واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




میرا نام اُمید ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-02-11, 10:40 AM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default میرا نام اُمید ہے

میرا نام اُمید ہے

یہ سردیوں کی ایک لمبی رات تھی۔ آسمان پر بادلوں کے اِکا دُکا ٹکڑے تاروں سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا سیلاب رواں دواں تھا۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی لیکن شہر جاگ رہا تھا۔
شہر سے باہر جنگل کے کنارے پر، ایک قدرے کُھلے میدان میں وہ چاروں کھڑے تھے۔ ان کی اُداس نظریں شہر کی روشنیوں پر جمی تھیں۔ تمام جنگل پر ایک پُر سکون سنّاٹا طاری تھا۔
سرسری نظر میں تو وہ ہیولے عام آدمی کے ہی مانند نظر آتے۔ لیکن غور سے دیکھنے پر ان کو انسان ماننا محال تھا۔ ان کے جسموں سے عجیب سی روشنی پھوٹ رہی تھی اور وہ مجسم نور کے بنے معلوم ہو رہے تھے۔
وہ چاروں نہایت خاموشی سے کھڑے تھے۔ کچھ دیر کے بعد ان میں سے ایک نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا۔
"دوستو! میں وہ تحفہ خداوندی ہوں جو کسی بھی انسان کے معتوب یا محبوب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ میرا نام ایمان ہے۔ میں وہ درِ نایاب ہوں جو خدا اپنے بہت پسندیدہ بندوں کو ہی ودیعت کرتا ہے۔ اور خدا نے مجھے اس قوم کے لیے چُنا۔ لیکن افسوس۔ ۔ ۔ یہ قوم موتیوں کو بھول کر سنگریزوں سے اپنا دامن بھرنے میں مشغول ہو گئی۔ ہر مقام پر میری ناقدری کی گئی۔ کہیں مجھے رشوت کے چند ٹِکوں میں تولا گیا اور کہیں لالچ کے ناسور نے میرا وجود داغدار کیا۔ اور اب میری حالت چراغِ سحر کی مانند ہے جو کسی دم بُجھا چاہتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ان حالات میں اور کتنی دیر جی پاؤں گا۔ ۔ ۔ "
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ باقی تینوں نے بھی اپنے سر جُھکا لیے۔ کچھ دیر کے بعد دوسرے ہیولے نے زبان کھولی اور کہا۔
"میرا نام مُحبت ہے۔ خداوندِ کریم نے اس قوم کو ایمان سے نوازنے کے بعد ان کے دلوں کو میرے وجود سے مُنور کیا۔ اس قوم کے ہر فرد کو آپس میں بھائی کا درجہ دیا۔ اس قوم کے لوگوں نے مجھ سے ہی کام لے کر عشق و جنوں کی وہ منازل طے کیں جو ان کے پیش رو سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ پھر یہ آہستہ آہستہ مُجھ سے بھی اُکتا گئے۔ میری جگہ نفرت کے بے مہر اندھیروں نے لے لی۔ وہ دل جو کبھی میرا مسکن ہوا کرتا تھا اب نفرت اور بے زاری کے عفریت کا مسکن ٹھہرا۔
اب میرا ناتواں وجود چاروں طرف سے طوفانوں سے گھر چُکا ہے۔ نہ جانے کونسا لمحہ پیام اجل بن کر آ جائے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
یہ کہہ کر وہ چُپ ہو گیا۔
ذرا دیر کے بعد تیسرا ہیولا یوں گویا ہوا۔ ۔
"میری کہانی بھی تم لوگوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ میں ' امن' کے نام سے جانا جاتا ہوں۔ لیکن اب تو شاید یہ لوگ میرا نام بھی بھول چُکے ہوں گے۔ یہ قوم کبھی امن و سکون کا گہوارہ تھی۔ اپنے تو اپنے، غیر بھی ان کی پناہ میں رہنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ ہر شخص کی جان و مال کی یکساں حفاظت کی جاتی تھی۔ لیکن افسوس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب ماضی کا فسانہ بن چکا ہے۔
آج کوئی اپنے گھر کی چاردیواری میں بھی محفوظ ہونے کا دعوٰی نہیں کر سکتا۔ بھائی، بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔ ہر طرف وحشت و بربریت کے سائے رقصاں ہیں۔ بے گناہ لاشوں کے بیچ میرا وجود مِٹ کر رہ گیا ہے۔ مظلوموں کی آہوں اور چیخوں کے درمیان میری پُکار کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ لگتا ہے کہ میرا بھی وقتِ آخر آن پہنچا ہے۔ میں فنا کی چاپ بہ آسانی سُن سکتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔"
یہ سب سُن کر چوتھا ہیولا ہولے سے مُسکرایا۔ اس کے ذہن میں آج صبح کا منظر گھوم گیا جب ایک چھوٹا سا بچہ ایک نابینا شخص کو سڑک پار کروا رہا تھا۔
اس نے مُسکرا کر کہا۔
" تم تینوں پریشان مت ہوں۔ جب تک میں زندہ ہوں، دنیا کی کوئی طاقت تمہیں فنا نہیں کر سکتی۔ میرا وجود ہمیشہ تمہارے لیے آبِ حیات کا کام دیتا رہے گا۔ جب تک یہ لوگ میرا دامن تھامے رہیں گے تم بھی ان کے درمیان موجود رہو گے۔
یہ قوم بہت سخت جان ہے۔ انہیں دوبارہ اُٹھنے کے لیے صرف ایک لمحہِ آگہی درکار ہے۔ مجھے بس اُس لمحے کا انتظار ہے۔ اس وقت کے آتے ہی تم بھی اِک نئی طاقت کے ساتھ اُبھرو گے۔ ایک بار پھر ہر جانب تمہارا ہی راج ہو گا۔
اس تاریک رات کی سحر ضُرور ہو گی۔ اس بات کا یقین رکھنا۔
اور ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا نام امید ہے۔ ۔ ۔"

تحریر: صبیح
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 24-02-11, 11:12 AM   #2
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
"میرا نام مُحبت ہے۔
میں ' امن' کے نام سے جانا جاتا ہوں۔
اور ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا نام امید ہے۔ ۔ ۔"
ہم تو تہاڈا نام زارا سمجھے سی۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد کمبوہ آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-02-11, 11:19 AM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
ہم تو تہاڈا نام زارا سمجھے سی۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا نام زارا ہی ہے۔ یہاں "اُمید" یعنی ہوپ خود کو متعارف کروا رہی ہے اُن لوگوں سے جو نااُمید ہو جاتے ہیں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-02-11, 11:32 AM   #4
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یعنی ہم امید رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
ارشد کمبوہ آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-02-11, 11:35 AM   #5
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب اِنسان کوکوئی راہ دِکھائی نہیں دیتی تو اُمید وہیں روشنی کاکام دیتی ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کہانی, گھر, ٹریفک, پھوٹ, پسندیدہ, نفرت, نام, معلوم, ایمان, انسان, بھائی, بے, تحفہ, حیات, دنیا, رات, شہر, شخص, عجیب, عشق, غور, صبیح, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger