|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارشد کو وطن چھوڑے کوئی خاص عرصہ نہیں ہوا تھا۔ مغربی ماحول اس کے لیے نیا تھا۔ یہ زندگی ڈسپلن ، سہولتیں، قاعدے، قرینے اور خاموش قسم کا با ادب با ملاحظہ طرز والا ماحول اسے اندر سے سہما سہما جاتا۔ وہ گاﺅں کا باشندہ تھا۔ کھلی، آزاد فضاﺅں کا پنچھی۔ جہاز سے باہر قدم رکھتے ہی اسے یوں محسوس ہوا تھا کہ اس کا بیتا ہوا بچپن یک دم پھر سے لوٹ آیا ہے اور سہم کر اس کے سینے میں خاموشی سے بیٹھ گیا ہے۔ چچیرے بھائی صابر الٰہی کے ہاں قیام کے دوران ڈرا ہوا، خوف زدہ بچہ اپنی گھبراہٹ ترک کرنے پر قطعاً آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ ارشد اسے لاکھ سمجھاتا، پچکارتا اور مناتا رہتا۔ لیکن جہاں کوئی معمولی سی خلافِ معمول جنبش ہوئی نہیں کہ وہ بدک کر جست لگاتے ہوئے اس کے سینے میں پہنچتا اور خوف کی سیڑھی کے پائیدان پر چڑھ بیٹھتا۔ ارشد گھبرا کر ہمیشہ اس بچے کو رام کرنے میں لگ جاتا تھا۔ اس روز انھیں صابر کے والد حشمت الٰہی کی عیادت کے لیے ہسپتال جانا تھا۔ ان کا ہر نیا کا آپریشن ہوا تھا۔ وزٹنگ ٹائم میں صابر نے ارشد کو ساتھ لے کر ہسپتال کا رخ کیا۔ چمکیلے فرش والے اجلے برآمد ے میں قدم بڑھاتے ارشد کو واضح طور سے محسوس ہورہا تھا کہ ایک جوان العمر ارشد کے بجائے صابر کی ہمراہی میں وہی خوف زدہ ننتھا پینڈو بچہ چلا جارہا ہے۔ ان کے گاﺅں میں مریض کے ساتھ سارا پنڈ اٹھ کر چل دیتا تھا۔ مریض اپنی چار پائی پر شفا خانے کے برآمدے یا احاطے میں لگے کسی گھنے درخت کے سائے میں لیٹا رہتا۔ ارد گرد دیکھوں کے علاوہ گاﺅں والے، عزیز و اقارب اور دوست احباب بھی بھٹکتے پھرتے۔ یہ سوکت، نہ اطمینان و تسلی کا عنصر، نہ توجہ اور نہ علاج معالجے کے آثار۔ بس اللہ کے آسرے پر پڑھے ہیں سو پڑے ہیں۔ دوپہر ڈھل گئی اور باری نہ لگ سکی تو بات اگلے دن پرٹل گئی سمجھو اور کھانے پینے کے فکر میں اٹھ کر چل نکلو۔ پر یہ پتا نہیں کیسا شفا خانہ تھا۔ براق، چمکیلا، خاموش اور با رعب۔ ارشد کو لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے یا پھر کوئی فلم جہاں اک پر اسرار سکوت دکھایا جارہا ہے جو کسی حیرت انگیز منظر کے انشکاف کا ابتدائیہ ہے۔ ابھی تیز میوزک بج اٹھے گا اور اصل انکشاف روبرو لایا جائے گا۔ دونوں شاید ماحول کے سکوت میں گم خاموشی کی انگلی تھامے ہوئے تھے۔ اور شاید در پردہ کسی میوزک ہی کے منتظر تھے کہ یکایک قریبی لفٹ کا دروازہ غڑاپ سے کھل گیا اور ایک عجیب سی موسیقی برآمد ہو کر فضاﺅں میں گھلنے لگی مگر وہ منظر ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ ابھی دونوں بے آواز اور آہستہ قدموں کے ساتھ بڑھ رہے تھے ایک طویل کا ریڈور میں جس کا چمکیلا فرش آئنے کی سی آب و تاب لیے تھا۔ کاریڈور کے ایک طرف فراخ فرانسیسی طرز کے کشادہ دریچے اور ان کی سلوں پر تازہ گل دستوں اور انڈور پودوں کی دلنواز مہک تھی تو دوسری جانب مریضوں کے کمروں میں کھلنے والے دروازوں کا سلسلہ تھا۔ ارشد نے چور نظروں سے ہر سمت دیکھا۔
”صابر.... ےہاں کا فرش.... کیسا چمکیلا ہے۔ صاف شفاف۔ میں تو پاﺅں رکھتے ہوئے بھی ہچکچاتا ہوں۔“ ”وہ کیوں....؟“ صابر نے اسے گردن گھما کر دیکھنے کی کوشش کی اور بے نیازی سے شانے جھٹک دے۔ ”یہ ان کا فرض ہے کہ ماحول ستھرا رکھیں....“ ”اچھا....“ ارشد نے بے دھیانی کے ساتھ سر اثبات میں ہلایا.... اسے صابر کے جملے کی کوئی خاص سمجھ نہیں آسکی تھی۔ وہ کچھ دیر کے لیے گہری خاموشی میں ڈو ب گیا۔ دونوں آگے بڑھتے رہے۔ ارشد نے چلتے چلتے صابر کو ایک نظر دیکھا اور سرگوشی میں پوچھنے لگا.... ”چچا جان کو گھر جانے کی چھٹی کب ملے گی۔“ ”چھٹی....“ صابر نے دبا داب سا قہقہہ لگایا.... ”ارے بھئی وہ عیش کررہے ہیں عیش....“ ”کیا مطلب....؟“ ارشد تعجب آمیز نظروں سے صابر کو دیکھنے لگا۔ ”تم نرے گھامڑ ہو....“ صاحر نے اسے شانے پر ٹہوکا دیا....”نئے نئے آئے ہو نا.... اس لیے ذرا اپنے ارد گرد نگاہ ڈالو....“ معنی خیز نظروں سے اس نے ماحول کا جائزہ لیا.... ”کیسی اعلیٰ درجے کی صفائی ہے.... سکون ، نگہداشت ، نظم دیکھ بھال ، اوپر سے حسین خدمت گار، عمدہ خوراک.... ہم اسے عیش کہتے ہیں عیش.... ارشد پھر کچھ نہ سمجھتے ہوئے خاموشی کے خول میں چھپ گیا۔ اسی لمحے قریبی لفٹ کا دروازہ کھلا اور سکوت کے پس منظر کا اگلا منظرروبرو آگیا۔ دونوں رک گئے اور قریبی دیوار سے جا لگے۔ دو میل (Male) نرس ایک بیڈ دھکیلتے ہوئے برآمد ہوئے تھے۔ بیڈ سے لگے اسٹینڈ میں خون، گلوکوز اور الابلا کی ولتیں لٹکی ہوئی تھیں، جو بستر کے متحرک ہونے کے باعث عجیب طرح کی نوحہ خوانی میں مصروف تھیں۔ بستر کا مریض بے ہوشی کی نیند میں ڈوبا تھا۔ متحرک موسیقی منظر میں اپنا کردار ادا کرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ ارشد نے اپنے عقب میں دیوار کو تھام لیا۔ ”آپریشن ہوا ہے....“ ایک خوف زدہ سی سرگوشی اس کے لبوں سے پھوٹی.... اور اندر کا سہما سہما بچہ سینے سے جا لگا.... پھر وہیں جیسے دل پکڑ کر بیٹھ رہا.... صابر نے اطمینان سے اپنی جگہ چھوڑتے ہوئے مریض کے بیڈ کو دور جاتے دیکھا اور اس کی پیروی میں قدم بڑھا کر ارشد سے سوال کیا....” آج کیا دن ہے....“؟ ”دن....“ ارشد سوچنے لگا.... ”پیر ہے....“ ”بالکل ....“ صابر نے تائیدمیں سرہلایا۔ ”پیر ہی ہونا چاہیے.... در اصل ےہاں ہر پیر اور جمعرات کو بکرے کٹتے ہیں....“ ”بکرے ....“ ارشد نے تعجب سے دہرایا۔ اب وہ دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے کوریڈور کے آخری کونے تک پہنچ گئے تھے.... ”آپریشن بھئی.... ہم اسے بکرے کٹنا کہتے ہیں....“صابر بیزاری سے بولا....”ابھی ادھر بیٹھیں گے نا.... ابا جان کے پاس تو قطار میں بستر آتے جائیں گے.... کٹے پھٹے مریضوں کے .... پیر اور جمعرات کو سرجن لوگ آپریشن کرتے ہیں.... اور بندوں کو کاٹ کاٹ کر ادھر اُدھر ارسال کرتے جاتے ہیں....“ ”مفت میں....“ بے ساختہ ارشد کے لبوں سے تعجب خیز لہجے میں ادا ہوا.... ”اور کیا.... ہمارے پاس ادھر یہ جو ہے.... کھل جا سم سم.... “ صابر نے بٹوا کھول کر ایک ننھا سا چمکیلا کارڈ نکالا....” یہ ہے علاج معالجے کی چابی .... ےہاں کی حکومت سب کو یہ چابی عطا کرتی ہے....“ دونوں ایک کمرے میں داخل ہوگئے۔ فراخ اور روشن کمرے میں تین مریضوں کے بستر لگے تھے۔ حشمت الٰہی ان میں سے ایک پر لیٹے تھے اور مسکرانے لگے۔ ” یہ کیا ہے بھئی....؟ انھوں نے صابر کے ہاتھ میں انشورنش کارڈ کو دیکھ کر پوچھا.... ”کیا کوئی پرابلم ہوگئی....؟“ ”نہیں ابا.... پرابلم کیسی.... یہ تو میں ارشد کو دکھارہا تھا....“ صابر نے کارڈ واپس پرس میں رکھ لیا.... کہ ےہاں پر ہم اسے کھل جا سم سم کہتے ہیں.... او علاج کا دروازہ کھل جاتا ہے....“ ”ہاں بھئی.... “حشمت الٰہی افسردہ سے ہوگئے....“ پرانی بات ہے۔ پر میرے لیے آج بھی ویسی ہی ہے.... میرے والد کا انتقال ایک ہسپتال کے برآمدے میں ہوگیا تھا....“ ”برآمدے میں....؟“ دونوں لڑکوں نے بیک وقت دہرایا۔ وہ بستر کے قریب موجود نشستوں پر بیٹھ گئے تھے.... ”ہاں بیٹا.... انھیں دل کا دروہ پڑا تھا.... ہسپتال میں کوئی بیڈ خالی نہ تھا.... ہم نے برآمدے میں ہی انھیں گدّے کے اوپر لٹا دیا.... نہ آکسیجن .... نہ دوا دارو.... بلکہ ابھی تو متعلقہ ڈاکٹر بھی پہنچ نہ پایا تھا میرے والد نے بڑے بھائی کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا.... سب گریہ و زاری کرنے لگے پھر وہیں برآمدے ہی سے ان کی میت اٹھا کر گھر لے آئے.... جانتے ہو کیا ہوا تھا.... ہمارے بعد آنے والے مریض کے لواحقین ہمارے والد کی موت پر مطمئن نظر آئے.... کیوں کہ انھیں برآمد میں ہی سہی ایک جگہ تو میسر آگئی تھی۔ بس وقت وقت کی بات ہے.... ہمارے پاس کمرے کا دروازہ کھلوانے اور ڈاکٹر کی توجہ حاصل کرنے کو یہ چابی ہی نہیں تھی۔ میرا مطلب ہے.... انشورنش کارڈ....“ ہاں ابا....“ صابر نے اثبات میں سر ہلایا....” اُدھر تو اب بھی کسی کے پاس یہ چابی نہیں ہے۔ کیوں کہ وہاں اس کا رواج ہی نہیں.... رواج کی بھی بڑی بات ہوتی ہے.... جو ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے.... ےہاں سب کے لیے ےہی رواج ہے.... مقامی ہو یا مہاجر.... ادھر سب برابر ہیں....“ ”چاچا ....!“ گھر کب تک آنے کا ارادہ ہے....؟“ ارشد نے دریافت کیا....” میرا مطلب ہے چھٹی کب دیں گے....“ ”چھٹی....“حشمت الٰہی نے ابھی جواب دینے کو لب کھولے ہی تھے کہ دو نرسیں اندر داخل ہوئیں اوبستر چادر تکئے وغیرہ تبدیل کرنے لگیں.... حشمت الٰہی بیڈ سے اتر کر کونے میں رکھی کرسی پر جابیٹھے.... اطمینان سے نشست حاصل کرنے کے بعد انھوں نے لڑکوں کو دیکھا اور ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ ”بھئی چھٹی ہی چھٹی ہے .... وہ تو میں روز ہی کوئی شکایت سنانے بیٹھ جاتا ہوں.... وہی بڑھاپے کے عوارض.... ورنہ ہر نیا کا آپریشن تو معمولی سی بات ہے.... دو ایک روز فارغ کردیتے ہیں۔“ ”شکایت ....“ ارشد نے حیرت سے دہرایا اور چچا کو دیکھنے لگا....” آپ گھر کی بجائے ےہاں رہنا پسند کرتے ہیں .... وہ کیوں کیا منظور بھائی اور نرگس بھابھی سے کوئی رنجش یا گلہ شکوہ ہے۔“ منظور الٰہی، صابر الٰہی کا بڑا بھائی اور حشمت الٰہی کا فرزند ارجمند تھا .... حشمت الٰہی اپنی شریک حیات سمیت بہو بیٹے کے اوپر والے پورشن میں بطور کرایہ دار مقیم تھے.... وطن میں ارشد نے ساس، سسر کے ایسے ہی شکایت بھرے مسئلے سن رکھے تھے.... وہ ےہی سوچ کر چچا سے دریافت کررہا تھا.... لیکن حشمت الٰہی طمانیت سے مسکرا دیے۔ ”ایسا کوئی مسئلہ .... نہیں .... الحمد للہ .... میرا بیٹا، بہو .... اور دوسرے سب بچے خوشحال ہیں۔ ہم اپنے گھر میں اور وہ الگ اپنے مکان میں راضی خوشی ہیں.... وہ مکان بھی تو پتر منظور الٰہی نے خرید لیا ہے....“ ”اچھا....“ ارشد نے تفہیمی انداز سے سر ہلایا....” تو آپ بھائی منظور کے کرایہ دار ہیں....“ ”نا....“ حشمت الٰہی نے شہادت والی انگلی اٹھا کر اسے ٹوکا اور داڑھی میں چار انگلیوں سے کنگھی کرکے اسے ترتیب دینے لگے۔ پھر سر کرقدرے آگے کی سمت جھکا لیا۔ اب کے ان کا لہجہ سرگوشی کا حامل تھا۔ حالاں کہ کمرے میں ان دونوں لڑکوں کے علاوہ ان کی زبان جاننے والا دوسرا کوئی نہ تھا پھر بھی.... حشمت الٰہی رازداری سے گویا ہوئے”بیٹے منظور کو یہ مشورہ میں نے ہی دیا تھا.... بات یہ ہے کہ ہمیں سوشل سے اتنا ہی کرایہ مل جاتا ہے جتنی کہ ماہوار قسط اس مکان کی نکلتی تھی۔ بیٹھے بٹھائے جائیداد بھی بن گئی اور خرچ بھی دمڑی کا نہ ہوا....“ ارشد گہری سوچ میں ڈوب گیا اور بے دھیانی سے سر ہلاتا رہا۔ صابر اور حشمت الٰہی گھریلو امور پر تبادلہ خیال کررہے تھے کہ ارشد نے سر اٹھایا اور ان کی گفتگو میں مداخلت کردی.... ”چچا قسطوں میں تو چیز کا نرخ بڑھ جاتا ہے.... سود لگتا ہے نا.... تو آپ نے مکان یکمشت کیوں نہ خرید لیا.... ساری عمر آپ نے عرب ممالک میں ملازمت کی۔ وہ رقم جمع ہی رکھی ہوگی....“ ”یہ بھی بھلی کہی....“ حشمت الٰہی نے اس کی نا سمجھی پر یوں دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں....” رہے ناپینڈو کے پینڈو.... یورپ آکر بھی عقل نہ آئی.... “ چند ثانیے خاموشی سے مسکراتے رہنے کے بعد ان کے چہرے کا زاویہ تبدیل ہونے لگا۔ ”ارے بھائی جب ان ہی کے مال سے جائیداد بنائی جاسکتی ہے.... تو کیا ہماری عقل گھاس چرنے گئی ہے جو اپنی عمر بھر کی کمائی ضائع کرتے پھریں....“ حشمت الٰہی کا رخِ پر نور باقاعدہ پر جلال ہوتا دکھائی دیا.... ”پاک ملک کی پاک کمائی.... ان فرنگیوں کو دے ڈالیں.... استغفراللہ....“ انھوں نے انگلیوں سے کان کی لو کو چھوا.... دونوں نرسیں تبدیل کرکے حشمت الٰہی کے قریب آئیں اور کامل نگہداشت و احترام سے انھیں واپس لے گئیں.... حشمت الٰہی پھر سے بستر پر جا درواز ہوئے اور تسلی وفروخت کی طویل سانس لے کر سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے گویا ہوئے.... ”اب ےہی دیکھ لو.... ہر نیا کی تکلیف ہمیں کئی برس سے تھی۔ مگر آپریشن کی نوبت نہ آسکی.... وہاں ایگریمنٹ کے دوران چھٹی ملنی قدرے دشوار ہوتی ہے۔ پھر واپس اپنے وطن جاﺅ.... اپنی گرہ سے مال خرچ کرکے آپریشن کرواﺅ.... اس پر بھی ایسی سہولتوں کا فقدان .... نہ دوا کا یقین کہ اصلی ہوگی یا نقلی.... نہ جراحت کا اعتماد .... ایگریمنٹ ختم ہونے والا تھا.... ہم نے ےہی مناسب سمجھا کہ یورپ جاکر ہی آپریشن کروائیں گے.... سو .... آگئے.... ارے ہم پر ہی کیا موقوف .... اور بھی جس جس کو کوئی مرض تھا.... ریٹائرمنٹ لے کر ادھر چلا آیا۔ اسائلم کا کیس کیا.... مکان، خوراک مفت حاصل کی.... پھر یہ سادہ لوح لوگ ہیں.... ان کی سادگی سے ہم نے فائدہ نہ اٹھایا تو ہماری اپنی بے عقلی ہوگی....“ ”لیکن چچا.... آپ نے اتنا عرصہ مرض دبائے رکھا.... یہ بھی تو کوئی دانشمندی نہ تھی....آخر انسان کماتا کس لیے ہے.... اپنی جان کو سہولت دینے کے لیے....“ ارشد نے اپنی محبت جتانا چاہی تھی کہ اسے کچھ اور بھی یاد آگیا.... ”میں نے تو سن رکھا ہے چچا کہ عرب ملکوں میں کسی غیر ملکی کو جائیداد وغیرہ خریدنے کا حق نہیں دیا جاتا....“ ”یہ تم نے بجا کہا برخوردار ....!“ حشمت الٰہی نے زیر لب کوئی آیت تلاوت فرمائی.... کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کر تسبیح برآمد کی اور گھمانے لگے.... کچھ دیر یونہی خلا میں دیکھتے رہنے کے بعد انھوں نے نگاہ کا دائرہ بیٹے اور بھتیجے پر مرکوز کیا.... ”یہ سب بھی تو اسی پاک کمائی کی برکات ہیں کہ اللہ جل شانہ نے اپنے کرم سے اس پاک سرزمین کے رزق میں ہمارا حصہ بھی لکھ دیا تھا....پھر برادر ممالک کی بھی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں روزی کمانے کی اجازت بخش دیتے ہیں۔ جائیداد خریدنے کا حق نہ بھی عطا کریں.... وہاں تو محض سانس لینا بھی برکت اور ثواب کا باعث ہوتا ہے.... میرے عزیز۔“ حشمت الٰہی نے جملہ ادا کرکے وفور جذبات میں آنکھوں اور ہونٹوں کو انگلیوں سے چھو لیا۔ ”ہاں یہ تو ہے....“ ارشد بھی فوراً تاثر کے اس نرغے میں گھر گیا.... صابر جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھا تھا یکایک بول اٹھا.... ”پر ابا .... ہم اکیلے تو وہاں نہیں جاتے ہیں.... غیر مسلموں کی تعداد تو ہم سے کہیں زیادہ ہے....“ ارشد کو بھی یاد آگیا.... کیوں کہ نوکری کے حصول کی خاطر اس نے سفارشات خانوں اور ایجنٹوں کے بڑے دھکے کھائے تھے وہ بھی اپنی معلومات چچا کے گوش گزار کرنا چاہتا تھا کہ برآمدے سے ایک نو آپریشن شدہ بیڈ گزرتا دکھائی دیا.... خون، گلوکوز وغیرہ کی بوتلیں اب بھی وہی میوزک الاپ رہی تھیں.... بے ہوش مریض کے کسی قدر سفید ہوتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ارشد خود بھی اندر سینے میں بیٹھے بچے کی مانند سہم گیا.... لیکن جلد ہی اس کی توجہ حشمت الٰہی نے اپنی جانب مبذول کروالی۔ ”ےہی تو....“ وہ صاحبر سے مخاطب تھے.... ”اسلام کی ےہی فراخ دلی اور خوبی ہے کہ وہ غیر مسلموں کو بھی رزق مہیا کرتا آیا ہے.... ماشاءاللہ.... سبحان اللہ.... “ ارشد خاموش بیٹھا چچا کی جملہ دینی معلومات سے متاثر ہوتا رہا۔ اتنے میں صابر نے کلائی اٹھا کر گھڑی پر وقت دیکھا.... اور اس سے کہنے لگا۔ ”ارشد اٹھو.... چلتے ہیں.... “ خاموشی کے پانی میں اس نے آواز کا کنکر پھینک دیا تھا.... ارشد اپنے تاثرات کے بھنور سے باہر آگیا.... ”کیا ابھی....؟“ اس نے سر اٹھا کر صابر سے دریافت کیا.... ”ہاں .... ملاقات کا وقت صبح میں ساڑھے دس سے ساڑھے گیارہ تک کا ہوتا ہے.... باتوں میں وقت کا دھیان ہی نہیں رہا.... بارہ بج چکے ہیں....“ ارشد اٹھ کھڑا ہوا.... چلتے چلتے اس نے چچا سے ہاتھ ملایا.... اور بزرگوں کے بتائے ہوئے فارمولے کے تحت آخری جملہ ادا کیا.... ”ویسے تو آپ ٹھیک ٹھاک ہیں نا.... کوئی تکلیف.... یا شکایت مرض کے بارے میں تو اب نہیں رہی....“ ”ارے نہیں.... کیسی تکلیف ....“ حشمت الٰہی بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئے.... اور تکیئے سے پشت نکالی.... ”بڑی راحت ہے ےہاں.... ڈاکٹر میری ٹوٹی پھوٹی زبان کو بھی گہرے غور سے سنتے ہیں.... جب تک سناتے رہو.... بستر سے ہلتے نہیں.... بڑی مسکین قوم ہے.... زبان کے کہے کو سچ مان لیتی ہے اور فکر مندی کے ساتھ مزید معائنہ جات میں جٹ جاتی ہے۔ اللہ تبارے تعالیٰ نے اپنی پاک سر زمین پر ہماری خدمت کا کیسا اجر عطا فرمایا ہے.... ےہاں ان فرنگیوں کی دھرتی پر ہر چیز ہمارے نصیب میں بالکل مفت لکھ دی.... ہماری رہائش، خوراک، علاج مفت، بچوں کے روزگار، ان کے بچوں کی تعلیم، طبی امداد.... سب کچھ مفت.... بڑا کرم کیا ہے میرے مولا نے.... سب اس سرزمین پر خدمت کرنے کی برکات اور اجرے ہے۔“ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر خاموشی سے ہورہے۔ گویا کسی پریشان سوچ میں غلطاں ہوں.... ارشد رک گیا اور فکر مندی سے آگے بڑھ کر جھکتے ہوئے ان کے قریب ہوگیا.... حشمت الٰہی چند ثانیے خاموش رہ کر خلاءمیں دیکھتے رہے۔ باہر کو ریڈور میں کچھ آوازیں بیدار ہونے لگی تھیں۔ ایک دل ربا سی ہلچل ، جو میٹھی میٹھی سرگوشیوں کی مہک اندر کمروں کی فضاءمیں ہولے ہولے اتارتی چلی جارہی تھی.... کائنات کے سب سے دلکش نغمے کی اچھوتی راگنی.... کہ جس کی زبان نہیں ہوا کرتی لیکن ہر جاندار اس بے زبانی کا مطیع اور جاں نثار رہتا ہے.... برآمدے میں کھلنے والے دروازے کے عین سامنے ایک بڑی الماری نما آہنی ٹرالی آن کر رُکی تھی جس کے متعدد خانے تھے اور ہر خانہ طعام کی طشتریوں سے بھر ا تھا۔ مستعد لڑکیاں ہسپتال کے مخصوص یونیفارم میں ملبوس اشتہا انگیز مہک دیتے خوان تقسیم کرنے آگئی تھیں۔ مریض اپنے اپنے بستر پر بیدار اور ہوشیار ہوکر بیٹھنے لگے۔ ایک خوش مزاج، خوش اطوار اور خوش شکل نرس نے حشمت الٰہی کی قریبی ٹرالی درست کی اور نہایت سلیقے سے کھانا چن دیا۔ بیرونی سرخ رنگ کی قاب اتارے جانے کے بعد بھاپ دیتا ہوا طعام یوں برآمد ہوا گویا یہ من و سلویٰ سیدھا آسمانوں سے اترا ہو.... گوشت کا نرم و گداز بڑا سا پارچہ، سجا سجایا سلاد، دہی چاول اور سوئیٹ ڈش، دیکھنے والوں کی زبان پر لعاب کے بلبلے ڈبکیاں مارنے لگے.... حشمت الٰہی نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے کامل توجہ، اطمینان اور فرحت سے طعام کی جملہ نعتمیں ملاحظہ کیں اور پھر پوری ذمہ داری سے ہر شے درست کرکے رخصت ہوتی ہوئی نرس کو اپنے عقیدے کے راسخ اور سپر یئریٹی کی نمائندگی کرنے والی آواز میں تحکم پیدا کرکے پکارا.... نرس الٹے قدموں واپس ہوئی اور ان کے نزدیک آگئی۔ ”یہ ....یہ ....“ یہ گوشت کیسا ہے؟ کون سا ہے....؟ تمھیں میری وضاحت کاتو علم ہے نا؟“ ”بالکل جناب....“ وہ تسلی آمیز لہجے میں کہنے لگی....“ آپ کے کھانے کی چٹ علیحدہ ہوتی ہے۔ اس پر ”مسلم“ درج ہوتا ہے....“ ”اپنے برادر ملکوں میں کم از کم یہ خدشہ نہیں ہوتا پر ےہاں دھڑکا سا لگا رہتا ہے....“ ”کیسا دھڑکا....؟“ ارشد نے کھانے کی زیارت سے منہ میں چلے آنے والے پانی کے گھونٹ کو حلق سے نیچے اتارا....“ ”بھئی.... یہ لوگ آخر کو ہیں تو بے علم قوم.... انھیں پاک، پلید کا فرق ہی نہیں معلوم.... کہیں کھانے میں اس خبیث کی ملاوٹ نہ کردیں.... خود تو کم بخت سور کھاتے ہیں.... ہمیں لازم ہے کہ انھیں تنبیہ کرتے رہیں.... ویسے ہے تو فرض شناس قوم.... پھر بھی احتیاط اچھی ہے.... پوچھ لینا چاہیے۔“ حشمت الہی نے لطف کی انتہا کو پہنچتے ہوئے چمچہ منہ میں رکھا....اور گویا ہوئے.... ”واہ.... واہ.... سبحان اللہ ایک ہی حلال نشہ اتارا ہے میرے ربِّ کریم نے....“ ان کی آنکھیں مند گئی تھیں.... قریب کھڑے ارشد کے اندر بیٹھے معصوم بچے نے ندیدے پن سے اس کے ہونٹوں تک پانی بھر دیا.... بمشکل اس نے چہرہ گھمایا.... اور صابر کی ہمراہی میں خدا حافظ کہتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ تحریر: نعیمہ ضیاءالدین
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,497
کمائي: 118,509
شکریہ: 13,488
4,902 مراسلہ میں 16,679 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
بہت اچھا خلاصہ پیش کیا گیا ھے شکریہ، مگر کچھ جگہوں پر معلومات صحیح نہ ہونے پر شائد کوتاہی ہو گئی ھے۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے تحریر من و عن یعنی ایز اٹ از ہی لکھی ہے جیسی میگزین میں تھی۔ اب مصنفہ نے یا میگزین والوں نے غلطیاں کی ہوں تو الگ بات ہے۔
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,497
کمائي: 118,509
شکریہ: 13,488
4,902 مراسلہ میں 16,679 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اف ہو، آپ سمجھی نہیں تحریر میں کوئی غلطی نہیں جو انفارمیشن پیش کی گئی ہیں ان میں کچھ جگہ ان کو درست معلومات نہ ہونے سے کہیں کوتاہی ہوئی ھے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,497
کمائي: 118,509
شکریہ: 13,488
4,902 مراسلہ میں 16,679 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نہیں ایسا نہیں ھے کچھ لوگ جو دوسرے ممالک کی معلومات فراہم کرتے ہیں اس میں بہت کچھ وہ بھی جانتے نہیں ہوتے اور نہ ان کے تجربہ میں ہوتا ھے، ادھر ادھر سے سنا ہوتا ھے اور وہی بیان کر دیتے ہیں، رائٹر اسی کے مطابق معلومات اکٹھی کر کے ایک مضمون بنا کر شیئر کرتا ھے۔ ![]() والسلام |
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,497
کمائي: 118,509
شکریہ: 13,488
4,902 مراسلہ میں 16,679 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
میری رائے کے مطابق رائٹر جان بوجھ کر کچھ نہیں کرتا بلکہ مضمون کو ترتیب دینے کے لئے اس میں بیلنس کرتا ھے نہیں تو پڑھنے والوں کو فوراً پتہ چل جاتا ھے کہ یہاں پر رائٹر نے کیا کیا ھے۔ میں ناول نہیں پڑھتا، کبھی یییییییییییی ی تعلیمی دور میں جواب عرض پڑھنا شروع کیا تھا تو کچھ مہینوں کے بعد چھوڑ دیا تھا، ایک طرح کی کہانیاں بس نام بدلے ہوئے وغیرہ وغیرہ۔ ![]() بیرون ممالک کے حوالہ سے جاوید صاحب کا کوئی ناول سامنے آیا تو دیکھوں گا کہ ان کی معلومات کتنی درست ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چلیں جیسے اُنکو سہولت ہو۔ What can we do
![]() شکریہ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, کارڈ, پسند, قدم, لوگ, نیند, نوکری, چور, نثار, موت, محبت, آپریشن, آج, اللہ, انسان, اعلیٰ, بھائی, بچپن, بچوں, جواب, خدا, دوست, داڑھی, دریافت, عقل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|