واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




دودھ میں مکھی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-01-08, 06:26 PM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,168
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دودھ میں مکھی

دودھ میں مکھی

جب سے بڑے برے پيسے والے انسانوں کے کرہ ارض آپس ميں بانٹ ليا ہے، ہم جيسے ايک روپيہ والے انسان کيلئے اس وسيع و عريض زمين پر ايک چہ بھي ايسا نہيں جو ہمارا اپنا جو جو کچھ ہے وہ لالہ ہري داس کا ہے، ميں نے اس کي چنتا مني بلڈنگ کے ايک بوسيدہ کمرے ميں رہتا ہوں، اور مہينے کي مہينے تين روپيہ ادا کرتا ہوں، ميں اکيلا ہي نہيں مجھ سے اور بھي بہت سے ايک روپيہ روز کمانے والے انسان تين روپيہ کرايہ ادا کرکے زمين پر زندہ رہتے ہيں، بمبئي يونيورسٹي کا نوجوان گريجيوٹ ہريش چندر بھي، اور کمرشل بنيک کا بوڑھا کلکر گلاب چند اور اس کي ناوجان بيوي بسنتو بھي اس چنتا مني بلڈنگ ميں نہ کوئي بڑا ہے نہ چھوٹا، سب برابر ہيں سب ايک دوسرے کے دوست ہيں اب ايک روپيہ کيلئے مر مر زندہ رہنے والے جو مہينے کے عرق ريزي سے کمائے ہوئے تين چمکدار سکے لالہ ہري داس کي خدمت ميں پيش کرکے ايک ايک مہينہ اور زمين پر رہنے کے حق کو محفوظ کر ليتے ہيں۔
ميرے کمرے کے دائيں طرف نوجوان ہريش چندر اور بائيں طرف بوڑھا کلرک گلاب چند اور اس کي نوجوان بيوي بنستو رہتے ہيں، ہم لوگ تھک تھاک کر سر شام ہي سو جاتے ہيں، اور صبح چڑيوں کےچہچہانے سےقبل ہي جاگ پڑتے ہيں، صرف اتوار کي چھٹي کو ہم کلکٹر صاحب کي طرف سے گيارہ بجے تک پير پھيلا کر سوتے ہيں۔
مگر ايک اتوار خلاف معمول مجھے بوڑھے گلاب چند کے بھجن گانے سے پہلے ہي جاگ اٹھنا پڑا جس زبان سے روزانہ ايک عظيم ترين طاقت کي تعريف ميں گيت سنتا تھا، اسي زبان ميں آج بري اور مکروہ گالياں نکل رہي تھيں، برابر برابر حيثيت والے انسان کي پر امن زندگي ميں جھگڑا چنتا مني بلڈنگ سے نئي بات تھي، ميں نے دروازہ کھول کر ديکھا کہ نوجوان ہريش چندر ہاتھ ميں لوٹا لئے سر جھکائے کھڑا ہے اور بوڑھا گلاب چند بار بار پيٹ پر گر جانے والے جينوں کو کان پر لٹکائے اس پر سينچر کي جھڑي کي طرح برس رہا ہے اور دس پانچ کرايہ دار ، جھگڑا چکانے کي کوشش کر رہے ہيں، بات اتني تھي کہ نوجوان بسنتو نل پر کپڑے دھو رہي تھي اور ہريش چندر لوٹے ميں پاني بھرنا چاہتا تھا بسنتو وہاں سے ہٹ نہيں رہي تھي، ہريش چندر نے اس کو اس کي چھاتي۔۔۔۔۔وہاں سے ہٹا ديا اور گلاب چند نے اشلوک پڑھتے پڑھتے کھڑکي سے يہ سب کچھ ديکھ ليا۔
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 06:26 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,168
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دودھ میں مکھی

مجھے ہريش چندر سے اس حرکت کي قطعي اميد نہ تھي ، اتنا فاقہ مست ہونے کے بعد بھي اس کے رگ پٹھوں ميں پيدا ہوگيا، عجيب بات تھي، ميں نے بسنتو کي طرف ديکھا، وہ رحم طلب مجرم کي طرح اپنے بوڑھے شوہر کي طرف ديکھ رہي تھي مگر ميں اس کي آنکھوں ميں ايک خاص جھلک بھي ديکھي، اس جھلک کو الفاظ کا جامہ پہنا ديا جائے تو يوں ظاہر ہو، ميرے بوڑھے قابل رحم شوہر کيوں اس دبکتے ہوئے نوجوان کے منہ لگتے ہو، يہ تو جواني کي آگ سے گويا پھنک رہا ہے اور تم تمہيں ديکھ کر تو ميرا من کہتا ہے۔
سياں توري سچير ياپہ ميں نہ آئوں گي۔
ہوسکتا ہے کہ ميں غلط سمجھا ہو کيونکہ بسنتو تو ايک بہت ہي شريف عورت تھي جس کي شرافت ايک لمبے گھونگھٹ کي شکل ميں ہميشہ اس کے چہرے پر لہراتي تھي، ميں نے ہريش چندر سے ملامت بار نظروں سے ديکھتے ہوئے پوچھا، ہريش چندر کيا يہ حرکت تمہيں زيبا ہے کہ تم نے يہ سمجھ رکھا ہے کہ ان گندے کمروں ميں رہنے واليں عورتيں گندي ہوتي ہيں، کيا ان کرائے کے کمرے ميں رہنے والي عورتيں بھي کرائے کي ہيں؟
ہريش نے سائلانہ انداز ميں اپنا ہاتھ بڑھا کر کہا ملر بھيا۔
گلاب چند قطع کلامي کرکے للکارا۔
بس ہميں بھيا مت کہو، غنڈے، بدمعاش، اگر ايسي ہي جواني ابلتي ہے تو شادي کيوں نہيں کرليتے۔
شادي ميں چونک پڑا ہم جيسے ايک روپيہ کمانے والے انسانوں کيلئے شادي بڑا ہي مہنگا سودا ہے، ہم شادي نہيں کرسکتے، اس لئے تو تمہاري عورتوں کو چھيڑتے ہيں اور جب خيال آتا ہے کہ ہماري زندگي ميں شادکي کا کوئي امکان ہي نہيں ہے تو ہماري امنگيں خطرناک طريق پر ابل پڑتي ہيں اور اس وقت ہريش نہيں بلکہ ايک مرد ہوجاتا ہے، اور بسنتو، بسنتو نہيں رہتي بلکہ ايک عورت ہوجاتي ہے پيسے سے محروم انسان کي بس يہي اخلاقيات ہے۔
يکا يک مجھے ہريش سے ہمدردي سي ہوگئي ميں نے واقعي اس کي طرف اداي کہنا شروع کيا، جيسا گلاب چند يہ اتفاقيہ کي تو بات ہے ہو سکتا ہے کہ ہريش چند کا ہاتھ غلطي سے لگ گيا ہو، ہريش نے فورا بات کاٹتے ہوئے کہا، ہاں بھيا غلطي سے ميرا ہاتھ۔۔۔۔گلاب چند نے اپنا ہاتھنچا کر کہا، تم چپ ہي رہو جي۔
ميں نے کہا، بھيا ميں ہريش کو اچھي طرح جانتا ہوں وہ اس قماش کا لڑکا نہيں اتني سيبات کو خواہ مخواہ جھگڑے کي بات بنا دينا تو بدنامي کا باعث چلو اب معاف کردو، ہريش بھيا سے معافي مانگوں۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 06:27 PM   #3
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,168
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دودھ میں مکھی

ہريش نےآگے بڑھ کر سر جھکا معافي چاہ لي، گلاب چند بڑ بڑاتا ہي رہا اور ميں نے زبردستي اس کو کمرے ميں پہنچا ديا، ادھر ميرے دل ميں گريد پيدا ہو رہي تھي کہ ہريش چندر سے پوچھنا چاہئے کہ ہميشہ ہاتھ بھر لمبے گھونگھٹ کو ديکھتے رہنے کے باوجود اس کے ہاتھ میں اتني طاقت کہاں سے آگئي، کوئي بات ضرور ہوگي ميرا دل کہہ رہا تھا کوئي بات ضرور ہے، جب ميں کوئلے سے دانت مانجھتا ہوا نل پر پہنچا تو وہاں ہريش چندر منہ دھو رہا تھا ميں اس کے قريب ايک پتھر پر بيٹتھے ہوئے راز دار انداز ميں پوچھا۔
ہريش ميں جانتا ہوں کہ بسنتو ايک بہت ہي شريف عورت ہے مگر ميرے دل ميں جو گريد سي پيدا ہو رہي ہے وہ کيوں؟ ہريش نے منہ ميں بھرے ہوئے پاني کي کلي کرتے ہوئے جواب ديا۔
بھيا کيا تم جانتے ہو سسر کو اس گھونگھٹ کو الٹ کر اس کے ماتھے پر لکھے ہوئے گناہوں کو پڑھ تمہيں معلوم ہوگا کہ وہ سامنے اينٹو کے بھٹے پر کام کرنے والي مزدورياں اتني داغدار نہيں ہيں جتني يہ عورتيں، يہ گھونگھٹ والياں۔
مگر بھيا يہ سب کچھ ہوا؟ ہريش نے ادھر ادھر ديکھ کر سرگوشي کے انداز ميں کہنا شروع کيا۔
ہاں تو سنو يہ نيچے کمرے ميں جو کالا مسٹنڈا بڑھئي رہتا ہے، اس کا گنپت، ٹھيک نہيں ہے، وہ کل مجھ سے کہہ رہا تھا کہ جس دن اسے کام نہيں ملتا اس دن بسنتو اسے چوري چھپے چوني دے ديا کرتي ہے، بھلا ايک شوہر والي عورت ايک غير مرد سے اتني ہمدردي کيوں سوچنے والي بات ہے نا بھيا۔
اٹھني چوني وہ خود دے ديتي ہے ميں نے حيرت سے پوچھا اور نہيں تو کيا گنپت دے سکتا ہے کيا جب سے اسے نيچے والے کمرے ميں رہتے ديکھا ہے شايد ہي کبھي کام پر گيا ہو، کھانا پينا کيسے ہوگا، اور کوٹھي کا تين روپيہ کرايہ کہاں سے ادا کرتا ہوگا، يہي بات تو تھي کہ اتنے دن يہاں رہنے کے بعد آج کل پہلي باربسنتو کو ديکھ کر ميرے تن بدن ميں آگ کے شعلے بھرک اٹھے اور اب تم آگے جانتے ہي ہو بھيا اب ميں چلتا ہوں، ہريش کے چلے جانے کے بعد بڑي دير تک دانت مانجھتا رہا اور سب کچھ بھول گيا ميري انگلي خود بخود دانتوں کو گھس گئيئ اور ميں اس وقت چونکا جب بسنتو پھر نل پر پاني کا گھڑا بھرنے آئي اور ادھر ادھر زمين پر کچھ ڈھونڈنے لگي آج ميں نے اس کو نئي نظروں سے ديکھتے ہوئے پوچھا بسنتو بہ۔۔ميں کھانس پڑا آج پہلي بار ميں بھي بسنتو بہن نہ کہہ سکا، کيا ڈھونڈرہي ھو؟
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 06:27 PM   #4
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,168
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دودھ میں مکھی

اٹھني ڈھونڈ رہي ہو بھيا۔۔۔۔يہيں کپڑے دھوتے وقت منڈ پر رکھ کر بھول گئي تھي، ميں نے عمدہ جھوٹ بولا ارے بھي وہ کالا سا بڑھي گنپت جو نيچے کے کمرے ميں رہتا ہے آيا تھا، شايد اس کي نظر پڑ گئي ہو اور وہ اٹھالے گيا ہو وہ آدمي کچھ بد معاش سا معلوم ہوتا ہے، اور فورا ہي ميں نے بسنتو کي طرف غور سے ديکھا وہ ايک دم ٹھٹک گئي تھي اور اس سانوالا چہرہ سرخ انگار ہو گيا تھا۔
بيچارہ بوڑھا گلاب چند دفتر کي ميز پر صرف بسنتو کيلئے نہيں جھکتا بلکہ ناوابستہ طور پر گنپت کو بھي پالتا ہے، آج معلوم ہوا کہ دنيا مجبور اور تسري ہوئي عورتوں کا پيش صرف جسم بيچنا ہي نہيں بلکہ خريدنا ہے۔
مجھ پر اس واقعہ کا بڑا اثر تھا، بسنتودن بھرميري آنکھوں ميں سمائي رہتي ميرے دل ميں ايک بے چيني بسي تھي کہ نرم و گداز چھاتيوں کے پيچھے دھڑکتے ہوئے دل ميں کيا کيا ابھرتا ہے، لمبے رنگين آنچل کے پيچھے چھپے ہوئے چہرے کيونکر مسکراتے ہيں، ميں يہ ہي سوچتا بے مطلب بے مقصد تنگ اور پريچ گليوں ميں جو عورت ہي کي طرف پر اسرار ہوتي ہے، رات کے تين بجے تک پھرتا رہا پھر چنتا مني بلڈنگ پہنچا، جب ميں اوپر کي منزل کو جانے والا زينہ طے کرنے لگا تو زينے کے سائے ميں مجھے کوئي چھپا بيٹھا نظر آيا، ميں سمجھا کوئي بھيک مانگا ہوگا، جو عالي شان مکانوں ميں اور اونچے اونچے محلات والي سرزمين ميں بھي خانما برباد ہے، اور اپنے کمرے ميں چلا آيا، آج بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر لالٹين ميں تيل نہ تھا، اس لئے مجبور سگريٹ سلگا کر اپنے دروازے کي چوکھٹ پر جا پہنچا مدھم سي چاندني بام دور پر پھيلي ہوئي تھي، اور ايک سپيد اداسي اور خاموشي کائنات پر چھائي ہويي تھي، ميں وطن ميں ہزاروں ميل دور بيٹھي ہوئي روشني کو ياد کر رہا تھا کہ نيچے سے ايک ہلکي سيٹي کي آواز پھر کسي کے کھکھارنے کي مدھم آواز۔۔۔۔يہ معني خيز ايک ہلکي سے سيٹي اور کھکھارنے کي مدہم آواز يقينا کسي کو بلا رہي تھي مہر کس کو۔۔۔۔۔ميں اٹھ کر ديکھنا ہي چاہتا تھا کہ بوڑھے گلاب چند کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور تھوڑي دير تک کھلا ہي رہا مگر اس ميں سے کوئي نہ نکلا يہ کيوں مجھے يقين ہوگيا ہے کہ بسنتو ہے ۔

ورنہ گلاب چند ہوتا تو باہر آجاتا، يہ ہچکچاہٹ کسي میں وہي بيٹھے بيٹھے مصنوعي طور پر کھانس پڑا، دوازہ آہستہ سے بند ہوگيا۔
اب ميں سب سمجھ گيا کہ يہ نيچے سيٹيا کون بجا رہا ہے اور کون کھکھارتا ہے گلاب چند سو رہا ہے اس لئے بسنتو کي دل کي امنگين جاگ پڑي ہيں، سيٹيوں کي آواز پر بين کي متوالي ناگن کي طرح مست ہورہي ہے۔
ميں سگريٹ سگريت اڑاتا وہي بيٹھا رہا اسي طرح آدھا گھنٹہ گزر گيا، پھر گلاب کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ميں اندر کي طرف دبک گيا اب ميں نے بسنتو کا باہر جھانکتا ہوا سر بھي ديکھا اور عمدہ شرارت ميں کھانس پڑا ساتھ ہي ميں نے بسنتو کي ہلکي ہلکي آوازيں سنيں، ناتھ۔۔۔۔ذرا جاگو۔۔۔اٹھو۔۔۔اٹھو۔۔۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 06:27 PM   #5
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,168
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دودھ میں مکھی

کيا ہے بسنتو ۔۔۔۔يہ گلاب کي آواز تھي۔
ناتھ ۔۔۔۔۔اب يہاں ہمارا گزارہ نہيں ہو گا يہ جگہ شريفوں کي نہيں ہے۔
بسنتو کي ہلکي ہلکي سسکيوں کي آواز ميں نے سني چند لمحوں کے بعد گلاب چند کے کمرے کا دروازہ کھلا اور گلاب چند گاليان بکتا ہوا باہر نکلا، اس کے ايک ہاتھ ميں لمبي لکڑي اور ايک ہاتھ ميں لالٹين تھا، ميں دروازہ پر ہي کھڑا تھا اس نے ميري طرف ديکھا اور کہا، کيوں بے کمينے اپنے آپ کو بڑا پارسا بتاتا ہے اب کہاں گئي تيري پارسائي اس لکڑي سے تيرا سر نہ پھوڑ دونگا تو گلاب چند نام نہيں۔
ميں يکا يک پريسان ہوگيا، اور اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولا۔
ديکھو گلاب چند آخر ميں نے تمہارا کيا بگارا ہے جو گاليان بک رہے ہو، تمہارا يہ طريقہ ٹھيک نہيں۔
گلاب چند چيخنے لگا، کيا بگاڑا ہے بدمعاش ميري عورت ذرا سنڈاس تک جاري تھي تو نے اس کا ہاتھ پکڑ ليا اور پھر کہتا ہے کيا بگاڑا ہے۔
اسي اثنا ميں ہريش چندر اور دوسرے کرايہ دار بھي جمع ہوگئے پہلي منزل سے صرف گنپت دوڑتا ہوا آيا ميں نے گلاب چند سے کہا، ميں پرماتما کي قسم کھا کر کہتا ہو گلاب چند ميں نے تمہاري عورت کو کبھي بري نظرسے نہيں ديکھا تم کيا کہتےہو۔
گلاب چند بھپر گيا۔پرماتما کي قسم کھانا ہوتو کيا بسنتو جھوٹ بول رہي ہے، تيرا سر پھاڑ دونگا کمينے۔
سوئے ہريش چندر کے سب کرايہ مجھ پر لعنت ملامت کرنے لگے اور گنپت اپني ابلتي ہوئي لال لال آنکھيں نکالتے ہوئے بولا، سر بھ جاديوں پر بري نجر ڈالتے ہوئے شرم نہيں آتي ہے، عورت کا ايسا ہي سوک ہے تو ايک اٹھني کيوں نہيں خرچ کرتے، ميں اس کا جواب دينا چاہتا تھا کہ ہريش چندر مجھے زبردستي اپنے کمرے ميں گھسيٹ کر لے گيا اور اندر سے کواٹر بند کر لئے باہر گلاب چند چيختا رہا۔
کل سيٹھ ہري داس کو يہ کہہ کر ان کمينوں کو يہاں سے نکلواتا ہوں۔
گنپت نے نہلے پر دہلا مارا جروربابو۔۔۔۔جرور ان بدمعاشوں کو جرور سزا ملني چاہئے۔
دوسرے دن مجھے کمرہ چھوڑنے کا نوٹس ملا، ميں نے اسباب کمرے سے نکالتے ہوئے بسنتو کي طرف ديکھا جس کے چہرے کي طرف ايک لمبا گھونگھٹ لہرا رہا تھا۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 11-04-08, 01:49 PM   #6
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,173
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دودھ میں مکھی

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر

بہت معیاری شئرنگ ہے

امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے
خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے

رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, گانے, لوگ, لوٹے, لمحوں, نظر, معلوم, آج, اللہ, جھوٹ, جواب, خوش, خلاف, خرم, دوست, دل, سودا, شام, عورت, صبح, صدا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
کوئی بھی ڈرائیو کسی بھی Window میں Hide کریں عبدالقدوس کمپیوٹر کی باتیں 1 01-07-08 09:16 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:46 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger