واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




سناٹے کی گونج

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-07, 10:25 PM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default سناٹے کی گونج

سناٹے کی گونج

بشکریہ جیو اردو

سناٹے کی گونج
سیاہ رات کا چہرہ تاروں کی جوت کے باوجود اندھیرا لگ رہا تھا، دور تک پھیلے کھیت خاموشی کی تنی چادر تلے حد حد نظر پھیلے تھے، اس نے چمکتے ہوئے جگنوﺅں کو دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں ایک ساتھ جگمگارہے تھے وھ کھیتوں کے بیچ بنی پگڈنڈی پر بیٹھ گیا ، ساڑھ کی نرم ہوائیں سر سراہٹ کرتی مکئی کے کھیتوں میں سے گزر رہی تھیں وہ خود کو ویران اور تنہا محسوس کر رہا تھا اس نے اپنی پگڑی اتار کر گھٹنوں پر رکھ لی، ویرانی کا احساس اس کے اندر بڑھ رہا تھا، اس ویرانی کا احساس جو ملکھی کے انگار نے اس اندر پیدا کیا تھا۔

ایک روز ملکھی نے کہا سن فضل دین کے سورے زبردستی کے سودے نہیں ہوتے، میں اگر مجبور بھی کروں تو اپنے دل کو تیری راہ پر نہیں لاسکتی، پھر اس سارے، جھگڑے سے کیا فائدہ، ملکھی نے چارے کے بڑا سا گھتا اٹھایا تیا اور آگے چل دی تھی، اس نے آگے بڑھ کر ملکھی کا بازو پکڑنا چاہا تھا لیکن نہ جانے کیوں وہ پانے اندر سکڑ کر رہ گیا تھا، حالانکہ وہ نہ جانے کب سے اپنے آپ کو ملکھی کی راہ میں کھڑا پایا تھا۔
ملکھی کا سادہ لباس اس کا دراز خوبصورت وجود اس کی آنکھیں جو سبز کھیتوں پر چمکتے ستاروں سے زیادہ روشن لگتی ہیں، ملکھی ٹھیک ہی تو کہتی ہے دل پر کیا زور اور اس کا دل ہمیشہ کی طرح ملکھی کو دیکھ کر زور زور سے دھڑک رہا تھا اور ملکھی کے انکار کا تیز لاوا تھا جو اس کے سارے وجود کو اس کی آنکھیں جو سبز کھیتوں پر چمکتے ستاروں سے زیادہ روشن لگتی ہے۔

ملکھی ٹھیک ہی تو کہتی ہے دل پر کیا زور اور اس کا دل ہمیشہ کی طرح ملکھی کو دیکھ کر زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور ملکھی کے انکار کے انکار کا تیز لاوا تھا جو اس کے سارے وجود کو جلا رہا تھا، وہ اپنے کھیت کی مینڈ کو پھاوڑے سے ہموار کرنے لگا پھاوڑا تیز تیز چل رہا تھا، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی پھاوڑے سے اپنا سینہ چیر ڈالے اور اس کو نکال پھینکے جو صرف ملکھی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے، اس روز سورج کا چہرہ فصلوں کی ہریالی پر جھکا ہوا تھا اور نیلا شفاف آسمان بہت ہی نکھرا ہوا اور اجلا لگ رہا تھا، آسمان کا رنگ ملکھی کے چہرے سے زیادہ من بھاتا تو نہیں تھا وہ اپنی سوچ پر بے لسی سے کھڑا رہ گیا تھا ہوا رات کی سیاہی میں کھلی فصلوں پر بہہ رہی تھی اور اس کے اندر کی آگ اسی طرح مہک رہی تھی کیا یہ آگ ملکھی کے خون نے ٹھنڈی کر دی تھی۔

ملکھی جو حیسن علی کے پیچھے دیوانی ہوکر اسے بھول بیٹھی تھی، ملکھی جس نظروں سے حسین علی کے سوا اور کوئی سماہی نہ سکا، کھیتوں سے سرکارمدھم شور اٹھ رہا تھا ملکھی آخری سانسیں لے رہی تھی جیسے وہ اس کے سامنے پڑی کراہ رہی ہو جیسے کہہ رہی ہوں حسین علی۔۔۔۔حسین علی فضل دین نہیں۔ وہ کچھ نہیں سننے کی کوشش شاید اس کی کراہیں اس کا پیچھا کرنے لگی ہیں تم میری کراہوں سے اتنی جلدی پیچھا نہیں چھڑا سکو گے فضل دین، جیسے ملکھی کی آنکھوں کا کرب کہہ رہا ہو اس نے خون آلود پھارے کو دیکھا جو ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا، خون جو ملکھی کے چہرے پر شفق بن کر دہکتا تھا، اس نے ایک دم پھاوڑے کو اپنے ہاتھوں سے پھینک دیا اور آگے چل پڑا لیکن اسے لگ رہا تھا کہ اس کی ٹانگین بوجھل ہوکر اس کے جسم کو نیچے کی طرف گھسیٹ رہی ہیں۔
صبح ہونے میں تو ابھی بہت دیر ہے اس نے مشرق کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا مجھے چلنا چاہئیے پولیس میرے تعاقب میں ہوگی لیکن وہ تو بس ملکھی کے بارے میں سوچے جا رہا تھا، دم گھونٹ دینے والا سناتا اس کےسب طرف پھیلاہوا تھا دور کسی درخت پر ایک الو تیز چیختی ہوئی آواز میں بولا۔۔۔۔ہو۔۔۔۔ہو۔۔۔ہو۔

میری روح کا بوچھ ہٹ جانا چاہئیے تھا، لیکن میں تو اس سے بڑھتے بوجھ میں پس رہا ہوں، وہ وہاں کھڑا ہوگیا، جیسے اسے کہیں نہ جانا ہو، ملکھی نہیں رہی، دکھ کا انجانہ ہاتھ اس کے دل کو مسل رہا تھا تو ملکھی نہیں رہی نیلی بار کی سب سے خوبصورت عورت، وہ سوچوں کے دھارے میں ڈوبا، وہاں کھڑا رہا تھا، وہاں جہاں سے کوئی رہ نہ جاتی تھی، سب راہیں مٹ گئی تھیں کیونکہ اب دنیا میں ملکھی نہیں تھی اس کے اندر آگ دہک رہی تھی، یہ سناٹا اتنا گونج کیوں رہا ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے، مجھے ڈرنا نہیں چاہئیے، نیلی بار کے جوان اور گھوڑوے برابر کے بانکے اور سجیلے لگ رہے تھے، انہوں نے اپنے گھوڑوں کو اپنی بھینسوں کو دودھ پلا گھی پلا کر جوان کیا تھا ان کے بھورے چکنے بدن اور سیاہ چمکیلئے زم زمین کو نرم کر رہے تھے راکھے باگوں میں پکڑنے کی کوشش میں پسینہ پسینہ ہو رہے تھے دراز قد جوان پگڑیوں کے شملوں کواکڑاتے اتراتے پھر رہے تھے، ان کے دہکتے چہروں اور روشن آنکھوں کی جوت دن میں بھیتاروں کی مانند روشن تھی، سورج کا تھال کا تک کی نئی سردی کی سوچ میں ڈوبا ہوا گاﺅں کی دھول بکھری گلیوں کے اوپر جھکا ہوا تھا۔
حسین علی نے اپنی سیاہ چمکیلی زلفوں پر بڑے بانکے انداز میں پگڑی باندھ رکھی تھی، اور چپ چاپ اپنے سیاہ خوبصورت گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا بار بار چمکاتا ہوا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، ملکھی اللہ داد چاچا کی حویلی کی دیوار کے برابر اپنے گھر کے صحن میں کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی، اس کا سبز دوپٹہ سنہرے چہرے کے گرد ہمیشہ کی طرح کھل رہا تھا،

حسین علی نے ایک اس کی طرف دیکھا ساعت اور پھر اپنی بھینس کو کھوہ پر پانی پلانے چل پڑی، اس کا باپ اور فضل دین بھی اس میدان میں موجود تھے، اس نے حسین علی کی طرف مسکرا دیکھا تھا، اوہ وہ خود حیران رہ مجھے جسے سب ہی دیکھتے ہیں، ملکھی کو اپنے آپ ایک دم حقیر اور بے معنی سا لگنے لگا، وہ بلا وجہ ہی اپنی بھینس کو پیٹنے لگی، فضل دین نے اس کو دیکھا تھا وہ گھوڑے کو پانی پلانے کے بہانے کھوہ پر آگیا تھا ملکھی مجھے پانی نہیں پلاﺅں گی؟ ساری بات اپنے اندر کی گہرائیوں کی پیاس کی تھی، ملکھی مسکرائی، فضل دین بھلا کون ہے جو یوں اکڑ کر کھڑا ہے، جیسے ہمارے گھوڑوں سے بڑھیا ہے نا اس کا گھوڑا۔

ملکھی نے فضل دین کی اوک میں پانی انڈیلتے ہوئے سوچا، فضل دین ایک ساعت کو سر اٹھا کر دیکھا، شک کا غیر احساس اس کے اندر بھرا تھا لیکن ملکھی میں اڑتے تو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی، سورج کا چمکیلا تھا آموں کی جھنڈ کے پیچھے چھپ سا گیا تھا، ہوا کے ساتھ گرو کے نھنے نھنے بگولے میدان میں اڑتے پھر رہے تھے، اس نے پانی کے مشکیزے کی اوت لیکر ایک بار پھر حسین علی کی طرف دیکھا، پھر نہ جانے اس کے دل کے اندر کیس ویرانی بھر گئی اس نے واپس جاتے ہوئے اندر نہین دیکھا تھا، اس کے پاﺅں اٹھ بھی تو نہیں رہے تھے، یہ مجھے کیوں نہیں دیکھتا وہ سوچ رہی تھی، وہ سب اپنے شنگارے ہوئے گھوروں کی ملائم پشتوں پر سوار ہوگئے، بیل گاڑیوں پر ان کی ضرورت کا سامان لدا ہوا تھا، اور بیلوں کے گلوں میں پڑی ہوئی گھنٹیان گرد آلود ہوا میں دیر تک سنائی دیتی تھی، وہ سب شہر کی طرف مڑ گئے تھے، مویشیوں کے بڑے میلے میں حصہ لینے کے لئے، ملکھی اس خالی راہ کو کھڑی دیکھتی رہی تھی، جس راہ سے وہ چہرہ چلاگیا تھا، یہ چہرہ اس کی یاد کی سطح میں گہرا ساکھد گیا تھا، شاید اس لئے کہ ملکھی نے تو اسے دیکھا لیکن اس نے ملکھی کو نہیں دیکھتا تھا۔

پورے چار دن ملکھی اس راہ ہو کر کھیتوں کو جاتی رہی تھی، وہ چند لمحے رک کر شہر سے آنے والی راہ کو دیکھتی اور اس کے اندر غصہ بھرنے لگا اپنے نظریہ انداز کئے جانے کا غصہ۔۔۔پر میں کس کی راہ تک رہی ہوں۔۔۔۔۔کیا وہ اس راہ پر واپس آئے گا؟ اسے پتہ چل جائے گا کہ میں اس کی راہ دیکھتی ہوں پھر وہ بے جان قدموں سے اپنے چوتھے روز جب گھوڑوں اور بیل گاڑیوں کا قافلہ خوشی کے ڈھول بجاتا گاﺅں کی گلیوں میں داخل ہوا تو وہ بھی شور کرتے بچوں اور گاﺅں کے دوسرے لوگوں کے پیچھے کھڑی خوشی کی انجانی روشنی میں گلابی ہو رہی تھی،

مراثی ڈھول بجا رہے تھے، چاچا کی حویلی کے سامنے رنگین پایوں والی کھاٹیں برابر بچھی تھیں، کامے خاطر رواضع کرتے تیز تیز قدموں سے آجا رہے تھے، ملکھی اپنے صحن کی دیوار کی اوٹ میں کھڑی اس رونق اور شور میں اس چہرے کو ڈھونڈنے لگی، جوا سے کہیں نظر نہ آرہا تھا، تو بغیر کسی سبب کے مسکرانے لگی تھی، اس نے ماں سے بڑی منتوں سے موٹی طل کا نیا سبز دوپٹہ مانگا تھا، آنکھوں میں دئیے کی لو پر بنائے گئے، کا جل کی تیز لکیر لگائی تھی، کیوں ملکھی کہاں جارہی ہو؟ ماں نے ڈانٹا تھا لیکن اسے ماں کی ڈانٹ کی ذرا بھی بری نہیں لگتی تھی، وہ تو صرف ایک بار اس چہرے کو دیکھنے جارہی تھی، ماں ذرا رونق دیکھ رہی ہوں، روز روز تو ایسی رونق نہیں ہوتی نا ماں، وہ کچھ اور آگے بڑھ گئی، وہ میری طرف نہیں دیکھ رہا۔۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں رنجیدہ ہوگئی تھی۔
جوانوں کی تیز تیز باتیں قہقہے بچوں کا شور مراثی کے ڈھول کی بھاری آواز لیکن اسے لگ رہا تھا،

جیسے اس کا دل اس کے پہلو میں ٹہر گیا ہو، سب طرف ڈھول اڑ رہی ہو وہ کھڑی رہی اور پھر واپس آکر چار پائی پر بیٹھ گئی، اس نے اپنے نئے دوپٹی کو اتار کر بے دلی سے پھینک دیا، اور وہی ہی سیادہ دوپٹہ اوڑھ لیا جو بد رنگ ہو چکا تھا، ہوا ہولے ہولے اڑ رہی تھی مکئی کی باس، گنے کی میٹھی باس اور گرد کی باس، سب کچھ اس کے بھاری ذہن پر تیر رہا تھا، باہر گیس کے ہنڈولوں کی تیز روشنی میدان کو جگمگا رہی تھی میں نمانی ہنجوان ماری۔۔۔۔صالو بھیو۔۔۔۔۔مراثی کوئی نیا گیت گا رہا تھا، وہ اٹھ کھڑی ہوئی، کیسا اداس گیت گا رہا ہے، کیسا غلط گیت ہے، یہ وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی آسمان سیاہ تھا، اور ستارے جیسے بہت دور چمک رہے تھے، جی آیا نوں جی آیا نو، اس کی مان کہہ رہی تھی، اس نے سامنے دیکھا وہ خوبصورت دہکتا چہرہ اس کا سارا وجودایک دم انجانی خوشی میں بھیگ گیا اور وہ مسکرادی، حسین علی جیسے گھبرا کر بیٹھ گیا، بدھو کہیں کا، ملکھی زیر لب مسکراتے ہوئے بولی۔
ماں نے اسے اور کھلایا، وہ سارا وقت کیا کرتی ہے، اسے کچھ یاد نہیں تھا، بس وہ ایسے قدموں کے ساتھ جو اس کے وجود کو اڑائے پھر رہے تھے یہاں موجود رہی تھی اور جب حسین علی اس کے پاس سے گزر کر آگے بڑھنے لگا تھا تو وہ آہستہ سے بولی تھی کیا تمہاری آنکھیں نہیں جو دوسروں کو دیکھ سکیں، اور پھر تیزی سے اندر کوٹھری میں چلی گئی، اس کو لگ رہا تھا جیسے تیز آگ اس کے جسم کو جلا رہی ہے، اب کیا ہوگا، اب کیا ہوگا، وہ کیا سوچے گا، اس نے کوٹھری کے اندھیرے میں کھڑے ہوکر اپنےدونوں ہاتھ آگے پھیلادئیے کسی دیوار کا سہارا لے کر کھڑا ہونا چاہ رہی تھی لیکن سہارا کہا تھا،

۔۔۔۔سن۔۔۔۔سن۔۔۔۔سن لہریں اس کی جسم میں داخل ہو رہی تھی، حسین علی کے خوبصورت چہرے سے نکلتی جن سے وہ آج تک آشنا نہیں تھی، وہ تب تک کچھ نہیں دیکھتا اور مجھے اسے دکھانا ہے اپنا آپ میں جو لکھیں ہوں، ملکھی جس کا کوئی جوڑ دس گاﺅں میں نہیں وہ ضرورمجھے دیکھے گا، میرے سیاہ لمبے بالوں کو، میرے سنہرے رنگ کو، میرے سارے روپ کو، اس نے ہولے ہولے اپنے جسم پر ہاتھ پھیرے، میں تو وہ ہوں ، جس کیلئے فضل دین جیسا نوجوان راہوں میں کھڑا رہتا ہے، یہ کیس تپش میرے اندر سے اٹھ رہی جی کو جلانے والی، آج کی رات ہاں آج کی رات ہوسکتا ہے، یہ رات پھر کبھی نہ آئے، اور پھر نہ جانے کیسے وہ حسین علی کی کھاٹ کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی اور جب حسین علی جاگا تو وہ خاموش کھڑی رہی تھی اپنے سے آگاہ اپنے جادو کا زور جانتی ہوئی اپنے جسم کی قوسوں سے مانوس، کون ہو تم؟ حسین علی کی آواز خوفزدہ تھی، میں جکو بھی ہوں صرف تیری ہوں، ملکھی نے اس ٹیالے اندھیرے میں اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا، اور اسے لگا جیسے یہی وہ سچ تھا جسے بولنے کیلئے وہ زندہ تھی، کھیت کے کانرے چاند کا کمزور سا ابھرتا ہوا وجود بڑا ہی اکیلا لگ رہا تھا، پاس ہی باڑے میں مویشی سوئے جاگے جگالی کر رہے تھے، اس ساری خاموشی میں صرف ایک اس کا دل تھا جو تیز تیز دھڑک رہا تھا اس کے اختیار سے باہر اس کی مرضی کے خلاف وہ تو بس اس کے شوق کو ہوا دینا چاہتی تھی، اور اب وہ اپنے اندر کے سچ سے کائف ہورہی تھی حسین علی خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا تم بولتے کیوں نہیں؟

وہ قطرہ قطرہ بہہ کر اس کے قدموں میں ڈھیر ہو رہی تھی، اس کا سارا انر اس کا سارا زندہ رہنے کا احساس وہ جو کچھ بھی تھی بس اس مرد کیلئے تھی، یہ مرد جو نہ جانےکیوں اسے بھاگیا تھا، میں کیا بولوں؟ حسین علی کی آواز میں لرزش سی تھی، کیا میں تجھے اچھی لگتی ہوں؟ وہ اپنی آواز میں آس کا سارا دے کر بولی، یہ درد اس کی آواز میں لرز رہا تھا، میں عورتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا وہ اب بھی گھبرایا سا کھڑا تھا، مجھے عورتوں کا شوق نہیں، ملکھی ہولے سے ہنسی اسے یہ ڈر سا مرد اور بھی اچھا لگ رہا تھا، توعورتوں کا شوقین نہیں لیکن میں تیری شوقین ہوں، حسین علی۔۔۔میں عورت تو ہوں، لیکن یہ عورت ملکھی ہے، لے مجھے دیکھ لے پھر بتانا، وہ درخت کے سائے سے نکل کر چاند کے مدھم روشنی میں کھڑی ہوگئی، اس کا شاخ کی طرح لچکیلا بدن اس کی آنکھوں میں جلتی ہوئی آنوکھی جوت، وہ اس ملکھجے اندھیرے میں بھی اجلی لگ رہی تھی، اس کے چہرے پر عجیب سا انتظار تھا وہ اسے کچھ لمحے دیکھتا رہا پھر آنکھیں جھکا کر کھرا ہوگیا، ملکھی مسکرا رہی تھی، اپنی فتح مندی کے یقین پر جواب دو۔
میں پھر جواب دوں گا، کسی وقت پھر وہ تیزی سے پلٹ کر اندر چلا گیا، وہ ہیں لمگجے اندھیرے میں کھڑی رہ گئی تھی، جیسے ساکت ہوگءکھیتوں پر چلتی ہوا آگے بہتی جا رہی ہے، آنسوﺅں کی گرم دھار اس کے گالوں کو بھگونے لگی لیکن وہ مایوس نہیں تھی، وہ بہت کچھ کر سکتی تھی، لیکن اس وقت وہ صرف اس مرد کے بارے میں سوچیت جارہی تھی جو گھبراہٹ کے مارے اس کے چہرے کو پوری طرح دیکھ بھی نہیں سکا تھا، میں ملکھی ہوں اور حسین علی ایک مرد ہے، اس نے یقین کے ساتھ سوچا پھر دل کی تہوں سے اٹھتا درد ہی بڑا جان لیوا لگ رہا تھا، اور وہ مسکرانے کی خواہش کے باوجود مسکرانےکی خواہش کے باوجود مسکرا نہیں سکتی تھی، میں ملکھی ہوں اس نے زیر لب دہرایا، اور وہ وہاں سے بے کنا وسعت میں کھڑی اپنے آپ کو پہلی اکیلا اور ویران پارہی تھی، کھیتوں سے آتے کھیتوں کو جاتے، وہ جان پورے سے آنے والی راہ پر رک جاتی چارے کا گھٹا اٹھائے وہ بلوتے چرخہ کاٹتے وہ جاگتی آنکھوں سے ایک خواب سا دیکھ رہی تھی، اپنے آپ سے کئی گئی باتیں ہوتین اور حسین علی کے چہرے پر دمکتی ہوئی لالی کا رنگ ہوتا، وہ بھی میرے بارے میں سوچتا ہوگا، چلتے چلتے وہ رک جاتی ہوسکتا ہے، وہ اسی راہ پر چلا آرہا ہوں، لیکن راہ خالی ہوتی۔

پودہ کے مہینے کی یخ سردی تھی اس کے اندر کی تپش کو ٹھنڈا نہ کرسکتی تھی اور وہ اپنی کوٹھری کا دروازہ کھولے خاموش کھڑی ہوجاتی، دور دودھیا آسمان پر چاندکا پورا چہرہ تھتھر ہوا اور روشن لگتا وہ اپنی کیفیت پر خود بھی حیران تھی ، اس نے اپنے آپ کو بار بار سمجھایا تھا لیکن کوئی نادیدہ قوت بار بار اسے حسین علی کے دمکتے ہوئے چہرے کی بھول بھلیاں میں پینسا دیتی، اور وہ خوفزرہ ہوکر کام میں مصروع ہونے کی کوشش کرتی، ایک دن اسنے فضل دین کو کہا تھا، دیکھ فضل دین میری راہ نہ روکا کر میں جہاں تجھے نظر آتی ہوں وہاں نہیں ہوتی، میں تو پتہ نہیں کہاں ہوتی ہوں، مجھے تو اپنی خبر نہیں لگتی۔

اور وہ ہولے ہولے ہنسنے لگی، بے چارگی کی ہنسی لگتا ہے ملکھی جیسے کھوئی چیز کو ڈھونڈ رہی ہو تم ہوسکتا ہے، وہ کھوئی ہوی چیزوں میں ہی ہوں، فضل دین کے چہرے پر محبت کرب تھا، ملکھی نے اسے دیکھا اور زور سے ہنس پڑی تو تو پاگل ہے میں تو ساگ توڑ ہی ہہوں بھلا یہاں کیا گم ہوسکتا ہے میرا، ملکھی تیزی سے ساگ توڑنے لگی، فضل دین اسے ساگ توڑتے دیکھتا رہا، ملکھی ہوگیا اس دھلے نکھرے ماحول میں سرسوں کے پیلے پھول ہوا میں ہولے ہولے آگے پیچھے جھوم رہے تھے چڑیوں کا ایک جھنڈ تیزی سے آکر کھیتوں کی ہریالی میں گم ہو گیا، فضل دین اور وہ اس سعت میں گھرے اپنے اپنے دل کی دنیا میں کھو سے گئے تھے، دل جو اپنے اندر ایک جہاں کی وسعت سمیٹ لیتا ہے، اور پھر ملکھی دامن کو سمیٹے اپنے گھر کی طرف مڑگئی اور میری بد نصیبی کا وقت تھا، جب میں نے اسے دیکھا تھا، ملکھی خم زدہ ہوکر سوچتی جارہی تھی اسکا دل چاہ رہا تھا وہ اپنی روح کی پوری شدت سے حسین علی کو آواز دے، اسکا نام پکارنے تو پکارتی ہی جائے۔

خانپور کی رہا اندھیرے میں ڈوبی ہوئی لامتنا ہی فاصلوں پر پھیلی لگ رہی تھی اس کی اندر کی آگ جس نے اسے جلا کر بھسم کردیا تھا، اسے اپنے آپ سے بھی بیگانہ کر دیا تھا، وہ تیزی سے اس راہ پر چلی جا رہی تھی، کھوئی سی اور جب حسین علی کی حویلی کے باہر اس نے چونک کر دیکھا تو وہ حیران رہ گئی میں کہاں آگئی، مگر اب وہ رات کی تنہائی میں غیر مری روح کی مانند اپنے آپ کو ہلکی محسوس کر رہی تھی، یہی تو وہ گھر ہے جس کے بارے میں سوچتے سوچتے میں نے کئی راتیں گزاردی ہیں، اس نے حسین علی کے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولا، ہاں یہ خوشبو صرف اسی کی ہے، وہ خوشبو جو اس رات سے اب تک اس کے حواس پر چھا رہی ہے،

یہ کوئی دوسرا نہیں وہ جھکی اور اس نے حسین علی کے جس کو جان کی پوری نرمی کے ساتھ اٹھا لیا اور چل پڑی تب اسے اپنا وجود بھی ہوا کی مانند ہلکا لگا رہا تھا، سب طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا روشنی تو صرف اس کے دل کے اندر تھی، جو اس مرد کے خیال نے جلا رکھی تھی، جو اسے پوری طرح جانتا بھی نہیں تھا، جب حسین علی جاگا تو وہ ڈر گیا ، کون ہو تم؟ وہ خوفزدہ آواز میں بولا، ملکھی ہنس رہی تھی اور ہنستی جارہی تھی، کیوں آئی ہو تم یہاں؟ حسین علی اب بھی ڈرا سا رہا تھا، میں اکیلی نہیں آئی تم کو بھی ساتھ لائی ہو اور پھر ہنسنے لگی، جیسے ہوا گلوں کے ساتھ بندھی ہوئی چھوٹی گھنٹیوں کو ہولے ہولے بلا رہی ہو، لیکن حسین علی کی آواز میں اس کی آاواز شامل ہوئی، حسین علی چپ کھڑا تھا، اور ملکھی کو ایسا لگا جیسے اس کے جسم کی ساری طاقت کسی نے ایک دم نکال دی ہو، وہ مٹی کا ڈھیر ہو، اس کے اپنے آپ کو ثابت کرنے کیلئے سارے جذبے مٹی بن گئے ہوں، میں یہاں کس طرح آیا، حسین علی اپنے اردگرد دیکھتے ہوئے بولا میں لائی ہوں، تمہیں اور کون لاسکتا ہے؟ کیسے حسین علی کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی، اور غصہ بھی کندھے پر اٹھا کر، ملکھی نے موہوجوم آس میں اس کے ہاتھ کو چھونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، لیکن حسین علی پیچھے ہٹ گیا، ملکھی کا سارا وجود جاگ رہا تھا مگر بس کا وہ لمحہ نہ جانے کہاں کھوگیا تھا، ملکھی لوگ کیا کہیں گے؟ اب حسین کی آواز میں نرمی تھی،

لوگ یہی کہیں گے حسین علی کی ملکھی بے مول بک گئی، وہ جس کی لوگ بڑی قیمت لگاتے تھے، بہت ہلکی ہوکر حسین علی کے سامنے گر پڑی، ملکھی کی آنکھوں کے آنسو وہاں درخت کے سیاہ سائے میں تم زمین پر گر کر پھسل رہے تھے، یہ بات نہیں ملکھی تم مجھے اچھی لگتی ہو، لیکن اس طرح تمہاری بدنامی ہوگی، حسین علی اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا میں کسی سے نہیں ڈرتی، دنیا سے ماں، باپ، بھائیوں سے وہ مجھے مار ہی دیں گے، نا اور کیا کریں گے، لیکن تم سے جدائی جان دینے کی تکلیف سے کہیں زیادہ ہے، ملکھی کی آواز میں خود اعتمادی گونج رہی تھی، مجھے سوچنے کا موقع دو ملکھی، حیسن علی سائے سے نکل کر چاندنی میں اس کے سانے آکر کھڑا ہوگیا، ملکھی نے دیکھتی جارہی تھی، کیا سوچو گے سوچ لو، لیکن دیکھو مجھے بے آس نہ کرنا۔
اور پھر مسکراتی ہوئی اسے دیکھتی رہی، یہاں تک کہ وہ اپنےگاﺅں جانیوالے رستے پر مڑ گیا، پھر ملکھی کو اپنے تنہا رہ جانے کا احساس ہوا پھر وہ یوں چلنے لگی، جیسے اس کا ہر قدم اس کو پاتال کی طرف لیے جارہا ہوں۔
چاچا اللہ دتا کی بیٹی بارات خانپور سے آئی تھی، حویلی کے باہر پنڈال میں لوگ بیٹھے باتیں کرہے تھے، مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا، حسین علی دور لوگوں کے درمیان بیٹھا تھا، ملکھی مسکرادی اور پھر ڈھولک کے ساتھ اس کی آواز سب سے اونچی اور خوبصورت ہر کر ساری آوازوں پر چھاگئی، پھر وہ کھیتوں کو چل دی، وہ مجھے ملنے آئے گا، وہ کھیت کے پاس کھالی میں اپنے اندر کی تپش سے جلتے ہاتھوں کو بھگوا کر اپنے چہرے پر رکھ اس کی راہ تکنے لگی، لیکن راہ سونی رہی اور وقت گزرتا رہا ہوسکتا ہے اس نے مجھے نہ دیکھا ہو دیکھا ہوگا تو وہ مجھے سے ضرور ملنے آئے گا، ملکھی یہاں کیا کر رہی ہو؟
فضل دین کو آتے اس نے نہیں دیکھا تھا نہ معلوم وہ کون سی راہ سے آیا تھا، ملکھی میں کب تک تمہاری راہ دیکھوں؟

فضل دین مجھ سے کیا پوچھتے ہو، میرے پاس تمہارے سوال کا جواب نہیں اردہ اٹھ کر ساگ توڑنے لگی، اس نے نرم نرم پتے توڑ کر اپنادامن بھر لیا، ملکھی نے کیا تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا؟ فضل دین بولا کوئی کسی پر ترس نہیں کھاتا فضل دین کوئی دل کی بات نہیں سنتا دل تو ساگ کی گندل ہے ٹوٹ توگئی اس نے اپنے دامن جکا سرا ساگ پھر زمین پر ڈال دیا، دیکھا یہ گدنلیں دوبار ہری نہیں ہوسکتیں، وہ خالی آواز میں بولی، تمہیں کیا ہوگیا ملکھی، اکیلی کھیتوں میں پھرتی رہتی ہو، فضل دین پریشان ہو کر بولا۔
یہی بات تو میں تم سے پوچھتی ہوں، فضل دین تمہیں کیا ہوگیا ہے، میرے پیچھے مت آیا کرو، جاﺅ کسی اور سے دل لگالو، نہیں ملکھی دل بہت منہ زور ہوتا ہے اس پر میرا بس نہیں چلتا وہ دکھ سے بولا، میں خالی ہاتھ ہوں، فضل دین وہ زور زور سے چلانے لگی، مجھے کسی نے کیا دیا ہے، جو میں اس میں سے کسی کو دوں جاﺅ خدا کیلئے چلے جاﺅ۔

وہ زمین پر جھک کر بلک بلک کر رونے لگی، فضل دین اس کے پاس ہی بیٹھ گیا وہ جاں گیا تھا جس ملکھی کی کھوج میں زمانوں سے سرگرداں رہا ہے وہ کہیں اور کھو گئی، اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ اٹھ کر اس عورت کو برباد کردے، کیا دھرتی ہمیشہ ہی بانجھ ہوتی ہے، ملکھی نے راہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا لیکن وہ تو خود سے مخاطب تھی، ہاں ملکھی اور فضل دین تیزی سے اپنے کھیتوں کی طرف چلا گیا، ملکھی وہیں کھڑی رہی اس کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی جیسے اعلان کر رہی ہے میں حسین علی سے ہاروں گی نہیں ہارنا مجھے آتا ہی نہیں۔
اس نے گاموں نائی کو اپنا گوٹا کناری لگا دوپٹہ دیتے ہوئے کہا۔
خانپور کے حسین علی سے کہنا یہ دوپٹہ اگر تم نے مجھے خود آکر نہ اڑھایا اور میرے ڈولی لے کر نہ گئے تو پھر میں خود تمہیں آکر لے جاﺅں گی، اور پھر لوگ تم پر ہنسیں گے اور میں نہیں چاہتی کہ لوگ تم پر ہنسیں۔
گاموں نائی دوپٹے کو ہاتھوں میں لئے حیران کھڑا تھا، ملکھی نے چاندنی کے کنگن اسے دیتے ہوئے کہا میں تمہاری را تکتی رہوں گی، دیر نہ کرنا، وقت گزرہی نہیں رہا تا وہ کھتیوں کی سیاہی میں ایک موجوم دھنے کی مانند کھڑی تھی، گاموں کاس کی طرف بر بڑھتا قدم اس کے دم میں وسو وسو کو جنم دے رہا تھا، جب گاموں نے اس کا دوپٹہ اس کے ہاتھوں میں ڈال دیا تو اس تو کو اپنا وجود ایک دم پتھر ہوتا لگا، گاموں نے کہا بی بی حسین علی دوپٹہ واپس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دوپٹہ گاﺅں کی عزت ہوتا ہے اس کے اوڑھانےکا فیصلہ بڑے کرتے ہیں میں آﺅں گا ضرور لیکن اپنے بڑوں کی مرضی کے ساتھ تمہیں انتظار کرنا ہوگا، وہ وہاں چاند کی مدہم روشنی میں کھڑی کانپ رہی تھی۔

کس بات کا انتظار گاموں پھر اس نے رک کر پوچھا بولتے کیوں نہیں؟ بی بی میں اپنےپاس تو بات بناکر نہیں کروں گا اس نے بس اتنا ہی کہا تھا میں اس کے دل کا بھید کیا جانوں وہ آہستہ بولا اور واپس ہوگیا، وہ وہیں پگڈنڈی پر بیٹھ گئی، پاس ہی کھالی پانی چاند کو لہر لہر بانٹ کر آگے بڑھ رہا تھا، اس نے اپنے دوپٹے کو کھول کر گھٹنوں پر پھیلا لیا، اس کی کناری چاندنی میں چمک رہی تھی وہ اس کو دیکتھی رہی اور آہستہ سے اٹھا کر اپنے سر پر ڈال لیا، پھر وہ ہولے ہولے ہنسنےلگی اور جب ہنسنے چکی تو رونے لگی۔
ساری پریا خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی، ملکھی کا باپ ندامت کے مارے سر نہیں اٹھا رہا تھا، کیونکہ اس کی بیٹی کی کانپور والوں نے شکایت کی تھی، انہوں نے کہلوایا تھا اگر تم ملکھی پر پہرہ نہیں بٹھا سکتے تو راہ کا پہرہ تو دے دکتے ہوں وہ راتوں کو ماری ماری پھرتی ہے اور اس کا باپ بوجھل قدموں سے چلتا گھر آگیا تھا، لیکن ملکھی نے کہا، میری راہ رکنے والا کوئی نہیں، میں جو چاہوں کروں جہاں چاہوں جاﺅں، خانپور والوں کو کہو میری ڈالی لینے آجائیں یہی رواج ہے کیونکہ میں نے دل سے حسین علی کو اپنے سر کا سائیں مان لیا ہے، اور اس کا باپ چاہے کہ باوجود ملکھی کے سامنے بس کھڑا رہ گھا تھا، کیونکہ ملکھی کی آنکھیوں نے اس کی سچائی کی گواہی دی تھی خدا کرے تم مرجاﺅں ساری برادری تم پر تھوکتی ہے کوئی اور بھی تو اب تمیں بیاہنے نہیں آئے گا، اس کی ماں سینہ کوٹتے ہوئے بین کر رہی تھی،

ماں تم سمجھ لو کہ ملکھی مر گئی تم نے بھی میرا سیاپہ کرو، میں اپنا سیاپہ کر رہی ہوں، ملکھی نے سیاہ دوپٹے میں آنسوﺅں کو سمیٹے ہوئے کہا، فضل دین اس کی دہلیز کے اندر نہیں آتا تھا اس نے دروازے کے بارہ ہو کر کہا تھا ماسی ملکھی سے کہہ دو کہ گھر سے باہر نہ آئے ورنہ اچھا نہ ہوگا، لیکن ملکھی نے کہا تھا، سن فضل دین میں تو موت سے بھی نہیں ڈرتی تجھ سے کیا ڈروں گی تو مجھے موت کی دھمکی دینے آیا ہے، وہ غصہ سے بھری اس کے سامنے کھڑی تھی۔
فضل دین کو لگ رہا تھا کہ وہ دکھ اور مایوسی کے مارے یہیں کھرا کھرا مر جائے گا، اس کی زندگی بھر کی آس اس کے سامنے ٹوٹ رہی تھی، ملکھی میں تجھ کو کچھ نہیں کہتا لیکن تم جانتی ہو کہ یہ سودا اتنا آسان نہیں، فضل دین تیزی سے بولا، ملکھی ہنس دی، توجانتا ہے نا کہ دل کے سودے اتنے آسان نہیں اور میں تو ساری حدوں سے گزر کر بھی حسین علی تک جاﺅں گی، پھر میں تجھ سے کیوں ڈروں، اور وہ اندر چلی گئی وہ کسی سے نہیں ڈرتی تھی، وہ لوگوں کی باتیں ہنس کر سنتی اور سن کر ہنس پڑتی، مجھے اپنا ھتن کھوجنا ہے، اور شاید سوہنی کی طرح میرے نصیب میں ڈوبنا ہی ہے، وہ حسین علی کے ساتھ خانپور کے اندھیروں میں کھڑی تھی، حسین علی نے کہا تھا، ملکھی مجھے تمہاری طاقت سے ڈرلگتا ہے، حسین علی کاچہرہ درختوں کے سیاہ اندھیرے میں بھی روشن لگ رہا تھا، یا صرف ملکھی کو ہی یہ روشن نظر آرہی تھی، حسین علی کے ساتھ کی گرمی اسکے سارے وجود پر چھائی ہوئی تھی، تب حسین علی بھی اس کے لئیے وہ ہی محسوس کرہا تھا، جو ایک مرد اپنی من چاہی عورت کیلئے محسوس کرتا ہے، حسین علی، تو میری طاقت کی بات کرتا ہے، میں تو بڑی کمزور ہوں، اس لئے تو تیرا آسرا چاہتی ہوں، وہ بولی، حسین علی کو ملکھی کی انوکھی سی باس اپنے گرف پھیلتی لگ رہی تھی حسین علی جانتے ہوں میں نے تمہارا واپس کیا ہوا دوپٹہ اوڑلیا تھا، میں تمہاری دلہن بنگئی تھی، ملکھی کی آواز خوب آلودسی تھی کیا میرے جسم سے تمہیں اپنے ہاتھوں کی خوشبوں نہیں آرہی، کیا میرے بولوں میں تمہیں اپنی آواز کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے، ملکھی اس کے سامنے جھک کر بیٹھ گئی حسین علی میں تمہاری عورت ہوں، وہ دونوں ہمیشہ کی طرح چپ ایک دوسرے کی موجودگی سے آگاہ تھے رات کو وجود ان دونوں کے گرد پھیلی آوازوں سے لبریز تھا، لیکن وہ کسی آواز کو نہیں سن رہے تھے، راہ لمبی ہے، ملکھی اب تمہیں جانا چاہئیے، حسین علی نے چونک کر اپنے ارد گرد دیکھا اور بولا، حسین علی مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے زمین تیزی سے میرے پاﺅں تلے سے سرکتی پیچھے کو بھاگتی جاتی ہے اور میں یہاں پہنچ جاتی ہوں، ملکھی کی ہنسی رات کے ترنم میں آہٹ بن کر گونج رہی تھی، حسین علی بھی ہنسا دیکھو رات کے تارے مشرق کی طرف سفر کرہے ہیں، اور تم ڈرے رہوں ملکھی بولی۔
ہاں ملکھی میں ڈرتا ہوں اپنے آپ سے اپنےباپ سے لیکن تم تو ہوا کا جھونکا بن کر یہاں آجاتی ہو، ملکھی نے آہستہ سے اس کا ہاتھ چھو اور پھر اپنے گاﺅں کی راہ مڑک گئی، رات کے تارے اندھیرے کے اوپر ٹنگے ہوئے بڑے خوبصورت لگ رہے تھے ملکھی کا سیاہ دوپٹہ اس کے پیچھے اڑرہا تھا حسین علی وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا اس جو بہت ہی اچھی لگنے لگی تھی، کسی عورت ہے، حسین علی مسکرا رہا تھا۔
راہ میں فضل دین نے ملکھی کو روک کر پوچھا تم کہاں سے آرہی ہو؟

اس کا سارا وجود ایک تکلیف دکھ اور نفرت سےکانپ رہا تھا۔
وہاں سے جہاں میں گئی تھی، ملکھی لاپروائی سے بولی۔
کیا سب مرد ایک نہیں ہوتے جو یوں ماری ماری پھرتی ہے؟ کیا اس گاﺅں میں کوئی مرد نہیں جو تجھ سے دل لگاتا؟ اس نے اس کا بازرو زور سے پکڑ لیا تھا، ایک تو توہی ہے، ملکھی نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے طنز سے کہا تھا، لیکن یہ میرا اپنا معاملہ ہے تو کون ہے پوچھنے والا؟ میں بھی تو تیرا بن سکتا ہوں، فضل دین کی آواز بدلی ہوئی تھی، تو کسی مرد کے پیچھے پھرتی تو شاید میں چپ رہتا، لیکن تو ایک نامرد کیلئے ہلکان ہوتی پھرتی ہے، جو خود آنے کے بجائے تجلے بلوا بھیجتا ہے، جو مرد اپنی عورت کی عزت نہ کرے وہ بھی کوئی مرد ہوا ملکھی لوگ تجھ پر نفریں بھیجتے ہیں تو برباد ہوجائے گی تجھ سے کوئی پیار نہیں کرے گا، مجھے کسی کی پرواہ نہیں فضل دین۔
ملکھی اس کے پاس کے ہو کر آگے چل دی، میں تجھ سے بیاہ کروں گا سب باتوں کی باوجود سب کے نفرت کے باوجود، فضل دین پھر اسکی راہ میں کھڑا ہوگیا، اس کی آواز میں منت بھی تھی، اور فیصلہ بھی تب وہ بولی، فضل دین میرا بیاہ حسین علی سے ہو بھی چکا، فضل دین نے پھاوڑا اٹھا کر ایک دم اس کےجسم میں اتار دیا، اسے یکا یک اپنے گرد بڑھتے سناٹے کی گونج سنائی دینے لگی تھی، جیسے ملکھی، ملکھی اس نے اس کے بے جان ہاتھ کو چھوا کھیتوں کی سر سراتی ہوا نے اس پکار کو دہرایا، ملکھی تو وہ خوفزدہ ہوگیا اپنے اندر کے سناٹے سے اپنے گرد پھیلتے ہوئے سناٹے سے اور یہ سناٹا اس کے بھاگتے قدموں کی گونج کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (11-04-08), کشورناہید (23-10-07)
پرانا 23-10-07, 02:03 AM   #2
Senior Member
 
کشورناہید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 28
مراسلات: 336
کمائي: 641
شکریہ: 63
44 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: سناٹے کی گونج

بہت اچھی تحریر ہے
شئیرنگ کا شکریہ
کشورناہید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-04-08, 02:11 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,173
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سناٹے کی گونج

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر

بہت معیاری شئرنگ ہے

امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے
خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے

رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پھول, پولیس, پاگل, نفرت, چاچا, نظر, موت, ماں, محبت, معلوم, اللہ, بچوں, جواب, خون, خلاف, خبر, خدا, دیکھو, دل, زندگی, سفر, سودا, ستارے, علی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:50 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger