واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




بے چاری لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-04-11, 12:12 AM   #1
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 12
کمائي: 467
شکریہ: 9
12 مراسلہ میں 44 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post بے چاری لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔

بے چاری لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ الرحٰمن الرحیم

اس کے بال بکھر گئے۔۔۔۔۔۔۔

میں فرنٹ آفس میں داخل ہوا۔
“ سر، یہ اسٹوڈینٹ آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ میں نےبتایا کہ کلاس ختم ہونےمیں دو گھنٹے ہیں اور فوری آپ کی دوسری کلاس ہے۔ مگر وہ دوگھنٹے سے بیٹھی ہے“۔ میری سیکرٹری نے کہا۔ “ ٹھیک ہے پانچ منٹ کے بعد اندر بھیج دو۔“ میں نے سیکرٹری کی بات کو نظر انداز کر کے کہا۔ کیونکہ میرے اسٹوڈینٹ ہمیشہ مشورہوں کے لیے بے وقت آتے جاتے ہیں ۔
آفس میں داخل ہوکر میں نے اپنےاسکیجول پرنگاہ ڈالی۔ اگلی کلاس آدھا گھنٹے بعد اسی فلور پر پڑھانا تھی۔ میں نےاندازہ لگایا، دس منٹ کلاس روم تک پہنچنے کے، دس منٹ نوٹس اور لیکچر کے کاغذات کواکٹھے کرنے کے۔ میرے پاس اس لڑکی کے لیےصرف دس منٹ بچتے تھے۔
دروزاہ کھلا اور وہ خاموشی سےآ کر ڈیسک کے قریب کھڑی ہوگئی، وہ چھوٹے قد کی ایک قبول صورت لڑکی تھی ۔جس کے کمر تک کالےلمبے بال ایک ربر بینڈ کی مدد سے پونی ٹیل بنے ہوئے تھے۔
“ بولو“۔
اس نےایک پرچہ میرے سامنے رکھ دیا۔
“ یہ کیا؟۔ تمہارا اسائنمنٹ! تمہیں پتہ ہے کہ میں اسائنمنٹ نہیں دیکھتا۔ اسے اپنےمقررہ ٹیچر اسسیٹنٹ کودے دو “۔
“ نہیں۔ یہ اسائنمنٹ نہیں ہے۔ مجھےآپ سے میرے سوال کا جواب چاہیے۔ مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں؟“ اُسکی آواز میں اضطراب تھا مگر مضبوطی اور سختگی بھی۔
“ ٹھیک ہے ۔ باہر انتظار کرو“۔ میں نے کہا۔
اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔وہ خاموشی سے مڑی اور دروازہ کھول کر کمرے سے باہرنکل گئی۔
میں نےاپنے پڑھانے کے کاغذات جمع کر کے بریف کیس میں رکھےاور آنکھ بند کرکے آرام کرنےلگا۔ جب میں نے آنکھ کھولی توگھڑی کےمطابق اب میرے پاس دس منٹ رہ گئےتھے۔ میں ڈسیک پر رکھے ہوئے پرچے کو بھول چکا تھا۔
دروازہ کی طرف بڑھتے ہوے مجھےخیال آیا کہ وہ لڑکی باہر بیٹھی ہوگی۔ایک سیکنڈ کے لیےمیں نےسوچا کہ بازو کےدروازے سےنکل جاؤں وہ دیکھ نہ پائےگی۔ مگرشرم محسوس ہوئی ۔ میں نے پرچے کواُٹھایا اورصوفے پربیٹھ کر پڑھنا شروع کیا۔
“ میرا نام سدرہ ہے ۔ کچھ عرصہ پہلےمیری ملاقات شبنم سے ہوئی ۔ہم دونوں فوراً دوست بن گے۔ شبنم بہت بےباک ہے اور لڑکے اسے بہت پسند کرتےہیں۔ وہ لڑکوں کےساتھ اکیلی بھی جاتی ہے۔ میں شروع سے ہی اس کےدوستوں سےدور رہی۔ وہ ہمیشہ مجھے اپنےساتھ پارٹیوں میں لےجانا چاہتی تھی۔ میں منع کردیتی تھی۔ ایک دن اس نےمجھےاپنے ایک دوست سےملایا۔ جاوید اسکا نام ہے ۔وہ کالج کے آخری سال میں ہے۔ جاوید سندر ہے۔ اور میں اُسے پسند کرنےلگی۔ تھوڑا عرصہ بعد شبنم کےکہنے پر ہم تینوں باہرملنے لگے۔ شبنم کےساتھ ہمیشہ ایک نیا دوست ہوتا تھا اور میں نےسنا تھا کہ ان لوگوں سے شبنم کا ملاپ دوستی سے کچھ ذیادہ تھا جس کا مجھے بالکل یقین نہیں آیا۔ جاوید مجھ سے ہمیشہ اچھی طرح پیش آتا۔ مجھےایسا لگا کہ وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعدجاوید اور میں نے ا کیلا ملنا شروع کردیا۔ ہم نےایک دوسرے کے بوسےلینے سے ذیادہ کچھ نہیں کیا۔ میں جاوید کی محبت میں گرفتار ہوگی۔
