|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بشکریہ جیو اردو
شطرنج چال ''آپ سر پھر کھول کر بتائے ناں انسان کس قدر مختار ہے اور کتنا مجبور؟ اس کا اپنا ارادہ نتائج پر کہاں تک حاوی ہے۔ اور نتائج اس کے کیسے آزاد ہیں؟''درازقد ماڈل جیسی ایک لڑکی نے سراسیمہ آواز پوچھا۔ پروفیسر نے بورڈ پر نظر ڈالی۔ وہاں بائی نومیل تھیورم و حدت الشہود کی طرح لکھی تھی۔ پہلے ایک اکائی اور پھر اس اکائی کے برابر پر تو....... ٹکڑے ............. چھوٹے چھوٹے اجزاء میں منقسم چھوٹی چھوٹی وحد تیں ..........''تم کو ایسے سوالوں سے کیاغرض! جم کر پڑھائی کرو اور امتحان میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کرو ورنہ آگے چل کر مشکل ہو گئی ۔'' سارے طالب علم اسمبلی کے ممبران کی طرح ڈیسک بجائے لگے۔ ماڈل سی لڑکی اچانک اوئے اوئے کی زد میں آگئی۔ ''سر آپ کو معلوم نہیں ہم نوجوان کس ابتلا سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے ماں باپ کی دی ہوئی اقدار چلتیں نہیں۔ وقت سارے کا سارا مادے میں ڈھل گیا ہے، مادہ اقتصادیات کی نذر ہو چکا ہے ہم مجسم سوال ہیں سر............ ان سوالوں سے جب تک ہمیں چھٹی نہیں ملے گی۔ ہم پڑھائی کر سکتے ہیں نہ زندگی ہی میں کچھ کر سکتے ہیں'' پروفیسر نے اپنی پرانی ٹائی کی گرہ ذرا ڈھیلی کی اور جیسے اپنے آپ سے بولا ''برخوردار سوال تو صرف ایک ہے جواب صدیوں سے مختلف نکلتے آتے ہیں۔ زندگی ہر انسان سے صرف ایک سوال پوچھتی ہے تم کو جو کچھ ملا تھا، اس کا تم نے کیا بنایا؟ جواب ازل سے ابد تک مختلف نکل رہے ہیں۔ زندگی آپ کو کچھ خوبیاں دیتی ہے، ان کے ساتھ ساتھ کچھ خرابیاں ہیں، کچھ handicaps ہیں۔کچھ مبثت واقعات، کچھ منفی مواقع ملتے رہتے ہیں اور یہی مواقع قوس قزح کی طرح فضا میں تحلیل بھی ہو جاتے ہیں۔ کسی کو پرچہ حل کرنے کے لئے ستر برس ملتے ہیں کسی کو بہت کم عرصہ ........ ہر بار بار سوال وہی ہے ........... تم نے اپنی گیلی مٹی کا کیا بنایا؟ پیالہ۔ پرات، دیا، گھگھو گھوڑا گلدان یا پھر اس کا کچا گھروندا بنا کر خود ہی لات مار دی جواب مختلف نکلا کرتے ہیں۔ سوال وہی ہے۔'' صراحی سی سڈول لڑکی کھڑی ہوگئی اور پہلے سے زیادہ سراسیمہ آواز میں بولی ''یہ بتایئے سر کیا انسان جواب نکالنے پر قادر ہے؟ کیا سارا جواب اس کی مرضی سے نکلتا ہے کہ جواب inpartsکبھی انسان کی مرضی کے تابع ہے اور کبھی کسی بڑی طاقت کی رضا سے نکلتا ہے؟ ہم مجبور ہیں کہ خود مختار؟ بتایئے سر!'' پروفیسر چند لمحے اپنی عینک پرانے گندے رومال سے صاف کرتا رہا، پھر بولا ''آج میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔ آج کا زمانہ کہانیوں کا دور نہیں تم سب میڈیا کے ہاتھوں روح کے تحیر سے محروم ہو چکے ہو۔ اب انسان حیرت میں جانے کے لیے وائیلنس کا سہارالیتا ہے۔ اتنا تشدد کہاں سے آئے جو تحیرکا باعث ہو! پھر بھی آج ایک پرانی کہانی سنو تمہیں ازلی سوال کے کئی جواب خود سوجھ جائیں گے '' پروفیسر کی آنکھوں میں کسی داستان گوکی چمک تھی۔ اس کے لب عیار اور مسکراہٹ دلنواز ہو گئی۔ ہاتھوں میں نرت اور انداز میں لے آبسی ''یہ بڑی پرانی بات ہے پھر تو چل سو چل .............. آگے سے آگے ........ زنجیر سے زنجیر ملی راستہ نئے راستے مں گم ........ چل چلا ..... چل سو چل ...... تم نوجوان کیا سمجھتے ہو زندگی کے عجائیاب کسی ایک زندگی کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں ........... کیا اللہ کا جادو کسی ایک عہد کسی خاص طبقے،کسی ایک انسان کے ساتھ وابستہ ہے؟ سنا ہے بخارا میں ارسلان بیگ کے زمانے میں جب ملا نصرالدین کو گرفتار کرنے کی مہم جاری تھی۔ درمیانے قدو قامت اور درمیانی شکل و صورت کی ایک عورت تنگ و تاریک گلی میں اپنے چار بچوں سمیت رہتی تھی۔ اس کا زین ساز شوہر ایک عرصہ سے لاپتہ تھا۔ وہ عموماً گلی کی نکڑ پر چادر پھیلا کر ٹوپیاں، چاقو، قیائیں، جوتے بازار سے خرید کر اس چادر پر پھیلا دیتی اور معمولی نفع پر انہیں بیچ کر گزر بسر کرتی۔ گو شکل وصورت گل جان کی سادہ اور کشش کے بغیر تھی لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ ایسی جادوئی چمک تھی کہ راہ چلتے رک جاتے اور بات کرنے پر مجبور ہوتے۔ گل جان کے پاس ایک خوبصورت پنجرہ تھا جس میں دو طوطے ہمیشہ رہتے۔گل جان کا خیال تھا کہ ان میں سے ایک اس کا زین ساز شوہر تھا جو ایک مدت سے گم گشتہ تھا، اگر قضا کار کبھی طوطا مر جاتا تو پاگل جان ایک نیا طوطا خرید کر پنجرے میں بند کر لیتی ...... اپنے شوہر کی غیر موجودگی کی وہ متحمل نہ ہوتی۔ ایک روز سر پر پنجرہ اٹھائے وہ قصاب کی دوکان پر پہنچی۔ یہاں ایک بوڑھے، یوسف، دھلے دھلائے پیر فرتوت سے مڈھ بھیڑ ہوئی۔ بزرگ معتبر زمانہ تھا لیکن خانہ داری کے امور سے لاچار گل جان جب گوشت لینے قصاب کی جانب بڑھی تو پُر امید، پُرکشش چمک کے ساتھ اس نے خوبصورت بزرگ کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے کوندے دیکھ کر پیر فرتوت کے دل میں ایک سسکی جاگی۔ بلا تکلیف اپنا عندیہ عورت سے بیان کیا کہ گھرداری کے عذابوں سے عاجز آچکا ہوں، تو اگر گھر سنبھالے تو بڑھاپے میں سکون پائوں، گل جان کو کسی ستارہ شناس نے بتا رکھا تھا۔ کہ جھرمٹ قوس میں البلاہ ستارے عقرب کے عینی ستاروں کے خلاف ہیں۔ وہ کوئی قدم اٹھانے کی مجاز نہیں کہ یہ وقت دافع بلا نہیں۔ مصیبت میں پھنس جائے گی۔ لیکن جعفر سود خود نے اس کی تنگ کر رکھی تھی۔ وہ اس کے گھر سے تمام نئے برتن، کپڑے، لحاف زبردستی چھین لے جاتا۔ اس نے بزرگ سے حامی بھر لی اور گویا ہوئی ............ اے دیندار! یہ طوطے کی جوڑی خریدی ہے، بچوں تک پہنچا آئوں پھر تیرے حضور آتی ہوں۔ پیر فرتوت بولا چل کر گھر کا راستہ دیکھ لے، پھر اپنے بچوں کو اطلاع سے آنا۔ اس لمحے تک گل جان اپنے ارادے کی مالک، اپنے فعل پر حاوی تھی لیکن ستاروں کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پنجرے کو سر پر سنبھالتی پیر فرتوت کے پیچھے قدم مارتی محل نما عمارت تک پہنچی کی جس برجیاں آسمان میں کھوئی ہوئی تھیں۔ اور پھاٹک در دالان، دالان در غلام گردش کھلتا۔غلام گردش اتنے فراح کہ ہاتھی بھی آسانی سے گردش کر سکتے تھے۔ جس وقت پیر مرد موتیوں کی آبدار تسبیح پھیرتا بڑے پھاٹک سے اندر داخل ہوا طائفے دار، حقہ بردار، مورچھل جھلانے والے لڑکھڑاتے بھاگتے آن حاضر ہوئے۔ پیرفرتوت ایک تخت پوش پر آراستہ ہو کر دم درست کرنے لگا۔ گل جان دست بستہ ہم کلام ہوئی کہ آقا اجازت دے، یہ طوطے کی جوڑی اپنے بچوں تک پہنچا آوں۔ بزرگ کے دل میں پھر سسکی جاگی۔ طنطنے سے بولا سن اے حقیر چیونٹی! میں زائچہ شناس ہوں۔ تیرے طوطوں پر ایک نظر ڈالی۔ قیافہ لگایا کہ ستارہ الثعلہ جو ضرب کی علامت رکھتا ہے اور بدیہی طور پر دل کی سمت میں الٹے پاوں چلتاہے اور ستارہ الغضر جو عدد میں تین اور مثل عورت کے نقاب کے لرزاں رہتے ہیں، اس وقت آویزش کی صورت میں ہیں۔ میں تجھے قصاب جو دوکان پر آگاہ نہ کر سکا اس لیے ساتھ لے آیا۔ ٹھہرتی ہے تو ٹھہر............ جا، نہ رہنا چاہے تو تیری مرضی لیکن ایک بات ہے کہ آج ٹھہرا منگل اور ستارہ مریخ کی کروٹ کا دن، وہ نہ ہو کہ امیر کے پیارے تجھے اس ہیت کذائی کے باعث کہ طوطوں کا پنجرہ سر پر ہے اور پاوں میں جوتی تک نہیں، تجھے ملا نصرالدین کا جاسوس گردانیں اور پکڑلے جائیں، تیری بے کسی تیری بے حرمتی کا باعث بنے اور تیرے بچے دربدر ہوں گل جان عورت تھی لیکن خودمختیار، اپنے ارادے کی پختگی کے باعث خوف سے آزاد تھی اور اپنے فعل کی عقوبت سے نا آشنا دل میں گمان گزرا کہ پیر فرتوت کہیں کوئی جال نہ پھیلاتا ہو، ستاروں کے نام و قیام سے متاثر نہ ہوئی، نتائج کے اندھے کنویں کو پس پشت ڈال کر بناوٹی دہشت سے بولی تو ٹھیک کہتا ہے بزرگ دین دار پر میری مامتا اس بات کی متقاضی ہے کہ بچوں کو اطلاع دیے بغیر کہیں قیام نہ کروں ہر چہ بادا باد مجھے اجازت دے کہ گھر پہنچوں اور جلد لوٹ آوں ٹیڑھی گردن والے بزرگ نے ایک لمبی سسکی بھری اور بادل نخواستہ اجازت دی۔ محل نما عمارت سے کوئی پون کوس دور گئی تھی کہ ایک پہرے دار ملا طرح دار اور بلا کا حسین، آنکھ میں شربت دیدار گھلا ملا رنگت میں گلاب کی پتیوں کی نرمی، ہونٹوں کے کنارے مسکراہٹ سے ہمکنار، ہاتھ سڈول، کندھے مضبوط سینہ چوڑا پہرے دار کو شک گزرا کہ نقاب کے اندر کوئی بھڑوا مردوا ہے کہ بھیس بدل کر کنسوئیاں لیتا ہے، امیر کے بدخواہوں سے ملا ہے۔ فوراً تلوار سے نقاب پلٹ دیا۔ گل جان نے مشکل سے پنجرہ سنبھالا اور گلی کی دیوار کے ساتھ خوف سے سٹک گئی۔ سوچنے لگی کہ کیا واقعی تقدیر کا پھندا آگے آگے چلتا ہے اور انسان کو گر فتار کراتا ہے؟ کیا انسان اتنا خود مختار ہے کہ اپنی مرضی سے اس پھندے کو پھلانگ جائے؟ کیا ستارہ شناس واقعتاً تقدیر کے جال کو دیکھ سکتا تھا؟گل جان پُر امید رہنے کی عادی تھی ساری عمر خودمختار رہی اس لیے پنچرے پر الٹے نقاب کو اتارتی ہوئی مسکرائی اس کی نگاہوں کی خیرا کن چمک کو دیکھ کر پہرے دار اس کی جان کے درپے ہوا۔ ڈرا دھمکا کر سوندھی مہک والی کو زیر دام لانا چاہا پر حربہ کار گر ہوا۔گھر پہنچانے کا دم دلاسہ دے کر گھوڑے کے پیچھے بیٹھایا۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ گل جان نے سوچا طوطوں کی ننھی ننھی سی جانیں، کیا جانے بارش کا ریلا تیز ہوجائے۔ گھوڑے پر سوار ہوئی۔ اب کیسے کہیں گل جان کی خودمختاری نے اس کا راستہ بد لا کہ تقدیر نے اس کے پیروں میں رسی باندھ کر گھسیٹا ............... تو طالب علموں اس قدر جان لو کہ گل جان خودگھوڑے پر سوار ہوئی۔ تقدیر نے موقعہ بہم کیا، ارادے نے لبیک کہا، پہرے دار نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دشت کی جانب مڑا۔ پھر چل سو چل ............... چلا چل .......... راستہ معین ........... وقت طے .......... حالات مقرر........ اپنے ارادے سے یا تقدیر کی ایماسے ایک کال کو ٹھری میں جا کر گل جان کو اتارا کہ درو دیوار جس کے شکستہ، اندا زجانے والا دروازہ شکستہ تو، دیواروں پر جالے ......... چارپائی جھلنکا، فرش غبار سے اٹا ہوا پہرے دار نے سر پھڑی اتاری اور گل جان کے قدموں میں رکھ کر کچھ اس طور گڑ گڑا کر ملتجی ہو اگل جان کے حواس قائم نہ رہے۔ حسن ظاہری نے پورے طور پر اسیر کیا۔ اپنے ارادے سے واپس جانے کا خیال پس پشت ڈالا، جب تک پہرے دار اس کے ساتھ رہتا، گل جان سر سے پائوں تک اس کے عشق میں یوں غرقاب رہتی کہ بچوں تک خیال نہ آیا جو نہی جوان رعنا شہر کی طرف چلا جاتا، وہ سوچتی۔ یا مظہر العجائب یہ سب کیا ہے؟ ......پل بھر ہیلے پیر فرتوت کے محل میں کھڑی تھی کہ نعمتیں، عنایتیں سب بہم تھیں کچھ دیر تقدیر نے یہ پلٹا کھایا کہ اس کال کو ٹھڑی میں لا بیٹھایا جہاں پانی نام کی شے بھی کوسوں دور ہے۔ بچوں کی یاد ستاتی تو سوچتی کہ چلی جائوں پر جو فیصلہ نظر کی ایک بھول چوک سے شروع ہوا، اب سنگین عشق میں منتج ہو چکا تھا، حسن ظاہری اس پہرے دار کا اس درجہ یکتا تھا کہ اس کی موجودگی میں گل جان جان بکف رہتی اور اس کی غیر موجودگی میں انتظار اسے نیم بے ہوش رکھتا۔ سوچتی ................ بچے اکیلے ہوں گے، بھاگ جاوں۔ خود مختار ہوں، کسی کی پابند نہیں۔ پر تقدیر کے ہاتھوں مجبور تھی ................. سنا ہے تقدیر کے پاس بھی کئی ہتھکنڈے ہیں۔ وہ ان ہی سے راستے روکتی اور راہیں وا کرتی ہے یہ بھی طالب علموں نے سن رکھا ہو گا کہ روح جمال کی طرف کھنچتی ہے۔ عشق کبھی بدہیتی کی طرف مائل نہیں ہرتا کہ روز ازل سے یہ بھی طے تھاکہ انسان کی روح از خود مختاری کا تعلق تھا، بھاگ جانا چاہتی۔ جہاں تک تقدیر مجسم جمال بن کر حائل تھی، جنگل میں ہرنے پر مجبور تھی۔ پھر تو گل جان بوسوں تڑتی ......... ہولے ہولے دل سے بچوں کا خیال بھی جاتا رہا۔ ایک پھول سی بچی کو جنم دیا۔ ہر چند وقتاً فوقتاً بچوں کی یاد ستاتی لیکن عشق تقدیر صورت اٹل تھا۔ یوسف پہرے دار بن داری دنیا اندھیر تھی۔ اس کے ساتھ سارا دشت مثل جنت لہلہاتا تھا۔ دن کو ہونکتی۔ رات کو کسی سائل کی طرح پہرے دار کے قدموں میں جا گرتی۔ سوچتی کہ چکر کیاہے! میں یہاں کیوں ہو ں اور جانے پر قادر کیوں نہیں........................؟ پھر تو چل سو چل ........... چلا چل ہو ا یوں کہ رُت کی طرح حالات بھی بدلتے ہیں۔ جس سوراخ سے ہوا نہیں آتی وہاں سے اژدھا بدن سکیڑ تا آنکلتا ہے۔ ایک روز دشت میں دور سے نکتہ بھردھول اٹھی۔ امیر ارسلان بیگ کا ایک پھر یتلا جاسوس ملگجے اندھیرے میں سرپٹ دوڑتا پہرے دار کے ٹھور ٹھکانے کی تلاش میں پہنچا۔ پہرے دار شفق کو رات ڈھلتے دیکھتا تھا، اونکھ سرقہ بالجبر کی مانند اس کے بدن پر چھائی تھی۔ پھول سی بچی بازو پر بے خبر سوتی تھی۔ سارے دن کے ہنگامنے سے بدن چور، اٹھ کر جاسوس کو سیخ پر نہ چڑھا سکا۔ شہد اور تمباکو نے بدن کو آرام کی طرف راغب کر رکا تھا، مدافعت نہ کر سکا۔ سچیت جاسوس ساونت آدمی دبے پاوں حملہ آور ہوا۔ شلک اڑائی مشکیں کس لیں اور گھوڑے پر اوندھا ڈال کر چمپت ہوا۔ گل جان پانی بھر کر لوٹی تو کیا دیکھتی ہے بچی خاک میں لتھری مردہ حالت میں بے دم پڑی ہے اور یوسف بے مثل کا کہیں پتہ نہیں ماتھا ٹھنکا جان گئی معاملہ بے ڈھب ہے۔ پھر تو طالب علموں چل سو چل چلا چل ........................... پل سے دو سراپل گھڑی سے دوسری گھڑی کوس سے اگلا کوس سارا دشت جان مارا۔ پاوں زخمی، روح نڈھال ......... پہرے دار کو تلاش کرتی دربدر شہر پہنچی۔ سر پر پنجرہ میں ادھ موئے طوطے تھے اس جو کھم کے باوجود نہ رنگت مدھم پڑی نہ آنکھوں کی چمک ماند، راہ چلتوں سے راستے پوچھتی، اپنا ھال زار چھپاتی ایک سود خود کے پا پہنچی کہ کچھ قرض لے کر زمانے کے رو ندن سے بچ نکلے سود خود کر یہہ منظر نے جورو کڑ دیا اس کی شرط یہ لگائی کہ پیش خدمت بنی رہ۔ سود معاف کردوں گا۔ اصل سے گل جان نے ضرورت کی اشیاء لیں اور بسیرے کو عافیت جانا۔ دشت پیمائی سے چھٹکارا ملا تو گل جان اور طوطے فراغت سے سوئے اور اپنے رب کا شکر بجا لائے۔ چندے خیر سے گزری لیکن ایک ارات کر یہہ صورت جھانسو سود خود پچلھے پہر چراغ مانگنے بہانے حجرے میں آن گھسا اور ارادہ کیا کہ گل جان کو چچوڑے۔ ارادہ شہوت بھانپ کر گل جان نے بے کسی سے چراغ کی جانب نگاہ کی۔ آنسورواں ہوئے اور چمک آنکھوں کی دھملی پڑ گئی۔ کانپنے ہاتھوں سے چراغ پکڑایا تو سود خود کی کلائی تک آئے ہوئے کلا نتونہ کپڑے نے شعلہ پکڑا سود خود بھجک رہ گیا۔ اس عمودی روشنی میں آپا دھاپی کا خیال جاتا رہا، سنتے ہیں کہ شہوت سمے انترگیانی بھی بدھی میں نہیں رہتا۔ آگ نے ساری شہوت وداع کر دی۔ آنا فاناً سود خود کا چکتا جسم دھڑام گرا۔ گل جان کی اماں پائی فائدہ اپنی خود مختاری کا اٹھایا۔ پنجرا طوطے کا اٹھایا۔ ھجرے سے بھاگی۔ اپنی طوفانی زندگی پر کف افسوس ملتی تو بیٹھ کر سوچنے لگی۔کیا چراغ تقدیر کی صورت تھا؟ کیا میں ازخود بھاگی کہ یہ بھی ارادہ کہیں بیرون سے میرے اندر داخل ہوا؟ میری تجویز نے میری جان بچائی کہ چراغ نوشتہ تقدیر کا سبب ہوا؟ سارے شہر میں سرگرداں، غلطاں وپیچاں اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈتی پھرتی تھی۔ ایک سہ پہر کو آندھی سے پہلے کا سماں تھا، ایک سقہ گھنٹی نجاتا سامنے سے وارد ہوا۔ آدمی ہنس مکھ خدا ترس نظر آیا۔ فقیرنی اھوال بلاکم و کا ست سارا دن بیان کیا۔ بچوں کے گم ہونے کا ماجرا سنایا۔ سقہ دو بھاشیا تھا، ایک بولی زبان کی سمجھتا ایک دل کی۔ اس بینا جو سن کر امید دلائی کہ یہاں سے کچھ ہی دور ایک کوچے میں ایک نوجوان گم سم ایسا ہے جو اپنی ماں سے گم ہونے کی داستان سناتا ہے۔ تو چل کر دیکھ، شاید تیرے دودھ کی خوشبو اس سے آتی ہو۔ دونوں آگے پیچھے روانہ ہوئے۔ گزر ایک تنگ گلی میں ہوا ایک پکے چبوترے پر گل جان کو بٹھا کر سقہ نے اپنا مشکیزہ اتار کت رکھا اور گویا ہوا دیکھ نیک دل! تو یہاں بیٹھ کر میری راہ دیکھ میں اس نوجوان کوکھوجتا ہوں، سقے نے سامنے والی ڈیوڑھی پر دستک دی۔ ذرا سانپ کھول کر اندر داخل ہو گیا،گل جان یہ نہ دیکھ پائی کہ دروازہ کھولنے والا کون ہے۔ پہر دو پہر منتظر رہی لیکن سقہ برآمد نہ ہوا۔ دفع الوقتی کے لئے ادھر ادھر جائزہ لیا۔ پھر راہ چلتوں سے باتیں کرنے لگی۔ ایک راہ گیر سے سوال کیا کہ........... سامنے والے مکان کا مالک کون ہے؟راہ چلتے نے کہا برسوں پہلے یہاں ہنگامہ ہو اتھا۔ مالک مکان گھر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ بیس سال سے گھر خالی پڑا ہے سن غیرب مند! یہ کوچہ پار ساں ہے۔ اس گھر کی اشیاء کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ یہاں راستے میں اشرفیاں پھینک دے۔ کوئی ایمان گنوانے کے خوف سے ایک اشرفی نہ اٹھائے گا۔ ایک نوجوان کبھی کبھی ادھر آکر روتا ہے۔ پتہ نہیں وہ اصل میں مالک ہے کہ غم زدہ! سارا دن گل جان نے کئی مرتبہ دروازے پر دستک دی لیکن اندر سے مقفل دروازہ نہ کھلا۔ شام ڈھلے گل جان آخری بار دروازے تک گئی تو پٹ آدھا کھلا پایا۔ سوچا اندر جا کر سقے کو تلاش کروں۔ خوف مانع ہوا کہ اجنبی گھر ، ان دیکھا کوچہ ... خوف بھی مثل تقدیر کے کبھی کبھی ازخود راہیں بند کر دیتا ہے لیکن گل جان کہ خود مختار تھی، اپنے ارادے سے اندر داخل ہوئی۔ یا بندہ خدا مقام حیرت سارا گھر آراستہ اور ایک نفس بھی موجود نہیں ......... نیک صفت سقے کا نام و نشان نہیں۔ چولہے پر ہنڈیا چڑھی پکتی ہے۔ طاق میں تازہ پھل خوشبو چھوڑتے ہیں، سوندھی خوشبو والے نان چنگیر میں دھرے ہیں۔ لیکن میزبان کا شائبہ تک نہیں آوازیں دیں، بلایا۔ کوئی برآمد نہ ہو تو گل جان نے دروازہ مقفل کر کے خوب کھایا، پانی تلاش کیا تو تمام نل سو کھے، برتن خالی۔ سارے میں پانی کا سراغ ہ پایا۔ بھاگ کر باہر چبوترے تک گئی، طوطے کا پنجرہ اور مشکیزہ اٹھا اندر لائی، چاندی کی کٹوری میں پانی انڈیلا تو امیرارسلان بیگ کے عہد کی اشرفی کھٹاک سے کٹوری میں گری۔ دروازہ مقفل کر لیا۔ اب جو مشکینرہ الٹایا پانی کے ساتھ ساتھ اشرفیوں کی برسات ہونے لگی۔ اب تو چل سو چل چلا چل وقت گزرنے کی شرط رہنے بسنے کی قید ......... تقدیر اور ارادے کا سنجوک ....... سنا ہے گل جان پھر بڈھی پھونس ہوئی اندر ہی اندر وہ اس نوجوان کی راہ دیکھتی رہی جو کبھی کبھی اس ڈیوڑھی پر آکر سوگوار رویا کرتا تھا۔ کہیں اس کے دل میں امید کہتی کہ یہ نوجوان اسی کا فرزند ہے۔ نچلی منزل میں گل جان کا قہوہ خانہ ہے وہ کبھی کبھار نوجوان کی تلاش میں نیچے آتی ہے۔ اس کا سارا وقت تسبیح و ثنا میں گزرتا ہے۔ زائچے بنا کر دیتی ہے لیکن کسی سے کچھ وصول نہیں کرتی امیر وقت اس کی خدمت میں حاضری دیتا ہے۔ لوگ اسے دانائے روزگار ہیپوکریٹس، حکیم بوعلی سینا، الکندی فارابی ابوبصرہ کے ہم پلہ مانتے ہیں۔ عمائدین، دانا وزراء کاتا نتا بندھا رہتا ہے وہ زائچہ بنانے سے پہلے ایک بار ضرور کہتی ہے ........... میں زائچہ بنا دوں گی .. لیکن ایک سوال کا جواب نہیں دوں گی ........انسان کا ارادہ کہاں تک کامیاب ہے اور اس کی تقدیر کس قدر حاوی ؟ یہ دو قوتیں باہم دگردست و گریبان ہیں کہ ہم رازو دم ساز ارادہ مجبور ہے یا کلی حاکم تقدیر گھیرنے والی ہے کہ چھاپہ ڈالنے والی بس یہ بات یاد رکھ۔ زائچہ بن جائے تو اس کو صرف تنیبہہ جان ......... یاد رکھ زندگی ایک ہی سوال پوچھتی ہے .............. تو نے اپنی گیلی مٹی کا کیا بنایا؟'' ساری کلاس سکتے میں آگئی۔ پھر ماڈل جیسی دراز قد سراسیما لڑکی اٹھی اور کھلے بالوں کو ہاتھ کی پشت سے اٹھاتے ہوئے بولی ''سر کچھ کلیئر نہیں ہوا اس کہانی سے ......... کیا انسان مجبورہے کہ خودمختار؟ کہاں تک اس کا ارادہ خود چلتا ہے اور کہاں پہنچ کر اس کی قسمت اسے دبوچ لیتی ہے؟'' پروفیسر نے کچھ دیر تک پائپ پر توجہ دی۔ پھر اسے سلگائے بغیر بولا ''تم جانو کہ اللہ نے ہر چیز جوڑاجوڑا پیدا کی مرد عورت زوج نیکی بدی جوڑا حتٰی کہ پہاڑ بھی maleاور femaleہوتے ہیں ....... دل میں لہو بھی زوج کی شکل میں رہتا ہے، گندا لہو اور صاف لہو ساتھ ساتھ ..... اگر صرف پوزیٹو کرنٹ سے روشنی پیدا کرو گی تو بجلی نہیں جلے گی۔ پھر بیگیٹوکرنٹ بھی ملانا پڑے گا ...... ایسے ہی انسان کی خود مختاری اور قسمت زوج ہیں ...... ساتھ ساتھ ریل کی پٹڑی کی طرح چلتی ہیں۔ جہاں دونوں کا میل ہوتا ہے، وہاں کرنٹ پیدا ہوتے ہیں، ترقی کا بقہ نور ........... بربادی کا گھپ اندھیرا ........ سب ان دونوں کے ملاپ سے ہے '' ایک دراز قد منفی سوچ کا نوجوان اٹھا۔ ابھی صبح ہی وہ اپنے والدین کو نوٹس دے کر آیا تھا۔ کہ اب وہ اپنے آبائی گھر میں نہیں رہے گا۔ ''سر آخر میں گل جان جس حویلی میں داخل ہوئی، وہ معجزہ نہیں تو کیا ہے۔ قسمت کی دھنی تھی تو انجام کار کامیاب ہوئی '' ''قسمت کی دھنی بھی تھی اور ارادے کی بھی .......... اگر وہ خالی حویلی دیکھ کر بھاگ جاتی تو ؟'' درازقد کی لڑکی نے پوچھا ''اور سر وہ نوجوان ......... وہ غمزدہ نوجوان ؟'' ''وہ ہر دور میں ہوتے ہیں۔ ہر مقام پر رہتے ہیں۔ اسی کلاس میں تلاش کرو تومل جائیں گے جنہیں قسمت اور ارادہ دونوں خوش نہیں کر سکتے پہچان لو آس پاس'' آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے کلاس کے سارے لڑکے کھڑے ہوگئے ..........پروفیسر نے مسکرا کر کہا ''بھئی یہ اس دور کا وائرس ہے ........... میں اس مایوسی کو اچھی طرح نہیں جانتا ...... اب کامیاب بھی ناخوش ہے ....... اور نا کام بھی سوگوار ..... یہ ایڈز سے اچھی بیماری ہے جس کے syndromesکو ابھی میں پورے طور پر جان نہیں سکا۔ کچھ بھید پایا تو عرض کروں گا۔ صرف اتنا جان پایا ہوں کہ مایوسی کا وائرس قوی تر ہے اور اس کا علاج شاید لیبارٹری میں نہ ہو پائے۔''
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,325
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب جناب عدنان بھائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر بہت معیاری شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہنگامہ, گمان, پہچان, پھول, پیارے, پاگل, وائرس, قید, قدم, لوگ, لڑکی, نظر, ماں, معلوم, معجزہ, آج, ایمان, اجنبی, بچوں, تلاش, خدا, راستہ, ستارے, عورت, عشق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|