|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,987
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نرس نے ایک ننھا سا وجود میری گود میں ڈالا میں حیرت سے اسے دیکھ رھی تھی وہ میرے وجود کا حصہ تھا میں اٹھارہ برس کی ھوئ تھی کل تک ایک بیٹی تھی ایک لاپروہ سست نکمی کام چور سوتی صورت جس کو ھر روز ایک نیا نام ملتا تھا اپنی ماں کی ایک نکمی بیٹی آج خود ایک بیٹی کی ماں بن گئ تھی میں نے اس ننھے سے وجود کو دیکھا وہ آنکھیں بند کیے دھیرے سے مسکرایا میرے لب اپنے آپ مسکرا دئیے میں نے اس کا گالوں کو چھوا بانھوں میں بھر کر اپنے قریب کیا تو لگا ساری کائنات میری آغوش میں آگئ ھے آج مجھے ایک نیا روپ ملا تھا آج میں بیٹی بہو بیوی کے بعد ایک عظیم رتبہ ملا تھا آج میں ایک ماں تھی
میری امی کہتی تھیں میں مردوں سے شرط لگا کر سوتی ھوں میرے بھائ کا خیال تھا قیامت کے دن جب صور پھونکی جائے گی جو سب سے آخر میں انسان اٹھے گا وہ میں ھونگی اب یہ حال تھا عائشہ رات کو دو بجے دودھ پینے کے لیے اٹھتی تھی اور میں اس سے پہلے جاگی ھوتی تھی اپنی امی کو گھر اگر واش بیکن صاف کرنا پڑ جاتا تو ایسے لگتا جیسے پتا نہیں کتنی گندگی صاف کرنی پڑ رھی ھے ھزار بہانے بناتی اور اب اپنی بیٹی کی نیپی آرام سے صاف کرتی تھی مجھے اپنے ناخن بہت عزیز تھے کوئ ایسا کام نہیں کرتی تھی جس سے میرے ناخن خراب ھوں اب میں نے خاموشی سے کاٹ دئے تھے نیپی بدلتے ھوئے کہیں اسے لگ نہ جائیں میری نیند اب کہیں کھو گئ تھی وہ سوتی تو جلدی جلدی گھر کے کام کرتی وہ جاگتی تو بس وہ ھوتی اس کی ایک ایک بات مجھے یاد ھے اس کا ھنسنا اس کا رونا ریڑھنا چلنا بولنا پہلی بار ماں کہنا عائشہ کے بعد علی عمر اور پھر فاطمہ اس میں اتنی مصروف ھو گئ کہ میری ذات کہیں کھو گئ شاپنگ کرنے جاتی جوتے کپڑے پسند کرتی بچوں کو کوئ چیز پسند آجاتی اپنی پسند کی چیز خاموشی سے رکھ دیتی بچوں کی خواہش پورا ھونے پہ جو مسکرائٹ ان کے چہرے پہ آتی اسے دیکھ کر خوش ھو جاتی ان کی خوشی دیکھ کر اپنی تکلیف بھول جاتی اور ان کی تکلیف میں اپنا آرام بھول جاتی ان کی خوشیاں ان کی خوائشیں ان کے خواب ان کی تعلیم ان کا مستقبل زندگی ان کے ساتھ بھاگتے بھاگتے بھاگ رھی تھی اس کا شاید مجھے بھی احساس نہیں ھوا تھا احساس تب ھوا جب عائشہ کا رشتہ آیا کیا وقت اتنا گزر گیا ھے میں نے حیرت سے عائشہ کو دیکھا رشتہ اچھا تھا میرے بھائ کا بیٹا تھا اور عائشہ کی پسند بھی اس کی شادی کے بعد علی کو امریکن یونیورسٹی میں ایڈمیشن مل گیا وہ گیا کچھ عرصے بعد فاطمہ کی شادی ھو گئ عمر کی تعلیم مکلمل ھوئ اس نے پاکستان میں ھی جاب کو ترجیح دی اگر وہ بھی علی کی طرح پاکستان جیسے غریب ملک کو چھوڑ کر جانا چاھتا توھم کیا کر لیتے اس کی شادی اس کے دوست کی بہن سے ھوئ میری مصروفیات اب صرف بچوں کے فون کا انتظار تھا کب علی فون کرے گا کب عائشہ کا فون آئے گا اکثر میں ھی فون کرتی تھی فاطمہ اسی شہر میں تھی وہ مہینے کے بعد ملنے آتی تھی اس کے سسرال والوں کو اس کا بھاگ بھاگ کر میکے آنا پسند نہیں تھا میں نے اسے منع کر دیے تھے فون کر لیا کرو بد مزگی سے کیا فائدہ بہت بار سوچا اس کے شوہر سے پوچھوں کیا شادی کے بعد بیٹی کا رشتہ اپنے گھر والوں سے ختم ھو جاتا ھے جو ماں پیدا کرتی ھے پالتی ھے اسے انسان بناتی ھے زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتی ھے جنت ماں کے قدموں تلے ھوتی ھے چاھے بیٹا ھو یا بیٹی خدمت دونوں پہ فرض ھے شادی کے بعد بیٹی کی جنت ساس کے قدموں میں نہیں آجاتی ساس کی خدمت بہو پہ فرض ھوتی ھے بیٹی کی ماں بھی تو ساس ھوتی ھے تو کیا داماد اور اس کے گھر والوں پہ اس کا احترام فرض نہیں ھوتا کیا بیٹے کی ماں کا رتبہ بلند ھوتا ھے کیا بیٹی کی ماں بننے سے عورت کی عزت کم ھو جاتی ھے مگر بہت سی باتوں کے ساتھ یہ سب باتیں بھی میرے دل کے قبرستان میں دفن ھو گئیں تھیں آج عمر نے مجھے کہا یہ علاقہ پرانا ھے یہاں اچھے اسکول نہیں اگر اچھے اسکولوں میں بچوں کو داخل کروائے تو بچوں کا آدھا دن آنے جانے میں ضائع ھو جائے گا اس لیے وہ چاھتا ھے کسی اچھے علاقے میںگھر لے لے میں نے اسے کہا وہ جہاں چاھے جا سکتا ھے مگر اس