کچھ عرصہ گزرا اور ایک میچ ملانے والی ہمارےگھرآئیں۔ انہوں نےماں کو بتایا کہ ایک عزت دار اور مالدارگھرانا اپنے لڑکے کے لیے ایک قبول صورت ،گھریلو، کم پڑھی لکھی لڑکی کی تلاش میں ہے ۔ تمہاری لڑکی ایسی ہی ہے۔ لڑکا ماشا اللہ خوبصورت ہے اور جلد ہی تعلیم ختم کر کے باپ کے ساتھ بزنس میں شرکت کرے گا۔ ماں نےمجھ سے پوچھا۔ میں نےماں سے کہا میں ابھی شادی نہیں کروں گی۔ میں کالج کی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہوں۔
کچھ دنوں بعد لڑکے کی فیملی مجھے دیکھنے آٰئی اور مجھے پسند کیا۔ اس کے بعد ایک دن وہ لڑکے کولائے تاکہ میں بھی پردے سےاس کودیکھ سکوں۔ میں تو جاوید کی محبت میں گرفتار تھی اوراس سے مل بھی رہی تھی۔ میں نےلڑکے کودیکھنےسےانکار کردیا۔اور ماں سے کہا میں شادی نہیں کروں گی۔ ماں باپ کو لڑکا اورگھرانا پسند آیا اور شادی طے ہوگی۔ میں بہت روئی مگر کوئی چارا نہ تھا۔ میرا گھر سے باہر نکلنا بند ہوگیا۔ میں جاوید سے مل بھی نہ سکی۔ شادی کا دن آیا اور میں دولہن بنی بیٹھی تھی۔ دروازہ کھلا اور میرا شوہر کمرے میں داخل ہوا ۔میں نےگھونگٹ سے دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ کون! یہ توجاوید ہے۔ میرا دل خوشی میں زور زور سےدھک دھک کرنے لگا۔ یا اللہ میں کتنی خوش قسمت ہوں۔ تیری مہربانی ہے۔ میں نےقدموں کے قریب آنے کی آواز سنی ۔ اب میرا دل زور و شور سےڈھڑک رہا تھا۔ مجھےیقین تھا کہ جاوید بھی اس ملاپ پرخوش ہوگا۔ جاوید نےمیرا گھونگٹ اُٹھایا۔ مجھے دیکھ کرجاوید کےچہرے کا رنگ اُڑ گیا ۔ مجھے ایسا لگا جیسےاُسےسانپ نے کاٹ لیا ہو اور وہ غصہ میں چلایا۔“ آوارہ ، طوائف “۔ پھر وہ بھاگتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ میں ساری رات روئی ۔ میں نے کیا غلطی کی ؟۔ میں خراب لڑکی نہیں ہوں۔
دوسرے دن جاوید کےگھر والوں نے مجھےمیرے باپ کےگھر بھیج دیا اورطلاق مانگی۔ تمام کوششوں کے باوجود ہماری طلاق ہو رہی ہے۔ میرے اورجاوید کےخاندان کومیرے آوارہ ہونے پر یقین آگیا ہے۔ میرا اب کوئی نہیں ہے۔ میں کیا کروں؟ پروفیسر میں کیا کروں؟ میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں مجھے یقین ہے کہ آپ کے پاس اس کا جواب ہے۔ اگر آپ کے پاس اسکا جواب نہیں تو میں خود کشی کرلوں گی“۔
میں اُچھل کر کھڑا ہوگیا۔
وہ فرنٹ آفس میں نہیں تھی ۔
“ وہ لڑکی کہاں ہیں؟ میں سیکرٹری پرچلایا۔
“ سر وہ ابھی باہر نکلی ہے۔ آپ اس کو لفٹ میں داخل ہونے سے پہلے پکڑ لیں گے“۔ سکریٹری نے بوکھلا کر کہا۔
“ میری کلاس کنسیل کردو“۔ میں دروازے کی طرف دوڑتے ہوئے کہا۔
لفٹ کےقریب کوئی نہیں تھا۔ سیدھے ہاتھ پردوسری منزل کا بیس فٹ چوڑا کھلا برآمدہ تھا۔میں اس طرف دوڑا۔ وہ برآمدہ کی تین فٹ دیوار پر کھڑی تھی۔
“ ٹھہرو ، میرے پاس حل ہے“ ۔ میں نے پھیپھڑوں کی پوری طاقت استعمال کی اور دیوار کی طرف دوڑا۔ مگر وہ جاچکی تھی۔۔۔
دیوار کے پاس پہنچ کر میں نے نیچے دیکھا۔ وہ منہ کے بل زمیں پرتھی اس کی بانہیں دونوں طرف اُڑتے پرندے کی طرح پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے لمبے بال بکھرگے اور بالوں نےاُسکے اوپری جسم کو ڈھانپ لیا ۔
سامنے کے درخت پر ایک چیل نے چیخ ماری اور محو پرواز ہوئی ۔
“ دیکھومیں تمھارے بغیر بھی اُڑتی ہوں“۔ چیل پھر چلائی۔
میرا دل چیخا ۔ مگرمیری زبان نےساتھ نہ دیا۔
میرے دل رویا۔ مگر میری آنکھوں نےانکار کردیا۔
صرف ہاتھوں نےساتھ دیا وہ فضا میں بلند ہوئےاور میں اپنا سر پکڑ کرفرش پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخوذ از مختصر افسانہ سید تفسیر احمد صاحب
نعمان نیر کلاچوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نعمان نیر کلاچوی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), محمدعدنان (13-04-11), مرزا عامر (13-04-11)
پرانا 13-04-11, 12:17 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,713
شکریہ: 53,107
7,703 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ بھائی!
یہ ایک لاجواب انتخاب ہے۔ ۔ ۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-04-11, 12:21 AM   #3
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,168
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماں باپ کے بے جا لاڈ پیار اور مخلوظ نظام تعلیم کے باعث اس طرح کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں ۔ اور ان کا انجام بھی کم و بیش ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ اور اس میں‌میرے خیال سے زیادہ قصور والدین کا ہوتا ہے جو بچوں کو کالج یا یونیورسٹیوں میں داخلہ دلوا کر ان کی جانب سے بے فکر ہوجاتے ہیں
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ (13-04-11)
پرانا 13-04-11, 09:48 AM   #4
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,488
کمائي: 52,001
شکریہ: 5,848
3,209 مراسلہ میں 6,907 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدعدنان مراسلہ دیکھیں
ماں باپ کے بے جا لاڈ پیار اور مخلوظ نظام تعلیم کے باعث اس طرح کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں ۔ اور ان کا انجام بھی کم و بیش ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ اور اس میں‌میرے خیال سے زیادہ قصور والدین کا ہوتا ہے جو بچوں کو کالج یا یونیورسٹیوں میں داخلہ دلوا کر ان کی جانب سے بے فکر ہوجاتے ہیں
مکمل متفق ہوں میں اس بات سے
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-04-11, 01:27 AM   #5
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,011
کمائي: 99,831
شکریہ: 23,953
4,976 مراسلہ میں 14,684 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب آپ کا کیا خیال ہے کہ والدین یونیورست جانے والے بچے یا بچی کے گلے میں ایک فل ٹائم کیمرا لدائیں کہ پل پل ان کی نظر میں رہیں؟؟
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, کوششوں, کلاس, کمر, کالج, پسند, لڑکی, نظر, مکمل, محبت, اللہ, تلاش, تعلیم, جواب, جلد, حل, دوست, دل, رات, سال, شوہر, عرصہ, عزت, غلطی, غصہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger