واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




تہی داماں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-11-10, 10:29 PM   #1
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,253
کمائي: 62,297
شکریہ: 10,273
3,086 مراسلہ میں 7,424 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default تہی داماں

تہی داماں

وہ اولاد جس کے لیے اُس نے سپنے بُنے تھے آج وہی اُس کے سامنے سینہ سپر ہوگئی تھی۔ تمام روایتوں کو بُھلا کر تمام حدود کو پھلانگ کر آج وہ اُس کے سامنے دیدہ دلیری سے کھڑی تھی۔جنکے بہتر مستقبل کے خواب لے کر اُس نے اپنی پیاری زمیں اپنی پیاری دھرتی کو الوداع کہا تھا۔آج اُسے احساس ندامت نے آن گھیرا تھا اور اُسے محسوس ہورہا تھا کہ اس نے زندگی کی کتنی بڑی غلطی کی ہے جو اپنے بچوں کی طرف توجہ نہیں کی بس یہ سمجھا تھا کہ اچھے اسکول میں پڑھ لیں گے تو اچھے لوگ بن جائیں گے ۔ مگر وہ معاشرے کے اُس زہر کو بھول گیا تھا جو نس نس میں بھرا ہوا تھا جس کا زہر سارے مغربی معاشرے کو دلدل کی طرح نگل رہا تھا جہاں آزادی کے نام پر کھلی کھلی بے حیائی عام تھی جہاں ماں بیٹی اور بہن کا تقدس دن رات پامال ہوتا تھا۔جہاں جنسی تعلقات کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ بچوں کے سن بلوغت کو پہنچتے ہی ماں باپ کو یہ فکر ہوتی تھی کہ اُن کا بیٹا یا بیٹی کسی سے تعلقات بنا پائے ہیں یا نہیں۔ یہ زہر تھا جو اُس کی بیٹی کو نگل گیا تھا اور اب وہ صرف
بیٹھا لکیریں پیٹ رہا تھا۔بس انہی سوچوں میں غرقاب نہ جانے کب وہ نیند کی وادیوں میں پہنچ گیا ۔یہ نینید ہی اُسکے تمام غموں سے اُسکی وقتی نجات کاسبب بنی تھی۔ وقت اسی طرح گُزرتا گیا اور وہ کچھ بھی نہ کر پایا لاکھ کوشش کی بیٹی کو با ر بار سمجھایا منتیں کیں ،واسطے دیے،مگر کچھ بھی تو نہ ہو پایاتین سال کا عرصہ گزر گیا ۔اب تو اس کی بیٹی کئی کئی دن گھر سے باہر رہتی تھی کبھی کبھی تو پور ایک ماہ گزر جاتا ۔اس کے گھر آنے پر اگر وہ پوچھ لیتا تو وہ آگے سے جھڑک دیتی اور دھمکیاں دینا شروع کر دیتی۔ بہر حال اُس نے اب اپنے چھوٹے بچوں پر خصوصی توجہ دینی شروع کردی ۔بیٹے باپ کا ساتھ چاہتے تھے اس لیے جلد ہی سُدھر گئے۔جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود اور اسکے باقی بچے مذہب کے نزدیک ہوتے گئے مگر وہ جو ہاتھ سے نکل گیا تھا اُس پر سوائے کفِ افسوس ملنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ایک دن کافی عرصہ کی غیر حاضری کے بعد اُس کی بیٹی گھر آئی تو اُس کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا بھی تھا ۔آتے ہی اُس نے باپ سے کہا کہ میں نے اور رمیش نے یعنی اس نوجوان لڑکے نے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے اورمیں آج اپنا سامان لینے آئی ہوں کیوں کہ ہم دونوں نے گھر لے لیا ہے اور ہم اکھٹے رہیں گے۔یہ سُنتے ہی اُس کے پاؤں تلے سے زمیں ہی نکل گئی کہ میری بیٹی نے ایک ہندو سے شادی کرلی ہے اک بجلی تھی جو اُس کے سر پر گر گئی تھی۔اک طوفان تھا جو زور و شور سے اس کے اندر جاری تھا۔ مگر ہر طوفان اُسکے اندر تھا ۔تمام بجلیاں اُسکے اندر گر رہی تھیں ۔باہر تو صرف خاموشی تھی یا پھر اُسکی بیوی کی سسکیاں تھیں جو ماحول کو ماتم کدہ بنا رہی تھیں۔اُس نے ہمت جمع کر کے بیٹی سے صرف اتنا ہی کہا کہ بیٹی اگر تمھیں شادی ہی کرنی تھی تو کسی مسلمان سے شادی کرتیں ہندو کے ساتھ شادی کیوں کی۔مگر توقع کے برخلاف اُس کے سر پہ اک اور بجلی گری ۔اُسکی بیٹی بولی آپ لوگ غلط سمجھ رہے ہیں ہم دونوں شادی کے قائل نہیں اس لیے ہم نے شادی نہیں کی اور آیندہ کا بھی کوئی پروگرام نہیں ہے۔بس اتنی سی بات کہ کر وہ ااپنا سامان اٹھا کر رمیش کی بانہوں میں بانہیں ڈالے چلتی بنی اور وہ لُٹے ہوئے مسافر کی طرح زمین بوس ہوتا چلا گیا۔۔۔۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-11-10), منتظمین (09-11-10), شاہ جی 90 (09-11-10), عبداللہ آدم (09-11-10)
پرانا 09-11-10, 09:22 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,600
شکریہ: 9,805
7,523 مراسلہ میں 22,593 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (12-11-10), شاہ جی 90 (09-11-10)
پرانا 09-11-10, 04:57 PM   #3
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,039
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت پیارا افسانہ ہے
اللہ اس تحریر کا جوبن قائم و دائم رکھے
یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے
ممکن ہے یہ بات آج آپ کو ناوقت لگے لیکن آنے والا وقت ہمارے لیئے بھی کچھ ایسی ہی خبر لا رہا ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی (12-11-10)
جواب

Tags
ہندو, کوشش, کرنی, گھر, وقتی, لوگ, نیند, نام, ماں, مسلمان, بیوی, بے, بچوں, توجہ, جلد, حال, خصوصی, رات, زندگی, سال, شور, شادی, شروع, عرصہ, غلطی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:40 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger