|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بچی کے نین نقش بہت دلکش تھے مگر رنگت زرد، آنکھیں بجھی ہوئی۔
چھ سات سال کی نرم و نازک پیاری بچی ۔ وہ ٹکٹکی باندھے شوکیس میں سجی سنہری بالوں والی نرم و نازک گڑیا کو دیکھ رہی تھی ۔ اُس کی ماں فٹ پاتھ پر چلتی آگے نکل گئی تھی ، یکایک وہ رُکی ، گھبرائی ہوئی نظروں سے مڑ کر دیکھا ،بچی فٹ پاتھ پر کھڑی شو کیس میں سجی گڑیا میں محو تھی ۔وہ تیزی کے ساتھ بچی کے پاس آئی،سٹور کے شیشے کے دروازے میں کھڑے جوکر نے بچوں کا دل بہلاتے ہوئے یہ سارا منظر دیکھا ۔ بچے اس کے گرد جمع تھے ، وہ اپنی دلچسپ حرکتوں سے انہیں محظوظ کررہا تھا۔وہ حیران ہوا ، بچی نے ایک بار سراٹھا کر اس پر نظر نہیں ڈالی، اس کے رنگین کپڑوں، پھولی ناک ،بے اختیار ہنسانے والی شرارتوں سے وہ بالکل لاتعلق تھی ۔اُس کی ماں کے چہرے پر یاسیت تھی جو عموماً اس عمر میں عورت کے چہرے پر نہیں ہوتی ۔وہ تیس بتیس سال سے زیادہ عمر کی نہیں تھی مگر زندگی نے اُس کے چہرے پر شکنوں کا جال بُننا شروع کردیا تھا ۔یاسیت زدہ چہرے والی کے ہاتھ میں ایک فائل تھی بالکل ویسی جیسی اکثر مریضوں یا اُن کے وارثوں کی بغل میں دبی رہتی ہے ،دن رات ہسپتال ،ڈاکٹروں کے چکر ۔۔۔ زندگی ختم ہو جاتی ہے چکر نہیں ۔اُس نے چادر میں سارا وجود چھپا رکھا تھا،آدھا چہرہ ننگا جسے وہ باربار چادر میں ڈھک لیتی۔ فٹ پاتھ پر کھڑی اردگرد سے بے خبر بچی کے پاس سے گزر کر وہ سٹور کی سیڑھیاں چڑھتی شیشے کے دروازے سے داخل ہوئی ۔سٹور میں رش تھا،سیلزمین گاہکوں کے ساتھ مصروف ،خواتین بچوں کو جوکر کے حوالے کرکے خریداری سے زیادہ پسند نا پسند میں الجھی ہوئی ۔بے داغ سفید شرٹ، کالی پتلون میں ملبوس ،سلیقے سے بال جمائے ہوئے سٹور مالک کا بیٹا جوکر کے پاس کھڑا بچوں کی شرارتوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔وہ سلجھا ہوا ہنس مکھ ، مہربان چہرے والا نوجوان تھا مسکرانے سے جس کے سفید دانت موتیوں کی طرح نظر آتے ۔شوخی اور شرارت کے ساتھ چہلیں کرتے بچوں کے ساتھ وہ بچہ بنا ہوا تھا۔ بچوں سے اٹکھیلیاں کرتے جوکر نے خاتون کو کونے میں کاؤنٹر پر موجودادھیڑ عمر سیلزمین کی طرف جاتے دیکھا ۔ وہ ایک درشت چہرہ ، خشک مزاج شخص دکھائی دیتا تھا جس کا لہجہ یقیناً کرخت ہو گا۔شاید اسی لئے اس کے سامنے صرف ایک موٹا گنجا گاہک کھڑا مختلف پرفیوم اور ٹائیاں بیزاری سے دیکھ رہا تھا۔خاتون کو کچھ دیر انتظار کرنا پڑا،وہ چپ چاپ کھڑی اُس کے فارغ ہونے کی منتظر تھی۔ جوکر نے مضحکہ خیز انداز میں پیٹ کو بے ہنگم رقص کے انداز میں حرکت دی ، جان بوجھ کر چکنے فرش پر پھسلا ،گرتے گرتے سنبھلا ،بچے کھلکھلا کر ہنسے مگر فٹ پاتھ پر کھڑی بچی کو وہ متوجہ کرنے میں ناکام رہا۔اُس نے محض اداس بچی کا جی بہلانے کے لئے یہ حرکت کی تھی جو ناکام ہوئی ۔ ’’ وہ ۔۔۔ گڑیا ۔۔‘‘ سیلزمین موٹے کو فارغ کرکے مڑا تو خاتون نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔سیلزمین نے اُس کی انگلی کے اشارے پر شوکیس میں سجی گڑیا کو ایک نظر دیکھا ، اسی نظر میں گڑیا کو دلچسپی سے دیکھتی ہوئی بچی کو۔وہ سمجھ گیا اچھے دام کمائے جا سکتے ہیں ۔ ’’ بہترین اور سستی !آخری پیس رہ گیا ہے خاتون! ابھی کچھ دیر پہلے ایک صاحب ایسی چھ گڑیاں لے گئے۔‘‘چہرے کی طرح اُس کا لہجہ بھی کرخت ہی تھا۔ ’’ جی ! مگر ۔۔۔میں ۔۔‘‘ وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے ۔ نوجوان سٹور مالک پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چھوٹے قدموں سے چلتا ان کے قریب آ کھڑا ہوا، وہ پنجوں کے بل ذرا سا اوپر اٹھتا اور پھر ایڑیاں فرش پر ٹیک دیتا۔بظاہر وہ ان کی طرف متوجہ نہیں تھابلکہ پرے جوکر کے ساتھ کھیلتے بچوں کو محبت سے دیکھ رہا تھا۔ ’’ آپ نے دیکھا وہ پلکیں جھپکتی ہے ، تالیاں بجاتی، ڈانس کرتی اور گانا بھی گاتی ہے۔ پوری مارکیٹ میں ایسی گڑیا آ پ کو نہیں ملے گی ۔‘‘سیلزمین بظاہر کم گو ، بیزار نظر آتا تھا مگر وہ تو چرب زبان نکلا ،روانی میں بول رہا تھا جیسے ماہر شکاری جال بچھا کر پرندہ قابو کرتا ہے ۔بظاہر پشت کئے کھڑا نوجوان سٹور مالک اس کی چرب زبانی پر مسرور تھا۔ ’’ میری بات سنیں ۔۔۔ میں ۔۔‘‘ خاتون کی آواز مزید دھیمی ہو گئی ، وہ اضطراب میں انگلیاں مسل رہی تھی ۔ سیلزمین گھاگ کانٹے باز کی طرح مچھلی کو دانہ ڈال رہا تھا ’’ خاتون ! آپ نے اس کے سنہری بال دیکھے ؟ چمکدار آنکھیں ؟کیا وہ سچ مچ کی جیتی جاگتی بچی نہیں لگ رہی ؟ بالکل آپ کی بچی جیسی ۔۔۔‘‘ سیلزمین کی نظروں کے تعاقب میں خاتون نے شوکیس میں سجی گڑیا اور فٹ پاتھ پر کھڑی اپنی بچی کو دیکھا ، وہ سچ کہہ رہا تھا،دونوں ایک جیسی،نرم و نازک ۔نوجوان سٹور مالک نے بھی خاتون کی بچی کو فٹ پاتھ پر کھڑے دیکھا ، اسے وہ بہت پیاری لگی ۔ سیلزمین نے تسلسل نہیں توڑا،پیشہ وارانہ مہارت سے بات جاری رکھی ’’ یقین جانئے آٹھ سو روپے قیمت کچھ زیادہ نہیں ،ابھی ایک صاحب کچھ دیر پہلے ہی ، آپ کے آنے سے ذرا پہلے ،بالکل ایسی چھ پیک کرا کے لے گئے ہیں۔خاتون ! جب یہ گڑیا پلکیں جھپکے گی تو آپ کی بچی پلکیں جھپکنا بھول جائے گی ، گڑیا مسکرائے گی تو آپ کی بچی کا چہرہ خوشی سے کھل جائے گااور جب یہ ڈانس کرے گی تو آپ کی بچی بھی بے اختیار ناچ اٹھے گی اور جب گڑیا گانا گائے گی تو ۔۔۔‘‘وہ توقف کئے بغیر بول رہا تھا، عورت نے اس کی بات کاٹ دی۔ ’’ پلیز ! ‘‘ وہ روہانسا ہو رہی تھی ،سخت مضطرب ۔ سیلزمین کو بہت عجیب لگا ، وہ سڑیل مزاج منھ کھولے سوالیہ نظروں سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔نوجوان سٹور مالک خاتون کے لہجے کے کرب سے چونکا، وہ سیلزمین کے قریب آگیا۔ ’’ ایک بات مان سکتے ہیں میری ؟ ‘‘ اُس کا لہجہ منت آمیز تھا۔ سیلزمین واقعی نہیں سمجھا وہ کیا کہنا چاہتی ہے ۔نوجوان مالک کی اچانک قربت اسے نروس کررہی تھی ۔ ’’ میری ایک بات ؟ ‘‘ عجیب بیچارگی تھی ۔ سیلزمین کو محسوس ہوا وہ اتنی سادہ نہیں تھی جتنی نظر آتی۔ وہ گڑیا کی قیمت کم کرانا چاہتی تھی ۔ وہ گلا کھنگار کر حتمی، بیحد اکھڑ لہجے میں بولا ’’ضرور ! مگر گڑیا کی قیمت آٹھ سو روپے سے ایک پیسہ کم نہیں ہوگی ،ہمارے ریٹ فکس ہیں ،امپورٹڈ مال ، گارنٹی والا۔بالکل جائز پیسے مانگ رہا ہوں ‘‘ اس کی آواز کا کھردرا پن ،کرخت لہجہ نوجوان سٹور مالک کو بھی ذرا سا ناگوار گزرا۔اس نے شاید کچھ کہنے کی کوشش بھی کی مگر خاموش رہا ۔ خاتون نے بے بسی سے سلیزمین کو دیکھا ،پلٹ کر اپنی بچی کو۔اس کی آواز مزید دب گئی ، سلیزمین نے بمشکل اس کی بات سنی ’’ آپ شو کیس سے وہ گڑیا ہٹا لیں پلیز ! میری بچی اسے دیکھ کر رک جاتی ہے ‘‘ نوجوان سٹور مالک برف کے مجسمے کی طرح کھڑا رہا مگر خاتون کی سرگوشی نے اسے اندر سے پگھلا دیا تھا۔سیلزمین کا درشت چہرہ ۔۔۔! خاتون نے سیلزمین کے جواب کا انتظار نہیں کیا، بات مکمل کرکے بغیر سر اٹھائے چلتی ہوئی جوکر کے پاس سے گزری، دروازہ کھول کر سٹور کی سیڑھیاں اُتر گئی ۔ جوکر نے اُس کی بھیگی پلکوں کو دیکھا ، خالی ہاتھ جاتا دیکھ کر اسے بھی دکھ ہوا۔ کندھے پر ماں کے ہاتھ کا لمس پا کر بچی نے شوکیس سے نظر ہٹائی ،ماں کو دیکھا جس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی ، چہرے پر کرب اور بیچارگی نمایاں ۔ اُس نے کوئی سوال نہیں کیا چپ چاپ ماں کی انگلی تھام کر چل پڑی ، چند قدم سے زیادہ نہیں۔ جوکر نے آکر انہیں روک لیا تھا ۔خوبصورت پیکنگ میں سجی اپنی پسندیدہ گڑیا کو دیکھ کر بچی کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں ۔خاتون کا جھکا ہوا سر مزید جھک گیا۔ * وہ رات کو تھکا ہوا نڈھال گھر پہنچا تو بیوی نے دروازہ کھول کر اُس سے نظر نہیں ملائی چپ چاپ سائیکل کے ہینڈل سے لٹکتا ہوا جوکر کا لباس والا شاپر لے کر کمرے میں چلی گئی ۔وہ سائیکل کو دیوار سے ٹکا کر ،میلی قمیص کے کف کھولتا ہوا چارپائی کے قریب آیا۔ سرہانے پڑی فائل اٹھا کر کھولی ،کاغذوں کو الٹا پلٹا جیسے واقعی انگریزی میں لکھا ڈاکٹر کا نسخہ ،ٹیسٹ رپورٹیں پڑھ رہا ہو۔ان میں کہیں کسی صفحے پر بچی کے دل میں سوراخ والی رپورٹ بھی شامل تھی ، اتنا تو وہ جانتا ہی تھا۔بچی گڑیا کو سینے سے چمٹائے بے خبر سو رہی تھی ، اس کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ کھیل رہی تھی ، یقیناً وہ اپنے مرض کے بارے لاعلم تھی ۔ ’’ ڈانس کرتی ہے ۔۔۔ گانا بھی گاتی ہے ‘‘ بیوی اس کے پیچھے آ کھڑی ہوئی ، وہ لب بھینچے خاموش رہا۔ ’’ پلکیں جھپکتی ، تالیاں بھی بجاتی ہے ۔۔‘‘ بیوی کی آواز اتنی ہی دھیمی تھی جتنی دن کے وقت سٹور میں ۔۔ کھلے کف والا کچھ نہیں بولا ۔ ’’ وہ بتا رہا تھا مارکیٹ میں اس گڑیا کی قیمت آٹھ سو روپے ہے۔۔‘‘ وہ دکھی تھی ۔ ’’ ہاں ! مگر تم نے تو بڑی قیمت چکائی ‘‘ اُس نے پہلی بار زبان کھولی ۔ ’’ اپنی بچی کی خوشی کے لئے یہ سودا مہنگا نہیں۔۔‘‘ بیوی نے اس بار مطمئن لہجے میں کہا ، اسے کوئی پچھتاوا نہیں تھا ۔ ’’ بچے اس کی کمزوری ہیں ۔۔۔ تم نے نہیں دیکھا ، جب خالی ہاتھ نکلیں تو وہ رو پڑا تھا ‘‘ جوکر نے بڑی محبت سے سیلزمین کو یاد کیا ۔ مصنف: سیّد علی محسن
__________________
![]() |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (27-05-11) |
![]() |
| Tags |
| کوشش, ٹیک, پڑی, پسند, پسندیدہ, ویسی, مکمل, ماں, محبت, بہترین, بیوی, بچوں, جیسی, جواب, خبر, ذرا, رات, زندگی, سودا, سال, شخص, عورت, علی, عجیب, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|