|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,846
کمائي: 277,977
شکریہ: 1,150
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بالکل خالی الذ ھن ہوں لیکن کوئی ایسی چیز سامنے آجاتی ہے جو ایکد م سے چونکا د یتی ہے اور ایک ایسی کہانی سننے کو ملتی ہے جو انسان کے اندر ایسی تبدیلی یا سوچ لے آتی ہے کہ خود اپنی زات بھی کچھ کر گزرنے کے لئے تیّار ہو جاتی ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کافی دن سے سب بہت مصروف تھے کچھ اپنے اپنے آفسز میں اور کچھ پڑھا ئی میں جسکی وجہ سے دو تین ہفتوں سے سب ایک ساتھ باہر نہ جا سکے تھے اسدفعہ تین چھٹیاں ایک ساتھ تھیں سب نے پروگرام بنایا کہ ڈاؤن ٹا ؤن چلتے ہیں لہزا ہم سب صبح جلدی نکل گئے – بہت د ن بعد سب ایک ساتھ تھے لہزا دونوں کاریں آگے پیچھے تھیں اور بچّے ایک دوسرے کو چھیڑتے ہنسی مزاق کرتے ڈاؤن ٹاؤن پہنچ گئے – مالز وغیرہ میں گھومے اور پھر بچوں کا دل اسٹار بکس میں اٹّک گیا میں کیونکہ کافی صرف گھر کی بنی ہوئی پیتی ہوں اس لئے میں نے ان لوگوں سے کہا تم کافی پیئو میں باہر چیئر پر بیٹھونگی ،دھوپ بڑی اچھی نکلی ہوئی تھی گو ٹھنڈک تھی مگر تکلیف دہ نہ تھی ،دھوپ یہاں انتہا ئی تیز لگتی ہے لگتا ہے کہ کرنیں سیدھی زمین پر آتی ہیں میں چئر پر بیٹھ گئی اور میری متجسس طبیعت چاروں طرف گھومتے پھرتے لو گوں کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک میری نظر کافی ھا ؤس کے برابر کی دیوار سے ٹک کر بیٹھے ایک ضعیف شخص پر پڑی ،جسکے برابر ایک ٹرالی پڑی تھی جسمیں اسکا سارا سامان رکھا تھا جو کالے ٹریش بیگز میں تھا ،اسنے گرم کپڑے پہنے ہوئے تھے جوتے بھی پہن رکّھے تھے لیکن جس چیز نے میری توجّہ اسکی طرف مبزول کی وہ کینیڈا کا جھنڈا تھا جسکو اسنے اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا جیسے سب سے قیمتی سرمایہ اسکا یہ ہی تھا میں بیحد حیران ہوئی اسکی اس انسیّت نے مجھے اس سے بات کرنے پر اکسا یا میں نے اسے کچھ پیسے دیئے جو اسنے تھینک یو کہہ کر لے لئے وہ نشے میں نہیں تھا مگر کمزور ضرور تھا
میں نے کہا میں اگر کچھ پوچھوں تو برا تو نہیں مانو گے اسنے کہا نہیں میں نے پوچھا تم نے فلیگ کیوں اٹھایا ہوا ہے کوئی قومی دن تو ہے نہیں اور اسکو تم نے ٹرالی میں بھی نہیں رکھا بلکہ سینے سے لگایا ہوا ہے اسنے کہا ھاں کیونکہ صرف اس نے میرا ساتھ ابھی تک نہیں چھوڑا یعنی میرے ملک نے اسنے ہنستے ہوئے کہا اور جھنڈے کو اور زور سے بھینچ لیا میں اسکی بات پر بڑی حیران ہوئی میں نے کہا " تمہارے پاس تو گھر بھی نہیں ہے تم ٹرالی پر اپنا سامان لے کر پھر رہے ہو اور کہتے ہو کہ ؛ اس نے میری بات بیچ میں کاٹ دی " کہنے لگا "تمہارے پاس وقت ہے تم میری کہانی سنو گی میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی کہانی سنا ؤں مگر کو ئی میری طرف توجّہ نہیں دیتا تم نے نہ معلوم کیوں مجھ سے بات کی " میں نے کہا "میں ضرور تمہاری بات سنونگی تم نے جسطرح فلیگ پکڑا ہوا ہے اس نے مجھے تم سے بات کرنے پر مجبور کیا کہ تمہیں اپنی ٹرالی کی بھی فکر نہیں ہے مگر فلیگ کو تم نے سینے سے لگایا ہوا ہے " وہ مسکرایا کہنے لگا میرا بھی گھر تھا بچّے تھے بیوی تھی پھر میری بیوی بیمار ہو گئی اسکے علاج پر میرا بہت پیسہ خرچ ہو گیا وہ ٹھیک ہو گئی میری دو بیٹیاں تھیں وہ پڑھ رہی تھیں بیٹیاں ہمارا خیال رکھتی تھیں ایک نے ھائی اسکول پاس کر لیا تھا اور کالج میں ایڈ میشن لے رہی تھی چھوٹی اس سے ایک سال پیچھے تھی وہ ابھی اسکول میں تھی کہ میری بیوی پھر بیمار ہوئی اور ختم ہو گئی میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا اس لیئے بہت مشکل جابز کر تا تھا جس سے پیسے کم ملتے تھے لیکن میں نے پھر بھی ایک گھر لیا ہوا تھا ماں کے نہ ہونے سے بچیاں حراساں ہو گئیں اور میں بھی بہت تنہا ہو گیا ماں کے نہ ہونے سے ایک بیٹی غلط دوستوں میں پھنس گئی اور اسنے سگریٹ پینا شروع کر د یا بڑی نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنا شروع کردیا اور پھر اس سے شادی بھی کر لی میں نے روکنا چاہا مگر اسنے کہا کہ وہ ایڈ لٹ ہے اور اپنا فیصلہ خود کر سکتی ہے اسطرح وہ مجھے چھوڑ گئی اسنے اپنی چھوٹی بہن کا بھی خیال نہیں کیا کچھ عرصے تک وہ فون کرتی رہی کبھی کبھی وہ اپنے شوہر کے ساتھ آکر ہمیں دیکھ بھی جاتی تھی بہن سے بہت ناراض تھی کیونکہ اسکا شوہر بہن کی وجہ سے اسے میرے پاس بھی نہیں آنے دیتا تھا چھوٹی بیٹی آہستہ آہستہ دوستوں کی صحبت میں اتنی خراب ہو گئی کہ کئی کئی دن تک گھر نہ آتی اور جب آتی تو سارا سارا دن سوتی رہتی میں بہت پریشان ہو گیا سمجھ نہیں آتا تھا کہ کسطرح روکوں اگر سختی کرتا تو وہ چھپ کر نکل جاتی اور ہفتو ں شکل نہ دکھا تی میں بالکل تنہا ہو گیا پھر مجھے ایک دوست ملی اسکا شوہر نہیں تھا مگر ایک بیٹا تھا یعنی وہ سنگل پیرنٹ تھی اپنے بیٹے کو پال رہی تھی اسکا بیٹا اچھا تھا ان تمام پریشانیوں میں میری جاب ختم ہو گئی تھی میری دوست نے میری مدد کی اور ایک وئر ھاؤس میں جاب دلا دی پھر ساتھ رہتے رہتے ہم اس بات پر تیّار ہو گئے کہ شادی کر لیں اسنے اپنے بیٹے سے پوچھا اسے کوئی اعتراض نہ تھا میں نے ا س سے شادی کر لی اور میری زندگی میں کچھ سکون آگیا مگر میری بیٹیاں مجھ سے ناراض ہو گئیں اور چھرٹی تو بالکل آؤٹ ہو گئی پھر ایک دن وہ جو کچھ اسکے ہاتھ لگا لے کر ایسی گئی کہ پھر اسکا پتہ ہی نہ چلا کہ اسپر کیا بیتی د و سال گزر گئے ان سالوں میں میں نے محسوس کیا کہ وہ لڑکا جیسے جیسے بڑا ہو رہا تھا ماں پر ھاوی ہو رہا تھا میں کچھ بولتا تو وہ سخت رویہ اختیار کرتا اور میری بیوی بھی اسکے ہی ساتھ ہو جاتی پھر ایک دن اسنے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر دیا میں حیران ہو گیا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا میرا سب کچھ اسکے پاس چلا گیا مجھے دنیا سے نفرت ہو گئی اسنے مجھے گھر سے بے گھر کر د یا اور میں اپنا سامان لے کر سڑک پر آگیا کچھ سمجھ نہ آیا کدہر جاؤن کس سے پناہ مانگوں میں نے بڑی بیٹی سے بھی ناطہ توڑ لیا میں اتنا ٹوٹ گیا کہ کہ بس سوچا کہ اب روڈ ز ہی میرے ہیں میرا اعتبار سب پر سے اٹھ گیا بس مجھے میرے ملک کی زمین اور اسکے آسمان نے سہارا دیا ہوا ہے جہاں دل چاہے رات کو سو جاتا ہوں سارا دن گھومتا پھرتا ہوں تھک جاتا ہوں تو کسی دیوار سے ٹک کر بیٹھ جاتا ہوں یہاں میرے جیسے بہت سے ہین میرے ملک کے لوگ مجھے اتنا دے د یتے ہیں کہ بھوکا نہیں رہتا اسلئے مجھے اپنا جھنڈا بہت عزیز ہے کہ میرا ملک مجھے سونے کی جگہ دیتا ہے بیٹھنے کو زمین دیتا ہے اسپر سے مجھے کوئی اٹھا تا نہیں جہاں میں سوتا ہوں وہاں مجھے سونے سے کوئی روکتا نہیں بس یہ ہی وجہ ہے کہ میں اپنے جھنڈے کو سینے سے لگا کر پھرتا ہوں کہ سارے سہارے جھوٹے ہیں سوائے اسکے اور وہ مجھے حیران چھوڑ کر اپنا جھنڈا سینے سے لگا ئے ٹرالی کھینچتا ہوا بغیر میرا کو ئی جواب سنے چلا گیا اور میں حیران تھی کہ محبت کرنے کے لئے خاص کر اپنے ملک سے محبت کے لئے کسی بھی چیز یا وجہ کی ضرورت نہیں ہے اور ایسے ہی لوگ ہمیں اپنی مٹی اپنی زمیں سے اپنے ملک سے محبت کا ایسا انمول د رس د یتے ہیں جو ہم بھلا نہیں سکتے اور یہ ہی میرے ساتھ ہوا بچے واپس آگئے اور ہم سب گھر کی طرف رواں دوا ں تھے مگر میرے خیالات میں ایک انقلاب تھا کہ وطن سے محبت بہت بڑا سرمایہ ہے ان محبت کرنے والوں ہی سے ملک قا ئم ہیں ایسا شخص جو صرف اپنے ملک کی زمین اور آسمان استعما ل کرتا ہے اور اتنا شکر گزار ہے د رس ہے ان لو گوں کے لئے جنکے ملک انہیں ہر دولت سے نوازتے ہیں کہ وہ اپنے ملک سے ایسی ہی محبت کریں جیسا ایک ھوم لیس جسنے مجھے پر خلوص محبت کا ایک نیا د رس د یا کہ اچھی بات تو کسی کی بھی اثر کر جاتی ہے صرف چشم بینا چاہئے اور ا ثر قبول کرنے والا دل کاش وہ جنکے پاس سب کچھ ہے اپنے ملک سے ایسی ہی محبت کرنے لگیں تو سارے د کھ دھل جائیں اے کاش الفاظ الفاظ نہ رہیں عملی جامہ پہن لیں اے کاش میرے دل نے کہا واقعئ یہ ملک اور جھنڈا ہی ہے جو ہر بھوکے ،ننگے ،کالے ،پیلے ،گلابی ،سفید،بھورے سبکو اپنے اندر ایک ماں کی طرح سمیٹ لیتا ہے یہ ملک ہی ہے جو اپنے بسنے والوں کو کبھی دھتکارتا نہیں پہچان دیتا ہے ،امان دیتا ہے ۔ یہ تو ہم رہنے والے ہیں جو اسکے حصّے بخرے کر دیتے ہیں کہ یہ اس جگہ کا ہے تو وہ اس جگہ کا اور مجھے خیال آ یا کہ واقئ یہ بانٹ تو ہم نے کی ہے ملک تو ایک جھنڈے تلے سب کو سمیٹے ہوئے ہے وہ تو یہ نہیں پوچھتا کہ تم مہاجر ہو پنجابی ہو پٹھان ہو بلّوچی ہو سرائیکی ہو یا سندھی ۔نہ وہ یہ پوچھتا ہے کہ تمہارا مز ہب کیا ہے وہ تو تمہیں آزادی دیتا ہے کہ تم سب میرے نام سے ہو میری پہچان بنو بس میرے بن جاؤ مجھ سے محبت کرو جیسا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں میں نہیں پوچھتا کہ تم کیا ہو بس سبکو اپنے سینے سے لگاتا ہوں یہ تو تم ہو جو خرابی لاتے ہو بٹ جاتے ہو مصلحت کے نام پر حالات بناتے ہو آپسمیں اختلاف پیدا کرتے ہو میں نے تو تمہیں ایک جھنڈا ایک نام دیا ہے کاش اپنی عظمت اپنی وقعت پہچانو کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اسی میں مجھے کہیں اپنے وطن کی آواز بھی سنا ئی دی اور میں نے گھر آکرپاکستان کے جھنڈے کو سینے سے لگا لیا کہ نہ اپنی اصل کو بھولو اور نہ اپنے حال کو ہر لمجہ ایک سبق دیتا ہے صرف طلب کی بات ہے آپ بھی عالم آرا کے ساتھ اس طلب میں شامل ہو جائیۓ کہ ہماری بقا ہما ری پہچا ن میں ہے اور ہماری پہچان ہمارا ملک ہے کہ کہیں بھی رہیں دل پاکستانی ہی رہنا چاہۓ۔ عالم آرا والسلام زارا |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | جانی (28-02-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: کسی کے دل میں
مراسلات: 143
کمائي: 1,298
شکریہ: 145
83 مراسلہ میں 135 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی شئیرنگ ہے زارا جی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کالج, پہچان, پاکستانی, نفرت, نظر, ماں, محبت, معلوم, انمول, انسان, بچوں, جواب, دل, رات, زندگی, سال, شخص, طلاق, علاج, عالم, عزیز, عظمت, غلط, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: | پاکستانی | خبریں | 2 | 23-02-12 06:09 PM |
| اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد | کنعان | دیس ہوئے پردیس | 4 | 12-12-09 11:55 PM |
| جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو | ابن جلال | خبریں | 0 | 11-10-08 11:03 PM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 08:45 PM |
| السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے | Zullu230 | تعارف | 9 | 21-07-07 10:59 PM |