واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




بڑا انسان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-02-11, 05:04 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بڑا انسان

بڑا انسان

خلیل بابو نے بینک سے اپنا بیلنس معلوم کیا تو ان کا چہرہ خوشی سے سرخ ہوگیا ۔ بینک میں ان کے اکاﺅنٹ میں اکیس ہزار روپئے جمع تھے ۔ اکیس ہزار روپئے انھوں نے پچھلے سات برسوں میں کس مصیبت سے جمع کےے تھے اس کا اندازہ صرف ان ہی کو تھا ۔ وہ کارپوریشن میں ایک جونئر کلرک تھے ۔ ان کی عمر تقریباً 30برس ہوگی ۔ ان کی تنخواہ ساڑھے تین ہزار روپئے تھی ۔ ایک بیوی دو چھوٹے چھوٹے بچے اور ایک بوڑھی ماں کل پانچ افراد کے خاندان کی کفالت ان کے ذمے تھی ۔ ساڑھے تین ہزار میں بارہ سو روپئے گھر کا کرایہ ہفتے میں تین دن دال تین دن سبزی اور ایک دن گوشت وہ جب کھا نا کھانے دستر خوان پر بےٹھتے تو انھیں ایسا محسوس ہوتا کہ وہ صدیوں سے دال اور سبزی میں رچ بس گئی ہے ۔ یہی حال ان کی بیوی اور بچوں کا تھا ۔ پھر بھی انھوں نے اپنے ساڑھے تین ہزار کے بجٹ کو اس مہارت سے ترتیب دیا تھا کہ انہیں کسی سے قرض لےنے ضرورت نہ پڑتی تھی ۔ البتہ تین ضرورتیں ایسی تھیں جو کسی طرح ان کے بجٹ میں سما نہیں سکتی تھیں ۔ ایک بیماری دوسرے بچوں کی تعلیم تیسرے عےد بقرعےد کا خرچ انہوں نے بچوں کی تعلیم کا حل یہ نکالا کہ انھیں گھر کے قریب ایک مدرسے میں داخل کر دیا جہاں بچوں کو مفت دینی تعلیم دی جاتی تھی ان کا خیال تھا کہ جب وہ روضہ اقدس کے دیدار کی حسرت پوری لرلیں گے تو پھر بچوں کو کسی سرکاری اسکول میں داخل کر ادیں گے انھوں نے سوچا اس وقت تک بچے کچھ عربی سیکھ لیں گے انھیں کچھ دینی معلومات ہوجائے گی پھر ان معلومات اور تعلیم کے ساتھ جب وہ کسی سرکاری اسکول میں پڑھیں گے تو وہ آسانی سے میٹر ک پاس کریں گے ۔ ان کا خیا تھا کہ آج کے دور میں جب بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والوں کو معمولی ملازمت نہیں توملتی بچوں کو زیادہ پڑھانا حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔ بلکہ وہ صرف میٹرک تک کی تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے کیوں کہ ان کے خیال میں میٹرک تک تعلیم کے بغیر انسان نراگدھا رہتا ہے ۔ وہ میٹرک کے بعد اپنے بچوں کو کوئی ہنر سکھا نا چاہتے تھے ۔ تاکہ ان کے بچے زندگی بھر ان کی طرح ساڑھے تین ہزار کے بابوہی نہ بنے رہیں ۔ خلیل بابو کی بیوی ساجدہ بڑی سمجھدار گھریلوں اور شوہر کی وفادار خاتون تھیں ۔ انھیں معلوم تھا کہ ان کے شوہر کی زندگی کی سب سے بڑی آروز روضہ اقدس کی زیارت ہے ۔ خلیل بابوں نہ نمازی تھے نہ پرہیز گاروں میں ان کا شمار ہوتا تھا وہ نماز عموماً بڑی عید اور چھوٹی عید پر ہی پڑھتے تھے لیکن اگر انھیں پتہ چلتا تھا کہ کہیں محفل قوالی ہے تو وہ سارے کام چھوڑ کر قوالی کی محفل میں پہنچ جاتے اور جب قوال روضہ رسول کی زیارت کے حوالے سے کوئی کلام سناتا تو خلیل بابو کے لیے اپنے آپ کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ان پر وجدکی ایسی کیفیت طاری ہوجاتی کہ ساری محفل زیروزیر ہوجاتی اس لیے اب لوگ انھیں عاشق مدینہ کہتے تھے ۔
خلیل بابو رو ضہ رسول کے تصور میں ہر وقت کھوئے رہتے لیکن ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے کبھی پہلو تھی نہیں کرتے تھے ۔ انھیں اس بات کا ہر وقت افسوس رہتا کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنی بوڑھی ماں کو نہ اچھا کھلاسکتے ہیں نہ اچھا پہنا سکتے ہیں لیکن پھر انھیں یہ سوچ کر تسلی ہو جاتی کہ وہ اکیلے ہی اس مصیبت میں مبتلا نہیں بلکہ ہزاروں، لاکھوں خاندان روٹی کپڑے کی جستجو سے باہر نہیں نکل سکے ہیں ۔ بلکہ بے شمار خاندان ایسے بھی ہیں جنھیں دال روٹی بھی نصیب نہیں ۔ اس اطمینان کے باوجود آسمانی سلطانی سے مقابلے کے لیے اور دو بڑی عیدوں پر نئے کپڑے وغیرہ کی خریداری کے کیے الگ محنت کرتے تھے ۔ وہ کھڈی کا کام جانتے تھے ۔ ہر ماہ وہ کسی کھڈی پر چار پانچ نائٹ لگا کر سات آٹھ روپئے سو پےدا کر لیتے تھے اور رمضان میں وہ آدھے رمضان سے زیادہ نائٹ لگا کر اپنے بیوی ماں اور بچوں کے لیے نئے کپڑوں ، جوتوں کا بندو بست کرلیتے تھے ۔ وہ آسمان سلطانی کے لیے ہر ماہ جو سات آٹھ سو روپئے پیدا کر لیتے تھے وہی اکثر ان کی بچت ہوتی کیوں کہ ان کے بچے عام طور پر بیماری وغیرہ سے طاہرہ کی معقول دیکھ بھال کی وجہ سے بچے رہتے تھے ۔ بینک میں جو اکیس ہزار روپئے جمع تھے وہ اسی آسمانی سلطانی سے بچ جانے ولا پیسہ تھا۔
خلیل بابو ہر چار چھ ماہ بعد کسی ٹریول ایجنسی جاکر جدّہ کے ریٹرن ٹکٹ کی قیمت کے بارے میں ©ضرور پتہ کرتے رہتے کیوں کہ انھیں ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا کہ کہیں ایئرلائن والے اپنے کرایوں میں اضافہ نہ کر دیں ۔ جب انھونے پہلی بار عمرے کے لیے بینک میں پانچ سو روپئے جمع کرائے تھے تو اس وقت جدہ کا ریٹرن ٹکٹ اٹھارہ ہزار روپئے کا تھا جو سات سال میں بڑھ کر پچیس ہزار روپئے کا ہو گیا تھا ۔ ہر بجٹ کے موقع پر وہ خدا سے یہی دعا کر تے تھے کہ ایئر لائنوں کے کرایہ میں اضافہ نہ ہو۔ اب جب کہ ریٹرن ٹکٹ کے لیے صرف چار ہزار روپیوں کی کمی رہ گئی تھی تو انھیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ تیزی سے روضہ رسول کے قریب ہوتے جارہے ہیں ۔آفس میں خلیل بابو کے ذمہ ڈیج کا کام تھا ۔ اس کام میں کسی قسم کی اوپر کی آمدنی نہ تھی ۔ ڈیچ کے کو لہو پر وہ تقریباً گیارہ سال سے آنکھوںد پر کا لا چشمہ لگائے گھوم رہے تھے ۔ اسے اتفاق کہئے یا حسن اتفاق کہ نئی سرکار نے کرپشن کو روکنے کے لیے سرکاری محکموں کے کارندوں کا ٹرانسفر ڈپیچ سے بلنگ سیکشن میں کردیا ۔ اس شعبے کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ یہاں چپراسی سے لے کر چیف اکاﺅنٹنٹ تک سب کماتے ہیں بلنگ کے شعبے میں اپنی نئی سیٹ سنبھا لے ہوئے انھیں دوسرا ہفتہ ہورہا تھا ۔ کچھ ٹھیکیداروں کے اشاروں کنایوں میں خلیل بابو کو چھوٹی موٹی پیش کش بھی کی تھیں پھر اس شعبے میں جو چپراسی تھا وہ بڑا گھاگ تھا اس نے خلیل بابو کو سمجھا دیا تاکہ اگر وہ ہوشیاری سے کام کریں تو ہر ماہ ان کی آمدنی میں اچھا اضافہ ہوجائے گا۔
خلیل بابوں آج کل بڑے شش وپنج میں مبتلا تھے ۔ روضہ رسول کی زیارت کی بیقراری ہوائی جہاز کے کرایوں میں اضافے کا خطرہ ۔ پھر چپراسی ولی محمد نے انھیں ایک دن یاد دلایا کہ بابو پچیس ہزار روپیہ تو ریٹرن ٹکٹ ہی پر اٹھ جائے گا وہاں مکہ سے مدینہ جانے رہنے کھانے پینے پر بھی خرچ آئے گا۔ اگر بڑی احتیاط سے بلکہ انتہائی کنجوسی سے بھی خرچ کیا جائے یو پانچ سات ہزار روپئے پاس ہونے چاہئیں ۔ چپراسی ولی محمد نے جس بات کی طرف اشارہ کیا تھا اس پر خلیل بابو نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا تھا ۔ جب سے ولی محمد نے مزید پانچ سات ہزار روپئے کا خرچ بتایا تھا وہ ایک نئی پریشانی میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ بلکہ اس پریشانی نے ان کی راتوں کی نیند حرام کر دی تھی ۔ جب خلیل بابو کی راتوں کی نیند حرام ہوئی تو انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ولی محمد کے مشورہ پر عمل کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں ۔ سو اس طرح انھوں نے کچھ مزید پیسہ جمع کرنا شروع کر دیا ۔ جب بھی کسی ٹھیکیدار کابل ملتا تو ٹھیکیدار دو تین سو روپئے خلیل بابو کی دراز میں ڈال دیتے ۔ جب خلیل بابو نے ایک ماہ کے بعد حساب جوڑا تو مارے خوشی کے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ ایک ماہ میں انہیں ڈھائی ہزار روپئے کی زائد آمدنی ہوئی تھی ۔ یعنی اب ان کے اکاﺅنٹ میں ساڑھے تئیس ہزار روپئے جمع ہو گئے تھے ۔ اب تو انھیں یقین ہو گیا کہ بس دو تین ماہ میں وہ پی آئی اے کی پرواز پر جدہ جارہے ہوں گے ۔
یہ رجب کا مہینہ تھا ۔ رمضان اور رجب کے درمیان صرف شعبان کا ایک مہینہ رہ گیا تھا ۔ ساجدہ نے ایک رات بڑے خوشگوار لمحوں میں اپنے شوہر سے کہا ۔ اب آپ کو جدہ جانے کی تیاری شروع کر دینا چاہیے ۔ ساجدہ نے ساتھ ساتھ ایک فرمائش بھی کر ڈالی کہ سارادن گھر بھائیں بھائیں کرتا ہے یا بس ماں کی کھانسی اور بچوں کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے اگر عمرے سے واپسی پر اور کچھ نہ لاسکوں تو کم از کم ایک ٹیپ ریکارڈ ہی لے آنا کہ گھر کا سونا پن تو کسی طرح ختم ہو ۔ بات معقول تھی سو خلیل بابو نے بیوی سے وعدہ کر لیا کہ عمرے سے واپسی میں ایک ٹیپ ریکارڈ ضرور لائیں گے !
دیکھتے دیکھتے شعبان کا مہینہ گزر گیا ۔ شعبان کی 27کوزکوٰة کی کٹوتی سے بچنے کے لیے جب انھوں نے بینک سے اپنی بچت کا پے آرڈر بنایا تو خوشی سے ان کا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا ۔ ان کے ہاتھ ٹیں انتیس ہزار روپئے کا پے آرڈر تھا ۔ یعنی ریٹرن ٹکٹ کے بعد ان کے پاس اب چار ہزار روپئے فاضل تھے ۔ اس دن وہ رات بھر سوئے نہیں ۔ بس نیند ہی نہیں آئی ۔ دوسرے دن وہ آفس سے سیدھے بندر روڈ پر میمن مسجد گئے جہاں احرام فروخت ہوتے تھے انھوں نے ایک احرام خرید لیا ۔ لٹھے کی دو چادروں پر مشتمل احرام پر ان کے پانچ سو روپئے اُٹھ گئے انھوں نے دل میں سوچا چور بازار کی جڑیں کہاں کہاں پہنچ گئی ہیں ۔
یہ رمضان کی گیارہ تاریخ تھی آفس میں انھیں دیر تک کام کرنا پڑا تھا رات کے تقریباً نو بج رہے تھے آج ایک ٹھیکیدار کا ایک بڑا بل انھوں نے پاس کروایا تھا ۔ ٹھیکیدار کے ہزار روپئے کاکرارہ نوٹ ان کی میز کی دراز میں ڈالا تھا ۔جب وہ رات نو بجے آفس سے اٹھے تو ان کی جیب میں ہزار کا کرارہ نوٹ تھا۔ آج زندگی میں پہلی بار ان کا دل چاہا کہ کسی اچھے ہوٹل میںپیٹ بھر کھانا کھائیں ۔ کیا انہیں کسی اچھے ہوٹل میں سواسو روپئے کا کھانا کھانے کی عیاشی کرنا چاہیے ؟ وہ اسی مسئلہ پر غور کرتے ہوئے پےدل ہی صدر کی طرف چل رہے تھے کہ آرام باغ کے بس اسٹاپ سے تھوڑا سا آگے اچانک کسی نے انھیں آواز دی !
بابو جی .... وہ ٹھٹک کر رک گئے انہوں نے دیکھا ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کالا برقعہ اوڑھے ان کے قریب کھڑی تھی ۔
کیا آپ نے مجھ سے کچھ کہا ۔ خلیل بابو نے لڑکی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
جی ہاں ۔ میں نے آپ ہی کو زحمت دی ہے ۔ لڑکی نے شُستہ اردو میں کہا ۔
فرمائیے ۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ۔
بابو جی اطمنان رکھئے مجھسے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا میں ایک دُکھی لڑکی ہوں اگر آپ کہں تھوڑی دیر بیٹھ جائیں تو میں آپ کو اپنا دُکھ سناﺅں گی ۔ اگر آپکا دل چاہے تو میری مدد کر دینا ورنہ کو ئی جبر نہیں ۔ لڑکی کی خوبصورت آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ خلیل بابو کی حالت عجیب ہورہی تھی وہ فیصلہ نہیں کر پارہے تھے کہ ان کا رویہ کیا ہونا چاہیے ۔ لیکن لڑکی بہت معصوم اور دُکھی لگ رہی تھی ۔ خلیل بابو کو پتہ تھا کہ آج کل شہر میں ہونے والے جرائم چوری ڈکیتی رہزنیوں وغیرہ میں نوجوان اور خوبصورت لڑکیاں بھی شامل ہیں سو وہ عجیب کشمکش میں مبتلا تھے ۔
بابو صاحب .... اطمینان رکھئے میں کوئی دھو کے باز لڑکی نہیں ہوں میں ایک بہت بڑی مصیبت میں پھنسی ہوئی ہوں ۔ میں ایک جہنم میں زبردستی پھینکی گئی ایسی بے گناہ لڑکی ہوں جسے سرسے پاﺅں تک گناہوں میں لت پت کر دیا گیا ہے ۔“
جانے کیوں خلیل بابو کو اس لڑکی کی باتوں میں سچائی کیوں نظر آرہی تھی انہوں نے کہا ۔
”ٹھیک ہے لیکن کہاں بیٹھا جائے ۔؟“
”جی اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو قائد اعظم کی مزپرار چلیں وہاں بڑی خالی لگہ ہے میں اطمینان سے اپنا دُکھ بتا سکتی ہوں ۔“
چلو .... وہ رکشہ میں قائد کے مزار کی طرف چل پڑے ۔
وہ رکشہ میں قائداعظم کے مزار کی طرف چل پڑے ۔
پندرے بیس منٹ کے بعد دونوں جب مزار قائداعظم کے ایک گوشے میں بیٹھ گئے تو لڑکی نے بولنا شروع کیا ۔
میرا نام رضیہ ہے .... میں بھاو لپور کے قریب ایک گاﺅں کی رہنے والی ہوں ۔ میری عمر کوئی 21سال ہے ۔ میرے چار بھائی تھے ۔ بڑے بھائی کا نام بشیر ہے وہ مجھے کو ئی ڈیھر سال بڑا ہے ۔مجھ سے تین بھائی چھوٹے تھے اور ایک بہن ہے ۔ جو مجھ سے تین برس چھوٹی ہے ۔میرا باپ چودھری احمد یار خاں کا مزارع ہے ۔وہ چودھری کے کھیتوں پر کام کرتا ہے ۔میرے دو بھائی جن ک عمریں 7اور 19برس کی تھیں ابھی دو ماہ پہلے کشمیر کے محاذ پر شہےد ہو گئے ۔ وہ ملک کی ایک مشہور مذہبی جماعت کے انتہائی جذباتی کار کن تھے ۔ جب انھیں کشمیر کے محاذ پر جانے کا حکم ملاتو وہ خاموشی سے چلے گئے اور وہاں لڑتے ہوئے خاموشی سے شہید ہوگئے ۔ دو جوان بیٹوں کی موت کے غم کے میرے باپ اور بوڑھی ماں کو زندہ در گور کر دیا ۔ اب وہ دونوں زندہ لاشوں میں بدل گئے ہیں ۔ وہ کسی سے کچھ بولتے نہیں بس خاموش ، کسی کو نے میں پڑے رہتے ہیں ۔ میرے باپ نے مجھ سے بڑی بہن کی شادی کے لیے جو شادی کے صرف دو سال بعد مرگئی چودہری احمد یا سے پندرہ ہزار کا قرض لیا تھا ۔ جواب پچیس ہزار ہوگیا تھا ۔ چوہدری نے پندرہ ہزار روپئے قرض کے عوض ہمارا گھر رہن رکھ لیا تھا ۔ اب اس کا کہنا ہے کہ اگر قرض جلد ادا نہیں کیا جائے گا تو وہ ہمیں گھر سے نکال دے گا ۔ ہمارا گھر بڑا تو نہیں ہے لیکن ہمارے خاندان کی گزر بسر کے لیے کافی ہے ۔ اس کے چھن جانے کا خطرہ سرپر دیکھ کر ہم سب پریشان تھے ۔ میرا بھائی اعجاز ایک اچھا کار پنیٹر ہے ۔ لیکن گاﺅں میں اس کا کام نہیں چلتا ۔ اس نے بھاو لپور جاکر ایک ایجنسی سے بات کی ہے جو اسے سعودی عرب بھیجنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ چالیس ہزار روپئے مانگ رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ چالیس ہزار روپئے وہ سعودی عرب کی اس کمپنی سے قسطوں میں لے لیں گے جہاں اعجازکو ملازمت دلائی جارہی ہے البتہ جدہ کے ٹکٹ کے پیسے وہ نقد مانگتے ہیں ۔ اگر اعجازسعودی عرب چلا گیا تو نہ صرف ہمارا گھر چودہری احمد یار کی دست بُرد سے بچ جائے گا بلکہ ہمارا خاندان بھی معاش مشکلات سے نکل آئے گا۔ میری ایک خالہ کراچی میں رہتی ہے اس کا شوہر یہاں کپڑے کا کاروبار کرتا ہے ۔ میرے بھائی اور بہنوئی نے مجھے کراچی بھیجا کہ کسی طرح خالہ کو راضی کرکے ٹکٹ کے پیسوں کا بندوبست کروں ۔ میں ان پیسوں کے عوض اس وقت تک خالہ کی تحویل میں رہنے کے لیے تیار تھی ۔جب تک اعجاز ادائیگی نہ کردے ۔ لیکن رضیہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ میں بڑی مشکلوں سے ٹکٹ لے کر جب کراچی پہنچی تو رات کے ایک بج رہا تھا ۔ میں کینٹ اسٹیشن پر پریشان کھڑی تھی کہ ایک شخص نے مجھ سے الٹے سیدھے سوال شروع کر دیے ۔ میں پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی اس کے سوالوں کا جواب نہ دے سکی وہ مجھے پولیس اسٹیشن کے گیا ۔ جہاں مجھے ایک گھنٹے تک رکھا گیا اس کے بعد مجھے ایک ٹیکسی میں بٹھا کر ایک بنگلے میں لے جایا گیا ۔ جہاں تین افسروں نے میر عزت لوٹ لی ۔ یہ سارا واقعہ ایک ڈرامے کی طرح پیش آگیا ۔ میں رونے کے علاوہ کچھ نہ کرسکی ۔ ان لوگوں نے تین دن مجھے اپنی قید میں رکھا ۔ میں نے انھیں رو رو کر اپنی داستان سنائی لیکن وہ شراب پی کر قہقہے لگاتے رہے ۔ انھوں نے زبر دستی مجھے بھی شراب پلائی ۔ وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ خلیل بابو حیرت سے اس کی طرف دیکھے جارہے تھے ۔
بابو .... تین دن کے بعد ان درندوں نے مجھے یہ کہہ کر سر شام قائد اعظم کے مزار کے قریب چھوڑ دیا کہ اگر بھائی کے لیے ٹکٹ کے پیسے اکٹھے کرنا ہے تو دوبارہ واپس آجانا ۔ میں اپنی خالہ کے گھر پہنچی اور میں نے انھیں بتایا کہ مجھ پر پپچھلے تین دنوں میں کیا کیا مظالم ہوئے ۔
بابو خالہ اور خالو نے مجھے آوارہ کہہ کر گھر سہ نکال دیا ۔ اب نہ میرے پاس واپس گاﺅں جانے کا کرایہ ہے نہ اپنے بھائی کو سعودی عرب بھیجنے کے لیے پچیس ہزار روپئے ۔ میں گھر سے نکل کر اسٹیشنش جانے کے لیے ادھر سے گزر رہی تھی آپ مجھے ایک مہربان شخص نظر آئے میں نے سوچا آپ کو اپنا دُکھ سناﺅں ۔ مجھے پتہ ہے کہ آج کل کوئی کسی کو دس روپئے نہیں دیتا لیکن میرے لیے اب سوائے اس کے کشوئی دوسرا راستہ نہیں کہ یا تو تھا نے جاکر ان کی مرضی کے مطابق جسم فروشی کروں یا کسی طرح اپنے گانو واپس جاﺅں ۔ لیکن میں اب گانو کیا صورت لے کر واپس جاﺅں گی میں تو برباد ہوگئی ۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ آج رات اپنے آپ کو سمندر کے حوالے کردوں ۔ اپنی جان دینے سے پہلے میں نے سوچا کہ ایک آخری کوشش کرلوں ۔سو میں نے آپ کو آواز دی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپکے مالی حالات کیسے ہیں ۔ اگر آپ میری مدد کرنے کے قابل ہیں تو آپ میری مدد کریں ۔ مجھے اپنے بھائی کو سعودی عرب بھجوانے کے لیے پچیس ہزار روپوں کی ضرورت ہے ۔ میں ضمانت کے طور پر آپ کے گھر اس وقت تک رہنے کے لیے تیار ہوں جب تک کہ آپ کی رقم وصول نہ ہوجائے ۔ رضیہ ایک بار پھر ہچکیاں لے کر رونے لگی ۔ خلیل بابو کے چہرے پر ایک عجیب دھوپ چھاﺅں سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔
رضیہ بی بی ۔ میں نے سات آٹھ سال تک بچت کرکے بڑی مشکلوں سے جدہ ہی جانے کے لیے انتیس ہزار روپئے جمع کیے تھے لیکن آپ نے جو کہانی سنائی ہے اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں جدہ نہیں جاﺅں گا ۔ آپ کا بھائی جدہ جائے گا ۔ آپ ایک دو دن میرے گھر رہیں میں چھٹی لیکر آپ کے ساتھ آپ کے گاﺅں چلوں گا اور آپ کے بھائی کو جدہ کا ٹکٹ دلادونگا ۔ خلیل بابو کی بات سن کر کر رضیہ نے خلیل بابوں کے پیر چھونے کی کوشش کی لیکن خلیل بابو نے جلدی سے پیر کھینچ لیے ۔
آﺅ میرے ساتھ ۔ گھر چلتے ہیں ۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔
دونوں بس پکڑنے کے لیے اسٹاپ کی طرف چلنے لگے !
خلیل بابو چلتے ہوئے سوچ رہے تھے ۔شاید سرکار کو ابھی میرا مدینے آنا پسند نہیں ۔ لیکن احرام کا کیا کیا جائے ؟
خلیل بابو نے سوچا ۔ احرام رضیہ کے بھائی اعجاز کو دے دینا چاہیے ۔ وہ سعودی عرب پہنچنے کے بعد پہلی فرصت میں عمرہ کرے گا ۔ اور روضہ روسول پر حاضری دے کر میرے ٹکٹ کے لیے دعا کرے گا ۔ یہی ان کی شرط ہوگی ۔ اب خلیل بابو کے چہرے پر بڑا اطمینان تھا ۔ انھیں مدینہ جانے کا کوئی افسوس نہ تھا ۔ رضیہ کی مدد کر کے وہ محسوس کر رہے تھے کہ انھوں نے حج اور عمرے سے بڑا کام کیا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا انسان محسوس کر رہے تھے اور وہ اب واقعی ایک بڑے انسان تھے ۔

تحریر: ظہیر اختر بیدری
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, کراچی, پولیس, پسند, قید, قائداعظم, لوگ, لڑکی, لمحوں, نیند, چور, مفت, مکہ, موت, ماں, مسجد, آج, اردو, بچوں, تعلیم, خدا, دعا, رمضان, راستہ, شعبان


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:35 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger