|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنا افسانہ آپ سب کی نظر میرے اس افسانے کی جو تعریف محترمہ انجم انصار جو اس وقت پاکیزہ کی مدیرہ اور چاندنی ناول اور بہت سی کتابوں کی مالک ہیں ۔ میرے لیے ان کے الفاظ کسی سند سے کم نہیں ۔امید ہے آپ لوگوں کو بھی اچھا لگے گا
تیری ھی بازگشت ھوں میں! تانیہ رحمان۔لندن تم ھر روز یہاں کیوں بیٹھے ر ہتے ھو ، میں تم کو ھر روز دیکھتی ھوں۔تم بھوکے پیاسے کہی کہی گھنٹے بیٹھے کچھ سوچ رہتے ھو ، ھر روز صبح سویرے اس پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر۔میں کب سے تم کو دیکھ رھی ھوں۔تم کون ھو اور کہاں سے آئی ھو۔ اس نے مجھ پر الٹا سوال کر دیا۔ میں تو خود بھی نہیں جانتی میں کون ھوں۔ لیکن میں بہت دور سے آئی ھوں۔ کتنی دور سے۔ کیا تم کوئی پری ھو یا کوئی جادوگرنی یا پھر کوئی حور یا پھر کوئی جادوگر ۔اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ھو تو کہتے ھیں کہ انسانوں سے ذیادہ طاقت تم میں ھوتی ھے۔ کیا تمھاری وجہ سے میرے گاوں میں امن ھو سکتا ھے۔ کوئی ایسا جادو کر دو یہاں ھر طرف خوشحالی ھو ۔ ھر ماں ھر بیٹی خوش ھو ۔کیا کچھ ایسا ھو سکتا ھے۔ ۔ اس نے پھر مجھ سے سوال کیا۔ نہیں نہیں میں ان میں کچھ بھی نہیں ھوں۔کمال ھے۔تم کو کچھ نہیں پتہ تم کون ھو کہاں سے آئی ھو۔ اچھا مجھے چھوڑو تم اپنے بارے میں مجھے بتاو۔تم کچھ نہیں جانتی اپنے بارے میں عجیب بات ھے۔ لیکن میں سب کچھ جانتا ھوں اپنے بارے میں۔ وہ دور نیچے میرا گھر ھے۔ اس نے اپنی شہادت کی انگلی سے بتایا لیکن وھاں تو بہت سے گھر ھیں۔ میں نے کہا ، ھاں ھیں۔تو وہ معصومیت سے اپنی آنکھوں کو مسل رھا تھا۔ کیا تم رو رھے ھو؟۔ میں نے پوچھا۔ نہیں میں مرد ھوں۔ مرد کب روتے ھیں۔روتی تو لڑکیاں ھیں۔ اور ھاں میں بزدل بھی نہیں ھوں۔اچھا یہ بتاو تم اسکول کیوں نہیں جاتے۔ کیا تم کو پڑھنے کا کوئی شوق نہیں ھے۔ میں جاتا تھا۔ اور پڑھنے کا بھی بہت شوق ھے۔ میں ڈاکڑ بنانا چاہتاتھا۔میرے بابا اور ماں بھی یہی چاہتی تھیں۔لیکن اس پہاڑ پر بیٹھے بیٹھے تم ڈاکڑ کیسے بنوگے اس کے لیے تو بہت پڑھنا پڑتا ھے۔اور تم تو اسکول بھی نہیں جاتے۔ سارا سارا دن یہاں بےکار بیٹھے رہتے ھو۔ھاں ھاں جانتا ھوں وہ یکدم غصے میں ھو گیا۔جاو میرا سر نا کھاو۔ ارے تم تو خفا ھوگے ھو۔ چلو میں اب کچھ نہیں پوچھوں گی۔ تم خود ھی اپنے بارے میں بتانا۔ او صلح کرتے ھیں چلو جلدی سے ھاتھ ملو شاباش۔ میں اب ڈاکڑ نہیں بنوگا فوجی بنوگا۔فوج میں جاوں گا۔تم نےمجھ سے پوچھا تھا۔ کہ میں اس پہاڑ کی چوٹی پر کیوں بیٹھا رھتا ھوں۔ اور کیا سوچتا رھتا ھوں۔مجھے اپنے گھر سے ڈر لگتا ھے۔ مجھے اندھیرے سے اور رات کی تاریکی سے خوف آتا ھے۔میں ھر رات صبح ھونے کا بےچینی سے اور بے صبری سے انتظار کرتا ھوں۔ مجھے اپنوں سے نفرت ھے۔ مجھے ھر اس شخص سے نفرت ھے۔جس کا چہرہ رات کی تاریکی جیسا کالا سیاہ ھے ۔مجھے ھر اس لمحے سے ڈر اور خوف آتا ھے ، جس نے میرے گاوں میرے شہر جو میری پر امن اور خوبصورت وادی۔ وادیِ سوات جو اپنی مشال اپ تھا، اور جس کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ اور جب ھمارے ماسٹر جی روز ھم کو کوئی نا کوئی بات وادیِ سوات کے حوالے سے بتاتے تو مجھے بہت اچھا لگتا۔کیوں کے میں یہاں پیدا ھوا تھا۔۔ اور جہاں انسان پیدا ھوتا ھے اس جگہ سے محبت تو ھوتی ھے نا۔ میرے بہن بھائی میرے دوست میرے سب اپنے یہاں تھے۔میرے ماسٹر جی کہا کرتے تھے میں اپنی کلاس میں سب سے لالق شاگرد ھوں۔ اور مجھے ڈاکڑ بنا چاہیے اور اپنے گاوں والوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ ماسٹر جی یہ بھی کہتے تھے کہ غریبوں کا علاج مفت کرنا ان سے پیسے مت لینا۔ کپیسے نہیں ھوتے۔ تو علاج کے پیسے کہاں سے وہ دیں گے۔میں جانتا ھوں ماسٹر صاحب میں بڑی خوشدلی سے کہتا۔ شاباش میرے بچے اور پھر ایک دن ماسٹر جی اسکول آتے ھوئے فوجیوں کے گولوں کی نظر ھو گیے۔میرے پیارے ماسٹر جی شہید ھو گے۔کیا قصور تھا۔ ان کا بس یہی کہ وہ ھم کو اچھی باتیں بتاتے تھے۔گاوں والوں کی خدمت اور غریبوں کا مفت علاج کرنا سیکھاتے تھے۔میرا اسکول بند ھو گیا۔ میں کیسے ڈاکڑ بنوگا، اب تو ماسٹر جی بھی نہیں ھیں۔اب تو ھر گلی محلے سے بس توپ کے گولوں کی اور راکٹ لانچز کی آوازیں آتی ہیں۔لوگوں کے گھروں میں روز ماتم ھوتے ھیں۔ کب کس طرف سے کوئی گولہ آجائے کچھ پتا نہیں۔آج ھم اپنوں کے ھاتھوں مر رھے ھیں۔کہیں تو قبلیوں کی جنگ تو کہیں اسلام کے نام پر جھوٹا قتل۔ راستے چلتے لوگوں کو بموں سے اڑایا جا رھا ھے۔انسانی جسموں کے ٹکڑوں کو جمح کر کے دفنایا جا رھا ھے۔ اگر یہ اسلام کو بچانے کے لیے جہاد کیا جاتا تو، ھم سب اپنی جانوں کا نزرانہ دیتے۔اللہ اور اس کے رسول کے لیے یہ جنگ جو کے ھمارے اپنوں کی ھے۔ھم اپنوں ھی کے ھاتھوں مر رھے ھیں، میں بھی فوجی بنا چاہتا ھوں۔ اس لیے نہیں کہ مجھے اچھا لگتا ھے بلکہ اس لیے کہ مجھے نفرت ھے ۔ میں ان سب غریبوں کو مارنا چاہتا ھوں ، جن کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ھوتی میں ھر اس گھر کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ھوں۔جہاں لوگ پہلے سے مرے ھوئے ھیں۔ان کی زندہ لاشوں کی کسی کو کوئی ضرورت نہیں۔وہ ھمارے ملک پر بوجھ ھیں۔ان کا قصور یہ ھے کہ وہ غریب ھیں۔اور غریبوں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔میں اپنے راستے میں ھر آنے والے کو ختم کروں گا۔مجھے نفرت ھے۔ ان حکمرانوں سے جن کی وجہ سے میرے گاو¿ں اور پاکستان کی یہ حالت ھوئی۔ مجھے نفرت ھے۔ان علماَئ سے جن کی وجہ سے آج ھمارا ملک اس حال کو پہنچا۔جنہوں نے ایک درسرے کے دل میں محبت کی جگہ نفرت ڈالی۔ مسلمانوں کو ایک کرنے کی بجائے تفرقے میں ڈالا۔اپنے ذاتی مفاد کے لیے۔ غلط باتیں پھلا کر میں وہ دن یاد کرتا ھوں۔ جب میرے بابا جی عشائ پڑھ کر گھر نہیں لوٹے تھے ھم بہن بھائی (بیببے) اپنے ماں کے پاس بیٹھےانتظار کر رھے تھے۔اللہ خیر کرے آج تمھارے بابا نے دیر کر دی۔ گاوں کے حالات ویسے اتنے خراب ھیں۔کہ زور زور سے دروازے پر دستک ھوئی۔اور چند آدمی بابا کی لاش کو کندھے پر اٹھا کر گھر میں داخل ھوئے۔فوجیوں کا گولا لگنے سے بابا ھم سب کو چھوڑ کر چلے گے۔ان کے جسم اور چہرے پر جگہ جگہ سے گوشت کے ٹکڑے اترے ھوئے تھے۔اور جو ان کو اٹھا کر لاے تھے وہ خون میں لت پت تھے۔تب ماں نے بابا کی لاش پر ماتم کرتے ھوئے کہا تھا۔کہ مت رو تم مرد ھو اور مرد رویا نہیں کرتے۔ تم نے سب سے اپنے گاوں اپنے ماسٹر جی اور اپنے بابا کا بدلہ لینا ھے۔میں نے جلدی سے اپنے دامن سے اپنی انکھوں کو صاف کیا،اور اس دن اپنے بابا کی لاش پر اپنےآپ سے وعدہ کیا تھا۔ کہ مجھے فوجی بنا ھے،یہ وہ فوجی نہیں جو اپنے ملک اپنے وطن کی حفاظت کرتے ھیں۔جن کا کام اپنے وطن کو دشمنوں سے بچانا ھوتا ھے۔ یہ اپنے ھی وطن کے دشمن۔ظالم بن کر ھر ایک کو ختم کرنا ھے۔ حکمرانون کو ّعلمائ کو وزیروں کو۔ پھر کوئی اپنا یا پرایا نہیں سوچتا۔ بس نفرت تو سب کے لیے ھوتی اپنے ھی دکھاتے ھیں۔مجھے بھی تو یہاں اپنوں نے ہی پہنچایا۔ کبھی طالبان ھماری ماں بہنوں کی عزت پر نظر رکھے ھوئے ھیں ۔ تو کبھی امریکہ کے لوگ ۔کیا آ ج حکمران سو رہئے ھیں ۔ تو پھر ھم خود اپنی ھر ذیادتی کا بدلہ لیں گیے ۔ چاہئے ھمارے راستے میں فوجی آیا یا ملاں یا پھر امریکہ جو کے طاقت میں سو گنا ھم سے ذیادہ ھے۔ لیکن اندر ھی اندر وہ ھم سے خوفزادہ بھی ھے۔میں بتاوں گا ۔ ماں بہن کی عزت کی رکھوالی کیسے کی جاتی ھے۔ملک کو دشمن سے کیسے بچایا جاتا ھے۔ ماسٹر جی کہا کرتے تھے۔ سب سے نیک لوگ مولانا یا علمائ ھوتے ھیں کیا اسی کو نیکی کہتے ھیں۔ جو معصوم بچوں کو چند پیسوں کا لالچ دے کر ان کی زندگیوں کو داو پر لگا رھے ھیں۔خودکش حملوں میں ان کی جوانی کو جو ابھی کلی سے پھول بنے کا سفر بھی نا طے کر سکی ۔ ان کو پاوں میں مسل دیاگیا۔کیا ان ماوں بہنوں کو ان کے جوان بیٹے اور بھائی واپس دالا سکتی ھو۔ پھر میرے جیسے کتنے بچے یتیم ھو گے۔ ان کا مستقبل تباہ وبرباد ھو گیا۔ وہ دن کیسے بھول جاوں ۔ جب داجی کو مرے ہوئے کچھ عرصہ ہوا تھا ۔ ایک رات میں باجی ، زرمینہ ، اور چھوٹا سو رہئے تھے ۔ کہ باہر کسی کی آواز یں آنے لگی ۔ ماں کو شک ہوا تو جلدی سے پاس پڑی میز کو دروازے کے ساتھ لگا دیا ۔ اپنے اپنے آپ کو باور یا تسلی دینے کے لیے کہ اب کوئی اندر نہیں آ سکتا ۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا اور ۳ نقاب پوش ہاتھوں میں کلاشنکوف لیے داخل ہوئے ، زرمینہ اور چھوٹا ڈر کے مارے رونے لگے ۔ ان میں سے ایک باجی کی طرف بڑھا میں نے چارپائی سے چھلانگ لگا کر اس کو روکنا چاہا ۔ لیکن مجھے اتنی زور سے دھکا دیا گیا ۔ کہ اگلے دن جب انکھ کھلی تو صحن میں لوگوں کو جمع پایا ۔بان کی چارپائی پر سفید کفن میں باجی جنت کی حور لگ رہی تھی ۔ ماں چاپائی کے پاس بیٹھی ایک ٹک باجی کو دیکھ رہی تھی۔ میں تیزی سے نکلا ، باجی پر ایک نظر ڈال کر گھر سے نکل گیا ۔ ماں کے الفاظ بار بار کانوں میں گونج رہئے تھے کہ تم مرد ہو مرد روتے نہیں ۔ باجی کی موت پر بھی آنسو خشک تھے ۔ بے مقصد سارا دن گھومتا رہا ۔شام کے وقت بھوک اور ٹھکاوٹ نے پورے بدن کو درد کی لپیٹ میںے رکھا تھا ۔ گھر آیا چاروں طرف خاموشی ۔ کمرے میں داخل ہوا ماں کے پاس ھی زرمینہ اور بھائی بیٹھے ہوئے تھے۔ ماں نے ایک نظر مجھے دیکھا ۔ اور زور زور سے چلانے لگیں ۔ کاش تم جوان ہوتے ۔ میں اپنے آپ کو یوں مجبور اور لاچار نا سمجھتی ۔ آج ظالموں سے اپنی معذور بہن کی عزت کی حفاظت تو کرتے ۔ جو ڈور بھی نہیں سکتی تھی ۔ ٹانگ سے معذور ، پہلے ظالموں نے عزت لوٹی اور پھر گولیوں سے اس کو ابدی نیند سلا دیا۔ چلو یہ بھی ان کی مہربانی ورنہ میں اس زندہ لاش کو کہاں کہاں چھپاتی ۔ عزت جانے کے بعد کس نے اس سے شادی کرنی تھی ۔ بے رحم دنیا کے لیے ھمیں چھوڑ گیی ۔ کاش ھم کو بھی ظالم مار دیتے ۔ میری برداشت جواب دے چکی تھی۔ میرے اندر آگ لگی تھی ۔ میرا دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا۔ میں جو اپنے آپ کو مرد اور بہادر سمجھتا تھا میری بھول تھی ۔ تب میں بھی خوب رویا یہ بھول کے کہ مرد ہوں اور مرد تو رویا نہیں کرتے ۔ اور پھر یہ نا ختم ھونے والا سلسلہ جس کا ابھی تک کوئی حل نہیں مل سکا ۔ لوگ اپنے بچوں بوڑھے ماں باپ اور اپنے گھر سے روزی روٹی کے لیے نکلتے ھیں ۔ اور راستے میں بم سے اڑا دیا جاتا ھے ،ھے۔نفرت کو دل و دماغ کا راستہ بھی تو¤وں کے ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے اپنے ھی دکھاتے ھیں۔مجھے بھی تو یہاں اپنوں نے ہی پہنچایا۔ کبھی طالبان ھماری ماں بہنوں کی عزت پر نظر رکھے ھوئے ھیں ۔ تو کبھی امریکہ کے لوگ ۔کیا آ ج حکمران سو رہئے ھیں ۔ تو پھر ھم خود اپنی ھر ذیادتی کا بدلہ لیں گیے ۔ چاہئے ھمارے راستے میں فوجی آیا یا ملاں یا پھر امریکہ جو کے طاقت میں سو گنا ھم سے ذیادہ ھے۔ لیکن اندر ھی اندر وہ ھم سے خوفزادہ بھی ھے۔میں بتاوں گا ۔ ماں بہن کی عزت کی رکھوالی کیسے کی جاتی ھے۔ملک کو دشمن سے کیسے بچایا جاتا ھے۔ ماسٹر جی کہا کرتے تھے۔ سب سے نیک لوگ مولانا یا علمائ ھوتے ھیں کیا اسی کو نیکی کہتے ھیں۔ جو معصوم بچوں کو چند پیسوں کا لالچ دے کر ان کی زندگیوں کو داو پر لگا رھے ھیں۔خودکش حملوں میں ان کی جوانی کو جو ابھی کلی سے پھول بنے کا سفر بھی نا طے کر سکی ۔ ان کو پاوں میں مسل دیاگیا۔کیا ان ماوں بہنوں کو ان کے جوان بیٹے اور بھائی واپس دالا سکتی ھو۔ پھر میرے جیسے کتنے بچے یتیم ھو گے۔ ان کا مستقبل تباہ وبرباد ھو گیا۔ وہ دن کیسے بھول جاوں ۔ جب داجی کو مرے ہوئے کچھ عرصہ ہوا تھا ۔ ایک رات میں باجی ، زرمینہ ، اور چھوٹا سو رہئے تھے ۔ کہ باہر کسی کی آواز یں آنے لگی ۔ ماں کو شک ہوا تو جلدی سے پاس پڑی میز کو دروازے کے ساتھ لگا دیا ۔ اپنے اپنے آپ کو باور یا تسلی دینے کے لیے کہ اب کوئی اندر نہیں آ سکتا ۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا اور ۳ نقاب پوش ہاتھوں میں کلاشنکوف لیے داخل ہوئے ، زرمینہ اور چھوٹا ڈر کے مارے رونے لگے ۔ ان میں سے ایک باجی کی طرف بڑھا میں نے چارپائی سے چھلانگ لگا کر اس کو روکنا چاہا ۔ لیکن مجھے اتنی زور سے دھکا دیا گیا ۔ کہ اگلے دن جب انکھ کھلی تو صحن میں لوگوں کو جمع پایا ۔بان کی چارپائی پر سفید کفن میں باجی جنت کی حور لگ رہی تھی ۔ ماں چاپائی کے پاس بیٹھی ایک ٹک باجی کو دیکھ رہی تھی۔ میں تیزی سے نکلا ، باجی پر ایک نظر ڈال کر گھر سے نکل گیا ۔ ماں کے الفاظ بار بار کانوں میں گونج رہئے تھے کہ تم مرد ہو مرد روتے نہیں ۔ باجی کی موت پر بھی آنسو خشک تھے ۔ بے مقصد سارا دن گھومتا رہا ۔شام کے وقت بھوک اور ٹھکاوٹ نے پورے بدن کو درد کی لپیٹ میںے رکھا تھا ۔ گھر آیا چاروں طرف خاموشی ۔ کمرے میں داخل ہوا ماں کے پاس ھی زرمینہ اور بھائی بیٹھے ہوئے تھے۔ ماں نے ایک نظر مجھے دیکھا ۔ اور زور زور سے چلانے لگیں ۔ کاش تم جوان ہوتے ۔ میں اپنے آپ کو یوں مجبور اور لاچار نا سمجھتی ۔ آج ظالموں سے اپنی معذور بہن کی عزت کی حفاظت تو کرتے ۔ جو ڈور بھی نہیں سکتی تھی ۔ ٹانگ سے معذور ، پہلے ظالموں نے عزت لوٹی اور پھر گولیوں سے اس کو ابدی نیند سلا دیا۔ چلو یہ بھی ان کی مہربانی ورنہ میں اس زندہ لاش کو کہاں کہاں چھپاتی ۔ عزت جانے کے بعد کس نے اس سے شادی کرنی تھی ۔ بے رحم دنیا کے لیے ھمیں چھوڑ گیی ۔ کاش ھم کو بھی ظالم مار دیتے ۔ میری برداشت جواب دے چکی تھی۔ میرے اندر آگ لگی تھی ۔ میرا دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا۔ میں جو اپنے آپ کو مرد اور بہادر سمجھتا تھا میری بھول تھی ۔ تب میں بھی خوب رویا یہ بھول کے کہ مرد ہوں اور مرد تو رویا نہیں کرتے ۔ اور پھر یہ نا ختم ھونے والا سلسلہ جس کا ابھی تک کوئی حل نہیں مل سکا ۔ لوگ اپنے بچوں بوڑھے ماں باپ اور اپنے گھر سے روزی روٹی کے لیے نکلتے ھیں ۔اور راستے میں بم سے اڑا دیا جاتا ھے ، اور ابھی اور ابھی ان کا نمازِ جنازہ پڑھا بھی نہیں گیا ہوتا ۔ اور تدفین بھی نہیں ھونے پائی تھی ۔ کہ ایک اور دھماکے میں اسی گھر کا بیٹاچند گھنٹوں کے وقفے سے شہید کر دیا گیا جاتا ہے ۔ کب تک یہ ظلم ہو گا کب تک بچے یتیم ہوں گے کب تک ماہیں اپنے بچوں کی لاشوں پر یوں آنسو بہاتی رہیں گی ۔ کب تک بہینوں کے انچل یوں تار تار ہوں گیے کب تک بوڑھے کندھے اپنے جانوں کے لاشیے اٹھایں گے آج ھم ایک بار پھر کربلا کے میدان میں کھڑے ھیں میدان کی خاک نے ھم سے ھمارا بچپن ھماری جوانی ھمارا مستقبل سب کچھ چھین لیا ۔ ٓٓنسو بہاتی ر کہتے ھیں یہ اپنے نہیں دشمن کی سازش ھے، کیونکہ اپنے جنازے پر حملہ نہیں کر سکتے۔ کیا ایک مسلمان انسانی اور جنازہ تک کی پرواہ نہیں کرتا۔ مسلمان اتنے ظالم نہیں ھو سکتے ۔ چلو مان لیتے ھیں۔ یہ دشمن کی سازش ھے۔ اور اگر دشمن ھے تو حکمراں کہاں مرے ھیں۔ کہ ملک میں دشمن چھپا بیٹھا ھے۔ اور یہ اقتدار کی جنگ لڑ رھے ھیں۔ ان کو اپنی کرسی کی فکر ھے لیکن انسانی جان کی کوئی پرواہ نہیں۔یہ سب دشمن ھیں۔آج ان کے ھا تھوں بہن اور ماں کے سر کی چادر اپنوں ہی کے لیے کفن بن گی ھے۔ اب بولو چپ کیوں ھو گیی ھو۔ کوئی جواب ھے تھمارے پاس۔میں خاموشی کے ساتھ وھاں سے نکل آئی کیا جواب دیتی اس 14 سال کے بچے کے سوالوں کا۔ جو حرف با حرف درست تھے۔ جو اپنے اندر نفرت کا زہر لیے ھوئے اپنی وادی میں بیٹھاسوچ رھا تھا۔ اس کی نفرت بجا تھی۔ میں شرمندگی کی وجہ سے اس کو یہ بھی نا بتا سکی۔کہ میں تو اسی کی بازگشت تھی۔ جو اندھیر ہ بھی ھے۔ اجالا بھی ھے۔ تاریکی اور پرچھائی بھی ھر انسان کے اندر کی آواز۔ ھر بچے کا ماضی ، آج اور آنے والا کل ، اس کی اپنی ہی بازگشت اگرسوچو اور سمجھو تو نا ھو کر بھی بہت کچھ ھوں میں ۔یہاں مرد اور عورت لڑکی لڑکے جوان بوڑھے ھر ایک کی اندر کی بازگشت بس سننے والے کان اور سمجھنے والا دل چاہئے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب ستارہ جی کیا بات ہے ۔ آپ سب کیوں پرشیان ہو گے کیا میں خود کی تعریف نہیں کر سکتی
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,600
شکریہ: 9,805
7,523 مراسلہ میں 22,593 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سر ورق کے لیے اپلائی کریں۔ میں نے کہیں اور بھی یہ پڑھا تھا۔ شائد اپکے بلاگ پر؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اف خدایا مین کہاں جاوں مجھے نہیں پتہ کیسے اپلائے کیا جاتا ہے خود کرو یہ یہاں سے اٹھا کر سروق پر لگا دو۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,196
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کاتہ
میں نے بھی یہ آپ کے بلاگ پر پڑھا ہے بہت اچھا لکھا ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ ثوبیہ کیسی ہو چندہ کہاں تھی
|
|
|
|
| تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (22-04-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
بہت ہی اچھی تحریر لکھی ہے آپ نے انتہائی شاندار ہے مگر گستاخی معاف املاء کی چند ایک مقام پر غلطیاں ان پر رحم کریں
اور نہایت اچھی تحریر پر آپ مبارکباد کی مستحق ہیں |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,498
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب لکھا ہے آپ نے ! ہماری آنیوالی نسلوں کو تباہ کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہمیں نعوذباللہ جڑ سمیت اُکھاڑ کر پھینک دیا جائے ! ایسا ایک بار ہمارے دشمنوں نے پہلے بھی کیا تھا ہماری نسل کو علم کی مار ماری تھی جس تباہ کاری کو سرسید احمد خان نے آکر نہ صرف روکا بلکہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوئے اور دشمن اپنی کوشش میں ناکام ہوگیا ،اس وقت بھی وہ ہمیں معاشی طور پر تباہ کرنا چاہتا تھا اور آج بھی وہ ہماری نسلوں کو دہشتگردی کی آڑ میں نست و نابود کردینا چاہتا ہے !
آج بھی شائد ہمیں کسی سرسید کی ضرورت ہے مگر وہ ہمت اور وہ جذبہ جانے کب معرضٍ وجود میں آئے ؟ آج ؟ کل ؟ پرسوں ؟ یا کبھی نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,534
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لئیے میں آپ کے بحاف پر اپلائی کر دیتا ہوں مگر میں نے ابھی یہ تحریر نہی پڑھی
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (26-04-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,534
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | چیتا چالباز (23-04-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو کیا پیسوں کا شور مچاوں، اصل میں شور کے بعد پتہ چلا کہ کیسے اپلائی کیا جاتا ہے۔بہت شکریہ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (26-04-09), ام غزل (24-04-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر تو یہ تعریف ہے تو بہت شکریہ ۔ میں نے صرف اس افسانے کو سامنے لانے کے لیے لکھا تھا سرید مسعود جی
|
|
|
|
| تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا گیا | ام غزل (27-04-09) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, کربلا, پھول, پیارے, پاکستان, لوٹے, نفرت, نیند, نظر, مفت, موت, ماں, محبت, آدمی, اللہ, امریکہ, اسلام, بھائی, بچپن, بچوں, جواب, دوست, راستہ, طالبان, عورت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں تو لفظ لفظ تیری تیری ذات ہوں | زارا | شعر و شاعری | 1 | 12-02-11 07:53 AM |
| میں تیرا نام نہ لوں | سیپ | شاعری اور مصوری | 1 | 02-02-11 08:49 PM |
| تیری بانہوں میں دم نکلے | سیپ | گانے | 1 | 29-01-11 02:27 PM |
| میں ہوں تیرا خیال ہے اور چاند رات ہے | wajee | شعر و شاعری | 3 | 08-09-09 11:11 PM |
| دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے | نورین خان | شعر و شاعری | 0 | 06-09-09 12:29 AM |