|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
گورنام بیچاری نادان چھوکری، اسے عشق و محبت کا پتا ہی نہ تھا۔ اسے لوگ کنکھیوں سے دیکھتے، وہ ہنس دیتی۔ اس کا جذبۂ پندارِحسن و شباب کسی نے بھی صحیح طور پر متحرک کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ابھی اسے اتنا ہوش ہی نہ تھا کہ دیدہ دانستہ شکار کھیلے، بسملوں کا تڑپنا دیکھے اور اس لذت سے محظوظ ہو جو صیادوں کے لیے مخصوص ہے۔ وہ بھولی بھالی سادہ رو چھوکری یہ جانتی ہی نہیں تھی کہ وہ شاہین جسے زخمی کرنے کے لیے پنجاب کے شہزور نوجوانوں کی کمانیں ٹوٹ چکی تھیں اور جس پر جو بھی تیر پھینکا جاتا، وہ اسے چھو کر زمین پر گر پڑتا تھا، وہی شاہین اس کے غلط انداز تیر کا شکار ہو کر نیم بسمل اس کے پیروں کے پاس پڑا تھا۔ اور وہ تیر قدرت نے اس کی پلکوں میں پنہاں کر رکھ چھوڑا تھا۔
جگا--بلونت سنگھ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,440
شکریہ: 8,476
1,582 مراسلہ میں 3,501 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جگا جگا ہی ہوتا ہے جناب
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | محمد یاسرعلی (17-02-12), عبداللہ آدم (18-02-12) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
جگا حقیقی کردار تھا یا نہیں ۔ ۔ ۔؟ اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہوگی کہ مصنف نے اِس کردار کے ذریعے کس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
| mama_shalla کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد یاسرعلی (17-02-12) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
غالبا مصنف نظروں کی خطرناکی کی طرف اشارہ کناں ہونا چاہتا تھا لیکن وڈے بابا ئے اردو بننے کے چکر میں اتنے مشکل الفاط ایک ساتھ ٹھوک دیے کہ اصل ؛؛مودا؛؛ ہی روپوش و خاکستر ہو کر رہ گیا
|
|
|
|