گھر کو چھوڑ کر میں کہاں جاؤں گی یہاں کی ایک ایک اینٹ میں میری یادیں ھیں میری جوانی میری زندگی میرے بچوں کا بچپن ایک ایک لمحہ آنکھیں بند کروں تو ماضی میرے سامنے آجاتا ھے ھم یہیں رھیں گے عمر اپنے نئے گھر میں چلا گیا آج میں بہت عرصے کے بعد آئینہ دیکھا میرے چہرے پہ ابھرنے والی سلوٹوں میں مجھے کئ روپ نظر آئے کئ نام نظر آئے بیٹی بہن بیوی بہو ماں خالہ چاچی تائی ممانی دیورانی جیٹھانی ایک ساس اور ان سب میں کہیں چھپی ھوئ ایک عورت جو اپنے فرض نبھاتے ھوئے کبھی میرے سامنے نہیں آئ تھی میں خود کیا تھی میری ذات کیا تھی میری خواہشیں میرے سپنے میری آزوئیں ان سب رشتوں کے علاوہ میں کیا تھی میں ایک عورت تھی جو کمزور ھوتے ھوئے ایک نئے وجود کو تخلیق کرتی ھے اپنی خواھشوں کو مارتی ھے اپنے وجود کو بھول جاتی ھے کھڑکی سے برستی ھوئ بارش میں میں نے اپنے خالی گھر کو دیکھا یہ تو قانونِ قدرت ھے انسان دنیا میں اکیلا آیا ھے اس نے اکیلے ھی جانا ھے پرندے جب پرواز سیکھ لیتے ھیں تو کھلا آسمان ان کے سامنے ھوتا ھے انھیں تو اڑنا ھوتا ھے اپنے گھروندے بنانے ھوتے ھیں اپنے آشیانے کی آرزو سب کے دل میں ھوتی ھے میں نے کوئ انوکھا کام نہیں کیا تھا میں نے وھی کیا جو حوا سے لے کر اب تک ھر عورت کرتی آرھی ھے دنیا کی کروڑ ہا عورتوں کی طرح میں بھی ایک عورت ھوں ایک ماں |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (18-05-10), ھارون اعظم (18-05-10), راجہ اکرام (10-05-10), سحر (18-05-10), شاہ جی 90 (10-05-10), طلحہ (18-05-10), عبدالقدوس (10-05-10), عبداللہ آدم (18-05-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,039
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کمال کی تحریر ہے اور اس تحریر کو پڑھ کر لگتا ہے کہ آپ خواتین کی ڈاکٹر شیر شاہ بن کر ابھر رہی ہیں
کیا خیال ہے کیا آپ نے کبھی ڈاکٹر شیر شاہ کو پڑھا |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (18-05-10) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,481
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,385 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زندگی اسی کا نام ہے ۔
حیا آپ نے بہت اچھا لکھا ۔ لیکن بچوں کی پرورش میں اور ایک عورت کی زندگی میں اس کے شوہر کے کردار کا ذکر نہیں کیا ۔ شوہر اگر ساتھ دینے والا ہو تو عورت کبھی تنہا نہیں رہتی ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,481
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,385 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زندگی اسی کا نام ہے ۔
حیا آپ نے بہت اچھا لکھا ۔ لیکن بچوں کی پرورش میں اور ایک عورت کی زندگی میں اس کے شوہر کے کردار کا ذکر نہیں کیا ۔ شوہر اگر ساتھ دینے والا ہو تو عورت کبھی تنہا نہیں رہتی ۔ |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (18-05-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,039
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھیا ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک فیمینسٹ ہیں خواتین کی بہبود کے لیئے کام کرتے ہیں ساتھ ہی ایک بہت اچھے گائنی بھی ہیں
لیکن ان کی اصل شخصیت ان کی تحریروں میں جھلکتی ہے کبھی کبھی سسپینس ڈائجیسٹ میں لکھتے ہیں ۔ ہمارے پسندیدہ ترین لکھاریوں میں سے ہیں |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (19-05-10) |
![]() |
| Tags |
| فرض, پاکستان, پسند, نیند, چور, نظر, ماں, آئینہ, آج, انسان, بچپن, بچوں, تعلیم, حال, خوش, دوست, رات, زندگی, شہر, عورت, علی, عزیز, عزت, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 08:12 PM |
| الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ | جاویداسد | خبریں | 1 | 24-08-10 11:23 PM |
| عورت ۔ ۔ ۔ مرد کی زندگی میں | عدنان دانی | عمومی بحث | 6 | 18-01-10 09:35 PM |
| اسلام میں عورت کا مقام | رانا امر | اسلام اور معاشرہ | 0 | 18-11-09 03:08 PM |
| ’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ | چاچا کمال | خبریں | 1 | 07-04-08 06:31 AM |