|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
چاندنی رات تھی۔۔۔۔۔۔ ایک مستانہ خرام جوئبار کے کنارے! دولہا، دلہن رازونیاز کی باتوں ميں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔ محوتھے! نئی نویلی دلہن اپنے حُسن وجمال کی رنگینیوں پرمغرور!اورنوجوان دُولہا! اپنی جوانی کےجوش وخروش میں چُور۔۔۔۔۔۔ نظر آتاتھا۔ چاندنی اُن کی بےخودانہ وخود فراموشانہ حالت پر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔! نوجوان دولہا نے کہا:۔ ” کیا تمہیں میری انتہائی محبّت کا، اب بھی یقین نہیں آیا؟ دیکھتی ہو! میں نےاپنی زندگی کا عزیز ترین اور بیش بہا ترین سرمایہ۔۔۔۔۔ اپنادل تم پرقربان کردیا ہے! نثارکر دیا ہے!!“ دُلہن نے اپنی نغمہ ریز آواز ميں جواب دیا۔ ”دل قربان کرنا تومحبّت کے راستے میں پہلا قدم ہے!میں تمہاری محبت کا اِس سے بہترثبوت چاہتی ہوں!تمہارے پاس اپنے دل سے کہيں زیادہ بیش بہا اِک موتی ہےاوروہ تمہاری ماں کادل ہے۔ اگرتم اُسےنکال کر مجھےلادوتومیں سمجھوں کہ ہاں تمہیں مجھ سے محبت ہے!“ نوجوان دُولہا ایک لمحہ کےليےگھبرا ساگیا۔ اُس کےخيالات ميں ایک قیامت سی برپاہوگئی۔۔۔۔۔۔ مگر بالآخر”بیوی کی محبّت“ ”ماں کی محبّت“ پرغالب آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اِسی مجنونانہ، مسحورانہ حالت ميں اُٹھا اوراپنی ماں کا سینہ چیر کر،اُس کادل نکال کراپنی دلہن کی طرف لےچلا۔۔۔۔۔ اضطرابِ عجلت میں پیرجو پِھسلا تو نوجوان دُولہا زمین پرگِرپڑا اوراُس کی ماں کا خون آلود دل، اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کرخاک میں تڑپنے لگا۔۔۔۔۔۔۔!اُس دل میں سےنہایت آہستہ شیریں اور پیار سے لبریز آواز آرہی تھی! ”بیٹا کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟“ اختر شیرانی کے افسانے دھڑکتے دل سے اقتباس زارا
__________________
![]() |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدعدنان (02-02-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شئیرنگ ہے
شئیر کرنے کا شکریہ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہے۔, کردیا, پیار, یقین, قدم, نئی, نظر, مگر, ماں, محبّت, محبت, آواز, آئی, افسانے, اپنی, اپنے, السلام, بہا, تمہاری, جواب, خون, دل, رات, زندگی, عزیز |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|