واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




اس کے بال بکھرگئے - سید تفسیراحمد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-11-10, 10:48 PM   #1
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,252
کمائي: 62,297
شکریہ: 10,271
3,086 مراسلہ میں 7,424 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اس کے بال بکھرگئے - سید تفسیراحمد

اس کے بال بکھرگئے - سید تفسیراحمد

میں فرنٹ آفس میں داخل ہوا۔

“ سر، یہ اسٹوڈینٹ آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ میں نےبتایا کہ کلاس ختم ہونےمیں دو گھنٹے ہیں اور فوری آپ کی دوسری کلاس ہے۔ مگر وہ دوگھنٹے سے بیٹھی ہے“۔ میری سیکرٹری نے کہا۔

“ ٹھیک ہے پانچ منٹ کے بعد اندر بھیج دو۔“ میں نے سیکرٹری کی بات کو نظر انداز کر کے کہا۔ کیونکہ میرے اسٹوڈینٹ ہمیشہ مشورہوں کے لیے بے وقت آتے جاتے ہیں۔

آفس میں داخل ہوکر میں نے اپنےاسکیجول پرنگاہ ڈالی۔ اگلی کلاس آدھا گھنٹے بعد اسی فلور پر پڑھانا تھی۔ میں نےاندازہ لگایا، دس منٹ کلاس روم تک پہنچنے کے، دس منٹ نوٹس اور لیکچر کے کاغذات کواکٹھے کرنے کے۔ میرے پاس اس لڑکی کے لیےصرف دس منٹ بچتے تھے۔

دروزاہ کھلا اور وہ خاموشی سےآ کر ڈیسک کے قریب کھڑی ہوگی۔ وہ چھوٹے قد کی ایک قبول صورت لڑکی تھی ۔جس کے کمر تک کالےلمبے بال ایک ربر بینڈ کی مدد سے پونی ٹیل بنے ہوئے تھے۔

“ بولو“۔

اس نےایک پرچہ میرے سامنے رکھ دیا۔

“ یہ کیا؟۔ تمہارا اسائنمنٹ! تمہیں پتہ ہے کہ میں اسائنمنٹ نہیں دیکھتا۔ اسے اپنےمقررہ ٹیچر اسسیٹنٹ کودے دو “۔

“ نہیں۔ یہ اسائنمنٹ نہیں ہے۔ مجھےآپ سے میرے سوال کا جواب چاہیے۔ مجھے بتائےکہ میں کیا کروں؟“ اُسکی آواز میں اضطراب تھا مگر مضبوطی اور سختگی بھی۔

“ ٹھیک ہے ۔ باہر انتظار کرو“۔ میں نے کہا۔

اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔وہ خاموشی سے مڑی اور دروازہ کھول کر کمرے سے باہرنکل گئی۔

میں نےاپنے پڑھانے کے کاغذات جمع کر کے بریف کیس میں رکھےاور آنکھ بند کرکے آرام کرنےلگا۔ جب میں نے آنکھ کھولی توگھڑی کےمطابق اب میرے پاس دس منٹ رہ گئےتھے۔ میں ڈسیک پر رکھے ہوئے پرچے کو بھول چکا تھا۔

دروازہ کی طرف بڑھتے ہوے مجھےخیال آیا کہ وہ لڑکی باہر بیٹھی ہوگی۔ایک سیکنڈ کے لیےمیں نےسوچا کہ بازو کےدروازے سےنکل جاؤں وہ دیکھ نہ پائےگی۔ مگرشرم محسوس ہوئ ۔ میں نے پرچے کواُٹھایا اورصوفے پربیٹھ کر پڑھنا شروع کیا۔

“ میرا نام سدرہ ہے ۔ کچھ عرصہ پہلےمیری ملاقات شبنم سے ہوئ ۔ہم دونوں فوراً دوست بن گے۔ شبنم بہت بےباک ہے اور لڑکے اسے بہت پسند کرتےہیں۔ وہ لڑکوں کےساتھ اکیلی بھی جاتی ہے۔ میں شروع سے ہی اس کےدوستوں سےدور رہی۔ وہ ہمیشہ مجھے اپنےساتھ پارٹیوں میں لےجانا چاہتی تھی۔ میں منع کردیتی تھی۔ ایک دن اس نےمجھےاپنے ایک دوست سےملایا۔ جاوید اسکا نام ہے ۔وہ کالج کے آخری سال میں ہے۔ جاوید سندر ہے۔ اور میں اُسے پسند کرنےلگی۔ تھوڑا عرصہ بعد شبنم کےکہنے پر ہم تینوں باہرملنے لگے۔ شبنم کےساتھ ہمیشہ ایک نیا دوست ہوتا تھا اور میں نےسننا تھا کہ ان لوگوں سے شبنم کا ملاپ دوستی سے کچھ ذیادہ تھا جس کا مجھے بالکل یقین نہیں آیا۔ جاوید مجھ سے ہمیشہ اچھی طرح پیش آتا۔ مجھےایسا لگا کہ وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعدجاوید اور میں نے ا کیلا ملنا شروع کردیا۔ ہم نےایک دوسرے کے بوسےلینے سے ذیادہ کچھ نہیں کیا۔ میں جاوید کی محبت میں گرفتار ہوگی۔

کچھ عرصہ گزرا اور ایک میچ ملانے والی ہمارےگھرآئیں۔ انہوں نےماں کو بتایا کہ ایک عزت دار اور مالدارگھرانا اپنے لڑکے کے لیے ایک قبول صورت ،گھریلو، کم پڑھی لکھی لڑکی کی تلاش میں ہے ۔ تمہاری لڑکی ایسی ہی ہے۔ لڑکا ماشا اللہ خوبصورت ہے اور جلد ہی تعلیم ختم کر کے باپ کے ساتھ بزنس میں شرکت کرے گا۔ ماں نےمجھ سے پوچھا۔ میں نےماں سے کہا میں ابھی شادی نہیں کروں گی۔ میں کالج کی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہوں۔

کچھ دنوں بعد لڑکے کی فیملی مجھے دیکھنے آٰئ اور مجھے پسند کیا۔ اس کے بعد ایک دن وہ لڑکے کولائے تاکہ میں بھی پردے سےاس کودیکھ سکوں۔ میں تو جاوید کی محبت میں گرفتار تھی اوراس سے مل بھی رہی تھی۔ میں نےلڑکے کودیکھنےسےانکار کردیا۔اور ماں سے کہا میں شادی نہیں کروں گی۔ ماں باپ کو لڑکا اورگھرانا پسند آیا اور شادی طے ہوگی۔ میں بہت روئ مگر کوئ چاراء نہ تھا۔ میرا گھر سے باہر نکلنا بند ہوگیا۔ میں جاوید سے مل بھی نہ سکی۔ شادی کا دن آیا اور میں دولہن بنی بیٹھی تھی۔ دروازہ کھلا اور میرا شوہر کمرے میں داخل ہوا ۔میں نےگھونگٹ سے دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ کون! یہ توجاوید ہے۔ میرا دل خوشی میں زور زور سےدھک دھک کرنے لگا۔ یا اللہ میں کتنی خوش قسمت ہوں۔ تیری مہربانی ہے۔ میں نےقدموں کے قریب آنے کی آواز سننی ۔ اب میرا دل زور و شور سےڈھڑک رہا تھا۔ مجھےیقین تھا کہ جاوید بھی اس ملاپ پرخوش ہوگا۔ جاوید نےمیرا گھونگٹ اُٹھایا۔ مجھے دیکھ کرجاوید کےچہرے کا رنگ اُڑ گیا ۔ مجھے ایسا لگا جیسےاُسےسانپ نے کاٹ لیا ہو اور وہ غصہ میں چلایا۔“ آوارہ ، طوائف “۔ پھر وہ بھاگتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ میں سارا رات روئ ۔ میں نے کیا غلطی کی ؟۔ میں خراب لڑکی نہیں ہوں۔

دوسرے دن جاوید کےگھر والوں نے مجھےمیرے باپ کےگھر بھیج دیا اورطلاق مانگی۔ تمام کوششوں کے باوجود ہماری طلاق ہو رہی ہے۔ میرے اورجاوید کےخاندان کومیرے آوارہ ہونے پر یقین آگیا ہے۔ میرا اب کوئ نہیں ہے۔ میں کیا کروں؟ پروفیسر میں کیا کروں؟ میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں مجھے یقین ہے کہ آپ کے پاس اس کا جواب ہے۔ اگر آپ کے پاس اسکا جواب نہیں تو میں خود کشی کرلوں گی“۔

میں اُچھل کر کھڑا ہوگیا۔

وہ فرنٹ آفس میں نہیں تھی ۔

“ وہ لڑکی کہاں ہیں؟ میں سیکرٹری پرچلایا،

“ سر وہ ابھی باہر نکلی ہے۔ آپ اس کو لفٹ میں داخل ہونے سے پہلے پکڑ لیں گے“۔ سکریٹری نے بوکھلا کر کہا۔

“ میری کلاس کنسیل کردو“۔ میں دروازے کی طرف دوڑتے ہوئے کہا۔

لفٹ کےقریب کوئ نہیں تھا۔ سیدھے ہاتھ پردوسری منزل کا بیس فٹ چوڑا کھلا برآمدہ تھا۔میں اس طرف دوڑا۔ وہ برآمدہ کی تین فٹ دیوار پر کھڑی تھی۔

“ ٹھہرو ، میرے پاس حل ہے“ ۔ میں نے پھیپھڑوں کی پوری طاقت استعمال کی اور دیوار کی طرف دوڑا۔ مگر وہ جاچکی تھی۔۔۔
دیوار کے پاس پہنچ کر میں نے نیچے دیکھا۔ وہ منہ کے بل زمیں پرتھی اس کی بانہیں دونوں طرف اُڑتے پرندے کی طرح پھیلی ہوئ تھیں۔ اس کے لمبے بال بکھرگے اور بالوں نےاُسکے اوپری جسم کو ڈھانپ لیا ۔

سامنے کے درخت پر ایک چیل نے چیغ ماری اور محو پرواز ہوئ ۔

“ دیکھومیں تمھارے بغیر بھی اُڑتی ہوں“۔ چیل پھر چلائ۔

میرا دل چیغا ۔ مگرمیری زبان نےساتھ نہ دیا۔

میرے دل رویا۔ مگر میری آنکھوں نےانکار کردیا۔

صرف ہاتھوں نےساتھ دیا وہ فضا میں بلند ہوئےاور میں اپنا سر پکڑ کرفرش پر بیٹھ گیا۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (09-11-10), نورالدین (22-11-10), منتظمین (09-11-10), wajee (09-11-10), احمد بلال (18-11-10), شاہ جی 90 (11-11-10)
پرانا 09-11-10, 01:14 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,595
شکریہ: 9,805
7,522 مراسلہ میں 22,592 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (09-11-10), شاہ جی 90 (11-11-10)
پرانا 09-11-10, 09:14 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,049
شکریہ: 5,185
5,035 مراسلہ میں 11,453 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی اچھا سبق ہے اس کہانی میں۔ مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آیا لڑکے اپنے آپ کو اتنا پارسا کیوں سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (09-11-10), راجہ اکرام (09-11-10), شاہ جی 90 (11-11-10)
پرانا 09-11-10, 11:32 AM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,553
کمائي: 314,947
شکریہ: 25,207
16,381 مراسلہ میں 41,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا سبق ہے
چاہے دوستی کے نام پر کوئی کتنا ہی اچھا تعلق رکھتا ہو لیکن جیون ساتھی بنانے کے معاملے میں یہی ہوتا ہے کہ بعد میں وہی عزیز ترین دوست طوائفہ کہہ کر نہ صرف زندگی بلکہ عزت و ناموس سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔ اس لئے ایسا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہئے۔ ورنہ جسے انسان سب سے عزیز دوست سمجھتا ہے وہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (09-11-10), شاہ جی 90 (11-11-10)
پرانا 09-11-10, 11:54 AM   #5
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,972
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,126 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت سبق آموز تحریرہے

جیسا کہ راجہ اکرام بھائی نے کہا کہ چاہے دوستی کے نام پر کوئی کتنا ہی اچھا تعلق رکھتا ہو لیکن جیون ساتھی بنانے کے معاملے میں یہی ہوتا ہے کہ بعد میں وہی عزیز ترین دوست طوائفہ کہہ کر نہ صرف زندگی بلکہ عزت و ناموس سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔ اس لئے ایسا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہئے۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (09-11-10), راجہ اکرام (12-11-10), شاہ جی 90 (11-11-10)
پرانا 11-11-10, 08:36 PM   #6
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,039
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک انتہائی کمینے انسان کی روداد ہے ۔ کوئی بھی شخص اگر یہ سوچ لے کہ جو کچھ وہ کسی کے ساتھ کر رہا ہے وہی اس کے اپنے ساتھ ہو سکتا ہے تو شاید یہ دنیا جنت بن جائے
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (12-11-10), نورالدین (22-11-10), راجہ اکرام (12-11-10)
پرانا 22-11-10, 10:24 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,038
کمائي: 55,089
شکریہ: 11,755
1,557 مراسلہ میں 4,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Lightbulb

تفسیر احمد صاحب نے اس کہانی میں جس پوائنٹ پر زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ
اگر آپ کی شخصیت ایسی ہے کہ لوگ آپ کو اپنے مسائل کا حل بتانے میں پر اعتماد ہوتے ہيں
تو آپ کو ایسے میں چاہیے کہ سب کو اہمیت دیں ۔
اس کہانی میں راوی نے پہلے ہی اس فریاد رس لڑکی کے متعلق کچھ اس انداز سے سوچا
اقتباس:
کیونکہ میرے اسٹوڈینٹ ہمیشہ مشوروں کے لیے بے وقت آتے جاتے ہیں۔
اور راوی نے اس لڑکی کو اسی طرح نظر انداز کر دیا کہ جیسے وہ ایک عام سی انسان ہو ۔ اور وہ راوی کا وقت ضائع کرنے آئی تھی ۔
حالانکہ اگر وہ اپنی اکتاہٹ اور بےزاری کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کو بھی اہمیت دیتا اور بر وقت اس کا پرچہ پڑھ لیتا تو
چند سیکنڈوں کی تاخیر سے بچ جاتا اور اس لڑکی کی خود کشی سے روک لیتا ۔۔ مگر جب تک وہ اس کا مسئلہ حل کرنے کے قابل ہوا
اقتباس:
“ ٹھہرو ، میرے پاس حل ہے“ ۔ میں نے پھیپھڑوں کی پوری طاقت استعمال کی اور دیوار کی طرف دوڑا۔ مگر وہ جاچکی تھی۔۔۔
تب تک دیر ہو چکی تھی ۔۔
اقتباس:
دیوار کے پاس پہنچ کر میں نے نیچے دیکھا۔ وہ منہ کے بل زمیں پرتھی
وقت کی قدر کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔
اور یہ ہر اس شخص کو اہمیت دیں جو آپ کے پاس اپنے مسئلے کے حل کے لیے آیا ہے ۔۔
کیا پتہ وہ ایک مخصوص لمحے تک انتظار کر کے آپ کی طرف مایوس ہو کر کوئی غیر مناسب قدم اٹھا لے ۔۔


__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 06:29 PM   #8
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,252
کمائي: 62,297
شکریہ: 10,271
3,086 مراسلہ میں 7,424 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
تفسیر احمد صاحب نے اس کہانی میں جس پوائنٹ پر زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ
اگر آپ کی شخصیت ایسی ہے کہ لوگ آپ کو اپنے مسائل کا حل بتانے میں پر اعتماد ہوتے ہيں
تو آپ کو ایسے میں چاہیے کہ سب کو اہمیت دیں ۔
اس کہانی میں راوی نے پہلے ہی اس فریاد رس لڑکی کے متعلق کچھ اس انداز سے سوچا


اور راوی نے اس لڑکی کو اسی طرح نظر انداز کر دیا کہ جیسے وہ ایک عام سی انسان ہو ۔ اور وہ راوی کا وقت ضائع کرنے آئی تھی ۔
حالانکہ اگر وہ اپنی اکتاہٹ اور بےزاری کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کو بھی اہمیت دیتا اور بر وقت اس کا پرچہ پڑھ لیتا تو
چند سیکنڈوں کی تاخیر سے بچ جاتا اور اس لڑکی کی خود کشی سے روک لیتا ۔۔ مگر جب تک وہ اس کا مسئلہ حل کرنے کے قابل ہوا


تب تک دیر ہو چکی تھی ۔۔


وقت کی قدر کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔
اور یہ ہر اس شخص کو اہمیت دیں جو آپ کے پاس اپنے مسئلے کے حل کے لیے آیا ہے ۔۔
کیا پتہ وہ ایک مخصوص لمحے تک انتظار کر کے آپ کی طرف مایوس ہو کر کوئی غیر مناسب قدم اٹھا لے ۔۔


بہت خوب ۔ شکریہ
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, کوششوں, کلاس, کمر, کالج, پسند, لڑکی, نظر, مکمل, محبت, اللہ, تلاش, تعلیم, جواب, جلد, حل, دوست, دل, رات, سال, شوہر, عرصہ, عزت, غلطی, غصہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹ‌میں ! جان جی ترجمہ و تفسیر 10 21-04-09 08:30 AM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 12:49 PM
وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا محمدعدنان خبریں 1 03-05-08 02:39 PM
تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام محمدعدنان پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 03-10-07 11:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:28 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger