|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
لفظ ہماری طرح گوشت پوست کے انسان نہیں ہوتے کہ فنا ہو جائیں ۔ یہ فضاؤں میں رہتے ہیں اور پلٹ پلٹ کر ہماری سماعتوں سے ٹکراتے رہتے ہیں ------------------------------------------------------------" ہیلو … ! کیسی ہيں آپ ؟ " "جی … ٹھیک ہوں " " در اصل میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ وہ باتيں جو برسوں قبل مجھ سے بھی کسی نے کی تھیں۔ " "کون ہو تم ؟" "مجھے چھوڑو بس یوں سمجھ لو میں تمہارا خیال ہوں ۔" "میں تمہاری باتوں میں الجھنے والی نہيں ہوں ۔ سیدھی طرح بتاؤ کہ تم کون ہو ؟ " "اچھا … تو میں بھی تم سے محبت کا دعویدار ہوں۔ " "تم مجھے جاتنے ہو ؟" لڑکی نے پوچھا "ہاں ! " "کب سے ؟ " " صدیوں سے ہزاروں یاشاید لاکھوں سال سے … عالم ارواح میں میری روح تم سے آشنا تھی ۔ پھر مجھے سفر اذن ملا اور میں زمین پر آ گیا ،برسوں تمہاری تلاش میں سرگرداں رہا ۔ بالکل ویسے ہی جیسے جنت سے بے دخلی کے بعد میرے جد امجد حوّا کو ڈھونڈ رہے تھے "۔ "ٹھیک ہے تو عالم ارواح میں ہی مجھ سے بات کرنا ۔ میں نے تم سے یہ پوچھا ہے کہ تم مجھے جانتے ہو ؟ " لڑکی نے ذرا سخت لہجے میں اپنا سوال دہرایا ۔ "ہاں ! " اجنبی نے پورے وثوق سے کہا "کیا جانتے ہو ! " "یہی کہ تم ہو ، تم وجود رکھتی ہو " " بس ! " لڑکی کی آواز میں بھرپور طنز تھا ۔ " بس کیا …؟ کسی کوجاننے کے لیے کیا یہ کافی نہيں ہے۔ " اجنبی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ۔ "تم نے مجھے دیکھا ہے ؟ " "نہیں " "ہونہہ " " ہونہہ کیا … کیوں کیا محبت کرنے کے لیے اسے دیکھنا ضروری ہے۔ کیا کسی کو دیکھے بغیر اس سے محبت نہیں ہو سکتی ؟ ویسے یہی تو سوال تھا جو تم سے میں پوچھنا چاہتا تھا لیکن تمہارے فضول سوالوں کی وجہ سے میں الجھ گیا ۔خیر … " "نہیں !" ،لڑکی نے پورے یقین سے کہا ۔ "اچھا ! " ، اس نے یہ لفظ کھینچتے ہوئے کچھ یوں ادا کیا جیسے یہ اس کے لیے کوئي انکشاف ہو ۔ " کیا دنیا میں سارے لوگ کسی کو دیکھ کر ہی اس کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں " ، اجنبی نے پوچھا ۔ " ہاں ! اور اب تم یہ ڈھونگ بند کرو " " کیا دیکھ کر محبت کرنے والے ہی محبت کے پیمانوں پر پورا اترتے ہيں ؟ کیا وہ کوئي سوانگ نہیں رچاتے ؟ یہ تو مشروط محبت ہوئی اور محبت میں شرائط کہاں سے آگئيں وہ تو غیر مشروط ہوتی ہے " " تم محض میرا وقت برباد کر رہے ہو ۔ تم وہ تخیل پرست ہو جو سگریٹ کے مرغولوں میں بھی حسین لڑکیوں کو رقصاں دیکھتے ہو ! ۔ خیالوں اور خوابوں کی دنیا میں رہتے ہو۔ حقائق کی دنیا سے پرے کسی کو دیکھے بغیر اسے کیسے چاہا جا سکتا ہے ؟کسی کو محسوس کیے بغیر کسی کو چھوئے بغیر محبت کیسے ممکن ہے ؟ آنکھوں کی اپنی ایک پیاس ہوتی ہے ، وہ بھلا کسی کو دیکھے بغیر کب بجھتی ہے ؟ آمنے سامنے بیٹھے ہوں تو کمیونیکیشن کا حق ادا ہوتا ہے ۔ کوسوں دور بیٹھ کر احساس و جذبات منتقل نہیں کیے جا سکتے ۔ یہ تو کمیونیکشن کا صرف۳۰ فی صد ہے اور تم بغیر دیکھے محبت کی بات کرتے ہو " ، لڑکی کا لہجہ مضبوط اور پر اعتماد تھا ۔ " یہ سب تو اضافی باتیں ہیں ۔ محبت تو اس سے ماوراء ہے ۔ چاند کی نرم دودھیا روشنی میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ننگے پاؤں ساحل پر چلتے ہوئے ، محبت در اصل ماحول کے مرہون منّت ہوتی ہے۔ منظر کی محتاج ہوتی ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ہوتے ہيں ، جو اڑا کر دوسری دنیامیں لے جاتے ہيں ۔ ماحول اور منظر بدلتا ہے تو واپس حقائق کی دنیا میں لا پٹختے ہيں ، ہوا کے جھونکے غائب اور سرشاری ہوا ہو جاتی ہے ۔ ہوا کے دوش پر لہراتا ہوا رنگین آنچل گلے میں پھندے کی طرح محسوس ہوتا ہے " ، اجنبی کا لہجہ جذبات سے پر تھا ۔ " مجھے تم اور تمہاری افلاطونی محبت سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔"، لڑکی نےٹکا سا جواب دیا ۔ " میں نے کہا نا ! کہ میں محض تمہارا خیال ہوں بلکہ یوں سمجھ لو کہ تم اپنے آپ سے گفتگو کر رہی ہو … میرا جواب بھی در اصل تمہارا جواب ہے ۔ سنو … تم ٹھیک کہتی ہو لیکن ایک حدتک ۔ میں مانتا ہوں کہ لمس ایک حقیقت ہے ۔ آنکھیں صرف خواب ہی نہيں پلکیں بھی رکھتی ہيں ۔ جو بعض اوقات پاؤں کے تلوؤں کو چھونے کی آس میں برسوں میں نہیں جھپکتيں ۔ عجیب سی پیاس ہوتی ہے ان میں ۔ تم ایسی آنکھیں دیکھ لو تو تمہاری آنکھیں پتھرا جائيں اور دل کٹ کر رہ جائے. ہاں یہ حقیقت ہے لیکن اس سے بری بھی ایک حقیقت ہے ۔ وہ یہ کہ محبت اپنی انتہائی حدوں میں ان جذبات سے بالاتر ہے ۔ بے نیاز ہے ۔ ماوراء ہے ۔ بے پروا ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ کوئي تمہيں ان انتہائی حدوں سے بھی پرے چاہتا ہو "۔ اجنبی اپنی روانی میں بولتا چلا گیا ۔ " ہاں ہوگی ! میں بہر حال تم سے محبت نہيں کرتی ۔ پھر تم … " " ارے ! میں نے کب کہا کہ تم مجھ سے محبت کرو ۔ نہ ہی مجھے اس کی احتیاج ہے ۔ میں عمر کے اُس حصے میں ہوں جہاں پچاس سال بعد تم اپنے آپ کو موجود پاؤ گی ۔ میں تو تمہيں فقط یہ بتانا چاہتاہوں ۔ حسن توچاہے جانے کے لئے ہوتا ہے ۔ چاہنے کے لئے نہيں ۔ ایسا ہوجائے تو یہ اضافی نعمت ہے ۔ حسن پرستش کروانے کے لئے ہے نہ کہ پرستش کے لئے ۔ اس کے لئے عشق ہے نا ! " " ٹھیک ہے ۔ تم اپنی تخیل کی دنیا میں مگن رہو … میں کسی اور کو چاہتی ہوں اسے دیکھا ہے اسے جانتی ہوں " ۔ " ایک تو میں تمہاری اس " تم " سے تنگ آ گیا ہوں تم اپنے آپ کو کب تک جھٹلاؤگی ۔ میں تمہارے اندر سے اُٹھنے والی آواز ہوں" ، اُس نے ٹھنڈی آہ بھری اور خاموشی کے ایک طویل وقفے کے بعد بولا ۔ " یاد رکھنا ! لفظ ہماری طرح گوشت پوست کے انسان نہیں کہ بدن کی طرح مٹی میں مل جائيں ۔ خاک ہو جائیں ۔ یہ فنا نہیں ہوتے ، فضاؤں میں رہتے ہیں پلٹ پلٹ کر آتے ہيں ۔ ہماری سماعتوں سے ٹکراتے ہیں ۔ اور اپنی کرنے پرآجائیں تو اس ضدی سائل کی طرح ہو جاتے ہيں ۔ جو دروازے سے ٹلتا نہیں ۔صدائیں دے دے کر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ گھر کے اندر آرام دہ کمروں میں بیٹھے مکین اگرچہ اس کی صداؤں سے لا تعلق بنے بیٹھے ہوتے ہیں ۔لیکن پھر بھی بے چینی سے پہلو بدلتے رہتے ہیں ۔ پھر وہ جھنجھلا کریا عاجز آ کر بالآخر دروازہ کھولتے ہیں ۔ اور اس کا مطالبہ پورا کر کے اپنی جان خلاصی کرتے ہيں ۔ لفظ تو لفظ ہوتے ہيں دائمی مرض کی طرح نہيں ۔ فرض کی اور قرض کی طرح زندگی میں تو کیا مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتے ۔فضاؤں میں بادلوں کی طرح تیرتے رہتے ہيں موقع کی تاک میں رہتے ہيں اور پھر اس وقت ہم پہ برستے ہیں جب ہمارے سروں پر کوئی سائبان نہیں ہوتا اور ہم کھلی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں "۔ " تم اپنی یہ بے اثر تقریر بند کرو ۔ میں اس کا انتظار کر رہی ہوں ، انتظار کے یہ لمحات میرے لیےبے حد قیمتی ہیں ، میں ایک ایک لمحے سے لطف انداز ہونا چاہتی ہوں ۔ تم ان خوبصورت لمحات کی لذت کو اپنی بے تکی اور فضول باتوں سے غارت نہ کرو "۔ لڑکی اکتائے ہوئے لہجے میں بولی ۔ اجنبی پورے وقار سے بولا، " مانا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے۔ لیکن تمہارے حسین او ردلکش چہرے سے جتنی محبت وہ آج کرتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ محبت کوئي اس وقت بھی کر رہا ہو گا ، جب تمہارے چہرے کی رعنائي سب کی نظروں سے اوجھل ہوجائے گی ۔ جب تمہارا چہرہ جھریوں سے اٹا ہوا ہوگا ۔ وہ اس وقت بھی تمہارے حسن کی رعنائیوں کو موجود پائے گا ۔ جب تمہارے چہرے کی دمک آئينہ اور خود تمہاری نگاہيں دیکھنے سے قاصر ہوں گی ۔ جب تمہارے بالوں میں سفیدی اور آنکھوں میں سفیدہ آجائے گا ۔ہاں اس وقت بھی جب تمہاری آنکھوں کی چمک اسے نظر نہیں آئے گی ۔ اس وقت وہ تمہاری آنکھیں بن جائے گا اور تم اس کی آنکھوں سے کائنات کے رنگوں کو دیکھوگی " ، لڑکی نے اجنبی کی بات سنی اور زندگی سے بھرپور قہقہہ لگایا ۔ اجنبی نے گہری سانس لی اور بولا ، " تمہارے بقول دیکھے بغیر محبت نہیں ہو سکتی ۔ یاد رکھنا کہ تم نے اُسے دیکھا نہیں ۔ عجیب بات ہے برسوں قبل مجھ سے بھی کسی نے کچھ اسی قسم کی گفتگو کی تھی اور کم و بیش میں نے بھی کچھ ایسے ہی جواب دئیے تھے" ۔ … … … … … … … … … … … " اماں کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ۔ دن میں دس دس بار آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہوتی ہيں ۔ اور پھر بڑ بڑاتی ہوئی اپنے بستر پر جا کر بیٹھ جاتی ہيں ۔ تم انہیں کسی نفسیاتی معالج کو دکھاؤ ۔ موتیے کے دو آپریشن ہو چکےہيں نظر کچھ آتا نہيں ہے کوئی نئی مصیبت نہ کھڑی کر دیں "۔ " ہفتے کو کسی معالج کے پا س لے جاؤں گا "، شوہر نے بیوی کو مختصر جواب دیا ور منہ دوسری طرف کر کے سو گیا … دوسرے کمرے میں عمر رسیدہ عورت موٹے موٹے شیشوں والی عینک لگائے آئینے کے سامنے کھڑی اپنا سراپا دیکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ زیر لب بولیں ۔ " کہتا تھا کہ لفظ پیچھا نہیں چھوڑتے اتنا عرصہ گزر گیا مجھے تو کبھی اس کے الفاظ یاد نہیں آئے "، خاتون بڑبڑاتے ہوئے اپنے بستر کی طرف بڑھیں ۔ بستر پر لیٹنے کے بعد سرہانے موجود خوشبودار لکڑی کے موٹے موٹے دانوں والی تسبیح اٹھائی اور دانے گھماتے ہوئے اس کے کانوں میں پھر سے کوئی آواز گونجی ، " یاد رکھنا ، تم کہتی ہو کہ دیکھے بغیر محبت نہيں ہو سکتی "۔ خاتون نے اندازے سے ہاتھ مار کرآئی ڈراپ کی بوتل اٹھائی ۔ جھریوں بھرے کپکپاتے ہاتھوں کی انگلیوں سے بوتل کو دبایا ۔ چند لمحوں بعد بوتل کے سرے پر ایک ننھی بوند نمودار ہوئي اسی دوران اس کی آنکھوں کے خشک سوتوں نے نجانے کیسے پانی کے دو قطرے کشید کئے ۔ بوتل کے سرے پر امڈ آنے والی دوا کے قطرے نے اس کی آنکھ کا رخ کیا ۔ عین اسی وقت اس کی آنکھوں نے دو موتی اگل دئے جو لڑھکتے ہوئے اس کے گالوں کی جھریوں میں گم ہوگئے ۔ … … … … … …٭٭ … … … … … … قاضی نصیر عالم Khayam97@yahoo.com کے افسانوں کے مجموعے " پکے رنگوں کی محبت " سے ایک انتخاب
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,139
شکریہ: 52,394
11,136 مراسلہ میں 35,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ۔
کیا خوبصورت انتخاب ہے۔ بہت خوب۔ مجھے ایسی باتیں سمجھ نہیں آتیں۔۔۔لیکن الفاظ کا سحر ایسا تھا کہ مجھے اپنی گرفت میں لے گیا۔ بہت خوب ![]() یار سرورق کے لیے اپلائی کر دینا۔ اگر زحمت نہ ہو تو |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اچھی شیرنگ ہے ۔ ۔ شکریہ
Last edited by حیدر Rehan; 20-09-11 at 04:33 PM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
ایمز انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام یہ مجموعہ شائع ہوا ہے ۔
خوش قسمتی سے ایک مجموعہ میرے ہاتھ لگا ۔ ا س میں سے جو افسانہ سب سے چھوٹا تھا وہ شیئر کیا ۔ ورنہ مزید لاجواب افسانے بھی ہیں جنہوں نے متاثر کیا مجھے ۔ ![]() ![]() ![]()
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, email, فرض, پکے رنگوں کی محبت, قاضی نصیر عالم, لوگ, لڑکی, لمحوں, موقع, منتقل, ممکن, محبت, آپریشن, افسانہ, انسان, اجنبی, تلاش, جواب, حال, حسن, زندگی, سفر, سال, عورت, عالم, عشق, صدیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تمام انسانوں تک نبی ا کا پیغام پہنچایاجائے،پیرنصیر الدین نصیر | عبدالقدوس | خبریں | 1 | 19-05-11 09:12 AM |
| اہم تنصیبات اور شخصیات پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے لشکر جھنگوی کے سات دہشت گرد گرفتار | جاویداسد | خبریں | 0 | 14-10-10 03:08 PM |
| باپ بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئےکہانصیحت | The Great | قہقہے ہی قہقے | 0 | 16-09-09 04:07 PM |
| نصیب اپنا تیرے نصیب سے | شیراز احمد | شاعری اور مصوری | 2 | 24-07-09 10:01 AM |
| فرخ نصیر کے انتقال پر ممتاز شخصیات کا اظہار تعزیت | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 02-07-08 01:03 PM |