واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




بچھڑے لمحے از رضیہ بٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-02-11, 07:13 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بچھڑے لمحے از رضیہ بٹ

بچھڑے لمحے از رضیہ بٹ

السلام علیکم

ان لمحوں
کے
نام جو آتے ہيں
اور بيت جاتے ہيں
مگر
لوٹ کر کبھي نہيں آتے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-02-11, 07:14 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وقت کا دھارا ازال سے بہتا چلا آرہا ہے اور اس ابد تک بہتا رہے گا، اس کے سنگ سنگ ہي زندگي بہتي چلي جارہي ہے، زندگي اپنے بہائو ميں انسانوں کو ايک زاروں کي طرح بہاتي چلي جاتي ہے، ريگ زار کبھي اپني جگہ سے ہل کر وہيں جم کر ٹک جاتے ہيں، کچھ نئے شامل ہوجاتے ہيں، وہ بھي رکتے ہيں آگے بڑھتے ہيں، پھر ٹہر جاتے ہيں، غرضيکہ زندگي سے چمٹے ريگ زاروں کا سلسلہ ازل سے چل رہا ہے، اور اب تک چلتا رہے گا، انسان ايسا ہي ريت کا ذرہ ہے جو وقت کے دھارے ميں زندگي سے لپٹا ہوا ہے، کبھي زندگي نزديک ہي تہہ ميں بيٹھ جاتي ہے، کبھي دور تک چلا جاتا ہے، يہ نزديکي اور دوري ماہ و سال میں ماپي جاتي ہے، يہي عمر کہلاتي ہے، عمر چند لمحے بھي ہوسکتي ہے، چند ماہ، چند سال اور سالہا سال بھي ہوسکتي ہے، عمرکےہ بھي کئي رخ، کئي زاوئيے اور کئي جہتيںہوتي ہيں،۔۔۔عمر انسان کا وہ عرصہ ہے جو وہ زندگي کے سنگ گزارتا ہے، ہر انسان کا يہ عرصہ ايک جيسا نہيں گزرتا ہے۔۔اس کے رخ زاويے اور جہتيں ہر انسان کيلئے مختلف ہوتي ہيں، اس عرصے کا خاتمہ بھي ہر بندے کيلئے ايک جيسا نہيں ہوتا، کہيں زندگي ايک دم ہي ناطہ توڑ ليتي ہے، کہيں رينگ رينگ کر گزرتے ہوئے جينے والے کو اذيت اور عذاب ميں مبتلا کرديتي ہے، زندگي اپنا وہ سرمايہ جو جيتے جاگتے لوگ انسان کي صورت ميں اٹھائے اٹھائے چلي جاتي ہے، بالآخر موت کے حوالے کرديتي ہے، زندگي جيتي ہي مرنے کيلئے ہے۔
ہر انسان کي زندگي تھوڑي ہو يا زيادہ وقت اپان کردار ادا کرتا ہے، کبھي سہانا بن کر، کبھي ڈرائونا بن کر، نشيب و فراز ميں سے گزرتا ہے، دکھ، خوشي، غم، فکر، انتشار، کا ميابي،ناکامي سبھي کو لپيٹ ميں لے کر چلتا ہے۔

ميں جو کہ وقت کے ساتھ زندگي کے بہائو ميں بہتے ہوئے تقريبا پون صدي گزارچکي ہوں، اب جي چاہتا ہے، کہ پلٹ کر ديکھوں کہ ان بيتے سالوں ميں نے زندگي کے ساتھ يا زندگي نے ميرے ساتھ کيسا نبھا کيا ہے، ياداشت کے جن لمحوں کو ميں چھو سکوں گي انہيں اکھٹا کرنے کي کوشش کروں گي، ميں نے آدھي صدي سے زيادہ قلم کا قلم کا استعمال کيا ہے، اپنے قارئين کيلئے معاشرے کے ہر پہلو پر کچھ نہ کچھ لکھنے کي کوشش کي ہے، اللہ تعالي کا احسان عظيم ہے، کہ لوگوں نے مجھے بڑی محبت دي، بہت کچھ جانے کي کريد اورجستجو بھي فطري بات ہے۔۔۔۔ان کے ماضي کو حال ميں لا کر جاننے کا شوق ہوتا ہے، کم از کم ميري خواہش تو ضرورہوتي ہے، کہ جو انسان مجھے ملا ہے، يا جس سے ميرا غائبانا تعارف ہوا، ميں ان کے بچپن، لڑکپن، جواني اور بڑھاپے کے ہر دور کو اسکرين پر چلنے والي فلم کي طرح ديکھو۔۔۔۔۔ضروري نہيں کہ صرف مشہور شخصيات کے حوالے سے ہي مري يہ خواہش ابھرتي ہے، بعض اوقات تو ميں سڑکے کے کنارے کھڑے کا سہ گدائي پکڑنے انسان کے متعلق بھي جاننے کي متني ہوتي ہوں۔۔۔۔ذہن ميں کئي سوال ابھرتے ہيں۔
کيا يہ شروع ہي سے ايسا ہے؟
اس کا بچپن کيسا ہوگا؟
اس نے زندگي کو کيسا پايا ہوگا؟
يا کبھي خوشياں بھي اس پر مہربان ہوئي ہوں گي؟
خير
يہ تو ميري اپني سوچ اور اپنا تجسس ہے، ہو سکتا ہے کوئي اس انداز سے نہ سوچتا ہو ليکن مجھے يقين ہے ميرے قارئين جو پچاس سال سے زيادہ عرصے سے مجھے پڑھ رہے ہيں ان کے سامنے اگر ميں اپنے چوہتر پچھےت سالوں کے احوال اکھٹے کرکے رکھ دوں تو وہ ضرور بخوشي جو کچھ لکھ رہي ہوں اسے پڑھيں گے۔
پيشتر اس کے کہ ميں اپنے اس دنيا سے متعارف ہونے کے متعلق اور اس کے بعد سالوں پر پھيلے واقعات کا احاطہ کروں، ميں کچھ اپنے خانداني پس منظر کے بارے ميں بھي لکھوں گي۔

ميرا تعلق ايک ممتاز کشمير گھرانے سے ہے، ہمارے آباو اجداد کشمير کے ايک خوبصورت اور جنت نظير گائوں گلبرگ کے رہنے والے تھے، گلبرگ سري نگر کا ايک گائوں تھا، پھولوں اور پھلوں سے لدا ہوا، قلتل کرتے ہوئے صاف و شفاف پہاڑي چشموں سے ترنم پيدا ہوتا تھا، ہريالي کا لبادہ اورڑھے يہ علاقہ اراضي جنت تھا، يہاں خوشبودار سيب اتني بہتات ميں تھے کہ کہا جاتا ہے، ہو سيب پيڑ سے زمين پر از خود گر جاتا اسے کھايا نہيں جاتا تھا، بلکہ گايوں بھينسوں کو ڈال ديا جاتا تھا، سننے ميں يہ بھي آيا ہے کہ گائيں اور بھينسيں اتنے سيب کھاتي تھيں کہ ان کے دودہ سے بھي سيبوں کي خوشبو آتي تھي، واللہ اعلم يہ بات ٹھيک ہے يا نہیں، ليکن يہ سب حقيقت ہے، کہ کشميري سيبوں کي خوشبو ميں کلام نہيں، بچپن ميں مجھے ياد ہے اباجي کشمير گئے تھے اور وہاں سے سيبوں کي پيٹي لائے تھے، ان سيبوں کي خوشبو اور مہک سارے گھر ميں پھيل گئي، وہ خوشبو سے ميرے اندر اب بھي مقيد ہے، سو اگر سيب ہي سيب کھانےوالے گائے دودھ سے سيبوں کي خوشبو آتي تھي، تو يہ بات مغالطہ بھي نہيں ہوسکتي، خير۔۔۔۔۔گلبرگ ميں زعفران بھي پيدا ہوتا ہے، جس کا سونے رنگت مخصوص خوشبو والا قہوہ کشميري لوگ اب بھي بے حد پسند کرتے ہيں، بشرطيہ زعفران کشميري ہو۔
ہماري دادي اماں اور بھي بيشمار خوبياں اس خطہ زمين کي بيان کرتي تھي، اس حيسن خطے ميں بسنے والے بھي حيسن تھے، درا قد بھرے بھرے جسموں اور سرخ و سپيد رنگت والے مرد اور نازک اندام حسين و جميل عورتيں۔۔۔۔۔جن کي سنہري سرخي مائل رنگت ملاحت لئے ہوتي تھي، کچھ خواتين کي رنگت گلابي چائے ايسي ہوتي تھي پاک صاف فضا، پاکيزہ ماحول، قدرت کا لازاوال حسن ميں جب بھي ان سب چيزوں کا تصور کرتي ہوں تو حيراني ہوتي ہوں، کہ ہمارے آباو اجداد نے يہ خطہ بےنظير کتنے دکھ سے چھوڑا ہوگا، اپني سرزمين سے جدا ہونا تو ويسے ہي اذيت کا باعث ہوتا ہے، اس پھولوں ميٹھے چشموں اور زعفراني مہک کے علاقوں سے وہ کيسے جدا ہوئے۔
ہمارے اباو اجدا مدتوں سے کشمير ميں آباد تھے، ہمار سلسلہ نسب جرنيل گلاب سنگھ تينترا سے ملتا ہے، يہ بہت بہادر فوجي تھے اور مہراراجہ کشمير کے دست راست تھے، انہي کي اولاد مشرف ب اسلام ہوئي اور انہيں ميں سے ہمارا خاندان ہے، يہ تينترے بہت جنگجو اور سپہ گيري ماہر تھے، کشميري قوم کے متعلق يونہي مشہور کرديا گيا تھا، کہ يہ بزدل قوم ہے، ليکن جسے قبيلے سے ہمارے بزرگوں کا تعلق تھا۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جمال (18-02-11)
پرانا 17-02-11, 07:16 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وہ بہت بہادر نڈر اور س چشم تھي، چنانچہ يہ خوبياں اب بھي نسل در نسل چلتي ہمارے کرداروں کا حصہ بني ہوئي ہيں۔
لگ بھگ اٹھاوريں صدي کے شروع میں ہمارے آباو اجدا نے نقل مکاني کي، جس وجہ کشمير ميں قحط بتائي جاتي ہے، قحط ميں غالبا فصليں پھل پھول سوکھ گئے ہوں گے او ويراني نے ڈيرہ جماليا ہوگيا،روزگار کي صورت نہ رہي ہوگي، اسي لئے گھر بار ،زمينيں، باغات اور زعفران کے کھيت چھوڑنے پڑے يہ لوگ قافلہ در قافلہ ايک جگہ سے دوسري جگہ ہجرت کي ہوگي، بہادري کے ساتھ جمالياتي حس رکھنے والے يہ خوبصورت لوگ پنجاب کے مختلف علاقوں ميں جاپہنچے تھے۔
ميں جہاں تک خانداني ہسٹري ٹريس کرسکي ہوں،ہمارے جدا امجد جو کشمير سے آئے دو بھائي تھے، ايک کا نام جم جو غالبا پورا نام جمشيد تھا، دوسرے کا ہل تھا، ان کے ساتھ ان کے بال بچے اور چچا زاد ماموں اور ديگر رشتے دار بھي آئے تھے، سب نے سيالکوٹ کا نواحي علاقہ محلہ رنگپور رہنے کيلے پسند کيا، يہ تب بالکل غير آبادي ہوتا تھا، اور ان لوگوں نے سر چھپانے کيلئے چھوٹے چھوٹے کچے گھر بنالئے، تلاش معاش کيلئے تنگ ودو شروع کردي ہوگي، ہاتھ پيرے مارے ہوں گے، اور زندگي سے کشمير سے بالکل مختلف ماحول ميں نبھاہ کرنے کي عادت ڈالي ہوگي، سنا ہے کچھ لوگ پنجاب کي گرمي نہ برداشت کرسکتے تھے اس لئے آہستہ آہستہ واپس جانے لگے، انکا کيا حال ہوا معلوم نہيں۔
ہمارا خاندان حجم کي اولاد سے چلا، جم کا بيٹا الا دتہ اور انکا بيٹا نورلدين تھا،يہ غالبا ہمارے اباجي کے پر داد تھے، ہمارے دادا کا نام کريم بخش تھا اور يہ چار بھائي اور دو بہنيں تھے بھائي رنگپور ہي میں رہے، نہيں ايک تو قصبہ جا مکئے چٹھ ميں بياہي گئي، دوسري بھي کسي قريبي قصبے ميں، انکي اولادوں سے ہمارا ميل جول نہيں ہے، کبھي کبھار کسي کا نام سننے ميں آجاتا ہے، ہمارے دادا کے بھائيوں کي اولاديں سيالکوٹ ہي ميں رہيں، اس لئے وہ سب لوگ آپس ميں لتے جلتے رہتے ہيں، رنگپور میں زيادہ گھر ايسے ہي رشتے داروں کے تھے، جو اب بھي ہيں۔
جم اور گل تينترا کے ساتھ ان کے اور رشتہ داروں نے بھي کشمير چھوڑا تھا، ان ميں سے ايک خاندان ہجرت کرکے چين کي طرف نکل گيا تھا، دوسرا پشاور کي سمت اس نسل میں سے ايک نوجوان نے قندھار ميں بادشاہت بھي قائم کرلي تھي، جو صرف اس کي زندگي تک ہي محدود رہي، پھر بغاوت ہوئي اور انہيں وہاں سےبھاگنا پڑا۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
color, فراز, کبھي, پاک, پسند, واقعات, لوگ, لمحوں, لمحے, نہيں, نام, موت, متعارف, محبت, اللہ, السلام, از, اسلام, بيت, بٹ, بچھڑے, حال, حسن, رضیہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger