واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




ایک ڈال کے پنچھی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-06-11, 09:20 PM   #1
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,887
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایک ڈال کے پنچھی

ایک ڈال کے پنچھی

فاطمہ حسین
جون کی چلچلاتی دھوپ میں ہر گوشہ چمک رہا تھا۔لوگ اس شدید گرمی سے بچنے کے لئے ٹھنڈے مشروبات کی دکانوں پر مجمع کی صورت میں جمع تھے۔ لو کے تھپیڑوں سے بچنے کے لئے فٹ پاتھ پر بسیرا کرنے والوں نے بھی وہاں سے ہٹ کر پیڑوں کی ٹھنڈی چھائوں تلے پناہ لے لی تھی لیکن اس جھلسا دینے والی دھوپ میں ایک نوجوان پتھر کے تپتے فٹ پاتھ پرسرجھکائے کہیں سوچوں میں گم آگے بڑھ رہا تھا۔ اس نے اپنی میلی سی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک تہہ کیا کاغذ نکالا اور اسے دیکھ کر زیر لب تلخ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا’’دس بجے انٹرویو سینٹر پر پہنچنا ضروری ہے۔ وقت کی پابندی تو ایسے کراتے ہیں جیسے سروس فوراً مل جائے گی‘‘۔ اس نے جیب میں پھر وہ کاغذ ٹھونس لیا اور سوچنے لگا کہ اسے چل دینا چاہئے۔
’’بھائی صاحب! کیا بجا ہوگا؟‘‘ برابر سے گزرتے ہوئے سائیکل سوار سے اس نے پوچھا۔ ’’پونے دس‘‘اور یہ سوچ کر کہ شاید قسمت کچھ کرشمہ دکھا دے، اس نے رفتار تیز کر دی۔ اس کے دل میں جذبات و خیالات کا ایک طوفان مچل رہا تھا۔ نوکر نوکری، نوکری، کہاں پر وہ نوکری کرے؟ کون اسے نوکری دے سکتا ہے جس کے پاس دو جوڑی کپڑوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں، اسے کون دوروٹیوں کا ذریعہ دے سکتا ہے؟ رہنے کے لئے ایک تنگ کوٹھری اور کھانے کی فکر کے لئے دو جوان بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی۔ کیا اس اثاثے پر اسے کوئی نوکری دے سکتا ہے؟
نوجوان خیالات کے تانے بانے میں الجھا اب بھی فٹ پاتھ پر ہلکے ہلکے قدم بڑھا رہا تھا۔ اب لو بھی چلنے لگی تھی۔ یکا یک گرم ہوا کا ایک جھونکا آیا اور نوجوان کے تصورات کا طائر بڑی تیز پرواز سے ماضی کے آسمان پر اڑنے لگا۔اس نے پانچ سال کی عمر میں تھوڑا ہوش سنبھالا تو ماں کی گود کا لمس ملا۔ ماں کی محنت اور لگن سے کمائی روٹی دیکھی۔ جب وہ تھوڑا بڑا ہوا تو پڑوس میں رہنے والے انٹر کالج کے پرنسپل کے گھر ملازم ہو گیا۔ اس کے ذوق اور اچھے ذہن سے خوش ہو کر پرنسپل صاحب نے اسے پڑھانا شروع کر دیا۔ اس طرح ملازمت کے ذریعہ اسے پیسے مل جاتے اور پرنسپل صاحب کی مدد سے اسے علم مل جاتا۔ اس کی محنت اور لگن اور پرنسپل صاحب کی کوشش نے اسے گریجویٹ بنا دیا لیکن پچھلے سال اس کے ساتھ دو حادثے پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ ہوا کہ اس کی ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور دوسرا یہ کہ پرنسپل صاحب کا تبادلہ دوسرے شہر میں ہو گیا۔
اب کسی سرپرست کا سایہ اس کے سر پر نہ رہا۔ وہ بالکل تنہا رہ گیا۔ بے آس ،بے سہارا۔ دو جوان بہنوں کا بوجھ سینے پر اٹھائے وہ روزگار کی تلاش میں آوارہ بنا پھرتا رہتا۔اپنی خوددار طبیعت کے باعث وہ پہلے ہی رشتہ داروں سے چھوٹ گیا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے ماں کو مرتا، سسکتا دیکھا تھا لیکن اس کی خوددار طبیعت نے یہ برداشت نہیں کیا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ ماں کی دو ا اور علاج کے لئے پیسے مانگے، شاید اس کے مقدر کی ٹھوکروں کی وجہ اس کی خودداری ہی تھی۔
ان سب مصیبتوں کے باوجود اس نے زندگی کی جدوجہد سے ہار نہیں مانی۔ اس نے دو سالوں میں کتنے انٹرویو دئے؟ اسے تو یاد بھی نہیں رہا۔ وہ انٹرویو میں کامیاب بھی ہو جاتا لیکن سروس کے لئے جب ہزاروں روپے نذر کرنے کی ضرورت پیش آتی تو اس کی جیب خالی ہوتی۔ اس وقت اس کا شیرازۂ دل بکھر جاتا۔ کہاں سے وہ ان رشوت خوروں کا منھ بند کرے؟ کیسے اتنے ڈھیر سارے روپیوں کا انتظام کرے؟ اس کے پاس تو دو وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑے ہوئے تھے۔ اس کے خاندان میں بھی کچھ مالدار لوگ تھے جو اس کی معمولی سی مدد کر کے اس کی زندگی میں بہار لا سکتے تھے۔ کئی بار اس کا جی چاہا کہ اپنے قریبی رشتہ دار سیٹھ عاصم سے مدد مانگے لیکن اس کی خوددار طبیعت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ وہ اس کے آگے ہاتھ پھیلائے، اسے بھوکے مرنا پسند تھا لیکن عیش پرست اور مالدار رشتہ داروں کے آگے ہاتھ پھیلانا منظور نہ تھا۔
اس وقت بھی دو جوان بہنوں اور چھوٹے سے بھائی کے کمہلائے ہوئے چہرے اس کی آنکھوں کے سامنے تھے۔تین وقت سے اس کی بہنوں نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ پتہ نہیں پیٹ سے بھوکی بہنوں کے تنوں پر کتنے پڑوسیوں کی مکار نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔وہ انہیں خیالات میں کھویا ہوا جا رہا تھا کہ اس کے کانوں میں آواز آئی۔’’بابو جی۔۔بابو جی! اللہ کے نام پر‘‘۔
اس نے نظر اٹھا کر دیکھا ۔ دو ننھے منے ہاتھ اس کے آگے پھیلے ہوئے تھے۔ وہ قدرت کی اس ستم ظریفی پر سہم کر رک گیا۔ دس سالہ بچہ کوروتا ہوا دیکھ کر اس کے قریب آ گیا۔’’بابو جی! میری ماں بوت’’بہت‘‘ بیمار ہے۔ اللہ کے نام پر کچھ دے دو، وہ تمہیں بوت سادے گا۔‘‘ ’’ماں!‘‘ بے اختیار نوجوان کے ہونٹوں میں سرگوشی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا کرب امڈ آیا۔ وہ یک ٹک لڑکے کو دیکھتا رہا۔ وہ معصوم سا بچہ جو کہ امید کی کرن آنکھوں میں سجائے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑاتھا۔نوجوان کا ہاتھ جیب میں گیا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ کے چند مڑے تڑے ٹکڑوں کے علاوہ کچھ نہ آیا۔ نوجوان کے ہونٹوں پر تلخ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’واہ ری قسمت! ایک کنگال سے یہ لڑکا بھیک مانگ رہا ہے جس کے پاس سوکھے ٹکڑے کھانے کا ذریعہ بھی نہیں۔‘‘ وہ دل ہی دل میں اپنی بے بسی پر کڑھنے لگا۔ وہ لڑکا بڑی تیز نظروں سے اب بھی نوجوان کو دیکھ رہا تھا۔ شاید اسے یقین ہو چکا تھا کہ اس کا سوال پورا ہو جائے گا۔ نوجوان کی طاقت جواب دے چکی تھی۔ اسے ایسا لگا کہ وہ یہیں پر گر جائے گا۔لیکن دوسرے ہی لمحے اس کے ضمیر نے اسے ہمت دی پھر وہ مصنوعی ہنسی کے ساتھ لڑکے سے بولا’’اچھا، تمہارا نام کیاہے؟‘‘ ’’بھولا!‘‘ بچنے نے برجستہ جواب دیا۔ گویا نام سے اسے پیسے مل جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نوجوان نے معصوم بھولا کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا۔’’چلو بھولا! میں خود ہی تمہاری ماں کے پاس چلتا ہوں۔‘‘
بھولا یہ سن کر خوشی سے اچھل پڑا۔’’چلو بابو جی میں لے چلتا ہوں اپنی ماں کے پاس۔‘‘اور وہ نوجوان کے ساتھ ساتھ سڑک کے پاس پگڈنڈی پر چل پڑا۔ بچہ ایک جھونپڑی کے قریب اسے لے گیا۔ اس نے جھونپڑی کے باہر نوجوان کو رکنے کے لئے کہا اور خود اندرجا کر ماں کو آواز دینے لگا۔’’ماں!۔۔۔او ماں! دیکھ بابو جی آئے ہیں۔ یہ تیری دوا جرور(ضرور) لا دیں گے۔‘‘ نوجوان باہر کھڑا بھولا کی آواز سن رہا تھا۔ وہ عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھا۔ ایک طرف اس کے پیٹ کا ذریعہ انٹرویو نکلا جا رہا تھا اور دوسری طر ف ایک معصوم سا بچہ اس کی طرح ماں کے پیار سے محروم ہو رہا تھا۔
ایک بار پھر اس کی ماں کی تصویر اس کی آنکھوں میں ابھر آئی اور وہ کچھ سوچ کر جھونپڑی کے اند رچلا گیا۔ اندر جا کر اس نے بھولا کی ماں کو دیکھا۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔ اس نے روتے ہوئے بھولا کو تسلی دی اور ڈاکٹر کو لینے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نوجوان کے ساتھ جھونپڑی میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر نے بغور بھولا کی ماں کا چیک اپ کیا۔ نوجوان نے محسوس کیا کہ بھولا کی ماں کی طبیعت زیادہ ہی خراب ہے کیونکہ ڈاکٹر کے چہرے پر تشویش کے آثار بڑھتے ہی جا رہے تھے۔
’’بیماری نے بہت سیریس موڑ لے لیا ہے‘‘ ڈاکٹر نے نوجوان کی طرف دیکھ کر بڑی اداسی کے ساتھ کہا۔ معصوم سا بھولا ماں کے سرہانے کھڑا حسرت بھری نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔پھر وہ ڈاکٹر سے بولا’’ماں کی بوت دنوں سے کھانسی میں خون آ رہا ہے۔ ہمارے پاس دوا کے لئے پیسے نہیں تھے اس لئے ماں کی بیماری بڑتی (بڑھتی ) گئی۔‘‘
ڈاکٹر نے اس روتے ہوئے بچے کو دیکھا ۔ اس کا بھی دل کسی انجانے درد سے بھر آیا۔ ڈاکٹر نے مریضہ کے سینے پر پھر آلہ رکھا۔ دل کی دھڑکنیں اب خاموش ہو رہی تھیں۔ ڈاکٹر کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے تھے۔ اب نوجوان آنے والے غم کا اندازہ لگا چکا تھا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ بھولا ڈاکٹر کو بڑی معصومیت سے دیکھ رہا تھا۔
ڈاکٹر صاحب!میری ماں اچھی ہو جائے گی نا؟ ڈاکٹر کے دماغ پر بھولا کایہ جملہ ہتھوڑے کی مانند لگا کیونکہ بھولا کی ماں کی سانسیں اب ہمیشہ کے لئے رک گئی تھیں۔ڈاکٹر نے خالی خالی نظروں سے بھولا اور نوجوان کو دیکھا۔ ڈاکٹر کی آنکھوں سے ٹپکتی یاسیت کو دیکھ کر نوجوان کا سر چکرانے لگا۔ اسے ایسا لگا کہ جیسے وہ گر کر زمین میں سما جائے گا۔ بھولا جس کے ہونٹوں پر پیاس اور بھوک کی وجہ سے پپڑی جمی ہوئی تھی، ڈاکٹر کے فق چہرے کو دیکھ کر اس کے پیروں پر گر پڑا اور بولا۔’’ڈاکٹر صاحب تمہیں میری قسم!ڈاکٹر صاحب میری ماں کو بچا لو۔ میں اکیلا کیسے رہوں گا۔ کیا بابو کی طرح ماں بھی مجھے چھوڑ جائے گی۔ نہیںــ۔۔۔ڈاکٹر تمہیں میری ماں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔‘‘
بھولا کے کمہلائے ہوئے چہرے پہ آنسوئوں کی دھاریں بہی جا رہی تھیں۔ نوجوان سے بھولا کا گڑگڑانا دیکھا نہ گیا۔اس نے اسے سینے سے چمٹا لیا اور وہ بھی سسکنے لگا۔’’رو نہیں بھولا ۔مت رو۔ خدا غریبوں سے تو ماں باپ بھی چھین لیتا ہے۔ تم اکیلے نہیں ہو میں ہوں تمہارے ساتھ۔ تمہاری ہی طرح ماں کی ممتا سے دور دنیا کی ٹھوکریں کھا کر جینے والا۔ آج سے تم میرے بھائی ہو بھولا۔ میرے ہی ساتھ رہنا۔‘‘نوجوان انٹرویو کو بھول چکا تھا۔ وہ تو سوچ رہا تھا کہ آج بے سہاروں کی دنیا میں بھوکے، لاچار اور پیار کے پیاسے ایک وجود کا اور اضافہ ہو گیا۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
سیپ (17-04-12), سحر بٹ (13-06-11)
پرانا 17-04-12, 11:05 PM   #2
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,196
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
اچھا افسانہ ہے
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
سیپ کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (17-04-12)
جواب

Tags
کوشش, کنگال, کالج, پسند, قدم, نظر, ماں, اللہ, تلاش, تصویر, جواب, خون, خوش, خدا, دل, رفتار, زندگی, سال, شہر, علم, علاج, عاصم, عجیب, غم, غریبوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
جیکب آباد : پی ایس 15 سے پی پی پی کے میر حسن کھوسہ کامیاب عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:33 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger