|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,844
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بابا غفورا ۔۔۔۔۔ جہنمی بشکریہ ۔۔۔۔۔ سب رنگ ۔۔۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد اجمل انجم عبدالغفور نام تھا ۔۔۔ پچاس سال کی عمر میں پاکستان آیا اور اب سے چھ برس پہلے ایک سو دس کے سن میں فوت ہوا ۔۔۔ بے اولاد تھا ، کروڑوں کی جائیداد چھوڑ گیا ۔۔۔ ماہوار تقریباً بیس ہزار روپے دکانوں کا کرایہ وصولتا تھا ۔۔۔۔ تن پر ہمیشہ خاکی رنگ کی جھلنگا سی سوتی قمیض ، اور نیفے میں اڑسی ہوئی ، گھٹنوں سے ذرا نیچی شلوار ؛ اس کے علاوہ کسی دوسرے لباس میں نظر نہ آیا ۔۔۔ یہ لباس دُھل دُھل کے خستہ ہو جاتا ، پھر کہیں سے اڑچن ہوئی اور قمیض یا شلوار پھٹ کے اس کے بدن پر جھول جاتی ، اور درزی کی شامت آ جاتی !!! وہ بابا غفور کا کرائے دار تھا ۔۔۔ بابا نے گئے وقتوں میں ایک سُوتی تھان اس کے پاس رکھ چھوڑا تھا ، جو اس نے کسی آتے جاتے کے ہاتھوں گڑ گانواں سے منگوایا تھا ؛ ڈاولا جولاہے کے ہاتھ کا بُنا ہوا تھا ۔۔۔ بابا کا خیال تھا کہ جیتے جی یہ تھان اُسے کافی ہو گا ۔۔۔ درزی نے پہلا جوڑا سیا اور وہ تھان بیچ کھایا ۔۔۔ جانتا تھا کہ ایک ڈیڑھ برس سے پہلے بابا جوڑا پھاڑے گا نہیں ، اور اب تو لگتا بھی نہیں تھا کہ وہ دوچار مہینے سے زیادہ جی لے ۔۔۔ اس کی کمر کمان سے زیادہ جھک چکی تھی ، دائیں گھٹنے پہ ہاتھ رکھ کے دو قدم چلتا ، پھر سانس لیتا ، پھر چلتا ۔۔۔ منہ جھریوں سے پٹ چکا تھا جن میں اس کی آنکھیں اور ہونٹ پوشیدہ ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔ پچیس برس سے عام گمان تھا کہ اب کی صبح بابا عبدالغفور اپنے ڈربے میں اکڑا ہوا ملے گا ، مگر ہر صبح تڑکے وہ جیتا ہی اٹھتا ۔۔۔ پُچ پُچ ، آ آ ، ہش ہش، کک کک کا کا کے شور کے ساتھ زمانے بھر کے ، نسل نسل کے مُرغے مُرغیاں ، کبوتر ، تیتر بٹیر ، قُمریاں مور اور مورنی کا ایک جوڑا ، اور ایک کُتا ، جو اس کے ساتھ ساتھ پھرتا ، گھر میں موجود تھے ۔۔۔۔۔ اس کے گھر میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔ کبھی کوئی نشئی پھاند جاتا اور کوئی پرندہ لے اُڑتا تو بابا غفور صبح سویرے اپنے دروازے پر کھڑا ہو کر بولتا تو سورج ڈھلے ہی چپ ہوتا تھا ۔۔۔ جتنی گندی گندی گالیاں اسے یاد تھیں ، اس دن اس مجموعے میں کچھ اضافہ ہی کرتا ۔۔۔ اس کا گلا سوج جاتا ، آواز کسی خارشی جانور کی طرح بیٹھ جاتی ۔۔۔ مگر وہ بولے چلا جاتا ۔۔۔ وقفے وقفے سے اس کی آنکھ میں آنسو بھی آ جاتے ۔۔۔۔۔ اُس شخص کی کم بختی آ جاتی جو اس سے پوچھ بٹھتا کہ " بابا کیا ہوا ؟ کوئی مسئلہ ہے تو بتاو " ۔۔۔۔۔ " ابے میری قبر کھودنے آیا ہے !!! مرن جوگے پر دانت گاڑنے آیا ہے !!! چیل کووں کو کھلاوں گا سب کچھ ، ایک دھیلا نہیں چھوڑنے کا تمہارے لئے ، گدھ کی اولادو ۔۔۔ بڑ ا آیا پوچھنے والا کہ بابا کیا ہوا ، لعنت پیٹو تمہیں مار کے مروں گا " ۔۔۔ وہ اسی طرح بولے چلا جاتا ۔۔۔۔۔ یہ بات عام تھی کہ بڈھے نے کروڑوں داب رکھے ہیں ۔۔۔ نہ ڈھنگ سے کھاتا ہے ، نہ پیتا ہے ، نہ پہنتا ہے ، نہ کوئی رشتے داری نہ مہمان داری ، ایک ٹکا خیرات میں نہیں دیتا ، وصولی میں ساہوکار کی طرح ہشیار ۔۔۔ کرائے کی آمدن کے علاوہ ہر وقت روپیہ دو روپے کمانے کی فکر میں رہتا ۔۔۔۔۔ ساتھ مسجد تھی جس پر اس نے مقدمہ ٹھونک رکھا تھا کہ میری جگہ پر ناجائز قبضہ کر کے تعمیر کی گئی ہے ۔۔۔ جب تک سکت تھی ، کچہری کے چکر شوق سے لگاتا رہا ، جب تھک گیا تو بیٹھ رہا لیکن مسجد کے خلاف زبانی جمع خرچ جاری رہا ۔۔۔ مسجد والے اسے دوزخی بڈھا کہتے تھے ، امام صاحب نے کہہ دیا تھا کہ وہ اس کا جنازہ نہیں پڑھائیں گے ۔۔۔ کرائے دار اس کے جاتے ہی جھولی پھیلا پھیلا کے بد دعائیں دیتے ، کہتے " اس کا کون رو رہا ہے ۔۔۔ ہم بال بچوں والے ہیں ، ذرا ترس نہیں کھاتا ۔ " وہ سال کے سال قانونی کرایہ بڑھاتا اور ایک رُپیا بھی کم نہ کرتا ۔۔۔۔۔ درزی پر تو اینٹیں اٹھا اٹھا کے مارتا کہ گُڑگانویں کا تھان پی گیا ، بے ایمان ! چور ! حرام خور !!! کئی دن کی گالیوں اور اینٹوں کے بعد درزی کہیں نہ کہیں سے اسے گڑگانویں کے تھان سے ایک جوڑا بنا ہی دیتا ، اور ہر مرتبہ اس توقع پر کہ یہ آ خری بار ہے ۔۔۔ ۔۔ آخر ایک دن سخت جان بڈھا مر ہی گیا ۔۔۔ ڈھنڈورا پیٹا گیا ۔۔۔ سب خوش ہوئے ، امام صاحب دوڑے دوڑے آئے ۔۔۔ بولے " دوزخی بڈھے کو جنت بھیجنے کا یہی رستہ ہے کہ یہ جائیداد مسجد سے لگا دو ، میں جنازہ پڑھا دوں گا ، بس اس کا کام بنا ہی سمجھو ! " سب کے منہ بند ہو گئے ۔۔۔ جنازہ پڑھ کے دفنائی ہو گئی ۔۔۔ عبدالغفور کے گھر سے چند رپوں کے سوا کچھ نہ ملا ۔۔۔ مکان کا چپہ چپہ کھود دیا گیا مگر بے سود ۔۔۔ کچھ پرندے مر گئے کچھ لوگ لے اڑے ۔۔۔ کرائے داروں سے ایک مہینے کا کرایہ مسجد نے وصولا ، بڑھاوے کا بھی کہہ دیا گیا ، قانونی کارووائی کے لئے وکیل کر لیا گیا ۔۔۔ درزی رو دیا کہ بڈھے کے سوا کسی اور کو کرایہ دیا نہیں جاتا ، مگر شکر بھی ادا کیا کہ گڑگانویں کے تھان سے جان چھوٹی ، پرانے زمانے کا کپڑا لینے کے لئے اسے فیصل آباد جانا پڑتا تھا ۔۔۔۔۔ مسجد کے ایک دروازے کا نام " باب ِ عبدالغفور " رکھ دیا گیا ۔۔۔ پھر ایک دن گاڑی میں واگزاری کے ساتھ ایک وکیل آیا ، بولا کہ میرے پاس مستری عبد الغفور کی وصیت ہے ۔۔۔ مسجد میں بیٹھ کے وصیت پڑھی گئی ۔۔۔ لب لباب یہ تھا کہ ۔۔۔ سب کرائے دار مالک ہوئے ۔۔۔ بابا کا خیال تھا کہ کرائے داروں نے اولاد کی طرح اس کی زمین کی حفاظت کی تھی ۔۔۔ دکان کے ساتھ بابا نے اپنا مکان بھی درزی کے نام کر دیا تھا ۔۔۔ دولت کے حوالے سے لکھا تھا کہ میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ، سب پیسے قرض داروں کے پاس ہیں ۔۔۔ نام لئے بغیر سب قرض داروں کا قرض معاف کیا ۔۔۔ بیس کے بیس کرائے دار مسجد میں جا کر سجدے میں پڑ گئے ۔۔۔۔۔امام صاحب نے مسجد کے دروازے پر سے " باب ِ عبدالغفور " مٹوا دیا ۔۔۔ بولے " جس کے لئے دوزخ لکھ دی گئی ہو ، اس کے لئے بھلا میں کیا کر سکتا ہوں "
Last edited by Ajmal Anjum; 09-06-11 at 01:47 AM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (17-02-12), skjatala (16-06-11), فیصل ناصر (11-06-11), منتظمین (14-06-11), احمد بلال (09-06-11), راجہ اکرام (15-06-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,686
کمائي: 31,836
شکریہ: 10,595
1,217 مراسلہ میں 3,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت پیارا افسانہ ہے۔۔
آخری فقرے کی سمجھ نہیں آئی ۔مولوی صاحب نے ایسا کیوں کہا۔ ندامت میں یا ؟ |
|
|
|
| احمد بلال کا شکریہ ادا کیا گیا | Ajmal Anjum (11-06-11) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,844
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جی آخری جملے کو ہم بلا شبہ " حاصل ِ کلام " کہہ سکتے ہیں اور ہمارے خیال میں تو اس میں ایک خفت کے ساتھ ہی ساتھ کھسیانی حالت میں کھمبا نوچنے والی صورت ہے اور سب سے بڑھ کے ۔۔۔۔۔ جنت دوزخ کے ٹھیکیدار ہونے کا مولویانہ زعمِ باطل ۔۔۔۔۔ پوسٹ کو سراہنے کا شکریہ جی ۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,159
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,298 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
" جس کے لئے دوزخ لکھ دی گئی ہو ، اس کے لئے بھلا میں کیا کر سکتا ہوں "
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | Ajmal Anjum (13-06-11) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,844
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
افسانچے کا اختتامی جملہ آپ نے نوٹ فرمایا ، بہت شکریہ جی ۔۔۔۔۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس کی تھوڑی سی وضاحت بھی فرما دیتے کہ یہ جملہ غلط ہے ؟ قانونی یا شرعی لحاظ سے قابل َ گرفت ہے ؟ قابل ِ داد ہے ؟ یا پھر چونکہ اتفاق سے افسانچے کا اختتام اس جملے پہ ہوا ہے تو آپ نے بھی " اینویں ای " اسے قلم زد فرما دیا ہے بہ ایں ہمہ ، ہم ممنون ہیں کہ آپ نے نہ صرف اس پوسٹ کو پڑھا بلکہ کچھ لکھا بھی ۔۔۔۔۔ اللہ کریم آپ کو الفاظ کی تھوڑی سی فضول خرچی کی عادت سے نوازیں ( آمین ) |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,159
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,298 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھئی اجمل انجم صاحب
افسانے کا آخری جملہ بقول آپکے "حاصل کلام " ہے اور یہ میرا کمنٹ بھی ہے میں اس افسانے کے پیغام سے قطعی متفق ہوں مجھے لگا کے اس سے زیادہ لکھنا شاید موضوع کو کسی غیر متعلق بحث کی طرف نا دھکیل دے اس لئے اسی جملے پر اکتفا کیا جو کے "حاصل کلام " ہے اور سمجھنے والوں کے لئے نکتہ چراغ ہدایت بھی اگر آپ اسے "ایویں ای " سمجھتے ہیں تو اس آسان یہ تھا کے میں "ایویں ای " آپ کا شکریہ ادا کرکے آگے بڑھ جاتا تکلیف کی معذرت |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,553
کمائي: 314,947
شکریہ: 25,207
16,381 مراسلہ میں 41,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
مکرمی اجمل صاحب ۔۔ ایک لا جواب افسانہ شیئر کیا ہے۔۔۔ شکریہ قبول کیجئے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,887
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی لاجواب ہے-
پتہ نہیں اللہ تعالی کو کس کی کیا ادا پسند آجائے۔ مگر میرے جیسے مولوی جنت کے ٹھیکیدار ہی تو بن جاتے ہیں-
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,553
کمائي: 314,947
شکریہ: 25,207
16,381 مراسلہ میں 41,608 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمر, گھر, گمان, گئی, پہلے, پاکستان, وصیت, قدم, لوگ, چور, نام, نظر, مسجد, ایمان, بے, بچوں, خوش, خلاف, دعائیں, ذرا, رشتے, سال, شور, شخص, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|