی ایک بولی لے بہن دلہن کا ہمارے ساتھ کیا می، شاداں بولی کیوں ہم کیا کم ہیں کسی سے، تیسری نے کہا منہ پر اللہ مارا پوڈر دو دو انگلی چڑھا ہوا ہے، چوتھی نے کہا ویسے تو چودویں کا چاند ہے، احسان علی کا گھر تو منور ہوگیا، ہاں بہن، شاداں نے آہ بھر کر کہا، اسے محلے والیاں پسند نہ تھیں، شادان نے سر اٹھایا تو سامنے احسان علی کھڑے تھے، بھابھی بولی، سنا احسان علی شاداں کیا کہہ رہی ہے، لا حولا ولا قوتھ، احسان علی کے منہ سے، بے ساختہ نکل گیا، احسان علی کو اس کا احساس ہوا تو لگے سر کنے وہاں، شاداں نے بڑھ کر ہاتھ سے پکڑ لیا، بولی اب کہاں جاتے ہو میں تو گن گن کر بدلے لونگی، چاچی ہنسی بولی کیسی مبارک دلہن آئی ہے احسان علی کے منہ سے عربی کے لفظ نکلے، پر چاچی شاداں چلائی، ان سے بھلا پوچھو تو آج لاحول پڑھنے کی کیا ضرورت پڑی ہے انہیں، ارے ہے شاداں بھابھی بولی کیا کہہ رہی ہے تو؟ ٹھیک کہہ رہی ہوں شاداں چمکی، اس روز میں نے لا حول پڑھا تو احسان علی نے کس قدر شرمندہ کیا تھا، مجھے کہنے لگے لاحولا پڑھا جائے تو شیطان کچھ دور نہیں ہوتا۔۔۔اب تو اسے جانے بھیدے گی یا نہیں، چاچی چڑ کر کہنے لگی، گھر بہو آئی ہے اور تو نے اسے یہاں پکڑ رکھا ہے۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,595
شکریہ: 9,805
7,522 مراسلہ میں 22,592 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی کیا مکمل ہو گیا ہے ؟ کچھ باقی تو نہیںہے؟
والسلام |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر بہت معیاری شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فوٹو, ہنگامہ, کمال, پسند, لوگ, چین, مکمل, موت, ماں, مسائل, مسجد, معلوم, ایمان, اللہ, بھائی, بچوں, تلاش, جھوٹ, جواب, خلاف, خبر, خدا, دیکھو, داڑھی, علی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|